Sliderسیرت رسولؐ

رسول الله (ﷺ) بحیثیت داعی

از – شبانہ اظہر سیّد

ملت نگر ۔ممبئ
ہم سبھی جانتے ہیں ربیع الاول کا مہینہ کیوں اہمیت کا حامل ہے- اس مہینے میں آپ (ﷺ) کی ولادت با سعادت ہوئی اور اسی مہینے میں آپ (ﷺ) کا وصال ہوا-
وہ ذات جس پہ ختم انبیاء کا سلسلہ ہوا
وہ ذات جس پہ نعمت خدا کا خاتمہ ہوا
وہ ذات جس سے "رازکن” دلوں پر آئینہ ہوا
وہ ذات پاک جس سے دین حق کا تکملا ہوا
وہ مجتبیٰ کی ذات ہے وہ مصطفیٰ کی ذات ہے
بزرگ اسکی ذات سے فقط خدا کی ذات ہے۔
الله رب العزت نے انسانوں کی جو بستی بسائی اسمیں ہزاروں مخلوقات ہیں اور ہر ایک دوسرے سے مختلف اور اپنی صلاحیتوں اور اپنی عادتوں کے اعتبار سے بلکل متضاد کیفیتوں کی حامل۔ وہ ایک مقرّرہ دستور کے مطابق اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں، مثلاسورج کو معلوم ہے کہ اسے مشرق سے نکلنا ہے اور مغرب میں ڈوبنا ہے، سمندر ہزاروں سال سے اپنے دائرے میں مسلسل موجیں مار رہا ہے، درخت مسلسل پھل پھول دینے اور انسان کو آکسیجن فراہم کرنے میں لگے ہیں، حیوانات کا بھی یہی حال ہے، قدرت نے انکو بھی انکی زندگی کا دستور پڑھا اور سمجھا دیا ہے- بعض جانور گھاس اور درخت کے پتے کھاتے ہیں، بعض زندہ جانوروں کا شکار کرتے ہیں، شہد کی مکھی اپنا گھر خود بناتی ہے، پرندے اپنا گھونسلا خود بناتے ہیں، کیا یہ سب کچھ ان مخلوقات نے از خود جان لیا؟
قران نے اسکا جواب دیا ہے:
"ہمارا رب وہ ہے جسنے ہر چیز کو اسکی ساخت بخشی پھر اسکو راستہ بتایا” (سوره طہ – ٥٠)
اسی طرح انسان کو الله تعالٰی نے پیدا کیا، اسے جاننے سوچنے سمجھنے کی قوتیں دیں، بھلائی اور برائی کی تمیز دی، انتخاب اور ارادے کی آزادی عطا کی اور اسے خوداختیاری زمیں میں دیکر اپنا خلیفہ بنایا- اس منصب پر انسان کو مقرّر کرتے وقت الله تعالی نے اچھی طرح اسے یہ ذہن نشین کرا دیا کہ تمہارا اور تمام جہاں کا مالک، معبود، حاکم میں ہوں- میری اس سلطنت میں نہ تم خود مختار ہو نہ کسی دوسرے کے بندے ہو- جو ہدایت میں بھیجوں اسکے مطابق دنیا میں کام کرو- جسمانی زندگی کے لئے جہاں رزق اور روزی روٹی کا انتظام کیا وہی روحانی زندگی کے لئے نبوّت اور رسالت کا بھی انتظام فرمایا- شروع دنیا سے اس دنیا میں الله کا قانون نافز ہے-
آدم (عليه السلام) سے نبی کریم (ﷺ) تک جتنے بھی انبیاء کرام دنیا میں مبعوث کے گئے ان سب کی بعثت کا مقصد یہی تھا کہ الله کے بندوں کو الله کی بندگی کی طرف دعوت دیں- تاریخ کے وسیع دائروں پر نظر ڈالیں تو اس میں ہمیں بہت سے اصلاح کرنے والے دکھائی دیتے ہیں۔ بہت سے فلاسفر، شاعر، واعظ، آتش بیان خطیب، بادشاہ اورحکمرانوں کے گروہ کے گروہ سامنے آتے ہیں جنہوں نے عظیم الشان سلطنتیں قائم کی، اپنے نقوش چھوڑے، لیکن جب ہم انکی تعلیمات اور انکے کارناموں کو دیکھتے ہیں تو اگر کہیں خیر و فلاح دکھائی دیتی ہے تو جزوی قسم کی ہے، خیر و فلاح کے ساتھ ساتھ اسکے نقصانات بھی دکھائی دیتے ہیں-
