سیرت رسولؐ

سیرت النبی ؐ کے مآخذ و مصادر

قرآن سیرت نبویہؐ کا پہلامستند ماخذ ہے۔

 محمد محسن

(ریسرچ اسکالر، یونی ورسٹی اجمیر، راجستھان)

اردوزبان میں لفظ ’سیرت‘ کا استعمال عام طور پر انسان کے چال چلن اور عادات واطوار کے معنٰی میں ہوتا ہے۔ لیکن لغت کے ماہرین نے اس کے معنٰی الگ الگ بیان کیے ہیں۔ اردو دائرۂ معارفِ اسلامیہ کے مطا بق سیرت کے معنٰی طریقہ، راستہ،روش اور شکل وصورت کے ہیں۔ ڈاکٹر حمیداللہ نے، جو فن سیرت میں اہم مقام رکھتے ہیں، سیرت کے معنٰی طرز عمل اور برتائو کے بیان کیے ہیں۔ ۱؎  مؤلف لسان العرب نے سیرت کے معنٰی اچھے چال چلن کے لکھے ہیں۔ ’’تاج العروس‘‘ میں سیرت کے معنی ٰ طریقہ اور برتائو کے درج ہیں سیرت کا لفظ سوانح حیات کے لئے بھی استعمال کیاجاتاہے۔ ۲؎ قرآن مجید میں لفظ ’سیرت‘ ہیئت وحالت (طٰہٰ 21) اور’ گھوم پھرکرغوروفکرکرنے ‘کے معنٰی میں استعمال کیاگیا ہے۔ (النحل۔36) دراصل سیرت کا اصل مادہ ’سیر‘ ہے، جس کے معٰنی چال کے ہیں۔ اسی لیے ہماری زبان میں اچھے چال چلن کو حسن ِسیرت کہاجاتا ہے۔ معلوم ہوا کہ سیرت کا لفظ چال چلن، روش،طریقہ، برتائو،شکل وصورت، ہیئت،کردار،طرززندگی اور عادت واخلاق کے لئے بولاجاتا ہے۔ اصطلاحی اعتبار سے سیرت کے یہ تمام معنٰی اور مفہوم صرف پیغمبرِ خدا حضرت محمدؐ کے لیے مخصوص او رمحدود ہیں۔ پروفیسرعثمان خالد یورش کے مطابق رسولِ خداحضرت محمدﷺ کے حالات زندگی اور اخلاق وعادات بیان کرنے کا نام سیرت ہے۔ ۳؎ مولانا محمد ادریس کاندھلوی ؒنے لکھا ہے کہ’’ ا صل سیرت تو ساراذخیرۂ احادیث ہے، لیکن متقدمین کی اصطلاح میں فقط غزوات وسرایا کے حالات وواقعات کے مجموعے کو سیرت کہتے ہیں ‘‘۔ حدیث آٹھ علوم کے مجموعے کانام ہے اور سیرت اس کا ایک جز ہے۔ شاہ عبدالعزیزؒ کے مطابق ’’ جو کچھ ہمارے پیغمبر اور حضرات صحابہ ؓکی عظمت اور ان کے وجود سے متعلق ہو، جس میں آنحضرت ؐ کی پیدائش سے وفات تک کے واقعات بیان کیے گئے ہوں وہ سیرت ہے۔ ۴؎  اس تعریف میں سیرت کے لفظ کو نبیؐ سے بڑھا کر صحابہ تک وسیع گیا ہے۔ علامہ شبلیؔ لکھتے ہیں۔ ’’  پہلی بحث یہ ہے کہ سیرت کا اطلاق کس چیز پرہوتا ہے۔ محدثین اور اربابِ رجال کی اصطلاحِ قدیم یہ ہے کہ آنحضرتؐ کے خاص غزوات کومغازی اور سیرت کہتے تھے، چنانچہ ابن اسحاق کی کتاب کو مغازی بھی کہتے ہیں، اورسیرت بھی۔ حافظ ابن حجر اپنی کتاب فتح الباری کی کتاب المغازی میں یہ دونوں نام ایک ہی کتاب کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ فقہ میں بھی یہی اصطلاح رائج ہے، اِس میں جوباب کتاب الجہاد والسیر کے لیے باندھا جاتا ہے۔ اس میں سیرت کے لفظ سے غزوات اور جہاد کے احکام مراد ہوتے ہیں۔

