Sliderجہان کتب

خطبۂ حجۃ الوداع

زیرِ تبصرہ کتاب رسول اکرم ﷺ کے خطبۂ حجۃ الوداع کا بھر پور مطالعہ ہے

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

        سیرتِ نبوی کے مختلف پہلوؤں پر عصرِ حاضر میں قابلِ قدر کام ہوا ہے اور اس کی جزئیات کو محققین نے بحث و تحقیق کا موضوع بنایا ہے۔ حجۃ الوداع رسول اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا ایک مہتم بالشان واقعہ ہے۔ اس میں آپؐ نے تقریباً سوا لاکھ افراد کے سامنے جو خطبہ دیا تھا اسے بجاطور پر ’بنیادی انسانی حقوق کا اولین عالمی منشور‘ قرار دیا گیا ہے۔

        کتبِ احادیث میں خطبہئ حجۃ الوداع کے منتشر اجزاء مروی ہیں۔ اہل علم نے مختلف اوقات میں متنِ خطبہ کے جمع و ترتیب کی کوششیں کی ہیں، لیکن وہ تشنہ رہیں۔ زیرِنظر کتاب خطبہ کے مکمل متن، ترجمہ، توضیحات اور دوسرے متعلقات (مآخذ، موقع و محل، نوعیت، منظر و پس منظر، اثرات وغیرہ) کے مفصل مطالعہ پر مشتمل ہے۔ اس میں بہ قول مصنف ”پہلی مرتبہ کوشش کی گئی ہے کہ خطبہئ جلیلہ کو عالمی انسانی منشور کی حیثیت سے، باقاعدہ دفعات کے تعیّن اور دیباچہ و اختتامیہ کے ساتھ پیش کیا جائے“۔ (ص9)

        خطبۂ حجۃ الوداع کے مطالعہ سے فاضل مصنف کو عرصہ سے خصوصی دلچسپی رہی ہے۔ انھوں نے 1968ء میں متنِ خطبہ کو مآخذ کی تصریح اور اردو ترجمانی کے ساتھ اپنی کتاب ’نقشِ سیرت‘ میں شامل کیا تھا۔ پھر خطبہ کے عالمی انسانی پہلوؤں کا، ان کا ایک مفصل مطالعہ 1985ء میں ’پیغمبر اسلام کے پیغام کی آفاقیت‘ کے عنوان سے بین الاقوامی سیرت کانفرنس کے مجموعۂ مقالات میں شائع ہوا۔ آخرمیں انھوں نے ان تمام پہلوؤں کا احاطہ ایک مفصل مقالہ میں کیا، جو شش ماہی مجلہ السیرۃ عالمی کراچی کے تین شماروں 9، 10، 11 (2003- 2004ء) میں شائع ہوا۔ یہی مقالہ زیرِ نظر کتاب کی صورت میں شائع ہوا ہے۔

        یہ کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ باب اول میں خطبۂ حجۃ الوداع کے موضوع پر دست یاب مطالعات و مآخذ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مصنف نے تمام اردو کتبِ سیرت اور بعض انگریزی و عربی تالیفاتِ سیرت کا اس حیثیت سے جائزہ لیا ہے کہ ان میں حجۃ الوداع کے خطبہ سے کس حد تک تعرّض کیا گیا ہے۔ اسی طرح قدیم مآخذ پر بھی اس حیثیت سے نظر ڈالی ہے کہ کتبِ حدیث (صحاح، سنن، مسانید وغیرہ) کتبِ تاریخ اور کتبِ سیرت میں سے ہر ایک میں خطبہ کے کتنے جملے مذکور ہیں۔ باب دوم میں موقع محل، منظر و پس منظر کے ضمن میں مصنف نے یہ جائزہ لیا ہے کہ اس وقت نقشہئ عالم پر تہذیبی، تمدّنی، مذہبی اور سیاسی حوالے سے کن علاقوں کو کیا اہمیت حاصل تھی؟ نیز سفرِ نبوی کے راستے اور منزلوں کی نشان دہی کی کوشش کی ہے۔ باب سوم میں خطبہ کی نوعیت اور قدرو قیمت سے بحث کی گئی ہے۔ باب چہارم حوالوں کے ساتھ خطبہ کے متن اور اردو ترجمہ پر مشتمل ہے۔ اور باب پنچم میں مشتملاتِ خطبہ کی توضیحات مختلف عناوین کے تحت کی گئی ہیں۔ بہ طور ضمیمہ مصنف نے حقوق انسانی کے موضوع پر تیار ہونے والی چند جدید دستاویزات کا تذکرہ کیا ہے۔

        فاضل مصنف نے خطبۂ حجۃ الوداع کی ترتیب و تدوین عصری انداز میں کی ہے، اسے دیباچہ اور اختتامیہ کے علاوہ اساسیات، اجتماعیات اور دینیات (عقائد، عبادات، معاملات، اخلاقیات) کے اجزاء میں تقسیم کیا ہے۔ اور متن خطبہ کو 48 مرکزی دفعات اور 71 ذیلی دفعات میں مرتب کیا ہے۔ انھوں نے متن خطبہ کی ترتیب و تدوین کے دوران زیادہ سے زیادہ الفاظ جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کوشش میں صحت و استناد کا پہلو کچھ اوجھل سا ہوگیا ہے۔ چنانچہ خطبہ کے متعدد جملے صرف الجاحظ کی البیان والتبیین، تاریخ یعقوبی یا مولانا حبیب الرحمن اعظمی کی خطبات النبی سے ماخوذ ہیں اور متعدد جملوں کے لیے اصل حوالہ محض زیادتی الفاظ کی وجہ سے واقدی، ابن سعد، ابن ہشام اور جاحظ کا دیا گیا ہے اور بخاری، مسلم، ابوداؤد، احمد وغیرہ کے حوالے محض تائیدی حیثیت میں پیش کیے گئے ہیں۔ ایک ضمیمہ میں مصنف نے کتب حدیث و سیرت و تاریخ میں سے ہر ایک میں الگ الگ ان رواۃ کی فہرست پیش کی ہے جنھوں نے احوال حجۃ الوداع اور خطبہئ نبوی کی روایت کی ہے۔ اس فہرست میں اولاً صحابہ اور تابعین کے نام خلط ملط ہوگئے ہیں۔ ثانیاً ایک ہی صحابی کانام کئی کتابوں کے حوالے سے آنے کی وجہ سے یہ معلوم نہیں ہوپاتا کہ مجموعی طور پر حجۃ الوداع اور خطبہئ نبوی کی روایت کرنے والے کتنے صحابہ ہیں ؟ باب دوم کے 58 حواشی (ص109-118) غلطی سے باب سوم میں بھی مکرر ہوگئے ہیں (ص 139-148) پروف کی بھی خاصی غلطیاں رہ گئی ہیں۔ صحیح مسلم کو ہر جگہ الصحیح المسلم لکھا گیا ہے۔

        حاصل یہ کہ زیرِ تبصرہ کتاب رسول اکرم ﷺ کے خطبۂ حجۃ الوداع کا بھر پور مطالعہ ہے، جو امید ہے آئندہ علماء و محققین، ماہرین اور موضوع سے دل چسپی رکھنے والوں کے لیے حوالے کا کام دے گا۔

مؤلف: ڈاکٹر نثار احمد، ناشر: بیت الحکمت، لاہور، سنہ اشاعت 2005ء،  صفحات 256

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button