Sliderاسلامیاتسنت

دین میں سنت کا مقام

سنت قرآن کی فکری و نظری تشریح اور اس کی عملی تطبیق ہے

  فر زانہ حمید

 (ریسرچ اسکالر، شعبۂ اسلامک اسٹڈیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ)

اسلام اپنی جامعیت کی بنا پر ممتاز ہے اور ایک ایسا نظام ہے جو امتیازی خصوصیات کاحامل ہے۔ اسلامی شریعت کی بنیاد قرآن ہے۔ قرآن کے بیان، شرح و تفسیر کا نام ’’سنت ‘‘ ہے۔ قرآن اور سنت دونوں کی پابندی کا تاکیدی حکم وارد ہے۔

مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ (سورۃ النساء:80)

(جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی)

قرآن و سنت دونوں دین کے قیام کے لئے ضروری اور اہم ہیں۔ اس میں شک کی گنجائش نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات شریعت کے احکام کی مستقل بنیاد ہیں اور حضورؐ کی سنت قرآن کے دائرے میں ہی رہتی ہے۔ قرآن و سنت متواتر ہ سے جو کچھ بھی ہمیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچا ہے وہ شک وشبہ سے بالا تر ہے۔

عبد القادر جیلانی لکھتے ہیں :

’’کتاب و سنت کو اپنا پیشوا بنائو اور ان دونوں میں غور وفکر کے ساتھ نظر کرو اور عمل کرو، جو چیز رسولؐ لائے ہیں اس پر عمل کرو اور اپنے نفس کے لئے نیا عمل، اور نئی عبادت نہ گھڑو‘‘۔ (فتوح الغیب، ص/75)

 رسولؐ۔ ایک بہترین عملی نمونہ:

اسلام کے عملی نظام کو سمجھنے کے لئے آپؐ کے تفصیلی عملی نمونہ کو جاننا بے حد ضروری ہے اور یہ عمل بذریعہ سنت جانا جاتا ہے۔ صحابۂ کرام رسولؐ کو نمونہ واجب الاتباع مانتے تھے قرآن اس پر دلالت کر تا ہے۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (سورۃ الاحزاب:21)

(یقینا تمھارے لئے اللہ کے رسول میں بہترین نمونۂ زندگی ہے)۔

لہٰذا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زندگی کے ہر گوشے میں اتباع کے لئے کامل نمونہ ہیں۔ دین سے متعلق احکام آپ ؐنے ہمیں اپنی عملی زندگی سے بتائے کیونکہ آپؐ صرف قرآن کے پیامبر ہی نہیں بلکہ معلم شریعت بھی ہیں۔

علامہ یوسف قرضاوی لکھتے ہیں :

’’سنت قرآن کی فکری و نظری تشریح اور اس کی عملی تطبیق ہے کیونکہ رسولؐ کی ذمہ داری تھی کہ وہ لوگوں کے سامنے ان احکام و تعلیمات کا عملی نمونہ پیش کریں جو ان پر نازل کئے گئے تھے‘‘۔ (سنت نبوی اور ہمارا طریق فکرو عمل، ص/129)

قرآن اور سنت پر جو اجتماعی عمل مسلمانوں کا رہا ہے اسے تعامل کہتے ہیں یعنی نسلاً بعد نسل لوگ عمل کرتے چلے آرہے ہیں اور یہ بھی پوری طرح محفوظ ہے۔ مثلاً قرآن پاک میں ’’اقیمو الصلوٰۃ‘‘ کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے لیکن نماز کی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔ رسولؐ نے نماز کے احکام اور طریقۂ کار کو بیان فرمایا اور کہا کہ جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو، اسی طرح نماز پڑھو۔ آپؐکے اتنا کہنے پر سب نے اکتفا کیا صحابہ نے تابعین کو سکھایا، تابعین نے تبع تابعین کو سکھایاا ور ہر دور میں فقہائے اسلام، محد ثین اور مفسرین نماز کے احکام کی تفصیلات بیان کرتے رہے ہیں۔

قرآن کریم کے اکثر مجمل احکام کا بیان اور تفسیر سنت میں ہے۔ جسے رسولؐ کے ذریعے ہی جانا جا سکتا ہے۔ اللہ کے نازل کردہ احکام کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف ہم تک پہنچایا بلکہ امت کو کھانے پینے، رہنے سہنے کے آداب، عبادت کے طریقے، شادی بیاہ کے معاملات، وراثت کے مسائل اور انسانی معاملات کی بھی تعلیم دی۔ جس کی پیروی صحابۂ کرامؓ نے زندگی کے ہر شعبے میں کی اور خود کو اسلام کے سانچے میں ڈھالا۔

