متفرقات

حاصل مطالعہ نام کتاب ،قرآن  کارا ستہ  مصنف : خرم مراد 

صائمہ مرزا

اورنگ آباد

الحمداللہ مجھے قرآن کا راستہ اس کتاب کے ابتدائی حصے زندگی کا سفر کا مطالعہ لکھنے کے لیے کہا گیا۔
  جس کو آپ نے چھ حصوں میں تقسیم کیا ہے آپ لکھتے ہیں کہ قرآن  تمام وقتوں میں انسان کی رہنمائی کے لئے نازل کیا گیا ہے جسے جیسے جیسے آپ  قرآن کو پڑھتے ہیں آپ اللہ تعالی سے ہمکلام ہوتے ہیں سورۃ ال عمران آیت نمبر 3 میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ اس نے تم پر یہ کتاب نازل کی گئی ہے جو انسانوں کی ہدایت کے لیے
 جب لوگوں نے یہ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تو آپ ان کے لئے چلتا پھرتا قرآن تھے انہوں نے اس کے بارے میں کوئی شبہ نہ تھا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے خود اللہ تعالی ان سے ہم کلام ہو رہے ہیں اس لیے جب وہ اسے سن سکتے تو  وہ ان کے دل و دماغ پر چھا جاتا تھا ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے ان کا جسم کانپنے لگتے تھے اور اسے مکمل طور پر اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے تھے۔
 آپ لکھتے ہیں کہ آج ہمارے پاس وہی قرآن موجود ہے اور  اس کے لاکھوں نسخہ گردش کر رہے ہیں  گھروں میں، مسجدوں میں ،ممبروں میں ،دن اور رات مسلسل اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ اس کے معنی ومکالب کے  جانے کے لیے تفاسیر کے ذخیرے موجود ہے تقریر کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔  لیکن ہماری آنکھیں خشک ہے دلوں پر اثر نہیں ہوتا دماغ تک بات نہیں پہنچتی زندگیوں میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔
 ایسا کیوں؟
 کیونکہ ہم قرآن  کو زندہ حقیقت  کے طور پر نہیں پڑھتے تھے یہ ایک مقصد  کتاب ضرور ہے ۔مگر ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ اس میں صرف پرانے زمانے کی بات بتائی گئی ہے۔
 آپ لکھتے ہیں کہ ہمارے لئے اہم ترین سوال یہ ہے کہ
آج صدیاں گزر جانے کے بعد بھی قرآن ہمارے لئے اسی  طرح طاقت بخش ہوسکتا ہے جیسے وہ اس وقت تھا۔
 اگر قرآن کی رہنمائی میں اپنی تقلید اپنی تقدیر کی ازسرنو  و تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو!
 اس میں  بہت ساری مشکلات پیش آتی ہے۔
1  قرآن جس زمانے میں نازل کیا گیا تھا ہم اس  سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔
 2ٹیکنالوجی کے میدان میں بڑی بڑی چھلانگ لگائی ہے اور انسانی معاشرے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہے
 لیکن اس کے لیے اپنے دعوے کے مطابق اس کے ہدایت تمام انسانوں اور تمام مسلمانوں کے لئے ہمیشہ کے لئے ہے  اس لئے کہ یہ ہمیشہ رہنے والے خدا کی طرف سے ہے۔
 آپ لکھتے ہیں کہ 1 ہم قرآن کو اس حد تک جانے سمجھا تجربہ کریں جیسا کہ اس کے اولین مخاطبین نے کیا تھا
2 اس کے پیغام کو اپنی زندگی کا اس طرح آخری حصہ بنالیں جس طرح کے اس پر ایمان لانے والے اولین لوگوں نے بنایا تھا.
 مگر یہ ہم کس طرح کریں؟
 اگر صاف صاف کہا جائے تو اس کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور ان کی دنیا میں اس طرح داخل ہو جیسے کہ اللہ تعا۔
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button