اسلامیات

سماج کی تعمیر میں عورت کا کردار

سماج کی تعمیر میں عورت کا کردار

(بضمن ملک گیر مضبوط خاندان مضبوط سماج)

نازانساء رسول خان

 عمرکھیڑ ،ضلع ایوتمحل ،مہا راشٹر

سورہ البقرہ میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے

"اور ہم نے آدم سے کہا تم اور تمہاری بیوی رہو جنت میں اور بے فراغت کھاؤ جہاں سے چاہو لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ہو جاؤگے ظالموں میں سے۔” (سورہ البقرہ ۳۵

اس آیت میں اللہ رب العزت نے عورت کے کردار ، اس کی عزت و اہمیت ، فرض منصب اور ظاہری و باطِنی خصوصیات کے مثبت پہلو کو عیاں کیاہے ۔ یعنی جنت جیسی خوشی و آرائش والی جگہ پر بی بی حوا کا ساتھ آدم علیہ اسلام کے ساتھ بتایا گیا وہی زمین جیسی آزمائش والی جگہ کی طرف بھی اشارہ کیا گیاہے ۔

خداوند کریم نے عورت کے کردار کا وہ پہلو عیاں کیاہے جوعورت پر خدا تعالیٰ کا کرم ہے ۔اللہ ﷻ نے سب سے پہلے عورت کو بحثیت بیوی کے کردار میں زمین پر بھیجا ۔۔۔۔۔جہاں ان سے بندگی، اطاعت، تربیت و تشکیل جیسے افعال مطلوب تھے۔۔۔اس سے صاف واضح ہوتاہے کہ نہ صرف سماج بلکہ کسی جاندار کا وجود نہ رکھنے والی جگہ پر بھی عورت کے کردار سے معاشرہ کی تشکیل کی جاسکتی ہے ۔۔اسکی دوسری مثال ہمیں ہاجرہ ؓ کی شخصیت سے ملتی ہے جنکے کردار و اخلاق ہی کے باعث اللہ سبحان و تعالی کا ان پر کرم ہوا اور ایک بنجر جگہ پر سماج کی تشکیل ہوئی۔۔۔۔۔۔

بقول مشرقی شاعر ڈاکٹر علامہ اقبالؒ ۔۔

_وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ_ ۔۔۔۔۔۔

_اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں_۔۔۔۔۔۔

سماج کا اصل مفہوم 

سماج یعنی بہت سارے افراد کاگروہ خاندان کہلاتے ہیں ۔۔۔جن سے سماج کا وجود ہوتا ہے ۔خاندان کو منظم بنانے کے لیے اخلاص و محبت ، عفو درگزر ، اخلاق و اعلی ظرفی جیسے اوصاف درکار ہیں۔۔۔۔

 سماج کے بنیادی عناصر

_ اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ اللہ وہی ہے جس نے انسان کو پانے کے ( نطفے ) سے پیدا کیا پھر اسے ددھیال اور سسرال کے رشتوں میں بانٹ دیا۔۔[ اس کو کسی کا بیٹا ؛ بیٹی کسی کا داماد بہو بنا دیا ] یعنی خاندان اور سسرال دونوں رشتے رکھے اور اے پیغمبر ﷺ‎!!!۔۔۔۔تیرا مالک بڑی قدرت والا ہے ۔۔

_افراد پر مشتمل وہ گروہ جس میں محبت و شفقت ؛ صبر و تحمل ؛ عفو و درگزر جیسے صفات موجود ہو…. ان میں مختلف خاندانی رشتے اور سماجی باہمی تعلقات شامل ہوتے ہیں ۔۔۔ان میں سماجی ؛ سیاسی اور اور خاندانی گروہ کا شمار ہوتا ہے_

عورت کے بنیادی کردار

_سماج کی اندرونی سطح پر مختلف خاندان پر منحصر معاشرہ ( قوم ) ہے جو سماج کے بنیادی عناصر ہیں اور ان عناصر میں مر کزی و بنیادی کردار عورت کا ہے۔ ایک ہی خاندان میں رہ کر عورت کے کرار کی روشنی مختلف شکلوں میں منعکس ہوتی ہے ۔۔جیسے۔۔۔۔

میں نے مانا میری آواز نہیں جائیگی ۔۔۔۔

درو دیوار وں سے ٹکرا کر پلٹ آۓ گی۔۔۔

اب بھی وقت ہے ان اندھیروں کا کرو کوئی علاج ۔۔۔

ورنہ یہ نسل اجالوں کو ترس جا ۓ گی۔۔۔

1)عورت بحثیت ماں 

یہ عورت کے کردار کا وہ روشن باوقار پہلو ہے جسکی عزت و عصمت کو خود نبی ﷺ‎ نے اپنی کئی احادیث میں بیان کیا ہے۔۔۔

