اسلامی معاشرہ

خاندان ضرورت و اہمیت

 غازیہ سلطانہ

(امراؤتی،مہاراشٹر)

انسانی وجود کی ابتداء ٕ ہی سے انسان کی زندگی میں اجتماعیت کی خاص اہمیت رہی ہے۔۔
الہی ہدایات بھی اسکی فطرت و نفسیات کے مطابق اور اسکی زندگی کی تعمیروترقی کی مناسبت سے  نازل ہوتی رہی ہیں ,جسکے مطابق انسان’ آسمانی علم کی روشنی میں اپنی زندگی کو بتدریج مہذب سے مہذب طریقے پر گذارتا رہا ہے۔
انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے ۔وہ ہر آن ایک سہارے کا منتظر ہوتا ہے ,کسی پرمنحصر رہنا چاہتا ہے,وہ اپنے علاوہ اپنے  ہم جنسوں کی توجہ اور محبت کا محتاج ہوتا ہےیہ اسکی فطری کمزوری ہےجو دراصل خاندانی نظام زندگی کو پاٸیدار بنیاد فراہم کرتی ہے, اور اسکےلئے ایک خاندان کی تشکیل میں ممد و معاون  ثابت ہوتی ہے۔
انسان کی تخلیق مرد کی شکل میں ہوئی اور اسکا جوڑا بناکر اسکی شخصیت کی تکمیل کی گئی اور دونوں کے تعلقات کومستحکم و مضبوط بنانے کے لئے مودت و محبت کے بیش بہاجذبات سے مزین کیا تاکہ وہ باہم شیر و شکر ہوں , ایک دوسرے پر مکمل بھروسہ و اعتماد ہو,زندگی کی پرپیچ راہوں میں ایکدوسرے کے راہنما و مددگارثابت ہوں,نکاح کے مضبوط اور پاکیزہ بندھن میں بندھ کر ایک قلعہ کی مانند مضبوطی پائیں ,ایک دوسرے کی  ایمانی ,اخلاقی ,جسمانی, روحانی, ذہنی حفاظت کا ذریعہ بنیں,اور اس پاکیزہ بندھن کے نتیجےمیں جو نسل پروان چڑھے اس کے لئے تحفظ و نشوونما اور تعلیم و تربیت کا پرامن ماحول میسرہو۔
اس طرح ایک خاندان کی نیو ڈالی گئی
اور چونکہ فطری طور پر مرد کو قوت وطاقت اورمضبوط ساخت  وقوت ارادی عطا کی گئی ہے لہذا وہ خاندان کا قوام اورکفیل قرار پایا  اور اپنے والدین اوراہل و عیال اور دیگر وہ اقربأ جو خود کفیل نہیں  ان سب کی کفالت و نگرانی کی ذمہ داری کا اہل قرار پایااس طرح ذمہ داریوں کا بارگراں اس پر ڈال کر چند اختیارات بھی عطا کئے گئے تاکہ وہ خاندان کے ادارےکے استحکام کے سلسلے میں اپنے مقام و مرتبہ کو فراموش نہ کرےاور اپنے فرائض سے عمدگی کے ساتھ عہدہ برآ ہوسکےاوراس سب کے لئے وہ اللہ کے حضور جواب دہ ہے۔
حدیث نبوی میں عورت کوخاندان کے ادارے کے اندرونی استحکام اور خوشحالی کاضامن قرار دیا گیا۔اسے اپنی ذمہ داری کی اداٸیگی کی ترغیب دلائی گئی کہ  عورت اپنےشوہر کے گھر اوراسکے بچوں کی نگراں ہےاور اس پر وہ اللہ کے یہاں جواب دہ ہے
قرآن کریم عورتوں کی اہم خوبی گردانتا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی فرمانبردار,ان کے غیاب میں انکے حقوق کی, ان کے رازوں کی,مال کی اور خود کی عزت و عصمت کی,انکی اولاد کی اور انکے اخلاق و تربیت کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں
عورت کےوجود کو ساخت و جذبات  کے اعتبار سےنرم و نازک  بنایااور محبت ومامتا کے لطیف احساسات  سے معمور کیا گیا ہے۔۔قوت  صبر و  برداشت اور اپنےاہل خاندان کے مفادات کے لیے قربان ہونے کی خوبی وافر مقدار  میں اس کی ذات کا لازمی جز و بنائی گئی ہے, ایک نسل اس کی گود میں پروان چڑھتی ہے, جس کی بنا پر ایک پوری نسل کے صالح اور بد ہونے کا دارومدار ہے ,اور اسی مناسبت سے ایک چھوٹی سی ریاست یعنی گھر کی ذمہ داری کی اہل قرار پاٸی۔۔
صالح سوسائٹی کے قیام میں دونوں فریق کا ذمہ دارانہ کردار مطلوب ہے ہر اک  اپنے ایثار و قربانی محبت و لگن سے اپنے چمن کو خوبصورتی اور دوام بخشنے کی پوری کوشش کرتا ہےحقوق و فرائض کے شعور کے ساتھ معاملات انجام دیتے ہیں اور اہل خاندان کے لئے رول ماڈل کا عملی خاکہ تیار کرتے ہیں,اس عملی نمونے کے بغیر اپنی نسلوں سے مضبوط اور خوشحال خاندان و سماج کی توقع عبث ہے۔
انسانی نسل کی حفاظت و نگہ داشت ایک کٹھن مرحلہ ہے اور یہ مرحلہ ہی طے کرے گاکہ آئندہ سماجی نظام کیا شکل پاتا ہے, آیا اخلاقی اقدار وروایات پر مبنی سماج یا خودغرض و کھوکھلا سماج
خوشحال سماج کی تشکیل میں دونوں فریق کی دلچسپی اور بہتر منصوبہ بندی میں دونوں ہی کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے اور کسی ایک کی عدم دلچسپی بڑے بڑے خلا ٕ کا باعث بن جاتی ہے جس کا ازالہ سماج  کا کوئی شعبہ نہیں کرسکتا۔
اسلام کی سہل اور سنجیدہ تعلیمات عمل آوری کے لۓ ہر فرد  کو مخاطب کرتی ہےکیونکہ کوٸی شخص چاہے وہ اس حقیقت سے انکار کرے کہ وہ خاندان کا طوق اپنے گلے نہیں باندھنا چاہتا مگر وہ بہرحال کسی نہ کسی حیثیت میں خاندان کا حصہ ہوتا ہے اور قدرت نے ہر فرد بشر کواس طرح خاندان سے ملحق کیا ہے جہاں کچھ نہ کچھ ذمہ داری ادا کرنے پر وہ مجبور ہے اور اگر وہ لاپرواہی کا معاملہ رکھے تو خود اسکا مستقبل داٶ پر لگ سکتا ہے۔
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button