انبیاء کے ماسوا کوئی عنصر تاریخ میں ایسا دکھائی نہیں دیتا جو انسان کو پوری طرح یعنی اجتماعی طور پر انسان کو اندر سے بدل سکا ہو- آپ (ﷺ) کا اصل کارنامہ یہی ہے کہ آپ (ﷺ) کی دعوت نے پوری طرح سے انسان کو اندر سے بدل دیا-
مہک اٹھے دماغ و دل و بوئے پیرہن اٹھی
کسی کی ایک نگاہ سے وہ نور کی کرن اٹھی
دیار ظلم و جہل سے نوائے علم و فن اٹھی
بتوں کی انجمن سے خود صداے بت شکن اٹھی
آپ (ﷺ) کا ظہور ایسے حالت میں ہوا جبکہ پوری انسانیت تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی، کہیں دور وحشت چل رہا تھا، کہیں شرک و بت پرستی عام تھی- مصر، ہندوستان، یونان، چین میں تہذیب اپنی شمعیں گل کر چکی تھی- لے دیکر فارس (ایران) اور روم تمدّنی عظمت کے جھنڈے ہوا میں لہرا رہے تھے، لیکن انکے شیش محلوں کے اندر بدترین مظالم کا دور دورہ تھا-
ایک قوم صدیوں سے جہالت، پستی اور بدحالی میں مبتلا چلی آتی ہے یہ تھی عرب کی قوم- نہ وہاں علم اور تہذیب کی کوئی روشنی تھی، نہ کوئی باقاعدہ حکومت تھی، کوئی ضابطہ زندگی نہ تھا، ایک قسم کاجنگلی قانون رائج تھا- جسکا جسپر بس چلتا اسے مارڈالتا، اسکے مال پر قابض ہو جاتا- انکے خیالات اور عادات میں جہالت اور وحشت تھی- وہ جائز ناجائز کی تمیز سے نہ آشنا تھے- زنا، جوا، شراب نوشی عام تھی، لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا، اپنے باپوں کے مرنے کے بعد سوتیلی ماں سے نکاح کرنا بھی جائز تھا- ایسے حالت تھے عرب کے جن میں محمّد (ﷺ) کا ظہور ہوا-
اتر کر حراسے سوئے قوم آیا
وہ ایک نسخہ کیمیا ساتھ لایا
عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا
پلٹ دی بس ایک آن میں اسکی کایا
آپ (ﷺ) کو الله تعالٰی نے جس منصب پر سرفراز کیا، جس کام کے لئے چنا وہ کام آسان نہیں تھا- الله تعالٰی نے تمام دنیا والوں کے لئے آپ(ﷺ) کو داعی اعظم بناکر بھیجا- دعوت کا پہلا مرحلہ ابتدائی تین سالوں میں خفیہ طور پر ہوا، اسکے بعد اعلانیاں دعوت کا حکم الله کی طرف سے آیا- آپ (ﷺ) کا کوہ صفا پر ندا بلند فرمانا، لوگوں کو جمع کرکے بآواز بلند الله کا پیغام دینا، اسلامی دعوت کی یہ عام پکار تھی-
"آپ (ﷺ)(قل) کہ دیجئے یہ میرا راستہ ہے، میں الله کی طرف بلاتا ہوں، بصیرت کے ساتھ، میں بھی اور میری اتباع کرنے والے بھی” (سوره یوسف ١٠٨)
پھر جو مخالفت کا دور شروع ہوا، اسلام کی اس تحریک اور پرانی جاہلیت کے درمیان ایک سخت کشمکش برپا ہوگئی، جسکا سلسلہ ١٠ سال چلتا رہا- نہ صرف مکّہ میں بلکہ عرب کے بیشتر حصّے میں جو لوگ پرانی جاہلیت کو برقرار رکھنا چاہتے تھے، وہ اس اسلامی تحریک کو مٹا دینے پر تل گئے- قریش کے با اقتدار لوگوں کو یہ صاف نظر آرہا تھا کہ اس دعوت کے پھیلنے کا مطلب انکا سارا اقتدار مٹی میں مل جاےگا-
آپ (ﷺ) نے اس دین کو زندگی کے ہر شعبے میں رائج کرکے دکھا دیا- اس دین کو عام کرنے کے لئے آپ (ﷺ) نے کیا کچھ نہیں سہا- دعوت اور داعی کی ہنسی اڑائی گئی، غلط الزامات لگائے گئے، راستے میں گلیوں میں گالیوں اور پھبتیوں سے نوازا گیا، شاعر، کاہن، مجنون یہاں تک کے جادوگر کہا گیا- لیکن آپ (ﷺ) کو یہ تمام باتیں اپنے دعوتی ذمہ داری سے متزلزل نہ کر سکی – وہ اپنے اطراف کے ماحول سے بہت زیادہ فکر و غم میں مبتلا تھے- اپنی قوم کی یہ حالت ان سے برداشت نہیں ہوتی تھی- اس سراپا اضطراب ہستی کو قرآن کے آئینے میں دیکھئے:
