Slider

رزلٹ

سیف الرحمن

(متعلم انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز۔نئی دہلی)

کل صبح سے وہ بہت پریشان اور بے چین تھا۔ کسی چیز میں دل کیا لگنا ہر چیز سے نفرت سی ہورہی تھی۔ پورا دن بہت ہی کٹھن معلوم ہورہا تھا ۔رات میں نیند کیسے آتی اسے بس صبح ہونے کا انتظار تھا اور اسے یہ بھی محسوس ہورہا تھا کہ انتظار جتنا کیا جائے وہ مزید لمبا ہوتا چلا جاتاہے۔ آخر اس بے چینی کی وجہ کیا تھی؟ اندازہ ہے کیوں؟ کیونکہ آج اس کا دسویں کا رزلٹ آنے والا تھا۔
شدید انتظار کے بعد وہ وقت آگیا اور  اپنے سامنے موبائل اسکرین پر اپنا رزلٹ پاتے ہی وہ بلیوں اچھلنے لگا۔کیونکہ توقع سے بہتر رزلٹ جو آیا تھا۔ پھر کیا تھا گھر کے افراد نے مبارکباد دی اور منہ میٹھا کروایا۔ نتیجہ آجانے کے بعد ایک اور دشواری اس کے سامنے آن کھڑی ہوئی تھی۔ جس شخص سے بھی ملاقات ہوتی وہ یہی سوال داغ دیتا کہ اب کس اسٹریم میں داخلہ لینا ہے اور اس کے امتیازی نمبرات جان کر ہر کوئی بغیر مانگے اپنا بیش قیمتی مشورہ بالکل مفت میں دے دیتا۔ کوئی سائنس تو کوئی کامرس کا مشورہ دیے جارہا تھا۔ حالانکہ اس کی خواہش تھی کے سوشل سائنس کو اپنا سبجکٹ بنائے۔ مسلسل سوالوں اور مشوروں کی بوچھار نے اس کے اندر پھر سے شدید بے چینی پیدا کردی تھی ۔ وہ مضطرب دل کے ساتھ بارگاہ الہی میں دعا کررہا تھا کہ یا رب مجھے صحیح اور اپنے لئے بہتر فیصلہ لینے کی توفیق دے۔
اللہ رب العزت کی مدد و نصرت سے اسکے بے چین و مضطرب دل نے کچھ قرار پایا۔ اور اس نے لوگوں کے مشوروں پر اپنے فیصلے کو مقدم رکھا اور سوشل سائنس میں داخلہ لینے کے بارے میں اپنے گھر کے افراد سے بات چیت کی۔ گھر والوں نے سر پر سائنس نامی ایک تودہ گرادیا۔ بہت ہی مزاحمتوں کے بعد اس نے اپنا حتمی فیصلہ سنایا۔
کالج شروع ہوتے ہی دل لگا کر پڑھائی شروع کی کہ ایک دن کسی ٹیچر نے طلبہ کے نمبرات جان کر ان سے سوشل سائنس میں داخلہ لینے کی وجہ پوچھی۔ اپنی باری آتے ہی اسے رشتہ داروں کے مشوروں کی یادوں نے پھر چھلنی کردیا اور ٹیچر نے جب رزلٹ سنا تو کہا کہ "جناب ! آپ نے سائنس میں ہی کیوں داخلہ نہیں لے لیا؟؟  سوشل سائنس کو کیوں منتخب کیا جب کہ آپ کا رزلٹ بھی ماشاءاللہ بہت اچھا ہے۔
یہ باتیں سنتے ہی اس کا دل اچاٹ ہوگیا اور  وہ سوچنے لگا کہ میں اپنی زندگی کا فیصلہ بذات خود کیوں نہیں کرسکتا؟ کیا وجہ ہے کہ مجھے ہر جگہ مشوروں سے زخمی ہونا پڑتا ہے؟؟ مشوروں سے دل برداشتہ ہوکر پڑھائی سے ہی منہ موڑنا چاہا۔
 انہی سوچوں میں کئی دن گم تھا کہ اسکے ضمیر نے ملامت کی کہ لوگوں کی وجہ سے کیوں اپنا مستقبل  خراب کرنا چاہتے ہو؟؟ تم میں کیا کمی ہے؟ تم نے تو اپنی اسکول میں ٹاپ کیا۔ تمہارے تو بہت اونچے اونچے خواب تھے ، اب کیا ہوگیا کہ ذرا سی لوگوں کی سننے کے بعد پڑھائی ہی ترک کرنا چاہتے ہو؟؟؟
بہت غور و فکر کے بعد یہ سمجھ آگیا کہ سماج کسی انسان کو کسی بھی طریقے سے چلنے نہیں دیتا۔ سماج کا معیار اتنا گرچکا ہے کہ وہ نمبرات کی بنیاد پر طلبہ کو جج کرنے لگتا ہے،کیا عام انسان اور کیا ایک ٹیچر، اگر کسی کا بہت اچھا رزلٹ آئے تو سائنس ، جو سرے سے پڑھنا ہی نہ چاہے تو اسے سماجیات پڑھایا جاتا ہے۔
اب وہ بےجا مشوروں کا عادی ہوچکا تھا کیونکہ ہر جگہ بے مانگے مشوروں سے لدے ہوئے ٹوکرے اسکے کاندھے پر ڈال دیے جاتے۔ وہ اسٹوڈنٹ سے بھی ملتا یہ بات ضرور کہتا کہ اپنے آپ کو ہر مشورے پر مقدم رکھیں۔ لاکھ مشورے ملیں گے لیکن کرنا وہی ہے جس پر آپکا ضمیر راضی ہو۔والدین کو بھی یہی مشورہ دیتا کہ اپنے بچوں پر زور زبردستی نہ کرتے ہوئے انہیں آزادانہ طور پر فیصلہ لینے دیا جائے۔
اسے اپنے لئے ہوئے فیصلے پر مکمل یقین تھا کہ وہ ضرور کچھ بنے گا اور اب وہ اپنے شہر کے اعلی کالج کا پروفیسر تھا۔
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button