Sliderاسلامیات

دجال

مختصر تعارف: احادیث کی روشنی میں

 

شاہ مدثر،عمرکھیڑ
(ایڈیٹر افکارِ نو)

اس وقت دنیا بڑی تیزی کے ساتھ جنگ و جدل، خوف و ہراس، قتل و غارت اور قیامت کی ہولناکیوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ دھیرے دھیرے دنیا کی

عمر گھٹ رہی ہے۔ *آنے والا وقت انتہائی دشوار کن ہوگا، ایک بڑی جنگ (ملحمتہ الکبریٰ) اس زمین پر لڑی جائے گی، اس جنگ میں ایک طرف اللہ کے دین کو غالب کرنے والوں کا لشکر ہوگا تو دوسری جانب دجال کے ساتھیوں کا لشکر۔۔۔۔۔۔ یہ کفر و اسلام کی فیصلہ کن جنگ ہوگی۔۔۔ اس جنگ سے کوئی بھی فرد محفوظ نہیں رہے گا۔۔۔ یہ عظیم جنگ اسلام کے مرکز مشرق وسطٰی میں برپا ہوگی۔۔۔۔ لیکن اس کے اثرات ساری دنیا پر چھا جائیں گے، اسں جنگ میں اہل ایمان کو غلبہ نصیب ہوگا۔۔ اور دنیا میں دوبارہ خلافتِ اسلامیہ کا قیام عمل میں آئے گا۔۔*

محترم قارئین!!

مستقبل میں مسلمانوں کو جن حالات و واقعات سے واسطہ پڑنا ہے، اس کی نشاندہی اللہ کے رسولﷺنے اپنے زمانے میں ہی بتادی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خاص طرزِ عمل تھا کہ وہ کسی بھی پہلو یا معاملہ سے بےخبر نہیں رہتے تھے اور اس بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فوراً آگاہی دیتے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے اپنی امت کو بار بار فتنوں سے ڈرایا ہے، اس بارے میں ان کی بہت بڑی خیر خواہی فرمائی، اور ہر طرح کے خطروں اور فتنوں سے بچاؤ کے راستے بتائے، تاکہ مسلمان دجال کے فتنوں اور اس کی سازشوں سے اپنے آپ کو ہمیشہ محفوظ رکھ سکیں۔
فتنوں سے متعلق احادیث آپﷺ کی نبوت اور سچائی کا ثبوت ہے۔ بشرطیکہ ہم اُس کو جاننے کی کوشش کریں اور اُس پر یقین کرتے ہوئے اُس کے مطابق اپنا لائحہ عمل بنانے کی کوشش کریں۔
رسول صل اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ دجال کا خروج نہ ہوگا یہاں تک کہ لوگ دجال کا ذکر بھول جائیں گے اور مساجد کے آئمہ منبروں پر اس کا تذکرہ چھوڑ دینگے۔(احمد) *اس حدیث پر غور کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ہم موجودہ دور میں دجال کے معاملے میں کس قدر لاعلمی کا شکار ہے۔ کیا یہ حیران کن بات نہیں ہے کہ آج ہماری محفلوں میں فتنہ دجال اور اس کی سازشوں پر بات نہیں ہوتی۔؟؟؟ کیا یہ بات سچ نہیں ہے کہ آج مساجد کے منبروں سے فتنہ دجال پر تذکرہ نہیں ہوتا۔۔؟؟؟ کیا یہ حدیث ہم پر صادق نہیں آتی کہ آج ہم دجال کے احوال سے بالکل ہی غافل ہوچکے ہیں؟؟؟* آج امت مسلمہ کا ایک بڑا حصّہ فتنہ دجال سے بےخبر ہیں اور نہ ہی دجال کی صفات کا علم رکھتے ہیں… (الا ماشاءاللہ) دجال کے بارے میں لوگوں کی اسی غفلت کو دور کرنے کے مقصد سے میں یہ مختصر تعارف و احوال پیش کررہا ہوں۔ امید کرتا ہوں دجال کے احوال کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔۔

احادیث:
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا:’’اے لوگو! بلاشبہ زمین میں دجال کے فتنے سے بڑا کوئی فتنہ نہیں‘‘۔ (سنن ابن ماجہ) ایک اور روایت میں فتنۂ دجال کی ہولناکی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا گیا آدم علیہ السلام کی پیدائش اور روزِ قیامت کے درمیان ایک بہت بڑا فتنہ ظاہر ہوگا اور وہ دجال کا فتنہ ہے۔ (مستدرک حاکم) یعنی دجال کائنات کا سب سے بڑا فتنہ ہے۔ جو اپنی خوفناک پالیسیوں کے ذریعے دنیا پر غلبہ پانے کی کوشش کرے گا۔۔ اسی طرح ایک روایت میں درج ہے کہ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سامنے دجال کا ذکر فرماتے تو صحابہ کرام کے چہروں پر خوف کے اثرات نمودار ہوجایا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بار ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا دجال کے فتنہ کو یاد کرکے روپڑیں۔(یہ روایت صحیح ابن حبان اور مسند احمد میں موجود ہے)

ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا:

فتنۂ دجال سے صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے اپنی قوم کو نہیں ڈرایا بلکہ ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال کے فتنے سے ڈرایا ہے۔ چنانچہ حضرت انسؓ کی روایت ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی نبی ایسا نہیں ہے جنہوں نے اپنی امت کو کانے کذاب سے نہ ڈرایا ہو۔ (بخاری)

