Sliderجہان کتب

خواتین کا میگزین ماہ نامہ ‘ہادیہ’ ای-میگزین کا پہلا شمارہ

(امت مسلمہ، بالخصوص بچیوں اور خواتین کے لیے بہترین تحفہ)

 سہیل بشیر کار

(کشمیر)

ماہ نامہ ‘ھادیہ’ ای-میگزین باصلاحییت خواتین کا میگزین ہے۔ اس کا مقصد بیان کرتے ہوئے میگزین کی ایڈیٹر محترمہ خان مبشرہ فردوس  لکھتی ہیں :”یہ خواتین کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا ذریعہ ثابت ہوگا۔ نہ صرف ہمارے احساسات کا ترجمان ہوگا بلکہ جدید تقاضوں کے ساتھ اپنے قارئین کو فوز و فلاح کی حقیقت سے روشناس بھی کروائے گا۔ ہندوستانی سماج میں خواتین کے مسائل، محروم طبقات کے تئیں منفی سوچ، اور صنفی تفریق، ناانصافی، غیر متوازن تقسیم اور ان کے دائرہ عمل کی حقیقی صورتحال کی ترجمانی کرے گا۔ ٹوٹتے بکھرتے خاندان، کمزور پڑتے ازدواجی رشتے، دووقت کی روٹی کے لیے اپنا تقدس پامال کرتی خواتین یا ضرورتوں کی تکمیل کے لیے سخت تگ ودو کرتی ہوئی خواتین ،ظلم وجبر جو ان پر علمی و مادی کمزوری کی وجہ ہوتا آرہا ہے اور ان کی آوازِناتواں کو محض نقار خانے میں طوطی کے بول سمجھ کر نظر اندازکیا جاتا رہاہے۔ یہ میگزین خواتین کی صفوں سے خواتین کے لیے خواتین کی اٹھنے والی مضبوط آواز ثابت ہوگا۔ "

حصول مقاصد کے لیے  تعلیم، تدبیر، تعبیر کا طریقہ اپنایا جائے گا۔ رسالہ میں امیر جماعت کا پیغام شامل ہے۔ سعادت صاحب لکھتے ہیں:” تحریک اسلامی سے وابستہ خواتین جدوجہد اور سرگرمی کے اعتبار سے بھی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ علم اور صلاحیتوں کے اعتبار سے بھی۔ جدید زمانے کی سہولتوں نے ایسے مواقع بھی پیدا کردیے ہیں کہ وہ گھر میں رہتے ہوئے، اپنی اصل گھریلو ذمے داریاں ادا کرتے ہوئے اور اسلامی قدروں کی پابندی کرتے ہوئے، بہت کچھ سیکھ بھی سکتی ہیں اور بہت کچھ کنٹری بیوٹ بھی کرسکتی ہیں۔ "

‘کيا تم بھول گئی’ عنوان کے تحت مضمون میں محترمہ جاویدہ بیگم ورنگلى نے خواتین کو اپنا مقام یاد دلایا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کی اپیل دل سے ہے، اپنے مضمون میں انہوں نے صحابیات کی عملی زندگی کے واقعات سے بہترین مثالیں پیش کی ہیں۔ میگزین میں ڈاکٹر ترنم صد یقی کا ایک اہم انٹرویو بھی شامل ہے۔

میگزین میں دو بک ریویو ہے۔ پہلا بک ریویو ڈاکٹر محی الدین غازی مدیر ‘زندگی نو’ کا ہے۔ جو انہوں نے ڈاکٹر نازنین سعادت کی کتاب "خاندانی مسرتوں کے راز” پر کیا ہے۔ اپنے ریویو میں وہ لکھتے ہیں :

"اس کتاب کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ اسے ایک تجربہ کار خاتون نے لکھا ہے، جو کونسلنگ کے جدید طریقوں سے اچھی طرح واقف ہے۔ قدیم روایتی طریقوں سے بھی آگاہ ہیں، اور زندگی گزارنے کے لیے قرآن وسنت کی تعلیمات کو اصل ماخذ سمجھتی ہیں۔ "

دوسرا بک ریویو کتاب ‘قرآن پر عمل’ از سمیہ راحیل پر محترمہ شہمینہ سبحان کا ہے وہ اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھتی ہے کہ’ کتاب کے لیے مصنفہ ہر درس کے لیے ایک آیت کا انتخاب کرتی ہیں اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس کو عملی طور پر اپنی زندگی میں لاگو کرنے کی حتیٰ المقدور کوشش کرتے ہیں اور حقیقت بھی ہے کہ قرآن آیا تھا ہماری زندگیوں میں تبدیلی برپا کرنے کے لیے، جن لوگوں نے عملی طور پر اپنی زندگیوں میں اس کو اپنایا وہ زمانے کے امام بن گئے۔ "