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں احکام قرآن و سنت سے ہی حاصل کئے جاتے  تھے۔ قرآن مجید کی تشریح بیان کرنے کا حق آپؐ کو ہی تھا کیونکہ قرآن آپؐ پر نازل ہوا اسی لئے اسے بیان کرنا بھی آپؐ کے منصبی فرائض میں شامل تھا۔

رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت ملنے کے بعد لوگوں تک نہ صرف قرآن اور اسکے پیغام و احکام کو پہنچایابلکہ امت کے لئے ایک جامع نظام قائم کیا اور صحابۂ کرام کو خیرکا راستہ اختیار کرنے کی تلقین کی۔ سنت نبوی کے تعلیمی کام کے لئے ایک خصوصی دستہ بھی تیار کیا گیا تھا جسے ’’اصحابِ صفہ‘‘ کہا جاتاہے۔ یہ لوگ مستقل طور پر مدینہ میں رہتے تھے عقائد شریعت اور اخلاق کی تعلیم پاتے تھے ان کے لئے صفہ خاص درس گاہ تھی اس میں قیام کرتے تھے شب و روز عبادت اور طلبِ علم میں مصروف رہتے تھے۔

اس سے متعلق سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں :

’’ان کی تعلیم و تربیت کا مقصد یہ تھا کہ ایسی جماعت تیار کی جائے جو نہ صرف شریعت کے اوامر و نواہی سے واقف ہو بلکہ شب و روز آنحضرتؐ کی خدمت میں رہنے سے تمام تر اسلامی رنگ میں ڈوب جائے، جس کی گفتار، کردار، بات چیت، نشست و برخاست، قول و عمل، ایک۔ ایک چیز تعلیمِ نبویؐ کے پرتوں سے منور ہوجائے تاکہ وہ تمام ملک کے لئے اسوۂ حسنہ اور نمونہ عمل بن سکے۔ اس لئے عرب کے ہر قبیلے سے جماعت آتی تھی اور آپ ؐ کی خدمت میں رہ کر تعلیمات سے بہر اندوز ہوتی تھی‘‘۔ (سیر ت النبی، ج/2، ص/56)

سنت کامقام

اللہ تعالی نے قرآن مجید میں سنتِ رسول کو جو مقام دیا ہے وہ عظیم اور بالا ہے۔ بعض مقامات پر رسول کی اطاعت کا تذکرہ اللہ کی اطاعت کے ساتھ کیاگیا ہے، بعض جگہ ’’تعلیم حکمت‘‘ کے فریضے کاذکر کیا گیا ہے۔

 وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ۝۰ۤ وَمَا نَہٰىكُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا(سورۃ الحشر:7)

(جو کچھ رسول تمھیں دیں اسے لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جائو)

 اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ

(اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو)۔

صحابۂ کرام کتاب و سنت کے اولین مخاطب ہیں وہ لوگ کتاب وسنت کے مفہوم کو سب سے زیادہ سمجھنے والے تھے انھوں نے سنتِ رسولٔ سے اپنی زندگی کے ہر گوشے کو منور کیا۔

صحابۂ کا اجماع تھا کہ سنتِ رسولؐ پر اسی طرح عمل کرنا واجب ہے جس طرح قرآن پر عمل کرنا واجب ہے انھوں نے سنت پر ویسے ہی عمل کیا جیسے کہ قرآن پر عمل کیا، رسولؐ کے زمانے میں جب کوئی معاملہ پیش آتا تو لوگ قرآن کریم سے رجوع کرتے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے تھے تاکہ مسئلہ کا حل اچھی طرح سمجھ میں آسکے۔ ٹھیک اسی طرح رسولؐ کی وفات کے بعد جب معاملات پیش آئے تو لوگوں نے قرآن کی طرف رجوع کر نے کے ساتھ ساتھ سنتِ رسولؐ کی طرف بھی رجوع کیا۔ صحابۂ کرام کے بعد امت بھی اس  پرمتفق رہی کہ سنت رسول کو قبول کرنا واجب ہے۔ چنانچہ شریعت کی نگاہ میں سنتِ رسولؐ بنیادی حیثیت کی حامل ہے۔