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی شان کے مطابق اس کی تعریف کی پھر دجال کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’میں تم لوگوں کو اس سے ڈراتا ہوں، جتنے نبی آئے سبھوں نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے۔ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے لیکن اس کے بارے میں تم لوگوں کو ایک بات بتاتا ہوں جسے کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی ۔یہ جان لوکہ دجال کانا ہوگا جبکہ اللہ کانا نہیں ہے‘‘۔ (بخاری و مسلم)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے متعلق کہا: ’’اس کے پاس آگ اور پانی ہوں گے۔ (جو) آگ (نظر آئے گی وہ) ٹھنڈا پانی ہوگا اور (جو) پانی (نظر آئے گا وہ) آگ (ہوگی)۔‘‘ (بخاری)

خلاصہ:

   محترم قارئین!! 
صحیح احادیث اور مستند روایات کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی ہے کہ قیامت سے پہلے دجال ظاہر ہوگا۔ دجال اس زمانے   کا سب سے عظیم اور سنگین فتنہ ہے۔یہ قیامت کی دس بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ دجال ایک سچائی ہے، اس کو فسانہ یا کہانی بتاکر اس کے خروج کا انکار کرنا گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی باتوں کا انکار کرنا ہے اور ان احادیث کا انکار کرنا ہے جو دجال کے بارے میں مختلف کتابوں میں موجود ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ لوگوں کی آزمائش کے لیے دجال کو بڑے بڑے اختیارات سے نوازے گا۔۔ دجال ظاہر ہونے کے بعد انسانوں کے سامنے خدائی کا دعویٰ کرے گا، وہ آسمان سے بارشیں اور زمین سے فصلیں اگائیں گا۔ دجال کے پاس وافر مقدار میں پانی، آگ اور غذا ہوگی۔ جو خدائی کا انکار کرے گا وہ انہیں قتل کردے گا۔ وہ مکہ اور مدینہ کے سوا تمام کرہ ارض پر اپنا قبضہ جمالے گا۔ دجال یہودیوں کی نسل سے ہوگا۔وہ بائیں آنکھ سے کانا ہوگا۔دجال انتہائی جھوٹا اور اعلی درجہ کا شعبدے باز ہوگا۔ وہ اپنے کرشموں اور شعبدہ بازیوں کے ذریعے یا یوں کہیے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔اس کے پاس وافر مقدار میں غلوں کے ڈھیر اور پانی کی نہریں ہوں گی۔ اسلام دشمن طاقتیں اور بالخصوص یہودی و صیہونی تنظمیں دجال کو اپنا مسیحا مان کر اس کی پشت پناہی کررہے ہوں گے۔ دجال اپنی عسکری اور افرادی قوت کے بل پر دنیا میں فساد برپا کردے گا۔۔ وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا جو لوگ اسے خدا نہیں مانیں گے انہیں دجال قتل کردے گا یا بھڑکتی آگ کے حوالے کردے گا، بظاہر وہ بھڑکتی ہوئی آگ نظر آرہی ہوگی لیکن حقیقتاً وہ ٹھنڈی ہوگی۔۔ اور اس آگ میں کودنے یا ڈالے جانے والے اہل ایمان کامیاب ہوں گے۔ دجال کے خروج سے پہلے ہی دنیا میں امام مہدی کا ظہور ہوجائے گا، جس وقت دجال اپنی طاقت کے نشہ میں دنیا میں فساد پھیلا رہا ہوگا تو اس وقت امام مہدی ملک شام میں مسلمانوں کی عالمی شیرازہ بندی، جہادی لشکروں کی ترتیب اور یہودیوں کے خلاف جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہوں گے۔ امام مہدی علاقے دمشق کو اپنی فوجی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں گے۔ اور اس وقت یہی مقام ان کا ہیڈ کواٹر ہوگا۔ اسی درمیان حضرت عیسیٰ علیہ السلام ملک شام کے علاقے دمشق کی جامع مسجد پر نازل ہوں گے۔ دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خبر سن کر گھبرائے گا اور انہیں دیکھ کر اس طرح گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی خاص مدد و نصرت کے سہارے حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کا تعاقب کرکے اسے قتل کردیں گے۔

یہ دجال کا مختصراً تعارف ہے، واضح رہے کہ دجال کے قتل ہونے کے بعد احادیث میں یاجوج و ماجوج کا ذکر ملتا ہے۔۔ لیکن اس وقت یاجوج و ماجوج ہمارا موضوع نہیں ہے۔۔ اس موضوع پر میں علیحدہ سے تحریر لکھوں گا۔۔۔

محترم قارئین!!
امت مسلمہ کو فتنۂ دجال سے بچانے کی فکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ رہتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نماز میں تشہد کے بعد پڑھی جانے والی دعاؤں میں ایک دعا ایسی بھی سیکھائی جس میں فتنۂ دجال سے پناہ مانگی گئی ہے۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں تشہد پڑھ کر فارغ ہوجائے تو ﷲ تعالیٰ سے چار چیزوں سے پناہ مانگے اور کہے اے ﷲ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور قبر کے عذاب سے اور مسیح دجال کے فتنے سے اور موت وحیات کے فتنے سے: اَللّٰھُمَّ إِنَّی أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ جَھَنَّمَ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ ۔ (مسلم)
لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ ہم فتنہ دجال سے محفوظ رہنے کی دعاؤں کا اہتمام کرے۔

اللّٰہ تعالیٰ دجال کے فتنوں سے ہمیں محفوظ رکھیں اور ہمیں اعلائے کلمۃ اللہ کے مقصد پر قربان ہونے کی توفیق دے۔

آمین ثم آمین یارب العالمین

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button