Uncategorizedسیرت رسولؐ

رہبر انسانیتﷺ کے مثالی شب و روز

خان عرشیہ شکیل

نالا سوپارہ ویسٹ
آپﷺ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں آپﷺ کی شخصیت وہ عظیم ہستی ہے جس نے درجہ کمال کی بلندی کو چھو لیا۔ جس کی تعریف خود رب العزت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے” وانک لعلی خلق عظیم۔”یقینا آپ اخلاق کے بلند مرتبہ پر فائز ہے۔
آپ ﷺکی شخصیت کا ہر پہلو کامل و مشعل راہ ہے۔ زندگی کے سفر کے مختلف مراحل آپﷺ کی رہنمائی کے بغیر ادھورے ہیں۔ایک مضمون میں آپ ﷺکی زندگی کا احاطہ ممکن نہیں اختصار سے ہم کچھ پہلووں پر روشنی ڈالتے ہیں جو ہماری روزمرہ کی زندگی میں ہر دن ہمیں ان کاموں سے سابقہ پڑتا ہے جو ایک بہتر زندگی گزارنے کے لئےضروری بھی ہے اور موجب سعادت و ثواب بھی۔
آئیں ہم دیکھیں کہ” رہبر انسانیتﷺ” کے زندگی کے شب وروز کی چند جھلکیاں۔۔
رہن سہن۔۔۔۔آپﷺبہت سادہ زندگی گزارتے۔ آپ ﷺ اپنے اہل و عیال میں ہوتے تو ان سے کھاناطلب نہ فرماتے اور نہ اظہار خواہش فرماتے ۔جو کھانا پیش کیا جاتا تناول فرماتے۔آپﷺ دودھ کھجور انجیر گوشت گھی مکھن پنیر جو ستو کا استعمال کرتے۔آپ ﷺکا پسندیدہ کھانا روٹی کا اور حسیس کا ثرید تھا۔آپ ﷺفرماتے "میں نے سواۓدودھ کے ایسی کسی شے کو نہیں جانتا جس کے اجزاء ایک ہی وقت کھانے اور پینے کا کام دے سکتے ہو۔(ترمذی)
جس کے گھر میں کھجور ہو وہ کھبی بھوکا نہیں رہ سکتا غذا کی کمی کھجوریں پوری کرتی ہیں۔
آپﷺ کا لباس مبارک۔۔
آپﷺ کرتہ اور تہہ بند یا پاجامہ استعمال کرتے۔ٹوپی پہنتے اور اوپر سے پگڑی باندھتے۔یمنی چادر کا استعمال کرتے۔موزے جوتا اور تسمہ والی چپل پہنتے۔
انداز تکلم۔۔۔۔ آپ ﷺپروقار گفتگو فرماتے الفاظ صاف مکمل اور واضح استعمال ہوتے ۔ ٹھہر ٹھہر کر گفتگو کرتےتاکہ مخاطب آسانی سے آپﷺ کی بات کو سمجھ سکے۔آپﷺ بہت فصیح و بلیغ زبان استعمال کرتے۔ آپﷺ کا کلام جامع و مختصر ہوتا چند کلمات میں ہی پوری بات بیان کر دیتے۔
گھریلو کام کاج۔۔
آپ ﷺگھر کی صفائی کرلیتے ‘جانوروں کو چارہ ڈالتے ۔دودھ دھوتے ‘کپڑوں میں پیوند لگاتے ‘جوتے کی مرمت کرتے’ بچوں سے بڑی شفقت فرماتے انہیں گود میں اٹھا لیتے سر پر ہاتھ پھیرتے اور نیک دعائیں دیتے بڑی محبت سے کھلاتے پلاتے ۔
معاملات۔۔۔۔آپ ﷺ ہر ایک سے خندہ پیشانی سے پیش آتے ناداروں’ محتاجوں’ یتیموں کی مدد کرتے۔ بیواؤں کی کی خبر گیری کرتے۔ بیماروں کی عیادت کرتے ۔مسافروں کو کھانا کھلاتے ۔لوگوں کے درمیان انصاف فرماتے ۔عہد پورا کرتے ۔امانتوں کی حفاظت فرماتے۔آپﷺکا ارشاد ہے”جس شخص نے تمہیں قابل اعتماد جان کر اپنی امانت تمہارے پاس رکھی اسے لوٹا دو۔(ترمذی)
ابو داؤد نے وعدے کی پابندی کے ضمن میں ایک واقعہ کا ذکر کیا ہے حضرت عبداللہ بن ابی الحمساء بیان فرماتے ہیں ۔ رسولﷺسے میں نے بعثت سے پہلے تجارتی معاملات کیا کچھ رقم میرے ذمے باقی رہ گئی میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا پھر میں بھول گیا تین دن بعد مجھے یاد آیا تو میں آیا کیا دیکھتا ہوں کے آپﷺ اسی جگہ پر موجود ہے آپ نے ارشاد فرمایا تم نے مجھے تکلیف دی دوسروں کو نصیحت دیتے کہ پابندی کرو اور اس کو پورا کرو۔
عبادات ۔۔۔
آپ ﷺعبادت کا خاص اہتمام فرماتے ۔فرائض کے علاوہ نوافل صلوۃ ضحی’ صلوۃ الاوابین’ صلاۃ تسبیح کا اہتمام کرتے۔ تہجد آپ پر فرض کر دی گئی تھی لہذا زندگی بھر اس کا اہتمام کرتے رہے کثرت سے دعا استغفار اور ذکر فرماتے ہر کام کرنے سے پہلے اس کی دعائیں پڑھا کرتے۔روزے۔۔۔رمضان المبارک کے علاوہ شعبان کے پورے مہینے کے روزے رکھتے۔ہر ماہ تین روزے ‘ یوم عاشورہ ‘یوم عرفہ وغیرہ کا اہتمام کرتے۔ ۔تلاوت قرآن کا اہتمام کرتے۔آپﷺکا ارشاد ہے۔ہر شۓ کی ایک بلندی ہوتی ہےاور قرآن کی بلندی سورہ بقرہ ہے ہر ایک کا خاصہ ہوتا ہے ۔قرآن کا خاصہ سورہ فاتحہ ہے ۔اس میں ہر مرض کی دوا ہے۔ہر شۓ کا ایک دل ہوتا ہے قرآن کا دل سورہ یٰس ہے۔جو شخص اسے اللہ کی رضا کے لئے تلاوت کرے گا۔اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیۓ جائینگے۔
رحمۃ للعالمین ﷺکی زندگی میں ہمارے لئے بہترین اسوۂ حسنہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں کہنے سننے سے زیادہ عمل کرنے والا بنا۔آمین
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button