 کئی صدیوں تک یہی طریقہ رہا۔ چنانچہ تیسری صدی تک جو کتابیں سیرت کے نام سے مشہور ہوئیں مثلاً سیرت ابن ہشام، سیرت ابن عائذ،سیرت امُوی وغیرہ اُن میں غزوات ہی کے حالات ہیں، البتہ زمانۂ مابعد میں مغازی کے سوا اس میں اور چیزیں بھی داخل کرلی گئیں۔ مثلاًمواہب لُدنیہ میں غزوات کے علاوہ سب کچھ ہیں۔ ۵؎

شاہ عبدالعزیز کے بیان سے ایک طرف یہ اشارہ ملتا ہے کہ سیرت کا اطلاق حضور ؐ کے علاوہ صحابہؓ اور دیگر بزرگا ن دین کی زندگیوں پر بھی کیاجاسکتا ہے۔ جیسے’ سیرت صحابہؓ  ‘ اور’ سیرت سید احمد شہید  ؒ‘ وغیرہ۔ لیکن دوسری طرف ڈاکٹر سید عبداللہ کابیان ہے کہ ’’تمام اشخاص کی بایوگرافی کو سیرت کہنازیادتی ہے، کیوں کہ سیرت کے لفظ کو اصولی طور پرآنحضرت ﷺ کے حالات سے ہی مخصوص سمجھناچاہیے۔‘‘ ۶؎

اس کی توثیق اس بات سے ہوتی ہے کہ بیش تر سیرت نگاروں نے، جو اس فن کی صفِ اول میں شمار کیے جاتے ہیں، حضورؐ کی حیات طیبہ پرتصنیف کے لیے سیرت کا لفظ ہی استعمال کیاہے۔ جیسے سیرت ابن ہشام،سیرت ابن اسحاق وغیرہ۔ مولاناکاندھلوی ؒ نے لکھا ہے: ’’لیکن اس زمانہ میں سیرت کااطلاق سوانح عمری پر کیاجاتا ہے‘‘۔۷؎   ڈاکٹر سفیر اختر نے لکھا ہے ’’اردومیں بھی یہ لفظ عربی زبان کے اہل قلم کے تتبع میں کسی کے احوال وآثار کے بیان کے لیے اس کے نام کی اضافت کے ساتھ مستعمل ہے ‘‘  مثلاًسیرتِ خلفائے راشدینؓ ‘(محمدعبدالشکور لکھنوی) ’سیرت  عائشہ ؓ ‘ (سید سلیمان ندوی) ’سیرت ابو ذرغفاریؓ ‘(محمد رضی کاظمی فتح پوری) ’سیرت سجاد‘(سید قایم رضا نسیم امروہوی)’سیرت عمر بن عبدالعزیزؒ ‘( مولانا عبدالسلام ندوی)’سیر ۃ النعمانؒ ‘(علامہ شبلیؔ نعمانی)’سیرت سید احمد شہیدؒ ‘( مولانا سیدابوالحسن ندوی) ’سیرت شبلی‘(اقبال سہیل)،’سیرت محمد علیؒ‘(رئیس احمد جعفری)اور’سیرت اقبالؒ ‘، (محمد طاہر فاروقی) ہیں۔ تا ہم آج کسی مضاف الیہ کے بغیر لفظ ’سیرت‘ بولاجاتا ہے تو اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہی مراد ہوتی ہے۔ ‘‘ ۸؎

مندرجہ بالابحث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ لفظ سیرت کا اطلاق معروف معنٰی میں حضور اکرم ؐ کی سیرت طیبہ پر ہی ہوتا ہے، البتہ استثنائی صورت میں غیرنبیؐ کے حالات زندگی کے لیے بھی یہ لفظ استعمال کیاگیا ہے۔ ہمارے ادب میں غیر نبی کی شخصی سیرتوں کے لیے سوانح عمری کالفظ بولااور لکھاجاتاہے۔