شاہ ولی اللہ نے، امام احمد کا قول نقل کیا ہے :

’’نہ میری تقلید کرو، نہ مالک کی اور نہ اوزاعی کی، نہ نخعی کی اور نہ کسی اور کی بلکہ احکام وہیں سے لو جہاں سے انھوں نے لیا ہے یعنی کتاب و سنت سے۔ ‘‘(حجۃ اللہ بالغہ:ص/260)

سنت کی اہمیت احادیث سے بھی ظاہر ہے مثلاً

٭           ابو داؤ د (باب کتاب السنۃ/4607) میں ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ میرے بعد بے شمار اختلافات دیکھو گے۔ ایسی صورت میں میری سنت اورخلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے پکڑ لینا۔

٭           ابو دائود (کتاب الاقضیۃ/3592) میں ہے کہ حضورؐ نے حضرت معاذ کو یمن بھیجتے وقت دریافت فرمایا کہ وہاں جاکر فیصلہ کس بنیاد پر کروگے؟

انھوں نے جواب دیا کہ اللہ کی کتاب سے۔

آپ ؐ نے کہا: اگر کتاب اللہ میں نہ ملے تو؟

جواب دیا:سنتِ رسولؐ سے۔ (الٰی آخر الحدیث)

٭           رسول نے اپنی زندگی کے آخری دور میں صحابۂ کرام ؓ سے فرمایا کہ:

میں تمھارے درمیان دوچیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ تم ہر گز گمراہ نہیں ہوگے جب تک تم ان دونوں چیزوں کو پکڑے رہوگے اللہ کی کتاب اور میری سنت۔

فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ(سورۃ النساء:59)

(اگر کسی معاملہ میں آپس میں اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور اسکے رسول کی جانب لوٹادو)۔

دنیا میں اختلافات کا پیدا ہونا فطری ہے اور یہ اختلافات قیامت تک سامنے آتے رہیں گے ایسی صورت میں اللہ اور اس کے رسول کے جانب رخ کرنا ہی ایمان کا تقاضا ہے خواہ اختلافات ذاتی ہوں یا اجتماعی۔ اختلاف دور کرنے کے لئے اللہ اور اس کے رسولؐ کی میزان عدل کے ذریعے مسئلہ کا حل ڈھونڈنا چاہئے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اب موجود نہیں، سنتِ رسول موجود ہے۔ اُسے قبول کرنا ہر فرد پر واجب ہے۔

امام شافعیؒ لکھتے ہیں کہ :

’’اگر تم میری بات میں رسولؐ کی سنت کے خلاف کوئی بات پائو تو سنتِ رسولؐ کو لے لو اور میری بات چھوڑ دو۔ (الرسالہ، ص/88)

قرآن اسلام کی روح اور بنیاد ہے جس سے اسلام کے تمام قوانین اخذ کئے جاتے ہیں اور سنتِ نبوی اس کی شرح و تفصیل ہے۔ سنت قرآن کی فکری و نظری تشریح اور اس کی عملی تطبیق ہے اور ہمیشہ قرآن کے دائرے میں رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحیح اور ثابت شدہ سنت قرآن کے احکام اور اس کے واضح دلائل و بینات سے متعارض نہیں ہوسکتی۔ امام شافعیؒ لکھتے ہیں :

’’اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام خواہ وہ تفصیلی ہوں یا اجمالی۔ ان کے ساتھ رسولؐ کی سنت کو بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو مقام اپنے بنیؐ کو دیا، اس کی وضاحت ہوجائے، لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ ؐ کی اتباع در اصل اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے۔ آپؐ کی سنت ہمیشہ کتاب اللہ کے مطابق ہوتی ہے، کبھی اس سے متضاد نہیں ہوتی‘‘۔ (الرسالہ، ص/90)

قرآن میں کئی جگہ اس بات کو دہرایاگیا ہے کہ اللہ تعالی نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف قرآن سنا دینے کے لئے نہیں بھیجا تھا، بلکہ اس کے ساتھ تزکیہ اور تعلیم بھی آپ کے فرائض میں شامل تھے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ    (سورۃ آل عمران:164)

(اللہ نے ایمان لانے والوں پر احسان فرمایا جبکہ ان کے اندر خود ان ہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو انھیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے۔ اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے)۔

