اسلامی معاشرہ

درخشاں نقوش’ حیات خلیل اللہ اور پیغام عمل

 شازیہ عرش ماہ بنت نقیب خان

(عمرکھیڑ، مہاراشٹر)

اللہ سبحانہ و تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے۔۔۔
تم لوگوں کے لیے ابراہیمؑ اور اُس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے
(سورہ الممتحنہ ۴)
تین مذاہب کا بابائے ملت،رب العالمین کا مسلم، با عزم و حوصلہ مند، استقامت‌ و عزیمت کا منبع،جس نےراہ وفا کا حق ادا کر دیا ۔جب وہ رب سے راضی ہوا تو رب العالمین بھی اس سے راضی ہو گیا اور قرآن میں اسی بندے کے لیے بڑے لطیف انداز میں کہا۔
قائم ہو جاؤ اپنے باپ ابراہیمؑ کی ملت پر اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام "مسلم” رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) ۔(سورہ الحج ۷۸)
ولادت:
عراق میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسی قوم میں آنکھیں کھولی جو علوم و فنون اورصنعت و حرفت میں بہت ترقی یافتہ تھی لیکن عقیدے کے لحاظ سے بہت بے راہ روی کی شکار تھی۔یہاں ستاروں کی پرستش ہوتی،نجوم،فال گیری،غیب گوئی جیسے کام بام عروج پر تھے ۔خود والد آزر بت تراش،پروہیت اور سخت قسم کے مشرک انسان ۔ان کے جانشین بن کر ابراہیم علیہ السلام عیش کوش زندگی بسر کرسکتے تھے۔لیکن اللہ سبحانۂ و تعالیٰ کو ابراہیم علیہ السلام سے امامت کا کام لے کر ساری دنیا کے لئے نمونہ بنانا تھا۔گویا اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے لئے قطرہ نہیں سمندر مقدر کیا تھا۔ لہذا اس کا آغاز بھی ان کے ہوش سنبھالتے ہی ہو گیا۔
 وحدہ لاشریک کی تلاش,
جس کو قرآن میں کہا گیا.
"ابراہیمؑ کو ہم اِسی طرح زمین اور آسمانوں کا نظام سلطنت دکھاتے تھے اور اس لیے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے ۔ چنانچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اُس نے ایک تار ا دیکھا کہا یہ میرا رب ہے مگر جب وہ ڈوب گیا تو بولا ڈوب جانے والوں کا تو میں گرویدہ نہیں ہوں ۔پھر جب چاند چمکتا نظر آیا تو کہا یہ ہے میرا رب مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا اگر میرے رب نے میر ی رہنمائی نہ کی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہو گیا ہوتا ۔ پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ ہے میرا رب، یہ سب سے بڑا ہے مگر جب وہ بھی ڈوبا تو ابراہیمؑ پکار اٹھا "اے برادران قوم! میں اُن سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھیراتے ہو”
 ۔(انعام ۷۵تا۷۸)
پھر انہوں نے ہر ڈوبنے والی چیز، چمکتے دمکتے چاند ،سورج اور ستاروں کا طلسم توڑ کر، اپنا رخ صرف ایک اللہ کی طرف کرلیا اور اسی کی محبت دل میں جا گزیں کر لی، اسی کو ہی طلب و سعی ،توجہ،وابستگی کا مرکز و محور بنا لیا۔ اللہ کے سوا اور کوئی رخ تھا نہ کوئی شریک۔ با لآخر اس مشرک قوم کے درمیان رہتے ہوئے ہی انہوں نے اعلان کیا:
 "میں نے تویکسو ہو کر اپنا رخ اُس ہستی کی طرف کر لیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں”
 (انعام ۷۹)
غور و تدبر کا وہ معیار ابراہیم علیہ السلام کو حاصل تھا جس کے ذریعے انھوں نے اپنے رب کو پا لیا اور خلیل اللہ کے لقب سے نوازے گئے۔
بت خانے میں:
بتوں کی حقیقت قوم والوں کو سمجھانے کی غرض سے ابراہیم علیہ السلام نے تدبیر کی جسے قرآن میں کہا گیا-
"اور خدا کی قسم میں تمہاری غیر موجودگی میں ضرور تمہارے بتوں کی خبر لوں گا” چنانچہ اس نے اُن کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور صرف ان کے بڑے کو چھوڑ دیا تاکہ شاید وہ اس کی طرف رجوع کریں  (اُنہوں نے آ کر بتوں کا یہ حال دیکھا تو) کہنے لگے "ہمارے خداؤں کا یہ حال کس نے کر دیا؟ بڑا ہی کوئی ظالم تھا وہ”  (بعض لوگ) بولے "ہم نے ایک نوجوان کو ان کا ذکر کرتے سُنا تھا جس کا نام ابراہیمؑ ہے”  انہوں نے کہا "تو پکڑ لاؤ اُسے سب کے سامنے تاکہ لوگ دیکھ لیں (اُس کی کیسی خبر لی جاتی ہے)”  (ابراہیمؑ کے آنے پر) اُنہوں نے پوچھا "کیوں ابراہیمؑ، تو نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے؟”
