شخصیات

سیدہ ہاجرہ ایک مثالی مومنہ

 اشفاق انساء

 امراوتی

حضرت ہاجرہ علیہ السلام کی سیر ت پر غور کیا جائے تو ہمیں علم ہوتا ہےکہ فرمان الہی ” بے شک تنگی کے بعد فراخی ہے”  ان پرمکمل طور سے صادق آتا ہے
حضرت ہاجرہ علیہ السلام نے
 اللہ پر توکل اور صبر و استقلال کا وہ مظاہرہ کیا کے آج رہتی دنیا تک ان کا نام روشن ہے ،روشن ہی نہیں بلکہ خود اللہ تعالی نے ان کے اسوہ حسنہ سے وہ عمل ،جو صفا و مروہ پر انہوں نے ڈوڑ لگائی تھیں اس عمل کو فریضہ حج کے طور پر حج کے مناسک میں شامل کر دیا ۔اللہ اکبر
 ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
 پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جان پیدا کر
حضرت حاجرہ علیہ السلام  اصل میں ایک شاہی خاندان کی بیٹی تھی لیکن ان کے خاندان کی حکومت گئی اور دوسرا خاندان آیا تو پہلے جو شاہی گھرانے کے مرد تھےان کو قتل کر دیا گیا اور عورتوں کو باندی بنا لیا گیا ان میں سے ایک ہا جرہ علیہ السلام تھیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ علیہ السلام ہجرت کے دوران مصر پہنچے تو ظالم بادشاہ کی نظریں حضرت سارہ پر پڑی حضرت سارہ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سے دعائیں مانگیں اور نماز پڑھی اللہ نے دعا قبول کیا اور حضرت سارہ کو بادشاہ کے ظلم سے نجات ملی اور بادشاہ نے حضرت ہاجرہ کو حضرت سارہ کے ساتھ روانہ کر  دیا ۔اس وقت تک حضرت سارہ اور ابراہیم علیہ السلام کی کوئی اولاد نہ تھی اور ابراہیم علیہ السلام بڑھاپے کو پہنچ چکے تھے لہذا حضرت سارہ کے مطالبہ پر حضرت ہاجرہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نکاح کیا اور ان کے سامنے اسلام کو پیش کیا حضرت ہاجرہ علیہ السلام نے اسلام قبول کیا ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نیک و صالح اولاد کے لئے دعا مانگی

"ربی حب لی من الصالحین "

