Sliderسیرت انبیاءسیرت رسولؐ

رسول اللہ ﷺ کا تبسّم

زندگی خوشیاں بانٹنے اور مسکراہٹیں بکھیرنے سے عبارت ہے۔

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

          دنیا میں ہزاروں پیغمبر آئے۔ انھوں نے اللہ کے بندوں تک اس کا پیغام پہنچایا اور اپنی زندگی کا عملی نمونہ پیش کیا، مگر کچھ عرصے کے بعد ان کی تعلیمات مٹ گئیں، یا ان میں بہت سی غلط باتوں کی آمیزش ہوگئی اور ان کی زندگی پر پردہ پڑگیا۔ یہ امتیاز صرف خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کو حاصل ہے کہ آپ کا لایا ہوا پیغام قرآن مجید کی شکل میں حرف بہ حرف محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گا۔ اسی طرح آپؐ کی حیات طیبہ بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ آپ کی ولادت سے اور خاص طور پر نبوت سے وفات تک کے تمام واقعات، تمام جزئیات کے ساتھ معلوم ہیں۔ صحابہ کرامؓ نے آپ کی زندگی کے معمولی معمولی واقعات، آپ کے روز مرہ کے معمولات اور طبعی اوصاف کو بھی بیان کیا ہے۔ آپ کی خلوت و جلوت، نشست و برخاست، آمد و رفت، سفر و حضر، خواب و بیداری، بول چال، کھانا پینا، چلنا پھرنا، پہننا اوڑھنا، غرض آپ کی زندگی کا کوئی پہلو پردہ میں نہیں ہے۔

متعلقین اور اصحاب کے ساتھ لطف و کرم

          رسول اللہ ﷺ کی نجی زندگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ اپنے متعلقین اور اصحاب کے ساتھ لطف و کرم، محبت و مؤدت اورنرمی کا برتاؤ کرتے تھے۔ آپ کے مزاج میں درشتی اور سختی نام کو نہ تھی۔ قرآن نے آپؐ کے اس وصف کو اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے:

فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّہِ لِنتَ لَہُمْ وَلَوْ کُنتَ فَظّاً غَلِیْظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِکَ۔ (آل عمران: ۱۵۹)

(اے پیغمبرؐ یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو، ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمھارے گردو پیش سے چھٹ جاتے۔ )

          آپ ؐ ملنے والوں سے خندہ پیشانی سے پیش آتے، ان سے مسکراکر بات چیت کرتے، ان کی ظریفانہ مجلسوں میں شریک ہوتے، بسا اوقات ان سے لطیف مزاح بھی فرماتے۔ آپؐ کا یہ برتاؤ تمام طبقات کے ساتھ تھا، اندرون خانہ ازواج مطہرات ہوں یا بچے، آپؐ کے قریبی اصحاب ہوں یا اجنبی، سب آپؐ کے بحر الطاف و عنایات سے فیض یاب ہوتے تھے۔ سیرت نبویؐ کا یہ ایک ایسا باب ہے جس سے آپ کی نجی زندگی کے ایک اہم پہلو پر روشنی پڑتی ہے۔

          آں حضرت ﷺ کے قریبی اصحاب کا بیان ہے کہ آپؐ کے روئے اطہر پر ہمیشہ مسکراہٹ اٹکھیلیاں کرتی رہتی تھی۔ حضرت عبداللہ بن حارثؓ فرماتے ہیں :

’’میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی شخص کو مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا‘‘ (شمائل ترمذی، باب ماجاء فی ضحک رسول اللہ)

          ام المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں :

’’میں نے کبھی رسول اللہ ﷺ کو ٹھٹھا مارکر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپؐ صرف تبسم فرماتے تھے‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب الادب، باب التبسم والضحک، ۶۰۹۲)

          احادیث میں ’ضحک‘ (ہنسنا) اور ’تبسم‘ کے الفاظ ہیں، ’ضحک‘ چہرے کے انبساط کو کہتے ہیں، جس سے دانت نظر آجائیں اور منہ سے ہلکی آواز نکلے۔ اگر آواز زور سے نکلے اور دور تک سنائی دے تو اسے ’قہقہہ‘ اور بالکل نہ نکلے تو اسے ’تبسم‘ کہتے ہیں۔ ( فتح الباری شرح صحیح بخاری، ابن حجر عسقلانی، دارالمعرفۃ بیروت، ۱۰/۵۰۴)

  احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیش تر حالات میں صرف تبسم فرماتے تھے۔ بعض خاص مواقع پر آپ سے ضحک بھی ثابت ہے۔ بلکہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کسی بات پر اتنی زور سے ہنسے کہ آپ کے نواجذ (داڑھ) دکھائی دیے، لیکن ایسا بہت کم ہوا ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ صحابہ کو زیادہ ہنسنے سے منع فرماتے تھے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

          ’’زیادہ نہ ہنسو، زیادہ ہنسنا دلوں کو مردہ کردیتا ہے‘‘۔ (جامع ترمذی، ابواب الزھد، ۲۳۰۵)

ازواجِ مطہرات سے محبت اور خوش طبعی

          آں حضرت ﷺ ازواج مطہرات کے ساتھ لطف و کرم اور محبت کا برتاؤ کرتے تھے۔ آپؐ ان کے ساتھ خوش طبعی فرماتے اوران کے درمیان مسرت کے موتی بکھیرتے تھے۔ کبھی کوئی ہنسی کی بات آتی تو بے ساختہ مسکرادیتے تھے۔

          حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے ساتھ سفر میں تھی، اس وقت تک میں ہلکی پھلکی تھی، فربہ بدن نہیں ہوئی تھی۔ آپؐ نے لوگوں کو آگے بڑھ جانے کی ہدایت کی، پھر مجھ سے فرمایا: ’’آؤ دوڑ کا مقابلہ کرتے ہیں ‘‘۔ میں آپؐ کے ساتھ دوڑی اور آگے نکل گئی۔ آپؐ خاموش ہوگئے۔ کچھ عرصہ کے بعد ایک مرتبہ پھر مجھے آپ کے ساتھ سفر میں جانے کا موقع ملا، اس وقت میں فربہ بدن ہوگئی تھی۔ آپؐ نے اس موقع پر بھی اپنے اصحاب کو آگے بڑھ جانے کا حکم دیا، پھر مجھ سے فرمایا: ’’آؤ دوڑ کا مقابلہ کرتے ہیں ‘‘ میں آپ کے ساتھ دوڑی تو آپ مجھ سے آگے نکل گئے۔ آپ ہنسنے لگے اور فرمایا: ’’یہ اُس دن کا بدلہ ہے‘‘۔ (مسند احمد، ۶/۲۶۴)

          حضرت عائشہؓ ایک دوسرا واقعہ بیان کرتی ہیں کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حریرہ (یعنی دودھ، گھی اور آٹے سے تیار کیا ہوا کھانا) لے کر آئی، جسے میں نے خود آپ کے لیے تیار کیا تھا۔ وہاں حضرت سودہؓ بھی تھیں، نبی ﷺ میرے اور ان کے درمیان تھے۔ میں نے سودہؓ سے کہا: ’’کھاؤ‘‘ انھوں نے انکار کیا۔ میں نے کہا : ’’کھاؤ، ورنہ تمھارے چہرے پر لتھیڑدوں گی‘‘۔ انھوں نے پھر بھی انکار کیا۔ میں نے حریرہ میں اپنا ہاتھ ڈالا اور ان کے چہرہ پر لیس دیا۔ نبی ﷺ ہنسنے لگے۔ آپؐ نے سودہؓ سے فرمایا: ’’اس کے بھی چہرے پر لتھیڑدو‘‘ (دوسری روایت میں حضرت عائشہؓ کا بیان یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنا گھٹنا نیچے کرلیا، تاکہ سودہؓ مجھ سے بدلہ لے سکیں۔ ) چنانچہ انھوں نے بھی پلیٹ سے کچھ لے کر میرے چہرے پر لیس دیا اور رسول اللہ ﷺ ہنستے رہے۔ (مجمع الزوائد، ہیثمی، ۴/۳۱۶)

بچوں سے پیار

          آپؐ کی خوش طبعی اور خندہ روئی کا یہ معاملہ بچوں کے ساتھ بھی تھا۔ آپؐ ان کے ساتھ بہت محبت سے پیش آتے، ان سے پیار بھری باتیں کرتے اور کبھی کبھی لطیف مزاح بھی فرماتے۔

          حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہؓ کا ایک بچہ تھا، جس کا نام ابوعمیرؓ تھا، آں حضرت ﷺ جب بھی ابوطلحہؓ کے گھر تشریف لے جاتے، اس بچے سے ہنسی مذاق کرتے تھے۔ (مسند احمد، ۳/۱۱۵-۲۰۱)

          ایک مرتبہ بعض لوگوں نے آپؐ کو کھانے کی دعوت دی آپؐ ان کے یہاں جارہے تھے۔ راستے میں آپؐ کے نواسے (حضرت حسنؓ یا حضرت حسینؓ) بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے ملے۔ آپؐ نے انھیں پکڑنا چاہا۔ وہ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ آپؐ ہنستے ہوئے انھیں پکڑنے کی کوشش کرنے لگے، یہاں تک کہ پکڑلیا۔ پھر اپنا ایک ہاتھ ان کی گدی پر اور دوسرا ان کی ٹھوڑی پر رکھا اور اپنا منہ ان کے منہ پر رکھ کر بوسہ لے لیا۔ (ایضاً، ۴/۱۷۲)

  ملاقاتیوں سے خندہ روئی کے ساتھ ملنا

          ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

          ’’اپنے بھائی سے خندہ روئی سے ملنا بھی باعثِ اجر و ثواب ہے‘‘ (جامع ترمذی، ابواب البر والصلۃ، باب ما جاء فی صنائع المعروف، ۱۹۵۶)

          آپؐ کی یہ تعلیم محض دوسرے لوگوں کے لیے نہ تھی، بلکہ خود آپؐ نے اس پر عمل کرکے دکھایا۔ حضرت جریر بن عبداللہ البجلیؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ سے جب بھی میرا سامنا ہوتا آپ مسکراتے ہوئے ملتے تھے۔ (صحیح بخاری، کتاب الادب، باب التبسم والضحک، ۳۰۲۰) حضرت جابرؓ کا بھی ایسا ہی بیان ہے (شمائل ترمذی، باب ماجاء فی ضحک رسول اللہ) آں حضرت ﷺ کا یہ برتاؤ صرف اپنے عزیزوں یا قریبی اصحاب کے ساتھ ہی نہ تھا، بلکہ آپؐ کا یہ فیضان ان لوگوں کے لیے بھی وسیع تھا جو سماج میں اچھی نظروں سے نہیں دیکھے جاتے تھے، یا جو آپؐ کے ساتھ اکھڑپن اور عداوت سے پیش آتے تھے۔

          ایک مرتبہ ایک شخص آپؐ سے ملنے آیا۔ اس وقت گھر میں حضرت عائشہؓ موجود تھیں، آپ نے آہستہ سے فرمایا: ’’یہ برا آدمی ہے‘‘، پھر حضرت عائشہؓ سے پردہ کراکے اس شخص کو اندر بلالیا اور ہنس ہنس کر اس سے باتیں کرنے لگے۔ جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول آپ نے اسے برا آدمی قرار دیا اور پھر اس کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں بھی کیں۔ آپؐ نے جواب دیا:

          ’’سب سے برا آدمی وہ ہے جس کے شر کی وجہ سے لوگ اس سے بچیں۔ ‘‘ (موطا، کتاب حسن الخلق، باب ماجاء فی حسن الخلق۔ صحیح بخاری، کتاب الادب، ۶۰۵۴)

         ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کہیں تشریف لے جارہے تھے۔ حضرت انس بن مالکؓ ساتھ میں تھے۔ آپ اس وقت موٹے حاشیہ کی ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ راستے میں ایک بدّو ملا۔ اس نے آپ کی چادر پکڑ کر اتنی زور سے کھینچا کہ گردن پر اس کا نشان پڑگیا اور کہا: ’’اے محمد اللہ نے تمھیں جو مال دیا ہے اس میں سے مجھے بھی دو‘‘ آپؐ اس کی طرف متوجہ ہوئے، اس کی اس حرکت پر مسکرائے اور اسے کچھ مال دینے کا حکم دیا۔ (صحیح بخاری، کتاب الادب، باب التبسم والضحک، ۶۰۸۸)

