شخصیات

خواتین کے چاچا 

 ساجدہ پروین

بھساول

 

عبد الرزاق چاچا اب نہیں رہے لیکن یادوں کے کئی دریچوں کو کھول کر چلے گئے — میں اس پل کو کیسے فراموش کرسکتی ہوں جو میری تحریک میں شمولیت کا سبب بنے، شادی کے بعد پہلی بار جب جماعت اسلامی کے مقامی دفتر میں ہفتہ واری اجتماع میں شرکت کیں، دو بچیوں ننےاٹک اٹک کر پڑھا اس کے بعد مولانا کی پردے سے دھیمی دھیمی نرم جذبہ خلوص سے سرشار آواز مجھے متاثر کرگئ ___ دو ہفتہ اسی طرح کا پروگرام چلا تیسرے ہفتہ میں نے کچھ کہنے کی اجازت چاہی — مولانا نے خوشی سے لبریز آواز میں اجازت دی — پروگرام کے گھر پہنچی ہی تھی کہ مولانا بنفس نفیس چند رفقاء کے ساتھ تشریف لے آئے اور دعائیہ کلمات کے ساتھ مقامی ناظمہ کی اہم ذمہ داری کا بوجھ میرے نازک کندھوں پر رکھ دیا، نئ نویلی دلہن، بڑے خاندان کی ذمہ داری اور یہ ایک اہم ذمہ داری کے بوجھ و احساس سے ہی میں پریشان ہو گئ — لیکن ا للہ کی مدد و نصرت اور مولانا کی محبت حوصلہ افزائی اور ہر پل مدد نے تحریکی سرگرمیوں کو سہل بنادیا ، دوروں مین بھی مولانا ساتھ ہوتے، مہاراشٹر میں خواتین میں توسیع و استحکام  اور طالبات میں کام میں مولانا کی سعی و جہد بنیادی پتھر کا مقام رکھتی  ہے خواتین کے مقامی پروگرام ہو یا ضلعی مولانا پوری تندہی سے اپنی خدمات پیش کرتے، منصوبہ بندی، رپورٹنگ، تقریری صلاحیت،ان صلاحیتوں کو پروان چڑھانےمیں مولانا کا خاص رول رہا،آ زمائیشوں میں صبر و استقامت و ثابت قدمی  سادگی مولانا کی شخصیت کے پہلو تھے اور اس پر اقامت دین  کے لئے سعی و جہد کا جذبہ قربان جاو، ہمیشہ باہر نظر آتے کتابوں کی تھیلی ساتھ ہوتی، خواتین و طالبات میں کام کا جذبہ بہت تھا، ہر دو دن بعد ہمیں کسی نہ کسی سے ملنے لے جاتے، میرا بہت خیال رکھتے ذرا سی بھی تکلیف نہیں ہونے دیتے، اکثر ارکان کی نشست ہمارے گھر ہی رکھ لیتے تمام ارکان کو لے آتے مجھ اکیلی کو تکلیف نہ دیتے،چا چا چلے گئے لیکن کتنی ہی ان مٹ یادیں چھوڑ گئے اور ہمارے لئے کتنی راہیں سلجھا گئے نجانے اس موقع پر کتنی ہی خواتین سوگوار ہوگی اور ان گفتگو و نصیحتوں کو یاد کر ہی ہوگی ا و رجو راہ وہ دکھا گئے جس تحریک سے وابستہ کرگئے اس کے لئے انھیں خراج عقیدت کے نذرانہ پیش کررہی ہوگی — اللہ مولانا کی مغفرت فرمائے اقامت دین کے لئے کی گئی ان کی سعی و جہد کو قبول فرما ۓ درجات کو بلند فرما ۓ َآمین
اس موقع پر اگر زاہد دیشمکھ چا چا کا ذکر  نہ کروں تو شاید ایک پہلو ادھورا رہ جائے کیونکہ میری پیدائش ہی ان کے گھر ہوئ اور بچپن انھیں کے آغوش میں گزرا ََ، لڑکپن میں بھی ان کے درس سے استفادہ کیا، ایمرجنسی کے زمانے میں قید و بند کی صحبتوں کو جھیلنے کے لئے روانہ ہوتے ہوئے انھیں دیکھا اور رخصت کیا گو کہ شعور نہیں تھا لیکن یہ تصویر یں ذہن کے نہاں خانوں میں جلا دینے کے لئے محفوظ ہے، اللہ زاہد چا چا کی مغفرت فرمائے انھیں جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے آمین
انا للہ و انا الیہ راجعون
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button