اے پروردگار مجھے ایک بیٹا عطا کرو صالحین میں سے ہو(سورہ الصافات 100)
غور طلب ہے کہ دعا مانگو تو نیک اولاد کی دین اور دنیا دونوں جہاں میں خیر وعافیت کی ضامن ہو۔ اللہ تعالی نے دعا قبول کیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسے فرمابردار نیک روا بیٹے سے سرفراز کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام ہاجرہ علیہ السلام بہت خوش تھے اب شیر خوارگی کے زمانے میں ہی اللہ کا حکم ہوتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت ہاجرہ اور اسماعیل علیہ السلام کو مع ایک کھجور کی تھیلی ،اور پانی کے ایک مشکیزہ کے ،مکہ میں کعبہ کےقریب بے آب و گیاہ علاقے میں ایک درخت کے نیچے چھوڑ جاتے ہیں حضرت ہاجرہ علیہ السلام التجا کرتی ہے گریاوزاری کرتی ہے کہ آپ ہمیں اس سنسان بیابان وادی میں کہا چھوڑے چلے جا رہے ہو۔جواب نہ ملنے پر ہاجرہ علیہ السلام دریافت کرتی ہے "کیا یہ اللہ کا حکم ہے "؟ابراہیم علیہ السلام کا اثبات میں جواب ملتا ہے تو حاجر اسلام کہتی ہیں ٹھیک ہے اللہ کا حکم ہے تو پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کریگا ۔سبحان اللہ
اللہ پر توکل دیکھئے آج ہمارے لیے مشعل راہ  ہے  حدیث کا مفہوم ہے جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ تعالی اس کو بھٹکنے، تباہ ہونے سے بچائے گا توکل یعنی اللہ کو اپنا وکیل و سرپرست بنانا ۔بیشک مومن کا وکیل اللہ ہے۔حضرت ہاجرہ علیہ السلام نے بھی اپنا معا ملہ اللہ کے سپرد کر دیا ۔
اور ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی
"پروردگار میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے ،پروردگار یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ لوگ یہاں نماز قائم کرے ،لہذا تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا اور انہیں  کھانے کو پھل دے شاید کہ یہ شکر گزار بنیں۔
 (سورہ ابراہیم 37)
کچھ ہی عرصہ بعد کھجور اور پانی ختم ہو گیا اور  دودھ بھی اب شیر خوارحضرت اسماعیل علیہ السلام بھوک سے تڑپتے ہیں روتے روتے بے حال ہوتے ہیں حضرت ہاجرہ علیہ السلام بچے کو تڑپتا دیکھ کر بدحواس ہو جاتی ہیں اور پانی کی تلاش میں نکلتی ہے کہ کہیں کوئی انتظام ہو جائےاس طرح جب وہ اپنے شیر خوار بچے کی پیاس بجھانے کے لئے پانی کی تلاش میں نکلیں اور سراسمیگی کے عالم میں صفا اور مروہ کے درمیان انہوں نےسات چکر لگائے ،تو یہ دل لبھانے والا نظارہ قیامت تک کے لئے محفوظ کر دیا گیا ۔
ساتویں چکر کے بعد واپس آئیں تو  کیا دیکھتی ہیں پانی کا  چشمہ ابل پڑا ہے حضرت ہاجرہ علیہ السلام دوڑی دوڑی آئ اسماعیل علیہ السلام کو پانی پلایا اور خود بھی سیراب ہوئیں اور پانی کے اس چشمہ کو  حوض بناتی ہوئی چاروں طرف سے گھیر نے لگی
 _جستجو ہو تو سفر ختم کہاں ہوتا ہے_
 _یوں تو ہر موڑ پہ منزل کا گماں ہوتا ہے_
اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام فرماتے ہیں "تم ہلاکت کا ڈر محسوس مت کرنا یہاں اللہ کا گھر ہے اور اسے اسماعیل علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام مل کر تعمیر کریں گے اللہ تعالی اپنے گھر کے پاسبانوں کو برباد نہیں کرتے۔
 اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں
اللہ تعالی ام اسماعیل علیہ السلام پر رحم فرمائے اگر انہوں نے زمزم کو گھیرا نہ ہوتا یا ویسے ہی چھوڑ دیا ہوتا  تو یہ ایک بہتا ہوا چشمہ بن جاتا
۔یہ ہے زم زم ،سب پانی سے بہتر پانی جو ہر مقصد کے لیے کافی ہے100 فیصد خالص، زمزم کا پانی دوسرے پانی کی بانسبت آٹھ فیصد زیادہ نفع بخش ما دوں سے بھرپور ۔
سبحان اللہ !یہ ہےاعزازخداوندی  اللہ والوں کو۔
حضرت ہاجرہ علیہ السلام اپنی آزمائش میں مکمل کامیاب ہو ئیں،  کبھی زبان سے شکوہ نہیں کیا ۔اللہ پر توکل ،شوہر کی اطاعت ،صبر و استقلال کو انہوں نے اپنا شیوہ بنایا
   "تبھی تو رہی وہ ایک مثالی مومینہ” ۔
     اب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کی
 نقش ہے صفحہء ہستی پہ صداقت ان کی
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو ایمان کامل نصیب کرے، اور اللہ کی راہ میں ہر قسم کی قربانی دینے والا بنائے اطاعت گزار بنائے ۔ (آمین یا رب العالمین )
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button