"لوگوں! تمہارے پاس تمہیں میں سے ایک رسول آیا ہے- تمہارا گمراہی میں پڑھنا اس پر انتہائی شاق ہے- تمہاری ہدایت کے لئے وہ انتہائی حریص ہے، اور مومنوں کے لئے انتہائی شفیق اور مہربان ہے-” (سوره توبہ: ١٢٨)
آپ (ﷺ) کے مشن کا ایک حصّہ تھا کہ خدا کی اطاعت و فرمانبرداری کا قلادہ انسان کی گردن میں ڈالدے، اور دوسرا حصّہ یہ تھا کہ انسان کی اطاعت و فرمانبرداری کا قلادہ اسکی گردن سے اتار پھینکے یہ دونوں کام آپ (ﷺ) کی مقصد بعثت میں شامل تھے- آپ (ﷺ) اپنی دعوت کا کامل نمونہ تھے، جو کچھ دوسروں کو بتاتے خود اسپر عمل کرکے دکھاتے، اور اپنی عملی زندگی سے اپنے پیغام کے حق ہونے کی گواہی دیتے- داعی اپنی دعوت کا کامل نمونہ اسی وقت بن سکتا ہے جب اسکو اپنی دعوت پر یقین کامل حاصل ہو- آپ (ﷺ) کو بےمثال یقین کی دولت حاصل تھی، اسلئے آپ (ﷺ) ہر لالچ، خوف و مصیبت اور آزمائش سے بےنیاز ہوکر اس جرات و یقین کے ساتھ اپنی دعوت پیش کرتے کہ سننے والے مسحور ہوجاتے، انکے دل گواہی دیتے کے یہ شخص جھوٹا نہیں ہو سکتا-
بات آپ (ﷺ) کے دل سے نکلتی اور مخاطب کے دل پر اثر کرتی- آپ (ﷺ) کی دعوت حکمت اور سلیقے سے پر تھی- قرآن میں الله تعالٰی نے فرمایا: "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت و سلیقے کے ساتھ دعوت دیجئے” (سوره النحل: ١٢٥)
قرآن کی اس ہدایت کا منشا کیا ہے؟ اور حکمت کا مفہوم کیا ہے؟ تو اسکا ایک ہی صحیح اور یقینی طریقہ ہے کہ آپ (ﷺ) نے دعوت اور تبلیغ کا فریضہ جس طرح انجام دیا وہی حکمت ہے- آپ مخاطب کے جذبات و احساسات کا بھی خیال رکھتے، موقع و محل کو بھی نگاہ میں رکھتے، اور یہ بات بھی پیش نظر رہتی کے کس سے کیا کہنا ہے، کس انداز میں کہنا ہے، کس رخ میں کہنا ہے- آپ (ﷺ) خیال رکھتے کہ مخاطب میں بیزاری اور اکتاہٹ نہ پیدا ہو- کسی شخص کو دیکھتے کہ برائی میں مبتلا ہے تو صرف اسے نہ ٹوکتے ہوئے عام خطاب کرتے، "لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ فلاں کام کرتے ہیں”- اس عام خطاب میں جسکو سنانا ہوتا وہ سن لیتا-
آپ (ﷺ) نے فرمایا، "لوگوں پر آسانی کرو، دشواری پیدا نہ کرو- اور انکو الله کی رحمت کی خوشخبری سناو، مایوس یا متنفر نہ کرو” (صحیح بخاری)
الله کے رسول (ﷺ) نے دین کی اشاعت و اقامت کے لئے محض انفرادی کوششیں ہی نہیں کیں بلکہ ایک نہایت مضبوط و منظم جماعت بناکر اجتماعی جدوجہد کی- اور اس جماعت نے کندھے سے کندھا ملاکر باطل کے خلاف جنگ کی- اور ہمنے دیکھا کہ اس جماعت نے آپ (ﷺ) کی اتباع میں ٢٣ سال میں کیا کچھ کر دکھایا- ہر گھڑی صبر کا دامن تھامے رکھا، صبر داعی کی بنیادی صفت ہی نہیں، بلکہ بہت سی اہم صفات کی اساس ہے- صبر کے بغیر ممکن ہی نہیں کہ آدمی دنیا کے مقابلے میں آخرت کے اجر و ثواب کے لئے زندگی لگا سکے-