قرآن مجید

قرآن سیرت نبویہؐ کا پہلامستند ماخذ ہے۔ مستند سیرت نگاروں نے اس کے لیے بنیادی مآخذ قرآن مجید ہی کوقراردیا ہے اور سیرت کو قرآن کی نزولی ترتیب اور شان نزول کے آئینے میں دیکھا ہے۔ بعض علماء نے پورے قرآن کو نعت اور مدح نبویؐ قرار دیا ہے اور کہاہے کہ ہمہ قرآن درشانِ محمدؐ۔ ؎

 یہ حقیقت ہے کہ سیرت نبویہؐ کے مراحل ومنازل اور حالات وواقعات کے ساتھ اورمنزل بہ منزل قرآن مجید  نازل ہوتا رہا اور صاحب سیرت اور امت کی رہنمائی کرتارہا۔ یوں تو سیرت کے ذخیرے میں اس نوع کی کچھ کتابیں ملتی ہیں، لیکن ماضی قریب میں امام اہلِ سنت حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ اور حضرت مولانا عبدالماجد دریابادیؒ نے قرآنی سیرت نبویہ پر بہت اچھاکام کیا ہے۔ ……‘‘ ۹؎

 مولانا ابوالکلام آزاد ؔ نے اپنی ’رسول رحمت ‘میں لکھا ہے:’’ قرآن دنیا کی واحد کتاب ہے جو ہر سوال کاجواب دیتی ہے کہ اِس کالانے والاکون تھا؟ کیسے زمانے میں آیا؟ کس ملک میں پیداہوا؟ اس کے خویش ویگانہ کیسے تھے؟ قوم ومرزبوم کا کیا حال تھا؟اس نے کیسی زندگی بسرکی؟ اس نے دنیا کے ساتھ کیاکیااور دنیا نے اس کے ساتھ کیاکیا؟ اُس کی باہر کی زندگی کیسی تھی اور گھر کی معاشرت کاکیاحال تھا؟ اس کے دن کیسے بسرہوتے تھے اور راتیں کن کاموں میں کٹتی تھیں ؟ اس نے کتنی عمر پائی؟کون کون سے اہم واقعات اور حوادث پیش آئے؟ پھر جب دنیا سے جانے کاوقت آیاتو دنیا اور دنیاوالوں کو کس عالم میں چھوڑگیا ؟اِس دنیا پر جب پہلی نظر ڈالی تھی تو دنیا کا کیاحال تھا؟ اور جب واپس نظرِ وداع ڈالی تو وہ کہاں سے کہاں تک پہنچ چکی تھی؟غرض ایک وجود،مقاصد وجوداو راعلام صداقت وعظمت کے لئے اس کے وقائع میں جن جن باتوں کی ضرورت ہوسکتی ہے، وہ سب کچھ قرآن ہی کی زبانی دنیا معلوم کرسکتی ہے‘‘۔

 مولانامودودیؒ نے ’سیرت سرور عالم‘میں لکھا ہے کہ’’ اگر کتابوں کاوہ تمام ذخیرہ دنیا سے مٹ جائے جوائمہ اسلام نے سالہاسال کی محنتوں سے مہیاکیا ہے، حدیث وسیر کا ایک ورق بھی دنیا میں نہ رہے جس سے محمدؐ کی زندگی کاکچھ حال معلوم ہوسکتا ہواور صرف کتاب اللہ(قرآن ہی) باقی رہ جائے تب بھی ہم اس کتاب سے اُن تمام بنیادی سوالات کا جوا ب حاصل کرسکتے ہیں جو اس کے لانے والے کے متعلق ایک طالب علم کے ذہن میں پیدا ہوسکتے ہیں ‘‘۔

