اسلامیات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عائلی زندگی

بسم اللہ الرحمان الرحیم  

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عائلی زندگی 

       نوشابہ 

کسی بھی معاشرہ کی اکائ ایک فرد اور اس کا گھر ہے۔ اسلام ایک صالح معاشرہ کی تعمیر کا متقاضی ہے۔ اور ایک صالح معاشرہ اسی وقت وجود میں آتا ہے جب اس معاشرہ کا ہر گھر صالحیت کی مثال ہو۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب گھر کا ہر فرد صالح ہو۔ ایک صالح گھر کی بنیادی اینٹ ایک مرد اور ایک عورت ہے ۔چنانچہ اسلام اس بات کا متقاضی ہے کہ گھر کی بنیاد رکھنے والے یہ دونوں صالحیت کی بنیاد پرایک صالح بندھن یعنی نکاح میں بندھ جائیں ۔اسلام نکاح کو عبادت قرار دیتا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو اپنی سنّت فرمایاہے "النکاح من سنتی ۔ فمن رغب من سنتی فلیس منی۔ فرمایا نکاح میری سنت ہے اور جو میری سنت سے اعراض کرے گا وہ مجھ سے نہیں۔ ایک اچھا گھر اسی وقت وجود میں آتا ہے جب اس گھر کے ہر فرد اپنے اپنے حقوق محبت و چاشنی کے ساتھ ادا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اچھے گھر کو کیسا ہونا چاہیے وہ ہم کو عملی طور پر اس کی تعلیم دی ہے

  کسی بھی فرد کی اندرونِ خانہ زندگی اس شخصیت کی بہترین عکاس ہوتی ہے کیونکہ اس کی تمام خوبیاں اور خامیاں گھر والوں کی نگاہوں کے سامنے رہتی ہیں۔ اس لئے کسی فرد کی عظمت کو جانچنے اور پرکھنے کی بہترین کسوٹی اس کی اندرونِ خانہ مصروفیات ہیں۔ .

 اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر فرمایا کہ ” لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ " تمہارے لیے تمہارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نہایت ہی بہترین نمونہ ہے”۔(الاحزاب 21:33)

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی جس میں دین اور دنیا دونوں کا بہترین امتزاج combination نظر آتا ہے۔ ہر معاملے میں آپ نے نہ صرف زبان سے بلکہ عمل سے ہماری رہنمائی کی ہے۔

 آپ کی ازدواجی و عائلی زندگی میں بہترین توازن پایا جاتا ہے۔ آپ کی سیرت مبارک ازواج مطہرات کے ساتھ حسن معاشرت، ہنسی مذاق، بے تکلفی اور خوش روئی سے پُر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کو پرکھیں تو یہ عظمت کے انتہائی اعلی معیار پر نظر آتی ہے۔ ازدواج مطہرات نے بھی آپ کی اجازت سے آپ کی خلوت کے ایک ایک معاملے کو محفوظ رکھااور پوری سچائی اور امانت اور دیانت داری کے ساتھ امت تک منتقل کیا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خانگی حالات کو امت تک پہنچانے کا سہرا زیادہ تر اُمہات المومنین کے سر ہے ۔ اپ نے اتنی شادیاں کیں اس لیے آپ کے پاس یہی ایک سبیل تھی کہ آپ مختلف عمر، اور لیاقت کی اتنی خواتین کو منتخب فرمالیں جو اس مقصد کےلئے کافی ہوں۔ آپ نے ان سب کو تعلیم و تربیت دی۔ ان کا تزکیہ نفس فرمایا۔ انھیں احکام شریعت سکھلائے۔ اورانھیں اسلامی تہذیب و ثقافت سے آراستہ کردیا کہ وہ دیہاتی، شہری ، بوڑھی، جوان ہر طرح کی عورتوں کی تربیت کرسکیں۔ انھیں مسائل شریعت کی تعلیم دے سکیں۔ اس طرح عورتوں میں تبلیغ کی مہم چلے۔ حضرت عائشہ (رض) جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال اور اقوال خوب خوب روایت کئے

