ادبغزل

دلوں سے بغض و کدورت کی گرد چھٹ جائے

فضا میں بکھری عداوت کی گرد چھٹ جائے

افتخار راغبؔ

دلوں سے بغض و کدورت کی گرد چھٹ جائے

فضا میں بکھری عداوت کی گرد چھٹ جائے

خلوص و انس و محبّت کے نرم جھونکے چلیں

فضاے قلب سے نفرت کی گرد چھٹ جائے

ہٹے جو چہرۂ عیّار سے نقابِ وفا

فریبِ ربط و رفاقت کی گرد چھٹ جائے

ضروری کیا ہے کہ کچھ ڈگریوں کی برکت سے

دماغ و دل سے جہالت کی گرد چھٹ جائے

تھمے یہ ظلم کا طوفاں تو خود بہ خود راغبؔ

بکھر رہی ہے جو دہشت کی گرد، چھٹ جائے

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button