اسلامیات

رجوع الی اللہ

صالحاتی ذکیہ مومن عبدالباری

بھیونڈی

اللہ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گزرے ہوے ساڑھے چودہ سو سال ہو چکے ہیں اور اس عرصہ میں امت مسلمہ کو کبھی بہت عروج حاصل ہوا اور کبھی وہ زوال کی انتہا کو پہنچ گئی۔دور حاضر کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔ایک طرف مصر ،فلسطین،شام،عراق کے حالات ہمارے سامنے ہیں مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور جو ممالک اپنے آپ کو بڑے جمہوری ممالک کہتے ہیں وہاں بھی مسلمانوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔
ہندوستان کے بارے میں خوش آیند بات یہ ہے کہ حکومت کے ظالمانہ رویہ کے خلاف لوگ بیدار ہونا شروع ہو گئے ہیں اور عوامی جدوجھد جاری ہے۔کرونا کی وبا کے سلسلے میں جسطرح اک خاص فرقہ کے خلاف محاذ کھڑا کیا گیا امت مسلمہ یک جٹ ہو کر اس کے خلاف ڈٹ گئی۔
ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہم سے اس سلسلے میں جو کچھ ہوسکتا ہے وہ کرنا چاہیے اپنی عوامی جدوجھد جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ رجوع الی اللہ  اہتمام بھی ضروری ہے۔قران مجید میں مومنین کے لئے آزمائشوں کا ذکر کرتے ہوئے انکی شان بتاءیگی ہےکہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اللہ کی طرف رجوع ہوتے ہیں
یعنی مومن کی شان ہے کہ خوشی ہو یا تکلیف وہ خدا کو بہر حال یاد رکھے اور اسی کی طرف رجوع ہو
اللہ سے رجوع کرنے کی صورت دعا ہے ۔دعا دراصل مومن کا ہتھیار ہے اس سے مصیبتیں دورہوتیں ہیں۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،صرف دعا ہی ایسی چیز ہے جس سے تقدیر کا فیصلہ بدلتا ہے
دعا کے ذریعہ سےبندہ کو اللہ کی معیت نصیب ہوتی ہے اور جب اللہ بندے کے ساتھ ہو تواس کو ہر مصیبت معمولی معلوم ہوتی ہے
ظالموں کے ظلم سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے دعا کی بڑی اہمیت ہے۔انبیاء کا یہی طریقہ رہا ہے کہ وہ ظالم قوم کے خلاف دعا کا سہارا لیتے تھے
دعا ہی کی اک صورت استغفاربھی ہے رسول صلی االلہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو استغفار کا اہتمام کرتا ہے اللہ اسکے لیے مصیبت سے باہر نکلنے کا راستہ بنادیتا ہے (سنن ابی داؤد ١٥١٨)حاصل یہ ہے کہ ہمیں ان حالات سے گھبرا نا نہیں ہے بلکہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اسی کی طرف رجوع کریں۔ایک طرف احتجاجی کوششیں جاری رکھیں،ظالم کے ظلم کے خلاف ڈٹ جایں اور دوسری طرف اللہ سے بہتر امید رکھیں اسکی طرف رجوع کرتے ہوئے دعا والتجا کا سلسلہ جاری رکھیں۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں۔استغفار کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگنا۔ اللہ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے رہناخدا کے عذاب سے بچنے کا اہم ذریعہ ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی استغفار کو لازم پکڑ لے،خدا اسکے لیے ہر تنگی سے نکلنے کی راہ پیدا کر دیگا اور اسے ہر غم سے مخلصی دیگا اور اسکو وہاں سے رزق عطا کرے گاجس طرف اس کا گمان بھی نہیں گیا ہوگا۔۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر خدا سے ڈرنے والا اور خدا کا اطاعت شعار کون ہو سکتا ہے مگر استغفار کے معاملے میں آپ کا حال یہ تھا کہ دن میں ستر بار سے زیادہ استغفار فرماتے تھے۔
مختصر یہ کہ انسان سے اگر بہ تقضاۓ بشریت کوئی گناہ سر زد ہو جائے تو وہ اس گناہ پر شرمندہ ہو اور جو کچھ وہ کر چکا  ہے اس کے عذاب سے بچنے کے لئے خدا سے مغفرت چاہے۔
غرض یہ کہ جب انسانی کوششیں اور تدبیر کے ساتھ ساتھ رجوع الی اللہ کا عمل بھی ہو تو ضرور کامیابی حاصل ہو کر رہے گی۔انشااللہ
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button