 آپ کا گھر – آپ کسی محل میں نہیں رہتے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فرماتے تھے کہ ہم اپنے ہاتھوں سے چھت کو چھولیا کرتے تھے۔چند فٹ چوڑا اور چند فٹ لمبا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ آپ چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے ۔ آپ کے جسم پر ایک تہبند کے سوا دوسراکپڑا نہ تھا۔ کمر پر چٹائی نے اپنے نشان ڈال دئے تھےمیں نے رسول اللہ کے گھر پر ایک نظر ڈالی تو اس میں ایک مٹھی بھر جو ، آٹے کی ایک بوریاور ایک مشک کے سوا کچھ نہیں تھا۔یہ سامان دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔آپ نے فرمایا "خطاب کے بیٹے! رو کیوں رہے ہو؟” میں نے کہا اللہ کے رسول کیوں نہ روؤں، قیصر و کسریٰ کو دیکھیے کیسے محلوں میں رہتے ہیں، اور آپ اللہ کے نبی اور اس کے چنے ہوئے ہیں۔ اتنا مختصر ترین لباس۔ اتنا مختصر کھانا۔ آپ نے فرمایا "خطاب کے بیٹے! کیا تو اس پر راضی نہیں کہ ہمیں آخرت ملے اور انھیں دنیا۔” کتنی پرسکون زندگی تھی آپ کی اور آپ کی ازواج کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ کا گدّا (بستر) چمڑے کا تھا۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی آپ کا لباس انتہائی سادہ تھا۔ آپ کا کھانا ایسا کہ اکثر فاقوں سے ہوتے ایک کھجور بھی نہ پاتے کہ پیٹ بھر سکیں۔ آپ نے کبھی پیٹ بھر کا کھانا نہیں کھایاتھا۔ ہر روز نیا سلسلہ ہوتا تھا کہ کھانے کا انتظام کیسے کیا جائے۔ کبھی اشیائے خوردن کو ذخیرہ نہیں کیا۔ جو میسر ہوا کھالیتے تھا۔ کبھی کوئی فرمائش نہیں کی۔ اگر کھانے کی کوئی چیز پسند نہیں آتی تھی تو اسے چھوڑ دیتے تھے کھانے میں عیب چینی نہیں کرتے تھے۔

 گھرکے معاملات :- آپ گھر میں داخل ہوکر سب سے پہلے سلام کیا کرتے تھےاور پھر مسواک کرتے ۔ اپنے کام خود اپنے ہاتھ سے کرتے۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ "نبی انسانوں کی طرح انسان تھے، وہ اپنے کپڑوں کو صاف کرتے، بکری کا دودھ دوہتے، اپنا جوتا خود سلائی کرلیتے، قمیص پر خود پیوند لگالیا کرتے تھے۔” (مسند احمد) گھر کے کاموں میں ازواج کی مدد کرتے، سبزیاں کاٹتے، جانور خود ذبح کرلیاکرتے۔

 عبادات:- حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ "آپ اپنے گھر والوں کے کاموں میں مصروف ہوتے لیکن جونہی اذان سنتے فوراً نماز کے لیے گھر سے نکل جاتے۔ (بخاری، کتاب النفقات 5363) فرائض کے علاوہ آپ ساری نمازیں گھر میں پڑھا کرتے۔ تہجّد میں لمبا قیام کرتے۔ جب آپ سے پوچھا گیا کہ آپ اتنی مشقت کیوں کرتے ہیں، آپ تو اس کے پسندیدہ بندے ہیں تو فرمایا کہ ، "کیا میں اس کا شکر گزار نہ بنوں”؟ واقعی شکر عمل سے ہوتا ہے۔ ہر حال میں آپ اللہ کا شکر ادا کیا کرتے۔ آپ نہ صرف خود عبادت کیا کرتے تھے بلکہ گھر والوں کو بھی عبادت کے لیے جگاتے۔ خصوصاً رمضان کا آخری عشرہ آتا تو خوب تیاری کرکے کمر کس لیتے۔ اکثر اس سے دعائیں بھی کیا کرتےتھے۔ آپ کے گھر کے لوگ اپنے مسئلے مسائل پوچھنے بھی آیا کرتے تھے۔

 نبی کا گھر والوں کے ساتھ اخلاق : 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں تم سب سے زیادہ اپنے گھر والوں سے بہتر ہوں۔ (ابن ماجہ، کتاب النکاح 1977)۔ آپ اخلاق کے اعلٰی ترین مرتبہ پر فائز تھے۔ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ” إنك لعلى خلق عظيم ". جو کچھ قرآن کہتا ہے آپ اس کا عملی نمونہ تھے۔ بیویوں کے ساتھ نہایت حسن سلوک سے پیش آتے۔ آپ نے اپنے ہاتھ نہ کسی عورت کو نہ کسی خادم کو مارا۔

حضرت خدیجہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قریب سے دیکھا ، پندرہ سال کا تجربہ آپ کا یہ تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ایک بہترین اور کامل انسان ہیں۔ تب ہی توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی ہونے کا اعلان جب کیا سب سے پہلے بى بى خديجه نے اسلام قبول کرلیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف زندگی تک ہی آپ سے وفا نہیں کی بلکہ بلکہ ان کی وفات کے بعد بھی اکثر ان کو یاد کرتے تھے ۔ان کی سہیلیوں کو ہدیہ دیا کرتےتھے ۔ جس سے محبت کی اس کا اظہار بھی سچائی سے کیا۔ کسی نے پوچھا کہ آپ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے؟ فرمایا عائشہ سے۔ مردوں میں ان کے والد ان کے بعدعمر بن خطاب سے۔