حضرت عمر ؓ کا قول ہے ” تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمھیں کامیاب قوم دوں گا ” ۔

ایک ماں کا کردار ظاہری طور پر اپنے گھر کی اخلاقی تربیت پر اثر اندازہوتاہے جنکی مثالیں حضرت زینب ؓ اور فاطمہ ؓ ہیں لیکن باطنی طور پر نہ صرف ایک گھر بلکہ پورے خاندان اور معاشرہ کی معماریت ہی سماج کے نظام کو منظم و مضبوط بنا سکتی ہے ۔۔۔ماں اس لفظ میں اخلاق ؛ شفقت ؛ محبت ؛ ایثار و قربانی ؛اصلاح و تربیت جیسے اوصاف پوشیدہ ہیں ۔۔۔

دور جدید میں Modernisation اور

ٹیکنالوجی کے منفی اثر سے متاثر ہوکر آج کی مائیں پریشان ہیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ

 ” پہلی درسگاہ ( ماں کی گود )

ہی کو آج اسلامی تعلیمات کی اصلاح کی سخت ضرورت آن پڑی ہے۔” ایک مضبوط خاندان کی بنیاد کھو کھلے اور نہ مناسب مغربی تہذیب کے طریقوں پر نہیں رکھی جاسکتی ہے ۔۔۔اسلامی زندگی کا طرز ہی واحد ذریعہ اس مسئلہ کا حل ہے۔۔۔

2)عورت بحثیت بیوی

قرآن کریم میں کئی جگہ اللہ رب العزت نے بیوی کی عزت و اہمیت کا حکم دیا ہے ۔۔۔

وَخَلَق٘نَا کُم٘ اَزْوَاجَاْ 

( سورہ نباء ) ہم نے تمھیں جوڑے کی شکل میں پیدا کیا ۔احادیث نبیﷺ‎ سے بھی ہمیں بیوی کے کردار کے روشن پہلو پتہ چلتے ہیں جو قوم کی پختگی اور خاندانوں کی مضبوطی میں شجر کے جڑوں کی مثال کی طرح ہیں۔۔۔۔ایک حدیث کا مفہوم ہے ۔۔۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ؛ رسول اللہﷺ‎ نے فرمایا "عورت سے چار چیزوں کی وجہ سےنکاح کیا جاتا ہے اس کے مال اسکے حسب و نسب اسکے حسن و جمال اور اسکے دین دار کی وجہ سے نکاح کیا جا تا ہے ۔

"تم خاک آلود ہوں تم دین دار کے ساتھ نکاح کرکے کامیابی حاصل کرو ۔” ( مشکوة 3083 )

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں رسول ﷺ‎ نے فرمایا: "دنیا مکمل طور پر متاع ہے اور بہترین متاع نیک بیوی ہے ۔”

( مشکوة 383 )

مندرجہ بالا احادیث سے نہ صرف ایک نیک بیوی کے اوصاف پتہ چلتے ہیں بلکہ ایک منظم اور مستحکم گھر کی تشکیل کی رہنمائی ملتی ہے۔

آج معاشرہ کو سخت ضرورت ہے نکاح کے اصل مفہوم و مقصد کو قرآن و احادیث کی روشنی میں سمجھ کر عمل کرنے کی ۔۔۔ورنہ جہالت کے اندھیرے اور عریانیت کے دلدل میں قوم بھٹکتی رہ جاۓ گی ۔۔۔

نہ صرف شوہر بلکہ اس سے جڑے رشتے ساس ؛ سسر ؛ نند ؛ دیور؛ جیٹھ جیسے رشتوں کا بھی حق ادا کریں۔۔۔۔

3)عورت بحثیت بہن 

بہن ( معاشرہ ) اور خاندان کا وہ بنیادی کردار ہے جسکے نتیجہ میں دو خاندانوں میں رشتوں میں اخلاص و محبت ؛ قربانی و استقلال اخلاقی و تربیتی حسن جیسے بنیادی عناصر وجود میں آتے ہیں ۔۔رشتے مضبوط بن جاتے ہیں ایک بہن جتنی خلوص و محبت کی حقدار ہوتی ہے اتنی ہی صبر و رفاقت ؛ اخلاق ؛ عزت جیسے گوہر کی ذمہ دار ہوتی ہے ۔۔۔جسکے ذمہ والد ؛ بھائ کی عزت دنیا و آ خرت دونوں جگہ ہیں۔۔

