Sliderملی مسائل

سپریم کورٹ کا فیصلہ آستھا کی بھینٹ چڑھ گیا

شہاب مرزا

بابری مسجد شہادت کا واقعہ انتہائی تکلیف دہ تھا جس کی یاد آج  بھی سینے میں خنجر کی طرح چبھتی ہے 6 دسمبر انیس سو بیانوے کا وہ تاریک لمحہ جب بابری مسجد پر چڑھ کر شرپسندوں نے جمہوریت کا مذاق اڑایا تھا۔ یہ ہماری تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے اس واقعے کو بھلا نا آسان نہیں بابری مسجد کا زخم تاحیات بھر نہیں سکتا واقعہ لکھنے کے لئے الفاظ نہیں ملتے جس طرح بابری مسجد کی آڑ لے کرفسادات بھڑکائے گئے تھے جو پہلے سے منصوبہ بند تھے وہ کون لوگ تھے؟ کیا دل رکھتے تھے؟ کیسے جذبات سے عاری تھے؟ معلوم نہیں ان میں انسانیت باقی تھی یا نہیں جو ہزاروں نہتے لوگوں کا قتل عام کیا گیا تھا جس میں زیادہ تعداد معصوم بچوں اور عورتوں کی تھی ان واقعات کی کچھ ڈاکیومنٹری باقی ہے جو روح کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے جس نے پورے ملک اور انسانیت کو شرمسار کر دیا تھا۔

مغل شہنشاہ ظہیر الدین بابر نے 1527  میں دربار بابری سے منسلک میرباقی سے اتر پردیش کے ایودھیا  میں بابری مسجد تعمیر کروائی تھی جسے چھ دسمبر 1992 کو شرپسندوں نے شہید کردیا تھا شرپسندوں کا دعوی تھا کہ مسجد کی جگہ پر ہندو دیوتا کی پیدائش ہوئی تھی اور اس جگہ مندر تھا جسے مغل شہنشاہ بابر نے توڑ کر مسجد کی تعمیر کروائی تھی۔ بابری مسجد کا تنازعہ آزادی سے قبل کا ہے 1853 میں پہلی دفعہ ایودھیا میں مذہبی فسادات ہوئے تھے اس لیے 1859  میں برطانوی حکمرانوں نے اس جگہ کو تقسیم کیا تھا اندر والا حصہ مسلمانوں کے لئے باہر کا حصہ ہندوؤں کے لیے مختص کیا تھا۔

یہ واقعہ آزادی سے قبل کا ہے آزادی کے بعد 22 دسمبر 1949 میں مندر کے اندر مورتیاں رکھنے کی وجہ سے حکومت نے متنازعہ مقام قرار دے کر مسجد بند کروا دیا تھا جو 35 سال بند رہنے کے بعد 1984 میں وشوا ہندو پریشد کی جانب سے رام کی جائے پیدائش کے مقام کو آزاد کروانے کے لئے تحریک کا اعلان کیا گیا۔ جس کے قیادت بی جے پی لیڈر لال کرشن اڈوانی نے کی تھی 1986 میں راجیو گاندی کے سرکار میں بابری مسجد کا دروازہ کھول کر شیلانیاس کی اجازت دی گئی تھی اس شیلانیاس کے لئے کانگریس حکومت نے وشو ہندو پریشد کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ 27 دسمبر 1989 میں اس وقت کے صدر جمہوریہ بوٹا سنگھ نے وشو ہندو پریشد  سے واضح معاہدہ کیا جس کے بعد مسجد سے ملحقہ زمین پر رام مندر کی بنیاد رکھ دی گئی۔ 1992 میں جو ہوا اس کے لئے یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں نرسمہاراؤ  کی سربراہی والی حکومت اکثریتی فرقے کی ناراضگی مول لینا نہیں چاہتی تھی بلکہ مسلمانوں سے تاریخ بدلہ لینے کے جذبات کانگریس میں شمولیت کے حاملین کے اندراس طرح پائے جاتے تھے جیسے سنگھ پریوار اور وشو ہندو پریشد میں تھے۔ بابری مسجد کی شہادت میں صرف کچھ شرپسندوں کا ہاتھ نہیں تھا بلکہ پاپیوں  کی فہرست طویل ہے 1949  سے لے کر 1992  تک کانگریس سازش میں شامل رہی ہیں کرشناجھا  اور دھریندر جھا کی تحقیق کتاب "دی ڈارک نائٹ” میں اس سازش کی پوری کہانی اور کانگریس کی شمولیت کو واضح کیا گیا ہے اس کتاب کے مطابق جواہر لال نہرو کے بار بار خبردار کرنے اور تشویش ظاہر کرنے کے باوجود کانگریس کے رہنما اس تحریک میں شامل رہے۔