ازدواجی زندگی کے خوشگوار ہونے کا بڑا راز ایک دوسرے سے محبت کا اظہار۔ اظہار لفظی نہیں بلکہ عملی اظہار ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برتن سے اسی جگہ سے پانی پیتے جہاں منہ لگا کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پانی پیا ہوتا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں "میں ہڈی سے گوشت کھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتی آپ اسی جگہ سے کھاتے جہاں سے میں نے کھایا ہوتا۔حضرت جعفررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ جس بات کو کہتیں آپ مان لیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کرتے۔ کبھی انہیں حبشیوں کا کرتب دکھانے کے لیے اپنے کندھے جھکادیتے کہ ان پر سر رکھ کر دیکھ لو۔ اسی طرح اپنے ازواج کو تحفے تحائف بھی دیا کرتے تھے ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرتے، اور دوسروں کو بھی تلقین کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے اونٹ پر سوار ہوتے وقت اپنا گھٹنا لگا کر سیڑھی بنادیتے۔ بیماری میں بھی ازواج کے حقوق اداکرتے رہے۔ اپنی بیویوں کی باری کی پابندی فرماتے رھے۔ گھروں کا ماحول خوشگوار رکھا کرتے۔ اپنی بیویوں کےلیے دعائیں بھی کیا کرتے۔اور ان کی تربیت کیا کرتے تھے۔ ایک بار حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا جن کا قد چھوٹا تھا بس اس قدر ہیں کہا (ابوداؤد، ترمذی 2552) اس بات پر آپ صلی للہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ تم نے ایسی بات کہدی ہے کہ اگر اسے سمندر میں گھول دیا جائے تو سارا سمندر کڑوا ہوجائے۔

 ایسا نہیں ہے کہ محبت کرتے تھے تو ان کی غلطیوں کو ignore کرتے تھے۔ ہلکے پھلکے انداز میں ازواج کو ان کی غلطیوں پر ٹوک دیا کرتے تھے۔ انھیں آخرت کی فکر دلایا کرتے تھے۔ گھر میں غیر شرعی چیزوں کو نوٹس کیا کرتے۔ آپ کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں سب کے ساتھ عدل کیا کرتے۔ ہر بیوی کے لیے آپ نے باری مقرر کررکھی تھی۔ ہر ایک کو وقت دیا کرتے۔ ہر بیوی کا الگ سالانہ نان و نفقہ ہوتا تھا۔ کسی کے ساتھ بھی زیادتی نہیں ہوتی تھی۔

آپ بچوں کے ساتھ بہت پیار کرتے ان کے ساتھ خوش طبعی سے پیش آتے۔ ہنسی مذاق کرتے ۔ ان کے ساتھ کھیلتے۔ اور انھیں گود میں لیکر بوسہ دیتے۔ اپنی بیویوں کے پہلے شوہر کے بچوں سے بھی بہت محبت اور شفقت سے پیش آتےتھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے ادب چال چلن اور بات چیت میں رسول اللہ سے زیادہ مشابہت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے کسی کو نہیں نہیں پایا۔ جب وہ آتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے کھڑے ہوجاتے۔ان کا ہاتھ پکڑتے ان کو بوسہ دیتے اور اپنی جگہ بٹھاتے۔ (ابوداؤد، کتاب الادب 5217)۔ خادموں کے ساتھ آپ کا بہترین سلوک تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ” کہ مجھے رسول اللہ کی خدمت کا شرف دس سال تک حاصل رہا۔ اللہ کی قسم مجھے کبھی آپ نے اف تک نہیں کہا”(بخاری و مسلم )۔ امہات المومنین کے ساتھ رسول کی رہائش نہایت شریفانہ، باعزت، بلند پایہ اور عمدہ انداز کی تھی۔ ازواج مطہرات بھی شریف، قناعت، صبر، تواضع ، خدمت اور ازدواجی حقوق کی نگہداشت کا مرقع تھیں۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی روکھی پھیکی، اور سخت زندگی رہی تھی جسے برداشت کرلینا دوسروں کے بس کی بات نہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے کبھی میدے کی نرم روٹی نہیں کھائی، یہاں تک کہ اللہ سے جاملے۔ اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے بھنی ہوئی بکری دیکھی ۔ان ازواج مطہرات نے اللہ اور اس کے رسول کو ترجیح دی۔ اور ان میں سے کوئی ایک بھی دنیا کی طرف مائل نہیں ہوئیں۔

 رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اندرون خانہ زندگی ہمارے لیے اسوہ ہے۔ہمیں اسے اپنے لیے مشعل راہ اور نمونہ عمل بنانا چاہیے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی بہترین عمل کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے گھروں کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کے مطابق خوبصورت گھر بنائےتاکہ ہم دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کرسکیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری کی پوری زندگی ہمارے لیے کوئی نہ کوئی سبق لیے ہوئے ہے۔ متقی مسلمان وہ ہے جو رسول امین کے نقش قدم پر چلے۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے جو کچھ رسول تمہیں دے اسے لے لو، اور جس سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ۔ (الحشر:7)

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button