  اُس نے جواب دیا
"بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس سردار نے کیا ہے، اِن ہی سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہوں”  یہ سُن کر وہ لوگ اپنے ضمیر کی طرف پلٹے اور
 (اپنے دلوں میں) کہنے لگے "واقعی تم خود ہی ظالم ہو” مگر پھر اُن کی مت پلٹ گئی اور بولے "تُو جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں” ابراہیمؑ نے کہا "پھر کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اُن چیزوں کو پوج رہے ہو جو نہ تمہیں نفع پہنچانے پر قادر ہیں نہ نقصان  تف ہے تم پر اور تمہارے اِن معبُودوں پر جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر پوجا کر رہے ہو کیا تم کچھ بھی عقل نہیں رکھتے؟”
(سورہ الانبیا ۵۷تا۶۷)
دربار نمرود:
بتوں کے انکار اور توحید کا اعلان ابراہیم علیہ السلام کو وقت کے بادشاہ کے دربار میں لے گیا جسے قرآن میں کہا گیا-
"کیا تم نے اُس شخص کے حال پر غور نہیں کیا، جس نے ابراہیمؑ سے جھگڑا کیا تھا؟ جھگڑا اِس بات پر کہ ابراہیمؑ کا رب کون ہے، اور اس بنا پر کہ اس شخص کو اللہ نے حکومت دے رکھی تھی جب ابراہیمؑ نے کہا کہ "میرا رب وہ ہے، جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے، تو اُس نے جواب دیا "زندگی اور موت میرے اختیار میں ہے”ابراہیمؑ نے کہا "اچھا، اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تو ذرا اُسے مغرب سے نکال لا” یہ سن کر وہ منکر حق ششدر رہ گیا، مگر اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھایا کرتا” ۔ (سورہ البقرہ ۲۵۸)
آگ کا الاؤ:
دربار نمرود سے فیصلہ صادر کیا گیا اس شخص کو آگ کے الاؤ میں ڈال دو۔ابراہیم علیہ السلام چونکہ استقامت اور توکل علی اللہ کے گویا مجسمہ تھے اس فیصلے سے ان کے چہرے پر کوئی شکن نہ آئی۔
ع:
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
عراق کے شہر”ار” میں بادشاہ نمرود نے آپ علیہ السلام کو آگ میں پھینک دیا ۔جب آزمائش اپنے عروج کو پہنچے اور دنیا کے سہارے محض تماشائی بن جائے تو رب ذوالجلال اپنی رحمت کے معجزے دکھاتا ہے۔اور ایسے شخص کے لیے معجزے کیوں نہ ہو جو شخص پہاڑ سے زیادہ مضبوط دل رکھنے والا اور وحدہ لاشریک پر ایمان رکھتا ہو۔رب کا حکم ہوا___
ہم نے کہا "اے آگ، ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی بن جا ابراہیمؑ پر” ۔(سورہ الانبیا ۶۹)
آبائی وطن سے ہجرت:
  ابرہیم علیہ السلام نے ارا دہ کیا کہ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے کہیں اور جا کر توحید کی دعوت کا کام شروع کریں۔قرآن میں کہا گیا:
’’ اور ابراہیم علیہ السلام نے کہا ’’ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں یقینا وہ میری رہنمائی فرما ئے گا‘‘
(الصافات ۹۹)
 اس طرح ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی خاطر اپنے آبائی وطن اور اپنے اعزہ و اقارب پر ایک حسرت بھری نگاہ ڈالتے ہوئے کسی انجانی منزل کی طرف گامزن ہوگئے۔
آزمائش بعداز آزمائش:
توحید کی دعوت دیتے ہوئے ابراہیم علیہ السلام نے اولاد کے لئے دعا کی تاکہ دین کی اشاعت میں وہ ان جانشینی کریں۔اللہ نے یہ دعا قبول کی اور ابراہیم علیہ السلام کو سخت بڑھاپے کی عمر میں حضرت اسماعیل جیسا بردبار،صابر بیٹا عطا کیا گیا۔
بیٹا ابھی شیرخوار ہی تھا کے رب کی طرف سے حکم ہوا کہ اپنی بیوی اور نوزائیدہ بچے کو عرب کی بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آئے لہذا آپ علیہ السلام نے رخت سفر باندھا ۔
ہاجرہ علیہ السلام کہتی ہے "کیا یہ اللہ کا حکم ہے”
ابراہیم علیہ السلام نے کہا”ہاں”
