Sliderاسلامیاتتعلیم

دل ونگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں!

یاسمین بانو

(اچلپور)

موجودہ مسلمان بڑے دعوے اور فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ انہیں یہ نہیں معلوم کہ مسلمان ہونے کے معنی کیا ہوتے ہیں؟ مسلمان ہونے کے معنی ہوتے ہیں اطاعت و فرمانبرداری کرنے والا۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری کے آگے سر تسلیم خم کر دینے والا۔ جہاں حکم ہوا جس چیز کے کرنے کا وہاں پلٹ کر بھی نہ دیکھیں کہ آیا اس کام کے کرنے سے دنیاوی طور پر نقصان ہوتا ہے یا فائدہ۔ جہاں حکم ہوا کسی کام سے رک جانے کا وہاں رک جائے اور اس بات کی فکر نہ کریں کہ اس کام کے نہ کرنے سے دنیاوی اعتبار سے فائدہ ہوگا یا نقصان۔ بلکہ اس کی نظر صرف اور صرف آخرت پر ہو اور اللہ کی مرضی کو اللہ کی خوشنودی کو وہ ہمیشہ اپنے ملحوظ نظر رکھیں۔ اسی کا نام ہے اسلام اسی کا نام ہے عبادت و بندگی لیکن افسوس صد افسوس ان  مسلمانوں پر جنہوں نے دین اور دنیا کو دو الگ الگ خانوں میں تقسیم کر رکھا ہے اور دین کو چند مخصوص عبادت و تک محدود کردیا ہے اور دنیا کے کاموں کو دین سے الگ کر دیا ہے۔

ابھی ابھی دسویں اور بارہویں کے  امتحانات اختتام کو پہنچے ہیں ہوتا یہ ہے کہ جیسے ہی امتحانات ختم ہوتے ہیں ہمارے سر پرستوں کو  یہ فکر لاحق ہو جاتی ہے کہ پرچہ جانچنے کے لیے کس علاقے کے استاد  کے پاس گیا ہے اور بہت سے لوگ یہ پتہ لگانے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں کہ پرچہ کس علاقے میں پہنچا ہے اور پھر اس علاقے کے اساتذہ سے رابطہ کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ کوشش اس بات کی کی جاتی ہے کہ چاہے بچہ پڑھائی میں کیسا ہی ہو اس کی پڑھائی کیسی بھی ہوئی ہو اسے زیادہ سے زیادہ نمبر مل جائے۔ یہی نہیں بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی بچے کو اس مقام پر لے جا کر اس کے ہاتھ میں پرچہ تھما دیا جاتا ہے۔ تاکہ وہ خود جتنا چاہے پُلر کر کے اپنے نمبروں میں اضافہ کر لے۔ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ نہ صرف  سرپرست بلکہ تعلیمی اداروں کے ہیڈ ماسٹر اور  پریسڈنٹ بھی اپنے اسکول کے بچوں کے کام کرواتے ہیں تاکہ ان کےاسکول کا فیصد کم نہ ہوجائے۔

           سوال یہ ہے کہ جو سرپرست امتحان ختم  ہونے کے بعد غلط طریقے سے اپنے بچوں کے نمبرات بڑھانے کے لئے بھاگ دوڑ کرتے ہیں انتھک جدوجہد کرتے ہیں۔ کیا یہ والدین اور یہ سرپرست اس وقت غفلت کی نیند سوئے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب ان کا بچہ اسکول میں اور ان کلاسوں میں قدم رکھتا ہے جب کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ جب ان کا بچہ دسویں یا بارہویں میں پہلا قدم رکھے اسی وقت سے یہ والدین اور سرپرست اور اسکول کے اساتذہ ہیڈ ماسٹر اور پریسیڈنٹ سب بچوں کی کامیابی کے لیے جدوجہد میں لگ جائیں تعلیمی ادارہ اس بات کی کوشش کرے کہ اس کے زیادہ سے زیادہ بچے محنت اور لگن سے کامیاب ہو سکیں اور  والدین اور سرپرست بھی اس طرف خصوصی توجہ دیں کہ ان کا بچہ زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کر سکے اور اس فکر میں وہ اپنا مال اپنا وقت اور اپنی صلاحیتیں صرف کر دے اور اپنے بچوں کے دل و دماغ میں کوٹ کوٹ کر اس بات کو بھر دیں کہ چاہے کتنے ہی سنہری مواقع ۔