‌تذکرہ صحابیہ کے سلسلے میں عمارہ رضوان کا ام الدرداء ؓ پر ایک جامع مضمون ہے۔ جس سے صحابہ اور صحابیات کے توازن اور اعتدال کی عکاسی ہوتی ہے۔ ‘آہ… قافلے لٹ گئے۔ !’ خان نشرہ کا ایک بہترین افسانہ ہے جس میں وہ پیغام دیتا ہے کہ ہمیں رشتہ کے انتخاب میں دین کو ترجیح دینی چاہیے ورنہ انسان کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔

"قوتِ گویائی عطیۂ خداوندی ہے”  سلمی نسرین کا طنز و مزاح پر مبنی کالم ہے۔ تحریر بہت عمدہ ہے۔ انہوں نے اپنے کالم میں شاعروں، ناول پڑھنے والوں اور انگریزی الفاظ کثرت سے استعمال کرنے والوں کا خوبصورت انداز میں مزاح کیا ہے۔ وہ ناول کی شوقین کی عکاسی اس طرح کرتی ہے: "ہماری ایک دوست ناولز کی دلدادہ ہے اور ناولوں کے کثرت مطالعہ کی وجہ سے اس کی زبان و بیان میں بھی وہی انداز اغلب ہے۔ ایک منٹ کی بات سنانے کے لیے اس کو کم ازکم 25 منٹ درکار ہوتے ہیں۔ ۔

مثلاً اگر اسے یہ کہنا ہو کہ دیکھو یہ ڈریس میں نے دو ہزار کا لیا ہے، تو وہ اسے اس طرح بیان کرے گی۔

“دکان کا دروازہ پش کر کے ہم اندر داخل ہوئے تو A۔ C کی سرد ہوا نے ہمارا استقبال کیا۔ ۔ ۔ ہمیں دیکھتے ہی دکاندار لپک کر آیا۔ ہر طرح کے شیڈز اور زرق برق لباس دیکھ کر میری تو آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ ۔ امی کو ایک ڈریس پسند آیا تھا اس کے گلے پر موتیوں کا کام تھا اور دامن پر خوبصورت سی لیس لگی تھی۔ ہم نے دام پوچھے تو اس نے تین ہزار بتائے، حالانکہ وہ اتنا مہنگا لگ نہیں رہا تھا۔ ۔ ہمارے بازو کچھ اور خواتین بھی خریداری کر رہی تھیں۔ ۔ غالباً ان کے گھر شادی تھی اور دلہن ساتھ میں تھی کیونکہ بار بار ایک لڑکی کی پسند اس سے پوچھی جارہی تھی اور وہ بھی سو سو نخرے دکھا رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ”

میگزین میں درس قرآن، درس حدیث، فقہی استفسار حفظان صحت، ملکی و عالمی حوالے سے مضامین، معاشرتی مسائل پر مضامین اور حصول روزگار کے لئے ایک مضمون شامل ہے۔ غرض اس میگزین میں متنوع مضامین ہیں۔

ایک طرف خواتین کے حوالے سے جہاں خارجی حملے ہوتے ہیں وہی مسلمانوں کا رویہ خواتین کے حوالے سے بھی بہتر نہیں۔ گزارش ہے کہ اس سلسلے میں بھی مضامیں شائع کیے جائیں تاکہ اپنوں کی طرف سے ظلم بھی ختم ہو جائے۔ ساتھ ہی اس میگزین میں امید ہے کہ ان خواتین کو بھی پلیٹ فارم مہیا کیا جائے گا جو فینٹس تحریک سے وابستہ ہیں بلکہ ان سے مضامین لکھوائے جائیں تاکہ بحث و مباحث کا سلسلہ چل پڑے۔ ای میگزین کا گیٹ اپ بھی عمدہ ہے اور کسی ماہر نے ویب سائٹ کو ڈیزائن کیا ہے، البتہ اگر ہر مضمون، قاری کو فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر سماجی رابطہ سائٹس پر شیئر کرنے کی سہولت ہوتی تو فائدہ بہت ہوگا۔ پہلا شمارہ شائع کرنے کے لیے پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ میگزین کا پتہ haadiya۔in ہے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button