ہاجرہ علیہ السلام کے وہ جملے جو صحیح بخاری میں ملتے ہیں”رب ہمیں ضائع نہیں کرے گا، "رضیت باللہ” میں اللہ پر راضی ہوں”۔
ایسی جگہ پر رہنے کے لئے ہاجرہ علیہ السلام راضی ہو گی جہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا سخت چلچلاتی دھوپ،نہ آدم نہ آدم زاد۔ساتھ کا توشہ ختم ہوا تو پانی کی تلاش میں نکل کر صفاء و مروہ کی ۷چکر لگاتی تاکہ کوئی قافلے دیکھ جائے تو کچھ پانی لے لے۔(یہ ادا اللہ کو اتنی پسند آئی کہ اللہ نے صفاء و مروہ کی سعی کو عمرہ اور حج کا رکن بنا دیا)۔اسی دوران اسماعیل کی پیروں کی رگڑ سے ایک چشمہ پھوٹ نکلا ہاجرہ علیہ السلام اسے دیکھ کر کہتی ہے زم زم (ٹھرجا ٹھرجا) اور اس کے اطراف میں پانی کو بہنے سے روکنے کا انتظام کرتی ہے۔۔۔۔۔۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تربیت و پرورش ہوتی رہی۔قرآن میں کہا گیا۔
"وہ لڑکا جب اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک روز) ابراہیمؑ نے اس سے کہا، "بیٹا، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، اب تو بتا، تیرا کیا خیال ہے؟” اُس نے کہا، "ابا جان، جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے، آپ انشاءاللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے”  آخر کو جب اِن دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور ابراہیمؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا  اور ہم نے ندا دی کہ "اے ابراہیمؑ  تو نے خواب سچ کر دکھایا ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں” ۔ (سورہ الصافات ۱۰۲ تا ۱۰۵)
اس طرح ابراہیم علیہ السلام یک بعد دیگر آزمائش سے استقامت کے ساتھ گذرتے رہے پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا۔
"یاد کرو کہ جب ابراہیمؑ کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزما یا اور وہ اُن سب میں پورا اتر گیا، تو اس نے کہا "میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں” ابراہیمؑ نے عرض کیا "اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے؟” اس نے جواب دیا "میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے” ۔
(سورہ البقرہ-۱۲۴)
ع:
آگ ہے، اولاد ابراہیم ہے ،نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے
 پیغام عمل
تاریخ کے ان درخشاں نقوش سے دور حاضر کی طرف پیش رفت سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ امت مسلمہ ایک ایسے دور سے گذر رہی ہے جہاں آزمائش،پریشانیاں ،مصیبتں ان کا مقدر بن گئی ۔ اسلام سے بے وفائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر طرف امت مسلمہ پستی کا شکار ہوگئی۔بقول شاعر:
ع
مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور
تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور
قرآن میں کہا گیا___
تم پر جو مصیبت بھی آئی ہے، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے، اور بہت سے قصوروں سے وہ ویسے ہی در گزر کر جاتا ہے ۔(سورہ الشوریٰ ۳۰)
حیات ابراہیم علیہ السلام کے درخشاں نقوش سے امت مسلمہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکتی ہیں۔ابراہیم علیہ السلام توکل علی اللہ،سمعنا و اطعنا،تقلید نہیں بلکہ غور و فکر،حنیف،شرک سے اجتناب،رب کی طرف یکسوئی کے ساتھ سے پلٹنا،داعیانہ اسلوب،قلب سلیم،شکر،صبروتحمل،دعا وغیرہ صفات کے اعلی ترین معیار پر تھے ۔ان صفات کے حامل افراد کے لیےرب العالمین کا بہترین وعدے ہیں۔
 قرآن میں کہا گیا۔
اپنے رب سے معافی چاہو، پھر اس کی طرف پلٹو، وہ تم پر آسمان کے دہانے کھول دے گا اور تمہاری موجودہ قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا مجرموں کی طرح منہ نہ پھیرو” (سورہ ھود ۵۲)
اللہ سبحانہ و تعالیٰ عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا ذوالجلال والاکرام
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button