پھر چھ دسمبر انیس سو بیانوے کا وہ تاریک دن جو  ہندوستان کی تاریخ پر سیاہ کلنک ہے اس روز ملک عزیز میں مساوات بھائی چارہ اور انصاف کے علامات بابری مسجد کو شہید کر دیا گیا تھا پھر تاریخ نے وہ خونی کھیل دیکھا کہ پوری انسانیت لہولہان ہوگئی غرض کے ہرسو قیامت کا منظر قیامت سے قبل دیکھنے کو ملا اور اسی خون سے اقتدار کے تلک جمہوریت کا لبادہ پہن کر لگایا گیا۔ اسی کے ساتھ ملک کے سو کروڑ  عوام کو رام کے اردگرد جکڑ لیا گیا 27 سال انصاف کی جنگ جاری رہی اس مسئلے سے عاجز ہو چکے شہریان سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر رہے تھے ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک چلنے والے اس معاملے پر 9 نومبر 2019  کو عدالت عظمیٰ نے اپنا فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ فیصلہ عقیدے کی بنیاد پر نہیں دیا گیا اور اس متنازع اراضی کو رام مندر کے لیے دیا گیا سنی وقف بورڈ کو مسجد تعمیر کرنے کیلئے دوسری جگہ 5 ایکر زمین دینے کی بات کہی سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ انیس 1949 میں م مسجد کے اندر مورتیاں رکھنا اور 1992 میں مسجد شہید کرنا غیرقانونی ہے میر باقی نے ہی بابر کے حکم سے مسجد کی تعمیر کی تھی اور آثار قدیمہ نے جو مسجد کے باقیات جمع کیے تھے اس میں کچھ آثار ملے ہیں کھدائی میں جو ڈھانچہ ملا تھا مسجد کا نہیں تھا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ایودھیا میں مسجد کا کچھ نہیں تھا یہ پانچ ایکر زمین کیوں دی جا رہی ہے جتنا خرچ اتنے برسوں کیس  لڑنے پر اجلاسوں پر احتجاج پر خرچ ہوا اتنے میں پانچ سو ایکڑ زمین خریدی جاسکتی تھی معاملہ زمین یہ جگہ کا نہیں بلکہ انصاف کا ہے مسلمان اس کیس پر ثبوتوں کی بنیاد پر انصاف چاہتے تھے۔

سپریم کورٹ کو بھی فیصلہ ٹائٹل سوٹ پر سنانا تھا عدالت عظمیٰ کے ابتدائی تاثر سے ایسا لگا کہ فیصلہ ثبوتوں کی روشنی میں ہوگا، لیکن جب پورا معاملہ منظر عام پر آیا تو بات صاف ہوگئی کہ فیصلہ ثبوتوں کو مدنظر رکھ کر نہیں سنایا گیا بلکہ پورے معاملے کو ہندو مسلم کے تناظر میں دیکھ کر اکثریتی فرقے کو مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی۔ جبکہ پانچ ایکڑ زمین مسلمانوں کو دینے کی بات کہہ کر یہ احساس دلانے کی کوشش کی گئی کہ انہیں مایوس نہیں کیا جا رہا ہے۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ محض پانچ ایکڑ زمین کے لیے کیا گیا تھا؟ ہزاروں بے گناہوں کے قربانی اور کروڑوں روپے کا خرچ اور تین دہائیوں تک انتظار، کیا محض پانچ ایکڑ زمین کے لیے کیا گیا؟ جی نہیں اگر ایسا ہوتا تو مسلمان قانونی لڑائی ہی نہیں لڑتے اور نہ ہی اپنی نسلوں کے مستقبل کو داؤ پر لگاتے۔

مسلمانوں نے پہلے دن سے اس ملک کے عدلیہ جوڈیشری پر غیر متزلزل یقین کا اظہار کیا تھا عدالت عظمی  سے بھی مسلمانوں کو امید تھی کہ فیصلہ ثبوتوں کی روشنی میں آئے گا لیکن ملکی عدالت عالیہ نے جو فیصلہ صادر کیا ہےوہ ملک کی اکثریت کو خوش تو کر سکتا ہے لیکن اسے مبنی برانصاف ہرگز نہیں کہا جاسکتا انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ بابری مسجد کی حقیقت کو جب تسلیم کیا گیا تو ثبوتوں کی روشنی میں ملکیت کا دعوی کرنے والوں کے حق کو بھی تسلیم کیا جاتا لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوسکا بہرحال عدالت کا فیصلہ ہے تو بحیثیت شہری ہم اس کا احترام ہی کر سکتے ہیں۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button