Sliderفکرونظر

 خدارا اپنے شعور کا گلانہ گھوٹیں!

  سمیہ شیخ

نگہت میں آپ سے کئی بار کہہ چکا ہوں، ایسی چیزوں میں خود کو نہ الجھایا کریں۔ آپ خود بھی پریشان ہو جاتی ہو اور میں بھی…. ہم دونوں اگر خود ہی کنفیوز ہو گئے تو خاک اپنے بچوں کی تربیت کر پائیں گے….؟

گزشتہ دو مہینوں میں آج تیسری دفعہ اسلم نے نگہت کو سمجھانے کی کوشش کی۔ نگہت نے رضامندی کے انداز میں گردن تو ہلا دی لیکن اس کی سوچوں کے پرندے کی پرواز اس سمجھایش سے پرے بہت دور محوپرواز تھی…. نگہت نیک فطرت اور Qualified لڑکی تھی۔ شادی سے پہلے وہ کسی حد تک نماز روزے کی پابندی تھی لیکن شادی کے بعد اس نے خود کو ویسا ہی بنا لیا تھا جیسا اس کا سسرال چاہتا تھا۔ ماشااللہ اس کا سسرال اور اس کا شوہر خود بھی صوم و صلوۃ کے پابند تھے۔ وہ تمام rituals کو خشوع اور خضوع کے ساتھ ادا کرتا تھا اور اسی رنگ میں نگہت بھی رنگ چکی تھی۔ وہ باقاعدگی سے پڑوس میں جمع ہونے والی خواتین میں جاتی وہاں وہ نماز کو صحیح کرنے سے لے کر، اذکار کی فضیلت، روزہ، حج اور زکوۃ تمام اسلامی ستونوں کے بابت تعلیم حاصل کرتی اور گھر آجا تی۔ زندگی ایک routine میں لگی بندھی گزر رہی تھی… بسا اوقات بڑی تیزی سے بدلتے ملک عزیز کے حالات، جو اسے سوشل میڈیا کے ذریعے سننے یا دیکھنے ملا کرتے تھے ذہن میں شدیدآ تھل پتھل مچا دیا کرتے تھے۔ حال ہی میں کشمیر کے حالات نے تو بہت زیادہ بے چین کر دیا تھا۔ لیکن کیا کیا جاسکتا ہے…؟ وہ اک سرد آہ بھر کر رہ جاتی اور سوچتی ہم سوائے دعاؤں کے اور کیا کرسکتے ہیں، اللہ مظلوم مسلمانوں پر رحم کرے۔ وہ اکثر دیکھتی کہ اس کے شوہر نامدار بڑی سنجیدگی سے سوشل میڈیا پر ملک میں مسلمانوں پر تنگ ہوتے حالات کو وائرل کیا کرتے اور انہیں ہر بات کی خبر ہوتی کہ کہاں موب لنچنگ ہوی ہے، کہاں گورکشکون نے مسلمانوں پر بیجا ظلم کیا ہے اور ابھی کشمیر کا کیا حال ہے… وہ اکثر اپنے دوستوں سے ان حالات پر کافی دیر تک گفتگو کیا کرتے نگھت اکثر کان لگا کر بڑی توجہ سے ان باتوں کو سنتی لیکن اب وہ اس بارے میں کوئی بات اسلم سے تو نہ کرتی کیوں کہ اسلم اسے سرزنش کرچکے تھے۔ نگہت ہم اس ملک میں اقلیتی گروہ ہیں اس ملک کی باگ ڈور اکثریتی طبقے کے ہاتھ میں ہے، کیا ہم کشمیر جائیں اور وہاں کے مظلوموں کو بچائیں…؟ کیا ہم یہاں کی حکومت کے خلاف آواز اٹھا کر خود کو غدار ثابت کروائیں…؟ہم کچھ نہیں کرسکتے نگھت ہم کچھ نہیں کرسکتے سوائے دعاؤں کے… اپنی نمازوں کی دیکھ بھال کرو تلاوت قرآن کیا کرو پھر دعا مانگو شاید یہ اللہ قبول کرلے۔ آپ خود کو تھکا رہی ہیں آپ کو گھر اور بچوں پر دھیان دینا چاہیے،  بچوں کو اسلامی آداب سکھاؤ، انہیں اسلامی لباس سے رغبت دلاؤ، انہیں نمازی بناؤ قاری بناؤ اور بس…. یہ کوئی تلوار لے کر جہاد کرنے کا زمانہ تو ہے نہیں، چلے موڈ ٹھیک کریں… اہاکتنا اچھا موسم ہو رہا ہے گرما گرم پکوڑے مل جائے تو کیا کہنے… اور وہ کچن میں چلی جاتی ہے۔

