Sliderسیرت رسولؐشخصیات

رخ مصطفی ہے وہ آئینہ۔۔۔۔۔۔

فرحت زید

محمد علی روڈ

” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے پہل جو دیکھتا اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت طاری ہو جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جو رہتا اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہو جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان کرنے والا کہتا ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کوئی نہیں دیکھا نہ آپ صلی وسلم کے بعد نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے” یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا تبصرہ ہے بالکل یہی تاثر ایک دوسرے انداز میں عروہ بن مسعود کا ہے جو ایک مردم شناس اور جہاں دیدہ دشمن تھا
” اے قریش کے لوگو! میں قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے دربار شاہی میں جا چکا ہوں اللہ کی قسم میں نے کسی بھی بادشاہ کی کسی قوم میں وہ شان نہیں دیکھی سچ کہتا ہوں میں نے ایسی قوم دیکھی ہے جو کسی صورت اس کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتی اب تم سوچ لو” دوست و دشمن دونوں اس بات پر شاہد ہیں کہ محمد عربی ایک بارعب اور بے مثال شخصیت کے مالک تھے یہ احساس صرف دو آدمیوں کا نہیں بلکہ ایک عام احساس ہے چودہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پڑھنے سے یہ احساس پھر سے پیدا ہو جاتا ہے کروڑوں درود و سلام ہو ہمارے نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انقلابی زندگی کے تین fact تھے کتاب اللہ- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت- اور بدلے ہوئے انسان
ہم جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت تمام دنیا کی طرف اور قیامت تک ہے اب آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو جاننے کی اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دوسری وحی نازل ہوئی اللہ تبارک و تعالی نے آسمان سے صدا لگائی
” اے کپڑے میں لپٹنے والے کھڑے ہو جاؤ اور ڈراؤ” اس وقت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو اٹھے ہی رہ گئے گویا کہ آپ کو لگا کہ کسی نے آپ کو نرم نرم بستر سے اٹھا کر بیچ سمندر میں پھینک دیا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کھانا پینا آرام سب کچھ راہ خدا میں تیاگ دیا انسانیت کی اصلاح کا بھاری بوجھ جو آپ کے کندھے پر ڈالا گیا اس کی تکمیل میں آپ جٹ گئے آپ نے اپنی 23 سالہ زندگی میں دو وقت کا کھانا پیٹ بھر نہیں کھایا اور نہ ہی رات کو پوری نیند سوئے جب حج کے قافلے آتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا پیغام سنانے نکل پڑتے ایک روز اسیطرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے قافلے کو پیغام سنا کر واپس گھر آئے تو آپ کی زوجہ مطہرہ نے آپ کے سامنے کھانا رکھا آپ کھانے کے لیے بیٹھے ہی تھے پھر قافلے کی گھنٹی بجی آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً اٹھ گئے زوجہ محترمہ نے روکا کہ یا رسول اللہ کھانا کھا لیجیے آپنے پورے دن سے کچھ نہیں کھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ قافلہ اللہ کا پیغام سنے بغیر چلے گیا تو میں اللہ کو کیا جواب دوں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت کی فکر میں بہت بے چین رہتے راتوں کو اٹھ کر اپنی امت کی بخشش کے لیے دعائیں مانگا کرتے ایک نبی کا درجہ امت کے لئے اس طرح ہوتا ہے جیسا کہ ماں کا بچے کے لیے ماں اپنے بچے کے لیے ہر لمحہ فکر مند رہتی ہے کہ اسے کوئی تکلیف نہ پہنچے اسی طرح ایک نبی بھی اپنی قوم کی نجات کے لئے فکر مند رہتا ہے لیکن ہم نے اپنے نبی کے امتی ہونے کا حق نہیں ادا کیا وہ نبی جو راتوں کو اٹھ کر امتی امتی کہہ کر اللہ سے فریاد کرتا تھا وہ نبی جو پل صراط پار کرنے کے بعد بھی اپنی امت کا منتظر رہے گا جب پہلا امتی پل صراط پر قدم رکھے گا تو کہے گا یا رب سلم سلم
وہ نبی جو جنت میں جانے کے بعد بھی جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کی بجائے بار بار سفارش کرے گا جب تک کہ وہ اپنی پوری امت کو جہنم سے نہ نکلوا دے آج وہی نبی کی امت سال میں ایک بار جلسے جلوس میں شریک ہوکر سمجھتی ہے کہ اس نے اپنے نبی کی امت ہونے کا حق ادا کر دیا اس وقت ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے رویوں کو آس پاس کھڑے ہمارے غیر مسلم بہن بھائی پرکھ رہے ہوتے ہیں ایک مسلمان جب کلمہ پڑھتا ہے اپنے قول و فعل سے اسلام کی گواہی دینے والا بنتا ہے یا تو وہ اپنے اسلام کی تشہیر کر رہا ہوتا ہے یا تضحیک جب کہ نبی کا اسوہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمارے نبی بازاروں میں شور شرابہ کرنے والے نہیں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذات باری نے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا ہے اور آپ کی امت اپنے آپ کو زحمت کا باعث بنانے پر تلی ہوئی ہے ہمیں اپنے کردار اور رویے میں رسول اللہ کی جھلک رکھنا چاہیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن اپنی ذات سے لوگوں کو فائدہ پہنچانے والا ہوتا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اگر میرے ہاتھ میں ایک پودا ہو اور مجھے معلوم پڑے کہ قیامت آنے والی ہے جب بھی میں اسے زمین میں گاڑ دوں گا یعنی ہمیں اپنی ذات سے لوگوں کو کس قدر فائدہ پہنچانا چاہیے کیا ہماری ذات ہماری گلیاں ہمارے محلے اس رویے کا منظر پیش کرتی ہیں ہم تاریخ پڑھتے ہیں تو ہمیں پتا چلتا ہے ہندوستان میں اسلام مسلم تاجروں کے کردار کے ذریعے پھیلا کیا ہمارے کردار سے اسلام کی تشہیر ہوتی ہے؟ ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جھلکیاں اپنے اندر پیوست کرے اور اپنی اولاد کی بھی اس نہج پر تربیت کریں انہیں سکھائیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب نے دین کو پھیلانے کے لئے کتنی قربانیاں دیں اب کوئی نبی آنے والا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن ہمیں سپرد کیا ہے ہمیں اس مشن میں اپنا حصہ لگانا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس شخص کو سرسبز و شاداب رکھے جو مجھ سے کوئی بات سنے اور لوگوں تک پہنچائے ہمیں آج کی سیچویشن میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام عام کرنے کی ضرورت ہے اللہ پاک ہم سب کو نبی کے ا سوہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button