افسوس موجودہ سماج بہن کی اس عزت و عصمت کو کھو چکا ہے ۔۔۔۔۔آج نکاح سے قبل ہر بہن اپنے بھائی و باپ کے لیے باعث فکر اور نکاح کے بعد وراثتی حقدار بن کر رہ گئ ہے ۔نبی ﷺ‎ کی سیرت بہترین رہنمائی ہے کہ آپ ﷺ‎ اپنی دودھ بہن شیما ؓسے کسطرح پیش آتے ہیں ۔بہن کے کردار کی دوسری مثال حضرت عمر ؓ کی بہن ہے جنھوں نے اپنے بھائی کی آخرت کی فکر کی۔۔۔۔

نیز بہن اور بہن یا بھائی اور بہن دونوں ہی رشتے ایک گھر کی بنیادی جزوی رکن ہیں ۔۔۔۔اور اس رشتے میں رفاقت اخلاق ؛ صبر ؛ و قربانی و محبت جیسے جذبے پروان چڑھانے کی ضرورت ہیں ضروری ہے کہ جب بہن نند یا سالی جیسے رشتوں میں تبدیل ہو جاۓ تو اسلام طرز کے مطابق ہی برتاؤ کریں ۔۔ورنہ یہ بد اخلاقی ؛ حسد کینہ ؛ تنازعات جیسی بیماریاں وجود میں لاتی ہیں۔ موجودہ دور میں بھائی اور بہن کے رشتے میں تنازعہ کی بڑی وجہ وراثت میں حق بھی بن چکا ہے ۔۔۔آج ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں جن چیزوں کو کرنے کا حکم نبی ﷺ‎ نے دیا ہے وہ حق ہم با خوشی ادا کریں ۔۔۔۔۔

4)عورت بحثیت بیٹی

بیٹی کا کرار عورت کی زندگی کاسب سے ذیادہ مخلص اور والدین کے لیے نیکی کا باعث ہے جہاں اسلام نے بیٹیوں کو خدا کی رحمت کا درجہ دیا ہے ہیں ۔۔۔جن کی تربیت پر بھی رب کی رضا حاصل ہوتی ہے ۔

فاطمہؓ جب تشریف لاتی تو آپ ﷺ‎ کھڑے ہو جاتے ۔۔۔۔اس سے واضح ہوتا ہے آپ ﷺ‎ کے اوصاف میں بہترین والد کی سیرت کیسی تھی۔۔

دوسری طرف ہمیں حضرت فاطمہ زہرہؓ کی سیرت میں بہترین بیٹی کے اوصاف و خوبیاں نظر آتی ہیں ۔۔۔۔۔۔بیٹی کہ کردار میں فرما نبرداری ؛ اخلاقی حسن ؛ صبر و تحمل ؛ ایثار و قربانی محبت و شفقت جیسی خوبیاں اگر پائی جاۓ تب دو مضبوط خاندان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔۔

  عورت کے کردار کے مثبت پہلو

عورت کی مثبت خیالی ؛ عفو درگذر کا جذبہ؛ صبر و تحمل ؛ ایثار و قربانی کا جذبہ ؛ اخلاص و محبت جیسے گوہر عورت کے کردار کے و مثبت پہلو ہے جو گھر خاندان اور سماج کو خوشحال اور مضبوط بناتے ہیں ۔۔۔۔رشتوں کو اخلاص و محبت کی خوبی سے نبھانا اور خاندانوں کو جوڑے رکھنا عورت کا ہنر ہے۔۔۔۔۔اپنے گھر و خاندان میں اسلامی طرز اپنا کر عورت جدید دور میں مثالی خاندان پیش کر سکتی ہے۔۔۔۔

عورت کے کردارکے منفی پہلو

عورت کے کردار کےمنفی پہلو سے مراد شخصیت میں پائی جانے والی وہ خامیاں ہیں جسے اسلام نے گناہ قرار دیا ہے جن میں حسد و کینہ ؛ تکبر ؛ بد اخلاقی ؛ غیبت مغربی تہذیب ؛ خود غرضی ؛ لا شعوری شامل ہیں ۔۔۔۔جن سے نہ صرف خود کا کردار بلکہ گھر ؛ سماج ؛ خاندان اور معاشرہ زنگ آلود ہو کر تاریکی کا باعث بن جاتا ہے۔۔۔۔

قابل تعریف ہے وہ مائیں ؛ بہنیں ؛ بیٹیاں اور بہوئیں جو موجودہ معاشرہ میں اپنے گھر و خاندان کو اسلامی طرز کے مطابق ڈھالے ہوۓ ہیں گویا وہ جہالت کے اندھیرے میں نور کا نمونہ ہیں ۔۔۔۔۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو سمجھنے ؛ صلاحیتوں کو ابھارنے اور مضبوط خاندان کی تشکیل کرنے کی توفیق عطا کریں۔۔۔۔

آمین ثم آمین۔۔۔۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button