اسلامیات

دودھ دینے والے جانور کی قربانی؟

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

        ایک خاتون کا سوال آیا کہ اس نے قربانی کے لیے ایک بکری خریدی ہے _ وہ ابھی کچھ دودھ دیتی ہے _ کیا اس کی قربانی کی جاسکتی ہے؟ اسی طرح میرے ایک بزرگ کرم فرما نے سوال کیا کہ ایک بھینس قربانی کے لیے منگائی گئی ہے  _ وہ دودھ دیتی ہے _ کیا اس کا دودھ استعمال کیا جاسکتا ہے؟
         اس سلسلے میں عرض ہے کہ قرآن مجید میں قربانی کے جانوروں کے سلسلے میں ‘بھیمۃ الانعام'(چوپائے مویشی یعنی پالتو جانور) کے الفاظ آئے ہیں _
(الحج :28، 34)  حدیث میں آٹھ(8) جانوروں کی تعیین کی گئی ہے جن کی قربانی کی جاسکتی ہے : اونٹ ، اونٹنی ، بیل ، گائے ، دنبہ ، دنبی ، بکرا ، بکری ، یعنی چار (4) جانوروں کے نر اور مادہ _
           مادہ جانوروں کی قربانی کی صورت میں اس کا امکان ہے کہ وہ  حاملہ ہوں ، یا دودھ دینے والی ہوں _ چوں کہ ایسے جانوروں سے ایک دوسری منفعت بھی وابستہ ہے ، یعنی ان سے بچے پیدا ہوکر مزید جانور حاصل ہوں گے اور ان سے دودھ مل رہا ہے ، اس لیے عام دنوں میں انہیں ذبح کرنا اور عید الاضحٰی کے موقع پر ان کی قربانی کرنا ، دونوں اعمال پسندیدہ نہیں ہیں _
         ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو ساتھ لے کر ایک انصاری صحابی کے گھر تشریف لے گئے _ وہ تینوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے _ فوراً اپنے باغ میں گئے اور کھجور کا ایک خوشہ توڑ کر لائے ، پھر چھری لے کر اپنے ریوڑ میں گئے کہ کوئی جانور ذبح کرلائیں _ اس موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں ہدایت فرمائی : اِیّاکَ وَالحَلوب (مسلم:2038) ” دیکھو ، کسی دودھارے جانور کو ذبح نہ کرنا _  ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے تنہا ایک صحابی کے یہاں جانے کا ذکر ہے _  اس موقع پر انھوں نے آپ کی تواضع کے لیے جانور ذبح کرنا چاہا تو آپ نے انہیں بھی یہی ہدایت فرمائی کہ دودھ دینے والے جانور کو ذبح نہ کرنا _ (ابن ماجہ :3180) یہ ایک ہی واقعہ ہو ، یا الگ الگ واقعات ہوں ، دونوں کا امکان ہے _
          بہ ہر حال اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے دودھ دینے والے جانوروں کا ذبح کیا جانا پسند نہیں کیا ہے _ یہی حکم ایسے جانوروں کی قربانی کے سلسلے میں بھی ہوگا _
          حاملہ جانوروں کی قربانی پسندیدہ نہیں ہے ، خاص طور پر اس وقت جب ان کے حمل کے آخری ایام ہوں ، اسی طرح دودھ دینے والے جانوروں کی قربانی پسندیدہ نہیں ہے ، لیکن یہ ممانعت حرمت کے درجے کی نہیں ، بلکہ کراہت کے درجے کی ہے _ ایسے جانوروں کی قربانی ہوجائے گی _
        دودھ دینے والے جانوروں کو قربانی کے لیے حاصل کیا گیا ہو تو قربانی سے قبل وہ جتنے دن خریدار کے پاس رہیں ، اس کے لیے ان کا دودھ استعمال کرنا جائز ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے _
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button