آپ (ﷺ) کو ہدایت دی گئی: "اور صبر کیجئے انکی دل آزار باتوں پر اور انسے اچھے انداز میں کنارہ کشی اختیار کیجئے” (سوره مزمل: ١٠)
آپ (ﷺ) کی پوری دعوتی زندگی کا جائزہ لیں، تو ہمیں ہر موڈ پر صبر کی تشریح ملیگی- چاہے مکّہ کے ظلم و ستم ہو ، صحابہ پر مصیبتیں ہوں، ٣ سال شعب ابی طالب کی سختیاں ہوں، طائف کا واقعہ ہو، یا صلح حدیبیہ ہو، آپ (ﷺ) اور آپ (ﷺ) کے صحابہ کرام نے صبر و ثبات کا ساتھ نہ چھوڑا۔
آپ (ﷺ) کی شب و روز کی انتھک محنت و دعوت و تبلیغ کی مسلسل کوششوں سے پورے عرب میں ایک تہذیبی انقلاب برپا کردیا- صرف ظاہری فتح ہی حاصل نہیں کی، بلکہ دلوں کو مسخر کردیا، اسکی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے مگر اتنا عظیم اور بےمثال کارنامہ انجام دینے کے بعد بھی حضور (ﷺ) کی مبارک زندگی میں نہ اپنے کارناموں پر فخر ہے، نہ اپنی کامرانی اور فتح کے لئے کوئی جشن ہے، بلکہ عاجزی اور انکساری، توبہ و استغفار میں اور زیادہ انہماک ہے-
آپ (ﷺ) اپنا حال یہ بتاتے ہیں:
"اے لوگوں الله کی طرف پلٹو اور اس سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہو، میں دن میں سو سو بار استغفار کرتا ہوں” (مسلم)
عزیز ساتھیوں، داعی الی الله کے اندر جو جو صفات ہونی چاہیے ہمارے رسول (ﷺ) کی زندگی میں ہمیں وہ تمام صفات نظر آتی ہیں- اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ رسول (ﷺ) کی تعلیمات کا اثر لینے والے صحابہ کرام (رضي الله عنهم) نے اپنی زندگی گزاری تو بے سر و ساماں کی حالت میں، مشکل میں، مصائب میں، پہ در پہ جنگوں میں، لیکن ہم نے دیکھا کہ اونٹ اور بکریاں چرانے والوں نے زمین کے %٦٠ حصّے پر ٥٠ سال میں اسلامی قانون کی حکمرانی قائم کردی- جیسے جیسے ہم اس دعوت کو مقصد زندگی سمجھنے میں غفلت برتتے گئے، جو کبھی حاکم تھے وہ محکوم ہوتے چلے گئے- تعداد میں زیادہ، مال زیادہ، وسائل اور آلات زیادہ، اسکے باوجود امّت مغلوب سے مغلوب تر ہوتی چلی گئی-
اس زمانے میں دعوت و اصلاح کا کام پوری طرح موئثر نہ ہونے کے ٢ اسباب ہیں:
١. فساد زمانہ اور حرام چیزوں کی کثرت۔
٢. امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے غفلت (دعوت کے فرائض سے غفلت)۔
آپ (ﷺ) نے فرمایا، "جسنے حکم دیا معروف کا اور روکا منکر سے پس وہ زمین میں خدا کا نائب ہے، وہ الله کی کتاب کا نائب ہے اور الله کا رسول کا نائب ہے” (قرطبی)
یہ اتنا بڑا منصب کہ الله اور اسکے رسول (ﷺ) کا نائب ہونا آج ہم اس منصب کو بھول چکے ہیں۔ آپ (ﷺ) کی وہ سنّت جسکے لئے آپکو بھیجا گیا اسے فراموش کر چکے ہیں۔ الله کو بندے کی سب سے اچھی ادا جو پسند ہے وہ ہے بندے کی داعیانہ صفت-
"الله تعالٰی کے راستے میں دعوت دینے والوں کی حفاظت میں فرشتے ہوتے ہیں، الله کو سب سے زیادہ پسند وہ بات ہے جو لوگوں کو الله کی طرف بلائے” (سوره حم سجدہ)
الله سے دعا ہے کہ الله تعالٰی ہمیں اس دعوت کو عام کرنے کی توفیق عطا فرماے!
ایک ہوجاے تو بن سکتے ہیں خورشید مبین
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا کام بنے
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button