 تفسیر قرآن   

قرآن کریم کی جوتفاسیر خودرسولِ خداؐ اور آپؐ کے صحابہؓ سے منقول ہیں وہ بھی سیرتِ نبویہ کا اصل مآخذ ہیں۔ احکام قرآنی کو واضح کرنے کاکام نبیؐ سے بڑھ کراورکون کرسکتا تھا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے بارے میں فرمایاہے: ’’ ہم نے آپ پر ذکر(قرآن) نازل کیاتاکہ آپ لوگوں کے لئے اس کی تفسیر بیان کریں۔ (النحل۔۴۴)تفسیری احادیث میں مختلف آیات اور سورتوں کے نزول کا پس منظر، زمانہ اور موضوع ومباحث پر روشنی ڈالی جاتی ہے تو سیرت نبویؐ کے وہ مقام اور مواقع مزید واضح اور روشن ہوجاتے ہیں۔ نیز تفاسیر میں مفسرین، وحی کی حقیقت، طریقے اور کیفیات بھی واضح کردیتے ہیں۔ محدثین نے اپنی کتابوں میں تفسیری روایات کو یکجاکردیا ہے، جیسے امام بخاری نے ’کتاب تفسیرالقرآن‘ کے عنوان سے تفسیری روایات کوجمع کردیا ہے، بعض محدثین نے مستقلاًتفسیر لکھ دی ہے اور صحابہ وتابعین سے منقول تفسیری روایات کوجمع کردیا ہے۔ ۱۰؎

مفسرینِ تفسیرِ قرآن کے دوران رسول اکرمﷺ کی حیات مبارکہ کے مختلف گوشوں اور معاصرحالات پرروشنی ڈالتے ہیں، جس کے بغیر متعلقہ آیات کوسمجھناممکن نہیں ہوپاتا۔

(1) تفسیر ابنِ کثیر:۔یہ کتب تفاسیر میں سرفہرست ہے۔ یہ حافظ ا بن کثیر (م ۷۴۷ھ) کی تصنیف ہے۔

(2)تفسیر کبیر:۔دوسری کتاب امام رازیؒ کی تفسیر کبیر ہے۔ اس کااصل نام ’مفاتیح الغیب‘ ہے۔

(3)تفسیر ابی السعود:۔ اس تفسیر کاپورانام ’ارشاد العقل السلیم الیٰ مزایاالقرآن الکریم‘ہے۔

یہ قاضی ابوالسعود محمد المعادی الحنفی (م۹۵۱ھ) کی تصنیف ہے۔

(4) تفسیرالقرطبی:۔ اس کاپورانام ’’الجامع الاحکام القرآن‘‘ ہے۔ یہ اندلس کے مشہوراور محقق عالم علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد القرطبی (متوفی ۶۷۱ھ) کی تصنیف ہے۔

(5)روح المعانی:۔ اس کاپورا نام ’روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی‘ہے اور یہ بغداد کے مشہور عالم علامہ محمود آلوسی حنفی(م ۱۲۷۰ھ) کی تصنیف ہے۔

اردو زبان کی مشہور ومعروف تفاسیر میں مولانااشرف علی تھانوی کی ’بیان القرآن‘، مفتی محمد شفیع صاحبؒ کی’معارف القرآن‘ مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی ’تفہیم القرآن‘ مولاناآزاد کی ’ترجمان القرآن ‘ کو شامل کیاجاسکتاہے۔