مجلسوں میں خوش طبعی

          اللہ کے رسول ﷺ اپنے اصحاب کے درمیان کچھ ارشاد فرماتے تو صحابہ ہمہ تن گوش ہوکر سنتے، صحابہ کچھ بیان کرتے تو آپ بھی ان کی گفتگو میں شریک ہوتے، کوئی بات تفریح طبع کی ہوتی تو آپؐ بھی اس سے پورا مزہ لیتے، صحابہ کسی بات پر ہنستے تو آپ بھی ان کا ساتھ دیتے۔ کسی صحابی کی کوئی ’حرکت‘ یا کوئی انداز آپ کے روئے انور پر مسکراہٹیں بکھیر دیتا تھا۔

          حضرت ابورمثہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ اپنے باپ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؐ نے میری طرف اشارہ کرکے میرے باپ سے دریافت کیا: ’’یہ تمھارا بیٹا ہے؟‘‘ میرے باپ نے جواب دیا: ’’جی ہاں، رب کعبہ کی قسم! میں بالکل صحیح کہہ رہا ہوں، یہ میرا بیٹا ہے‘‘۔ ابو رمثہؓ بیان کرتے ہیں : میری شباہت میرے باپ سے ملتی جلتی تھی، پھر بھی قسم کھاکر میرے باپ کے اس انداز سے جواب دینے پر اللہ کے رسول ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا:

’’ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ تمھارا بیٹا کوئی جرم کرے گا تو اس کی باز پرس تم سے نہ ہوگی اور تمھارے کسی غلط کام کا مواخذہ تمھارے بیٹے سے نہیں ہوگا‘‘، پھر آپؐ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ اُخْریٰ (فاطر ۳۵:۱۸) کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا‘‘۔ (سنن دارمی، کتاب الدیات، باب لایواخذ احد بجنایۃ غیرہ، حدیث: ۲۳۸۸، ۲۳۸۹)

          ایک صحابیہؓ نے حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر شکایت کی کہ ان کے شوہر نے انھیں مارا ہے۔ آپؐ نے ان کے شوہر کو بلاکر وجہ دریافت کی۔ انھوں نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول! یہ مجھے ستاتی ہے‘‘۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ’’سلمیٰ تم نے کیوں ستایا؟‘‘ صحابیہ نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسولﷺ ! میں نے ستایا نہیں ہے، بات یہ تھی کہ نماز پڑھنے کے دوران ان کی ریاح خارج ہوگئی تو میں نے کہا کہ اللہ کے رسولﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ اگر کسی کی ریاح خارج ہوجائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے، اسے دوبارہ وضوکرنا چاہیے۔ بس اسی بات پر انھوں نے مجھے مارا۔ یہ سن کر اللہ کے رسولﷺ ہنسنے لگے اور فرمایا: ’’اے ابورافعؓ! اس نے تو تم سے اچھی بات کہی تھی‘‘۔ (مسند احمد، ۶/۲۷۲)

          حضور ﷺ کی ایک مجلس میں دیہات میں رہنے والے ایک صحابی موجود تھے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’جنت میں ایک شخص اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرے گا کہ میں کھیتی کرنا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا جو کچھ تمھیں حاصل ہے وہ کافی نہیں ؟ وہ عرض کرے گا: ہاں، لیکن میری خواہش ہے کہ کھیتی کروں۔ چنانچہ وہ بوائی کرے گا اور دیکھتے ہی دیکھتے کھیتی بڑھ کر پک کر تیار ہوجائے گی۔ پھر کٹائی ہوکر پہاڑ کی طرح ڈھیر لگ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ’’یہ سب تمھارا ہے‘‘۔ دیہاتی نے برجستہ کہا: ’’اللہ کی قسم وہ کوئی قریشی یا انصاری ہوگا۔ وہی لوگ کھیتی کرتے ہیں ‘‘۔ اس کی اس برجستگی پر اللہ کے رسول ﷺ ہنس دیے۔ (صحیح بخاری، کتاب الحرث والمزارعۃ، باب بدون ترجمہ، ۲۳۴۸)

