اسلامیات

حاکمیت اللّہ کے سوا کسی کو نہیں 

عظمیٰ انجم بنت سید اشرف علی

جی آئی او اورنگ آباد (وسط)

15th Sept Democracy day
اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک میں جمہوری نظام پایا جاتا ہے۔ اور اسی جمہوری نظام کو ایک مستحکم نظام مانا جاتا ہے۔
جمہوریت: ایسا نظام سیاست ہے جس میں عوام کی حکومت عوام پر، عوام کے لیے اور عوام کے زریعہ ہوتی ہے۔
جمہوریت عربی زبان کا لفظ ہے جسے انگریزی میں Democracy کہتے ہیں۔
 عربی زبان میں اسم”جمہور” کے ساتھ”یت” بطورِ لاحقہ نسبت لگانے سے جمہوریت بنا۔ اسی طرح اردو میں آخری”ت” کو”ہ” سے بدل کر”جمہوریہ” بھی استعمال ہوتا ہے۔ ضرب کلیم  میں اس کا استعمال ملتا ہے ( جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گِنا جاتا ہے تولا نہیں جاتا)
جمہوریت یعنی وہ طرز حکومت جس میں حاکمیت اعلیٰ اور اقتدار جمہور کے نمائندوں کو حاصل ہو۔
جمہوریت میں خوبیاں بھی ہیں اور خامیاں بھی۔ سب سے اچھی خوبی یہ نظر آتی ہے کہ اس میں بنیادی حقوق (آزادی_ مذہب پر عمل کرنے کی، مذہب کی تبلیغ کرنے کی،مساوات) اور یہ کہ کسی خاص طبقہ کو خصوصی رعایت حاصل نہیں ہوتی بلکہ ہر شخص یکساں طور پر سیاسی حقوق کا مالک ہوتا ہے، ہر فرد اور جماعت کو اپنی صلاحیت کے اظہار کا پورا پورا موقع حاصل ہوتا ہے۔
اور اس کی سب سے بڑی خرابی (خامی) یہ ہے کہ اس میں حاکمیت اعلیٰ اللّہ تعالیٰ کے بجائے عوام کے لیے تسلیم کیا گیا ہے اور جس کے قانون کا مصدر و ماخذ قرآن و سنت کے بجائے خود عوام کو قرار دیا گیا ہے۔
اسلام اور سیاست الگ نہیں ہے.
 جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو                             جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
(علامہ اقبال رحمہ اللہ)
پہلی جو خوبی بیان کی گئی وہ اسلام میں سیاست کے اصول میں مل جاتی ہے-
اسلام میں حکومت کا مقصد انسانی آزادی، بنیادی حقوق(لا اکراہ فی الدین) اور انسانی مساوات کے قیام کے علاوہ اچھائی کو فروغ دینا اور برائی سے روکنا ہے۔
سورہ حج  (41 ) میں اللّہ تعالیٰ فرماتا ہے،
” یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللّہ کے ہاتھ میں ہے”۔
جو سب سے بڑی خرابی (خامی) اس جمہوریت میں ہے اسلام (قرآن) سراسر اس کی نفی کرتا ہے۔۔
حاکمیت اللّہ کے سوا کسی کو نہیں (الانعام- 57)
 فیصلہ کے سارے اختیارات اسی کو حاصل ہے (الانعام_ 62)
(اسی طرح سورہ اعراف_54، سورہ آل عمران_189)
 اس کے علاوہ قرآن میں بیشتر آیتیں اس قسم کی موجود ہیں جو اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ اسلامی نظام کا مصدر و ماخذ قرآن مجید (دستور) و سنت محمد ﷺ ہیں۔
مختصراً یہ کہ اسلام میں خلافت و حکومت ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اور جمہوری ذرایع سے اسلامی انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔( جس کی بہترین مثال_ سب سے پہلی اسلامی ریاست مدینہ منورہ ہے جو محمد ﷺ نے قائم کی تھی)
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button