حدیث نبویؐ

’’سیرت نگاری کے مصادر میں ایک بنیادی مصدرذخیرۂ حدیث ہے۔ابتداءاًاسلام میں تفسیر، حدیث، سیرت ایک ہی حلقۂ درس کے اسباق تھے، بعد میں جدا جدا فن کی حیثیت سے مدون ہوتے گئے۔ ۱۱؎  تمام کتبِ احادیث میں بہت بڑااورمستند سیرت نبویؐ کا ذخیرہ موجود ہے، جس سے آپ کی حیات مبارکہ کی جامع فکر اخذ ہوتی ہے اور وہ بھی سندوں کے ذریعہ انتہائی مستندانداز میں۔ ۱۲؎کتب احادیث کے کئی ابواب ایسے ہیں جو راست طور سےسیرت نبویؐ پرروشنی ڈالتے ہیں، جیسے کتاب المغازی، کتاب الجہاد،کتاب النکاح وغیرہ۔ ڈاکٹرصلاح الدین ثانی ر قم طر از ہیں :’’  صحیح بخاری میں پہلاباب ہی وحی سے متعلق ہے۔ اسی طرح کتاب الانبیاء میں آں حضرت کی زبان سے دیگر انبیاکا ذکرکیاگیا ہے۔ کتاب المناقب میں ایک باب آں حضرت کے اسمائے گرامی سے متعلق ہے۔ اسی طرح آپ کے خاتم النبیین ہونے کا ایک مستقل باب ہے ۔ ایک باب آپ کی فصاحت سے متعلق ہے۔اور ایک باب میں علاماتِ نبوت کا بیان ہے۔ پھر کتاب المغازی میں آپؐ کے غزوات پر مفصل بحث کی گئی ہے۔ اسی طرح صحیح مسلم کی کتاب الایمان میں آنحضرت ؐ پر نزولِ وحی کاباب ہے۔ دیگر کتب احادیث میں بھی اسی قسم کے ابواب ہیں۔ محمدفاروق خاں نے لکھا ہے ’’علامہ سیوطی کے بیان کے مطابق قولی وعملی تمام احادیث کی تعداد، دولاکھ سے کچھ زیادہ ہے۔ علامہ مناوی کہتے ہیں کہ یہ تعداد مصنف کی اپنی معلومات کے لحاظ سے ہے، یہ نہیں کہ احادیث کی تعداد فی الواقع بس اتنی ہی ہے‘‘۔ علماء نے صحت، حسن اور ضعف کے اعتبارسے کتب حدیث کو درج ذیل طبقات میں تقسیم کیا ہے۔

طبقۂ اولیٰ:اس طبقہ میں صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مؤطاامام مالک کاشمار ہوتا ہے۔

طبقۂ دوم:ابودائود، ترمذی اور نسائی کاشمارطبقۂ دوم میں ہوتا ہے۔

طبقۂ سوم:دارمی، ابن ماجہ، بیہقی وغیرہ کاشمار طبقۂ سوم میں ہوتا ہے۔

طبقۂ چہارم:ابن مردویہ،ابن شاہین، ابن عساکر وغیرہ کاشمارطبقہ چہارم میں ہوتا ہے۔

کتبِ مغازی وسرایا

سیرت نگاری کا ایک اہم ماخذ ومصدروہ کتبِ مغازی وسرایا ہیں جوحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات پر روشنی ڈالتی ہیں۔ حضورؐ کی حیات نبویؐکا ایک بڑاحصہ غزوات اورقتال فی سبیل اللہ میں صرف ہوا ہے لہٰذاان عنوانات پرتحریرکی گئی کتب بھی سیرت نگاری کابہترین مآخذ ہیں۔ سیرت نبویؐ کے لیے ابتداء ً ’مغازی‘ یعنی غزوات کا لفظ استعمال ہوتاتھا، جس کی وجہ یہ تھی کہ پچھلے زمانوں میں حکم رانوں کی بڑائی یہی تھی کہ اس نے جنگیں کی ہوں۔ یہی کسی شخص کے بڑاہونے کا اسٹیٹس مقررتھا۔ اسی رسم کے تحت آپ کے مغازی کا پہلے رواج ہوا۔۱۳؎ علامہ سید سلیمان ندویؐ نے خطبات مدارس میں ان کتب مغازی کا تذکرہ کیا ہے: مغازی عروۃ بن زبیر م۸۴ ؁ھ )مغازی زہری(م  ۱۲۴ ؁ ھ )مغازی موسیٰ ابن عقبہ(م ۱۴۱ ؁ھ ) مغازی ابن اسحاق (م ۱۵۰ ؁ھ) مغازی زیاد بکائی(م ۸۳  ؁ھ ) مغازی واقدی(م ۲۰۷ ؁ ھ) وغیرہ قدیم(کتب مغازی) ہیں۔