 پیش آئیں ان کے بچے ایک نمبر کی بھی چوری  نہ کریں نقل نہ کریں۔ چاہے  امتحان میں ناکام ہی کیوں نہ ہو جائے اور  اس عمل سے برادران وطن کو سوچنے پر مجبور کر دیں کہ اسلام اس قسم کی حرکتوں کو قطعی پسند نہیں کرتا۔ ہم اپنے بچوں کو وہ اسلامی تاریخ یاد دلائیں جس میں ایک بچے کے حسن عمل اور سچائی کے سبب سردار سمیت تمام لٹیرے حلقہ بگوش اسلام اور بدعملی سے تائب ہو گئے تھے۔

ذرا غور کیجیے کہ اگر ہم اسی طرح غلط طریقے سے کام کروا کر اپنے بچوں کو انجینئر ڈاکٹر اور ٹیچر بنائیں گے تو کیا یہ خود ہماری اپنی قوم کے ساتھ ظلم نہیں ہیں؟ دشمنی نہیں ہیں؟ اپنے بچوں کو ایک دولت کمانے والا ڈاکٹر اور ایک دولت کمانے والا استاد بنانے کی فکر نہ کریں بلکہ ایک مسلم فرماں بردار ڈاکٹر اور ایک مسلم استاد بنانے کی فکر کریں انتھک کوشش کے باوجود بھی اگر بچہ تعلیمی اعتبار سے کمزور ہے تو بلاوجہ اپنی خواہشات کا بوجھ اس پر نہ ڈالیں بلکہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے اسے ایک نیک اور دیانت دار تاجر بنائیں اور اس میں ذرا بھی عار محسوس نہ کریں۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ سچائی کے ساتھ معاملہ کرنے والا امانت دار تاجر قیامت کے دن نبیوں صدیقوں شہیدوں کے ساتھ ہوگا اگر آپ سرپرست ہیں تو بحیثیت مسلم اپنے دل میں یہ خیال بھی نہ لاۓ کہ آپ کو اپنے بچے کے پرچوں کا کام کروانا ہے اور اگر آپ پرچہ جانچنے والے ہیں تو آپ یہ نہ دیکھیں کہ جس بچے کے سرپرست  آپ تک پہنچے ہیں یا جس کی طرف سے کوئی سفارش پہنچی ہے اس کے نمبروں میں آپ اضافہ کر دیں اور جس بچہ کا کوئی پرسان حال نہیں اس کے پرچے کو سرسری طور پر جانچ کر چھوڑ دیں۔ بلکہ اس بات کو بھی ذہن میں رکھتے ہوئے پرچہ جانچا جائے کہ کوئی نہیں دیکھ رہا ہے تو کیا ہوا خدا تو دیکھ رہا ہے۔ ورنہ بروز قیامت اس تعلق سے سوال کیا جائے گا اور یہ خیال کرے کہ جب یہ سچائی سامنے لائی جائیں گی تو اس سچائی کا سامنا کیسے کر پائیں گے۔ ذرا غور کیجئے کہ ایک طالب علم وہ ہے  جو بہت زیادہ محنت کرتا ہے رات دن ایک کر دیتا ہے وہ پرچے بھی بہت اچھے طریقے سے حل کرتا ہے لیکن وہ نہ نقل کرتا ہے نہ اس کی کوئی سفارش کرتا ہے اور دوسرا طالب علم وہ ہے جو محنت نہیں کرتا کھیل کود اور لہو و لعب میں وقت برباد کر دیتا ہے۔ نتیجتاً وہ پرچی اچھے طریقے سے حل نہیں کر پاتا لیکن وہ نقل کے مواقع حاصل کرلیتا ہے یا سفارش کروا لیتا ہے اور جب نتیجہ برآمد ہوتا ہے تو دونوں طالب علموں کے نمبر برابر ہوتے ہیں کیا یہ اول الذکر طالب علم کے ساتھ ناانصافی نہیں ہے؟ دھوکہ نہیں ہے؟ فریب نہیں ہے؟ حق تلفی نہیں ہے؟ ظلم نہیں ہے؟ جبکہ حدیث مبارکہ میں یہ بات آئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ظلم سے بچو کیونکہ ظلم کا نتیجہ قیامت کے دن گھٹا ٹوپ تاریکیاں ہیں۔

دراصل آج کا مسلمان گناہ کرنے کا اتنا عادی ہو چکا ہے کہ احساس گناہ ختم ہوگیا ہے نہ تو امتحان میں نقل کرنے والے کو یہ احساس ہوتا ہے کہ گناہ کا کام ہے اور نہ ہی نقل کروانے والے کو جب کہ اسلام کسی بھی ایسے کام کی قطعی اجازت نہیں دیتا جس میں دھوکا، فریب، حق تلفی اور ظلم ہو۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button