Sliderمتفرقات

دل چیز کیا ہے!!!

اگر دل درست اور محفوظ رہا تو قیامت کے دن کامیابی کی سو فی صد ضمانت ہے۔"(سورہ الشعراء:89)

دل چیز کیا ہے!!!!
سیدہ تبسم منظور ناڈکر ۔ممبئی
نائب ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال اسٹار نیوز ٹو ڈے
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال ہندوستان اردو ٹائمز
لب جس کو عام الفاظ میں دل کہا جاتا ہے جسم کا ایک عضو ہے جو پورے جسم میں خون پہنچانے کا کام کرتا ہے۔  دل کی دھڑکن  جو کبھی نہ رکنے
والی حرکت ہے جو پیـدائیش کے پہلے سے ہی شروع ہوتی ہے اور تا دم تک قائم رہتی ہے۔ جب تک روح قبض نہیں کی جاتی۔   دل کہنے کو تو ایک خون سے بھرا گوشت کا لوتھرا ہے۔۔۔۔۔ بہت چھوٹی سی اور نازک چیز ہے۔ لیکن اس چھوٹی سی چیز میں نہ جانے کیا کیا چھپا ہوتا اور کیا کیا سما جاتا ہے۔ اگر انسان کسی دوسرے انسان کے دل کا حال جان لے تو نہ جانے کیا ہو جائے۔ اس ایک دل پر  نہ جانےکئی ذمہ داریاں ہوتیں ہیں۔ غم کو چھپائے رکھنا۔۔ درد کو دبائے رکھنا۔۔۔ خواہشوں کو قابو میں رکھنا۔۔۔۔۔۔کسی کی محبت بسانا۔۔۔۔۔کسی کی نفرت کو سہنا۔۔۔۔۔ اپنے جذبات و احساسات  اور اپنی آرزوؤں کو۔۔۔۔اپنے ارمانون کو چھپائے رکھنا۔ اس دل کے اندر ایسی انہونی خواہشات بھی ہوتی ہیں جن کے پورا ہونے کا خوف بھی ہوتا ہے اور نا مکمل رہےجانے کا دکھ بھی ہوتا ہے۔ دل کی ہر چاہت پوری ہو بھی نہیں ہوسکتی اس دل کا کیا یے ہر وہ کام کرنے کی طرف راغب ہوتا جس کو پورا کرتے کرتے اپنی پوری زندگی بھی خرچ ہوجاتی لیکن دل کی آرزو تو پوری ہی نہیں ہوتی اس کی ایک خواہش پوری ہوئی نہیں کہ دوسری خواہش لے کر بیٹھ جاتا ہے بلکل ایک معصوم  ضدی بچے کی طرح جس کی ایک مانگ پوری ہوگی تو دوسری بھی مان لی جا ئیگی!!!!جب سمندر میں طوفان آتا ہے وہ تو سب کو دیکھائی دیتا ہے لیکن جو دل کے اندر طوفان اٹھتا ہے اس کا کسی کو بھی پتہ نہیں ہوتا۔ اور یہ دل ہی کے تو ذمے ہوتا ہے کہ اپنے اندر کے طوفان کو چھپائے رکھے۔اور یہ اس چھوٹے سے دل کی ہمت ہی تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ اندر کے طوفان کو بھی چھپا لینے کا ہنر رکھتا ہے تو پھر ہم یہ کیسے مان سکتے ہیں کہ یہ دل بہت چھوٹی سی نازک چیز ہے؟؟؟؟ دل تو بہت بڑا ہوتا جس میں سب کچھ سما جاتا ہے ۔بے شک دل ایک انسانی جسم کا ایسا حصہ ہے کہ بعض مرتبہ دماغ بھی دل سے عاجز آجاتا ہے۔کہنے کو تو دل گوشت کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے لیکن یہ ایک راز بھی ہے ۔ کئی لوگ کہتے ہیں کہ یہ سادہ بھی ہے اورچالاک بھی ہے ۔ کیسی نے اس دل کے بارے میں کہا ہے کہ نادان لوگ دولت کے لئے دل کا چین لٹا دیتے ہیں اور دانشمند لوگ دل کے چین کی خاطر دولت لٹا دیتے ہیں۔