           ہائے کتنے دن گزر گئے تقریبا دو سال سے بھابھی مجھے ہر ہفتہ اجتماع کی اطلاع دیتی ہیں، نگھت آؤ ناں کسی اجتماع میں ہم درس قرآن لیتے ہیں، ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہمارا اللہ ہم سے کتنی پیاری پیاری باتیں کرتا ہے، زندگی کے ہر موڑ پر چاہے وہ سماجی ہو، معاشی ہو، سیاسی ہو یا معاشرتی ہر میدان میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ نگھت تم قرآن کو ترجمہ و تفسیر سے سنو گی یا پڑھو گی تو تمہارا دل مطمئن ہونے لگے گا، ذہن کی گرہیں کھلنے لگے گی، تم دنیا کو قرآن کی نظروں سے دیکھنے لگو گی لوگوں کی نظروں سے نہیں… تم پڑھی لکھی ہو سمجھدار ہو تمہارے ایک اکیلے کے سمجھنے سے دس گھروں میں اجالا پھیل سکتا ہے نگھت آؤ بھئی اس بار ضرور آؤ… اچھا بھابھی جان میں اگلے ہفتے ضرور آؤں گی انشاءاللہ۔

    یہ بھابھی بھی ناں عجیب ہیں، قرآن کو لے کر اتنا exited ہو جاتی ہے کہ پوچھو مت، کیا بھلا میں قرآن سے غافل ہوں؟ ہر  دن آدھے سے ایک پارہ تو میں پڑھ ہی لیتی ہوں، یہ تو میرے معمول میں شامل ہے اور دوران تعلیم احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے ذریعہ ہم سب کچھ جان جاتے ہیں۔ خیر اس ہفتے میں ضرور چلی جاؤں گی… اور پھر اس روز وہ بھابھی کے گھر اجتماع میں موجود تھی ۔ اجتماع کی شروعات سورہ یاسین کی ابتدائی چند آیات  سے ھوئی ان آیات کا ترجمہ پیش کیا گیا، اس سورت کے نزول کا پس منظر بیان کیا گیا پھر ان آیات کی تفسیر بیان کی جانے لگی…’ (اور یہ قرآن) غالب اور رحیم ہستی کا نازل کردہ ہے’ یہ سورہ یاسین کی آیت 5 کا ترجمہ ہے.. ہاں یہ اسی سورۃ یاسین کا ترجمہ اور تفسیر ہے جس کی تلاوت میرا روز کا معمول ہے جسے میں 7 سے10 منٹ میں تلاوت کر جاتی ہوں، لیکن آج صحیح معنوں میں عزیز اور رحیم کا مفہوم سمجھ آرہا تھا۔ قرآن مجید میں کتنے بار ان الفاظ کی تکرار ہے لیکن کبھی سوچا اور سمجھا ہی نہیں کہ اللہ کس قدر غالب ہے اور رحیم بھی کتنا زیادہ ہے… وہ دل میں تہیہ کرنے لگی کہ اب میں اپنی زندگی میں قرآن کو پوری شان کے ساتھ شامل کروں گی انشاءاللہ۔ اجتماع کے اختتام سے پہلے کشمیر کے تازہ ترین مسئلے پر بحث چھڑ گئی۔ نگہت کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں، وہ سوچنے لگتی ہے بھلا اس دینی محفل میں سیاسی باتوں کا کیا کام…؟ خیر وہ خاموشی سے بڑے انہماک کے ساتھ اس بحث کو سننے لگتی ہے تمام خواتین سمیت نگھت بھی ان مظلوم کشمیریوں کے لئے آبدیدہ ہو جاتی ہے۔ ایک سرد آہ کے ساتھ ایک بوڑھی خاتون کہنے لگی بیٹا اب تو آگے بھی ملک کے ایسے حالات ہوتے ہی رہیں گے ہم کیا کر سکتے ہیں سوائے دعاؤں کے… نگہت کے ذہن میں اس کے شوہر کا جملہ بھی گونجا، ہاں دعا صرف دعا… تبھی اس کی سماعت میں درس قرآن دینے والی محترمہ کی آواز گونجی وہ کہہ رہی تھیں’ میری پیاری بہنو! کیا ہم خواتین اپنے گھر میں بھی بنا تدبیر کے صرف دعاؤں پر گزارہ کر لیتے ہیں؟ کیا ہم گھر کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے اہل خانہ کو خوش رکھنے کے لیے کوئی جتن نہیں کرتے؟ پرانی فرسودہ رسومات کو  ختم کرنے  کے لیے کوئی کوشش نہیں کرتے؟ کیا صرف ہماری آ ہیں اور دعائیں ان سب سے نمٹنے کے لئے کافی  ہوجاتی ہیں..؟ نہیں نان۔  بنا کوشش اور توانائی صرف کیے ہم اپنے گھر کو گھر نہیں بنا سکتے یہاں تو ملک کا سوال ہے… ہم اپنے دلوں کو دلاسہ دیے ہوئے ہیں ابھی تو بہت دور ہے آگ یہ ہم تک کہاں پہنچے گی.. لیکن یاد رکھیے جنگل میں آگ پھیلتے دیر نہیں لگتی اور اس ملک میں اس کو پھیلانے کے لیے میڈیا سازگار ماحول بنا رہا ہے۔ ویسے بھی ہمارے دلوں میں وہن کا مرض پڑ چکا ہے اور یہ میڈیا اس مرض کو بڑھنے میں مدد دے رہا ہے  اور ہم کیا کر رہے ہیں؟ بنا Medicine لئے اپنے مصلے پر وظیفہ کرتے ہوئے سوچ رہے ہیں اللہ ضرور مظلوموں کی مدد کرے گا، ضرور اس ملک کے حالات تبدیل ہوں گے اور یہاں اسلام کا بول بالا ہوگا۔ تسبیح کے دانوں کی تیز حرکت کے ساتھ ہی ہمارا ملک ہمارے خیالات کے زیر اثر عالم اسلام میں تبدیل ہو جاتا ہے اور مصلہ تہہ کرنے کے بعد ہم اسی ڈرے سہمے نفرتوں کو پروان چڑھانے والے ماحول میں واپس آ جاتے ہیں۔ کبھی بیٹھ کر یہ سوچا بھی ہے کہ ہمارے پڑوس میں کچھ غیر مسلم خاندان بھی بستے ہیں، ان سے ہمارے تعلقات کس قدر خوشگوار ہیں؟ آیا یہ تعلقات میڈیا کے بتائے ہوئے راستے پر چل رہے ہیں یا ان کو بہتر بنانے میں ہمارا کوئی حصہ بھی ہے؟ نہیں ہمارا کوئی حصہ نہیں بلکہ ہم تو اپنے رہن سہن اندازواطوار سے میڈیا کی باتوں کو اور proof کر رہے ہیں۔ بہنوں ہم خواتین کو اللہ رب العزت نے وہ صلاحیتین دی ہیں جن سے مرد حضرات خالی ہیں، آج کے دور میں ایسا لگتا ہے کہ مرد جہاد نہیں کر سکتے ہیں تو کیا ہوا ہم ضرور کر سکتے ہیں۔ ساری خواتین بنا پلک جھپکے انہیں دیکھنے لگی جیسے کہہ رہی ہوں وہ کیسے.. ؟ وہ ایسے کہ ہم اپنے پڑوس کے غیر مسلم خاندانوں سے تعلقات استوار کریں یوں بھی اسلام میں بلا مذہبی تفریق کے پڑوسیوں کے بہت حقوق ہیںہم ان کے گھروں میں جائیں ان کی خیر خیریت دریافت کریں انہیں اپنے گھر بلائیں، اگر آپ کو لگتا ہے کہ وہ کھانے پینے کے شوقین لوگ ہیں تو ان کی پسندیدہ کوئی ڈش بنا کر ان کے گھر بھجوائیں انہیں یقین دلائیں کہ آپ ان کے بہترین پڑوسی ہیں اور جب وہ آپ کے گھر آئیں تو انہیں آپ کا گھرانا مضبوط اسلامی اقدار کا حامل نظر آئے۔ ہم اور ہمارے بچے بہترین اخلاق سے مزین نظر آئیں، جہاں شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کرتے ہوئے ملے، جہاں بزرگوں کی عزت و احترام نظر آئے۔ غرض ہمارے گھرانے انہیں دین اسلام کی دعوت دیں نہ کہ ہماری زبانیں۔ آپ سوچ رہی ہو گی کہ آج کل کے اس مصروف ترین دور میں ہم اتنا وقت کہاں سے لائیں یہ سب ہم سے نہیں ہوگا کہنے میں آسان اور عملی لحاظ سے مشکل  ہیں یہ سارے کام… تو سن لیجئے ان ساری ایکٹیویٹیز کوہم نے جہاد کا نام دیا ہے وہ اس لیے کہ یہ وہ کام ہے جو تلوار سے نہیں کیے جا سکتے لیکن انہیں کرنے کے لئے وسیع القلبی اور وسیع نظری درکار ہے، ہماری زندگیوں کا قیمتی وقت درکار ہے۔ صحابیات کی سیرت پڑھ کر ہمارا جوش بڑھ جاتا ہے کہ کاش ہم بھی اس زمانے میں ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی تلوار کے ذریعہ سے بچاتے… ہاں! جوش ٹھنڈا نہ ہونے دیں۔ آج کے زمانے کی جدوجہد یہی ہے کہ ہم ان طریقوں کے ذریعے سے اپنے ہم وطنوں کے دل جیتے۔ بہنوں یاد رکھو یہی ہمارا جہاد ہوگا اور یہی ہمارے الجھے ذہنوں اور بے چین دلوں کو قرار دے گا آپ آزما کے دیکھ لیں… نگہت جیسے خواب سے جاگی لیکن یہ خواب نہ تھا بلکہ آج تو اسے کتنی ساری الجھنوں کا حل مل چکا تھا۔ اچانک سے وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگی اور ایک عزم کے ساتھ اپنے گھر واپس آگئی، اب وہ راستہ کھوجنے لگی کہ اتنے سال ہوگئے اس گھر میں آئے ہوئے لیکن مجھے پتا ہی نہیں ہمارے سامنے والی آنٹی کا نام کیا ہے؟ میں کیسے ان سے ملاقات کروں؟ کیسے انہیں یقین دلاؤں کی میں ان کی بہترین پڑوسن ہوں… ؟ انہی خیالوں میں گم وہ رات کے کھانے کی تیاری کرنے لگی۔