اچانک ہنسی کے بعض واقعات

          احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بسا اوقات آں حضرت ﷺ بغیر کسی بات کے، اچانک ہنس دیتے۔ وہاں موجود صحابہ ہنسی کی وجہ دریافت کرتے، یا دریافت نہ بھی کرتے، تب بھی آپ خود ہی اس کی وضاحت فرمادیتے اور کسی ایسی حکمت کی بات کی طرف اشارہ فرماتے جو درس و تعلیم سے پُر ہوتی۔

          حضرت صہیبؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرماتھے۔ آپ کے ارد گرد صحابہ کی ایک جماعت تھی۔ اچانک آپؐ ہنس دیے، پھر خود ہی صحابہ سے یوں مخاطب ہوئے: ’’کیا تم لوگ پوچھوگے نہیں کہ میں کیوں ہنسا ہوں ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا: ’’کیا بات ہے؟ اے اللہ کے رسول! ‘‘ فرمایا:

’’مومن کا معاملہ بھی عجیب و غریب ہے۔ اس کے ہر معاملے میں خیر ہے۔ اگر اسے کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے اور وہ اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، تو اس میں اس کے لیے خیر ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور اس پر وہ صبر کرتا ہے تو اس صورت میں بھی وہ خیر کا مستحق ہوتا ہے‘‘۔ (سنن دارمی، کتاب الرقائق، باب المومن یوجر فی کل شیئی، مسند احمد، ۶/۱۶)

          ایک مرتبہ آں حضرت ﷺ نے پانی منگوایا اور وضو کیا، پھر ہنسنے لگے، پھر خود سوال کیا: ’’کیا تم لوگ میرے ہنسنے کی وجہ دریافت نہیں کروگے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا: ’’یارسول اللہﷺ فرمائیے‘‘ آپ نے ارشاد فرمایا:

’’بندۂ مومن جب وضو میں اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو اللہ تعالیٰ چہرے سے سرزد ہونے والی خطاؤں کو معاف کردیتا ہے۔ جب ہاتھ دھوتا ہے تو ہاتھ سے سرزد ہونے والی خطاؤں سے درگزر فرمادیتا ہے۔ اسی طرح جب سر کا مسح کرتا اور اپنے پیروں کو دھوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان اعضا سے ہونے والی لغزشوں کو معاف کردیتا ہے‘‘۔ (مسند احمد، ۱/۵۸)

          ایک مرتبہ آپؐ سواری پر سوار ہوئے تو یہ دعا پڑھی: انی ظلمت نفسی فاغفرلی فانہ لا یغفر الذنوب الا انت (اے اللہ میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔ تو میرے گناہوں کو معاف کردے۔ تیرے علاوہ اور کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا) ـپھر ہنسنے لگے۔ اس وقت وہاں حضرت علی بن ابی طالبؓ موجود تھے۔ انھوں نے سوال کیا: ’’اے اللہ کے رسولﷺ! آپ کیوں ہنسے؟ فرمایا:

’’جب بندہ اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتا ہے تو وہ بہت خوش ہوتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس بندے کو یقین ہے کہ اس کے گناہوں کو معاف کرنے والا میرے علاوہ کوئی اور نہیں ‘‘۔ (شمائل ترمذی، باب ماجاء فی ضحک رسول اللہ)

کھلکھلا کر ہنسنا

          احادیث میں بعض ایسے مواقع کی تفصیلات بھی محفوظ ہیں جب اللہ کے رسولﷺ کھلکھلاکر ہنس پڑے۔ اس کے لیے احادیث میں حتّٰی بدت نواجذہ (یہاں تک کہ آپؐ کے داڑھ کے دانت نظر آنے لگے) کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ عربی زبان میں دانتوں کے لیے مختلف الفاظ آتے ہیں۔ سامنے کے اوپر نیچے کے دو دو دانتوں کو ’ثنایا‘ اور ان کے بغل کے دانتوں (کچلی کے دانتوں ) کو ’انیاب‘ کہتے ہیں اور ان دونوں کے مجموعہ پر ’ضواحک‘ کا اطلاق کیا جاتا ہے، یعنی وہ دانت جو ہنستے وقت دکھائی دیتے ہیں۔ ’انیاب‘ کے بغل میں پائے جانے والے دانتوں کو ’نواجذ‘ (داڑھ کے دانت) کہتے ہیں، یہ اس وقت دکھائی دیتے ہیں جب آدمی کھلکھلاکر ہنسے۔ ایسے چند مواقع کا تذکرہ، جب اللہ کے رسولﷺ کو بے ساختہ ہنسی آگئی تھی اور آپ کھلکھلاکر ہنس پڑے تھے، دل چسپی کا باعث ہوگا۔

          حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ آں حضرت ﷺ نے فرمایا:

’’قیامت کے دن ایک شخص کو بارگاہ الٰہی میں لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا: اس کے سامنے اس کے چھوٹے چھوٹے گناہ پیش کرو۔ اس وقت اس کے بڑے بڑے گناہ چھپالیے جائیں گے۔ پھر اس سے کہا جائے گا: تم نے فلاں دن یہ گناہ، فلاں دن یہ گناہ کیا تھا۔ وہ انکار نہ کرسکے گا، اقرار کرتا جائے گا۔ ساتھ ہی اسے یہ خوف بھی لاحق ہوگا کہ ابھی تو بڑے بڑے گناہوں کا حساب باقی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اسے اس کی ہر برائی کے بدلے ایک نیکی کا اجر دے دو۔ یہ الٰہی الطاف و عنایات دیکھ کر وہ بول اٹھے گا: ’’میرے اور بھی بہت سے گناہ ہیں جو میں یہاں نہیں دیکھ رہا ہوں ‘‘

          حضرت ابوذرؓ بیان کرتے ہیں : میں نے دیکھا کہ یہ فرماتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کھلکھلاکر ہنس پڑے۔ (  شمائل ترمذی، حوالہ سابق)

          حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’مجھے معلوم ہے کہ سب سے آخر میں جہنم سے نکل کر جنت میں جانے والا شخص کون ہوگا؟ ایک شخص جہنم سے گھسٹتا ہوا نکلے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: ’’جنت میں چلے جاؤ‘‘۔ وہ جنت کی طرف جائے گا تو اسے ایسا لگے گا کہ جنت بھر گئی ہے۔ وہ واپس آکر عرض کرے گا: اے میرے رب ! جنت تو بھر گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے پھر فرمائے گا: ’’جاکر دیکھو‘‘ وہ دوبارہ جائے گا۔ اس بار بھی اسے محسوس ہوگا کہ جنت میں اب اس کے لیے کوئی جگہ نہیں بچی ہے۔ وہ واپس آکر عرض کرے گا: ’’اے میرے رب! جنت میں اب کوئی جگہ نہیں بچی ہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’’تم جنت میں جاؤ، وہاں تمھارے لیے دنیا کے برابر اور اس کا دس گنا ہے‘‘۔ وہ عرض کرے گا: ’’اے اللہ ! آپ شہنشاہ ہوکر مجھ سے مذاق کرتے ہیں !‘‘۔

          حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ یہ فرماتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کھلکھلاکر ہنس پڑے۔ (صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار، ۶۵۷۱)

          یہ چند واقعات ہمارے سامنے سیرت نبویؐ کا ایک دل کش باب وا کرتے ہیں، جہاں الفت و محبت ہے، لطف و کرم ہے، خوش طبعی اور خندہ روئی ہے، تفریح طبع او رمزاح لطیف ہے، مسکراہٹیں اور کھلکھلاہٹیں ہیں۔ یہ واقعات جہاں ایک طرف ہمارے سامنے آں حضرت ﷺ کی نجی زندگی کا ایک پہلو روشن کرتے ہیں وہیں دوسری طرف ہمیں زندگی گزارنے اور متعلقین کے ساتھ برتاؤ کرنے کا ایک اسوہ بھی دکھاتے ہیں اور ان سے واضح ہوتا ہے کہ تقویٰ، بزرگی اور عظمت چہرے پر رعونت طاری رکھنے، پیشانی پر شکن ڈالنے، گردن ٹیڑھی کرکے بات کرنے، یا مہر بہ لب رہنے کا نام نہیں ہے، بلکہ اصل زندگی خوشیاں بانٹنے اور مسکراہٹیں بکھیرنے سے عبارت ہے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button