قرآن کی اس آیت میں رسول کے چار کام بتائے گئے ہیں۔

پہلا کام تلاوتِ آیات ہے۔ کلامِ الٰہی کو لوگوں تک پہنچا نے کے اس کام کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بخوبی انجام دیا اور آج وہ قرآن کی صورت میں محفوظ ہے، رسولؐ کا دوسرا کام تعلیمِ کتاب ہے یعنی قرآنی آیتوں کی تفسیر کرنا اور اس کی تعلیم کے ذریعہ زندگی میں عملی نمونہ قائم کرنا۔ رسولؐ کا تیسرا کام تزکیہ ہے یعنی اپنی تربیت سے لوگوں کے اندر اچھے اوصاف فروغ دینا اور اجتماعی خرابیوں کو دور کرنا۔ یہ کام رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے روز مرہ کی تلقین کے ذریعے انجام دیا۔ رسولؐ کا چوتھا کام حکمت کی تعلیم ہے آپؐ نے لوگوں کو بتایا کہ دینی زندگی میں عمل صالح کو اُس کی حقیقی روح کے ساتھ کِس طرح انجام کیسے دیا جائے۔ حکمت ہی گویا’’سنتِ رسول‘‘ ہے۔

سنت حکمت کی عملی شکل و صورت کا ہی نام ہے۔ چنانچہ قرآن و سنت کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں کو قطعی الثبوت کا درجہ حاصل ہے۔

شاطبیؒ لکھتے ہیں :

سنت کتاب اللہ کے احکام کے لئے بمنزلہ تفسیر اور شرح کے ہے۔ (الموافقات، ج/4، ص/10)

حضورؐ کا مقصد قرآن کو امت تک محض پہنچانا نہیں تھا بلکہ ایسامعاشرہ تیار کر نا بھی تھا جو تعمیلِ قرآن کا زندہ پیکر ہو آپ نے امت کو ایسی سنت کی تعلیم دی جو ہر دور کے لوگوں کے کام آتی رہے گی۔ گویا یہ حکمت کی عملی تعلیم تھی جسے رسولؐ نے خود عمل کر کے لوگوں کے سامنے پیش کیا تاکہ لوگوں میں نا اتفاقی کا امکان نہ رہے۔

ڈاکٹر محمود احمد غازی بیان کرتے ہیں :

’’اگر سنت نہ ہوتی تو قرآن مجید کے اصول صرف نظری بیانات اور خوشگوار اعلانات ہوتے جیسے توراۃ اور انجیل کے اعلانات محض لفظی بیانات ہوکر رہ گئے ہیں بقیہ مذہبی کتابوں میں بھی اچھے اخلاقی اصول بیان ہوئے ہیں لیکن عمل در آمد کا معاملہ صفر ہے۔ کیونکہ ان کے پیچھے کوئی عملی نمونہ نہیں ہے۔ حالانکہ عملی نمونے بلاشبہ موجود تھے لیکن ان کے ماننے والوں نے ان عملی نمونوں کی تفصیلات باقی نہیں رکھیں۔ عدل و محبت، مساوات و تکریم انسانیت یہ سارے اعلانات جو قرآن میں کئے گئے ہیں ان کی عملی تشریح رسولؐ کی سنت کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے‘‘۔ (محاضراتِ حدیث، ص/58)

حقیقتاً سنت کا تمام تر تعلق عملی زندگی سے ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ ؐ کے خلفائے راشدینؓ کی سنت کی پیروی واجب ہے۔ مولاناامین احسن اصلاحی لکھتے ہیں :

’’اگر ہم سنت کو نکال دیں تو اگر چہ ہم دین کی باتوں سے واقف ہوں گے، لیکن ان کی عملی شکل سے اسی طرح بے خبرہوں گے جس طرح دورِ جاہلیت میں دین حنیفی کے پیروکار تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اے رب! ہم نہیں جانتے کہ تیری عبادت کس طرح کریں، ورنہ اسی طرح (عبادت) کرتے۔ (مبادی تدبر حدیث، ص/26)

قرآن کے مجمل احکام کو بیان کرنے اورعام کو خاص کرنے میں سنت خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ پندرہ سوسال قبل کے جزیرۂ عرب میں چند سالوں کے اندر جو تبدیلی رونما ہوئی تھی ا س کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔

****

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button