         اب وہ مطمئن تھی اور چاہ  رہی تھی کہ اپنے شوہر سے بھی اس بارے میں تبادلہ خیال کرے اور وہ دونوں مل کر اپنے پڑوسیوں تک پہنچیں اور فراڈی میڈیا کے منہ پر طمانچہ لگائیں  اور اس میڈیا کی بنائی نفرتوں کی، خوف کی، مسلمانوں اور غیر مسلموں کو ایک دوسرے سے متنفر کرنے والی اس بوسیدہ دیوار کو ڈھا دیں… ہاں ممکن ہے ایسا ضرور ممکن ہے بس ہمیں پہلا قدم اٹھانے کی ضرورت ہے، ہوسکتا امید کے مطابق کامیابی نہ ملے لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ یہ بظاہر چھوٹا سا کام آج ہمارے ملک میں جہاد کے مترادف ہے… اللہ نے اس کی سن لی اور آج اسے اپنے شوہر سے بات کرنے کا موقع مل گیا… وہ ہنسنے لگا اور کہنے لگا نگھت کیا آپ کولگتا ہے کہ یہ ملاقاتیں ملک کے حالات کو بہتر بنا دیں گی…؟ مشکل ہے بہت مشکل ہمارے پڑوسی ہم سے بات تک نہیں کرتے اور آپ اتنے بڑے بڑے خواب دیکھ رہی ہیں۔ ہمیں اپنے ہی دائرے میں رہ کر جینا ہے۔ مسلمانوں ہی کی نمازیں اور عبادات درست ہوجائیں تو اللہ تعالی خود ملک کے حالات درست کر دے گا۔ آپ پھر خود کو ہلکان کر رہی ہیں  وہ پھر سے اسے سمجھانے لگا لیکن آج نگہت اپنے اللہ سے دعا کر رہی تھی یا اللہ میری مدد فرما کیا ہی بہتر ہوگا کہ ہم دونوں مل کر اس کام کو کریں… وہ کہنے لگی اسلم ہم آپ کی کسی بات کو نہیں ٹالتے لیکن پلیز تھوڑا ٹھہر جائے اور سوچیے آپ کا دل بھی ملک میں لگی اس آگ سے جھلس رہا ہے  آپ بھی کچھ کرنا چاہتے ہیں اسی لیے تو سوشل میڈیا پر ملک کے حالات ایک دوسرے کو بھیج کر اس زخمی دل پر  پھاہا رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کاش ہم کچھ کر سکتے لیکن ہمیں اس قدر خوفزدہ harras کر دیا گیا ہے کہ ہم عملی میدان میں پتہ ہلا نے سے بھی ڈرنے لگے ہیں… کیا ہوا ہمارے پڑوسی ہم سے بات نہیں کرتے تو ہم نے بھی تو کبھی کوشش نہیں کی… ہم پانچوں نمازوں کو ان کے گھر کے سامنے سے گزرتے ہیں لیکن کبھی مسکرا کر ان کی خیریت دریافت نہیں کی… ہم طرح طرح کے پکوان پکا کر کھاتے ہیں لیکن خیال نہیں کرتے کہ ان کے گھر چولہا جلا بھی کہ نہیں… ان کے  گھر کوئی بیمار ہو کر فوت بھی ہو جائے تو ہمیں پتہ نہیں چلتا ہم کبھی عیادت کی غرض سے بھی ان کے گھر نہیں جاتے۔ کیا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کی عیادت نہیں کی کیا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم غیر مسلموں کے خیر خواہ نہیں تھے..؟ یہ بھی ہمارے نبی کی سنتیں ہیں۔ ہم کیوں ان سنتوں کو اسلام کے خاکے سے خارج کر دیتے ہیں؟ ایسی ہی چیزیں اکثر اسلام کو پھیلانے کا باعث بنیں، اچھا اخلاق، اچھا کردار اور خیر خواہی… ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ آپ جائیں اور انہیں جا کر سیدھے اسلام کی دعوت دے دیں، نہیں بالکل نہیں۔ آج اس سوشل میڈیا ہی نے تمام عالم پر اسلام کو آشکارہ کردیا ہے۔ وہ already بہت کچھ جان چکے ہیں، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کس طرح اس کام میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ کل قیامت کے دن شاید ہماری یہ چھوٹی چھوٹی کاوشیں ہی ہمیں سرخرو کردے۔ ہمیں اپنے موجودہ lifestyle سے اوپر اٹھنا ہوگا، ہمیں اپنے رب سے وقت میں برکت مانگنی ہوگی اور اپنے دل میں ہم وطنوں کو بھی جہنم سے بچانے کی تڑپ پیدا کرنی ہوگی یعنی ہمیں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ ہمیں کسی ایسے پلیٹ فارم کو تلاشنا ہوگا جو انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی اس طرح کی activities کرنے والا ہو۔ پھر دیکھیے گا آپ  ضروربہ ضرور ہم اپنے کسی ایک پڑوس کو اللہ نے  چاہا تو متاثر کر پائیں گے اور یہ ہمارا دوستی کا قدم شاید انہیں اسلام سے قریب کر دے بشرطیکہ ہم خود اسلام کا چلتا پھرتا نمونہ ہو… اسلم نے کہنا چاہا کہ یہ سب اتنا آسان نہیں ہے جتنا آپ positively سوچ رہی ہیں عملی میدان میں یہ بہت challenging  ہے کہ آپ کسی غیر مسلم کے دل میں جگہ بنائیں، فی الوقت ملک میں قوت کے ساتھ ایک خاص ldealogy کو رائج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ اس قوت کے آگے ہم ٹک  پائیں گے… نگہت نے اگلے ہی لمحے اپنے ہاتھ  اپنے شوہر کے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور کہنے لگی خدانخواستہ ایسا نہ کہیں آپ.. ایک مومن کو سخت سے سخت حالات میں ناامید نہیں ہونا چاہیے اللہ نے آج بھی ہمارے لئے بہت سارے دریچے کھلے رکھے ہیں، ہمیں اس قدر دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہیے اللہ تعالی قرآن پاک میں فرماتے ہیں..” اور( دیکھو) بےدل نا ہونا اور نہ کسی طرح کا غم کرنا اگر تم مومن (صادق) ہو تو تم ہی غالب رہو گے”۔ ( آل عمران139)

        ہمیں شعوری طور پر سوچنا چاہیے کہ ان حالات میں بجائے اس کے کہ ہم صرف گھر بیٹھ کر ملک کے حالات کو وائرل کریں اور کفار کے خوف و ہراس پھیلانے والے منصوبوں کو کامیاب کریں بلکہ کچھ ایسی سرگرمیاں کریں جن کے ذریعے کم ازکم ہم اپنے آس پاس کے وطنی گھرانوں کا دل جیت لیں۔ خدا نے ہمیں شعور دیا ہے تو اس کے لحاظ سے زندگی جئے، fingertips کے علاوہ وہ اپنے جوار ح اور قدموں کو بھی حرکت میں لائیں کیوں کہ اللہ رب العزت ہمارے اعمال کا حساب ہمارے شعور کے مطابق لے گا۔ خدارا اپنے شعور کا گلانہ گھوٹیں…..!!!

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button