کئی مرتبہ ہم بزرگوں سے سنتے ہیں کہ انسان کے اندر بھی ایک انسان اور ہوتاہے۔۔۔۔اور اگر اندر کا انسان صحیح ہو تو باہر کا انسان خودبخود صحیح ہو ہی جاتا ہے۔ اگر اندر کا انسان مر جائے تو باہر کا انسان پہلے ہی مرجاتا ہے۔ اور اسی اندر کے انسان کو دل کہتے ہیں۔ جب انسان دل کا ٹھیک ہو تو انسان کی ظاہری شخصیت مثال کے طور پر کردار۔۔۔۔نظر۔۔۔۔۔قدم ۔۔۔۔۔سوچ۔۔۔ فکر البتہ سب کچھ ٹھیک ہوتی ہے۔ اور جب دل بگڑ جاتاہے تو پھر پورا کے پورا انسان ہی بگڑ جاتاہے۔ دل ہی سیاہ ہو جاتا ہے۔ اور یہ دل کیسے بگڑتا ہے کیسے سیاہ ہوجاتا ہے؟؟؟؟ دل بگڑتا ہے غفلت بھری زندگی گزارنے سے۔۔۔ اللہ کے ذکر کی دوری سے۔۔۔۔ عبادت کی دوری سے۔۔۔اللہ اور رسول کی سنتوں پر نہ چلنے سےاور پھر انسان کا دل ہی اندھا ہو جاتاہے اور ایسا اندھا ہوتا ہے کہ پھر کچھ دیکھائی نہیں دیتا کچھ سمجھ نہیں آتا کہ نیکی۔۔ بدی۔۔ دوست۔۔۔۔دشمن۔۔۔اچھا۔۔۔برا۔۔۔۔۔ فائدہ۔۔۔نقصان۔۔۔۔کسی میں بھی تمیز نہیں کرپاتا۔ جیسے انسان نیکی میں ترقی کرتاہے اسی طرح انسان بدی میں بھی ترقی کرتاہے اور پھر وہ درندہ بن جاتاہے۔ اگر انسان اس چھوٹے سے دل پرقابو پالے تو پوری دنیا کو قابو کر لینا اس کیلئے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ جو دل میں  کینہ کپٹ رکھتے ہیں۔جو دوسروں کی برائیاں کرتے ہیں۔ جو دل کے کالے ہوتے ہیں ان کے چہروں سے نور ختم ہو جاتاہے۔ اللہ تعالی نے قرآن میں کئی جگہ پر قلب یعنی دل کا ذکر کیا ہے۔
   "روحانی امراض کی جڑیں قلوب میں ہوتی ہیں۔”(سورہ البقراء:10)
  ” یہ قلوب ہی ہیں جو اطمینان اور سکون کا مقام ہوتے ہیں”۔(سورہ الرعد:28)
      "سخت ہوکر پتھر جیسے ہوجاتے ہیں "(سورہ البقراء:74)
"آزمائشوں کے مقابلے کی طاقت بھی قلب میں ہوتی ہے۔”(سورہ التغابن: 11)
 "پچھتاوے اور افسوس کے احساسات بھی قلب میں ہوتے ہیں۔”(ال عمران:156)
  "اگر دل درست اور محفوظ رہا تو قیامت کے دن کامیابی کی سو فی صد ضمانت ہے۔”(سورہ الشعراء:89)
     "خوف خدا کا مرکز قلوب ہیں۔”(سورہ الحج:32)
    "قلوب اندھے بھی ہو جاتے ہیں۔”(سورہ الحج:46)
       اللہ رب العزت نےجب انسان کو بنایا تو اس کی چابی اپنے ہاتھ میں رکھی۔ وہی ہے جو دلوں کو پھیرتا ہے جسے چاہے اُلٹا پھیر دیے جسے چاہے سیدھا پھیر دیے۔ ہمارے بھی دلوں کو اللہ رب العزت اپنی رحمت سے کھول دے۔ ذکر الہی میں مصروف رکھے۔ دل کا سکون تو صرف اللہ کی یاد میں ہے۔  ذکر میں ہے۔۔  قرآن کی تلاوت میں ہے۔۔۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے افکار میں اور  نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے میں ہے۔ یتیم کے سرپر شفقت بھرا ہاتھ پھیرنے میں ہے۔۔۔ اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے میں ہے۔   دل کا سکون اللہ کو راضی کرنے میں ہے۔۔ نیک عمل صدقہ خیرات کرنے میں۔۔۔ نمازوں کی پابندی کرنے سے ہی دلوں کو سکون مل سکتا ہے۔اپنے دل کو پاک رکھیں صاف رکھیں ۔
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button