کتبِ شمائل

  سیرت نگاری کا ایک مآخذ کتبِ شمائل نبوی بھی ہیں۔ علامہ سید سلیمان ندوی کے نزدیک یہ وہ کتابیں  ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف اخلاق وعادات اور فضائل ومعمولات زندگی پرلکھی گئی ہیں۔ ۱۴؎

ہرسیرت نگا رکوسیرت پر لکھتے ہوئے جہاں افکار وخیالات کوپیش کرناہوتا ہے وہیں شخصیت کے خدوخال کو  پیش کرنا بھی ہوتاہے۔ اس کے پیش نظر سامع وقاری اُس مسحور کن شخصیت کو اپنے سامنے کھڑاہوامحسوس کرے اور یہ شمائل سے استفادہ کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔شمائل کامطالعہ کرنے سے رسول اللہ ﷺ کا مکمل حلیہ مبارک نگاہوں کے سامنے آجاتا ہےاور آپؐ گویا سامنے چلتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جزئیات نگاری شمائل کی اہم خصوصیت ہے،جس میں حضورؐ کے قدوقامت، چہرہ مہرہ، ہاتھ پائوں، چشم وابرو، چال ڈھال، کھان پان، رہن سہن، لباس اور دیگر جزئیات کو بھی بیان کیاجاتاہے۔ کتبِ شمائل میں سب سے پہلی اور سب سے مشہور کتاب امام ترمذی (م ۲۷۹ ؁ھ ) کی کتاب الشمائل ہے، جس کی بڑے بڑے علماء نے شرحیں لکھی ہیں۔ ان میں سب سے ضخیم کتاب قاضی عیاض کی الشفا فی حقوق المصطفیٰ اور اس کی شرح شہاب خفاجی کی’نسیم الریاض‘ ہے۔ اس فن کی دوسری کتابوں ’شمائل النبیؐ ‘ ابوالعباس مستغفری (م ۴۳۲ ؁ھ) اور’’شمائل النور الساطع‘ ابن المقری غرناطی(م ۵۵۲ ؁ھ) اور سفرالسعادۃ مجدالدین فیروزآبادی (م ۸۱۷ ؁ھ ) کی ہیں۔ ۱۵؎ شمائل کا کچھ حصہ وہ ہے جو صحاح ستہ سمیت مختلف کتب احادیث میں مختلف عنوانات کے ساتھ شامل ہے۔

کتبِ دلائلِ نبوت ومعجزات

    کتبِ دلائل سے مراد ایسی کتابیں ہیں جونبی اکرمؐ کی نبوت کی صداقت ثابت کرنے کے لیے لکھی گئی ہیں۔ ان کتابوں کامواد بھی سیرت نگاری کے لئے بنیادیں فراہم کرتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ حضورؐ کی نبوت کی تصدیق میں لکھی گئی کتابیں آپ ؐکی حیات مبارکہ کے مختلف پہلوئوں پرروشنی کے علاوہ اور کیاہوسکتی ہیں ؟لہٰذاحضورکی زندگی میں ظاہرہونے والے معجزات کے تذکرے ان کتابوں کا اہم حصہ ہوتے ہیں جس سے حضور کی سیرت روشن اور ظاہرہوجاتی ہے۔اس موضوع پر تصانیف سے سیرت نگاراستفادہ کرکے جہاں پیغمبر کی نبوت کو بہتر اندا زمیں پیش کرسکتا ہے، وہیں دیگر انبیا کے پیروکاروں کو اسلام کی طرف راغب کرسکتا ہے۔ اس لیے کہ وہ معجزات دیکھ کرایمان لانے کے خوگر رہے ہیں۔ سواسلام اور پیغمبر اسلام کی سیرت اسی حوالہ سے بھی اپنے ماننے والوں کو تشنہ نہیں چھوڑتی ہے۔

 علامہ سید سلیمان ندوی ’خطبات مدارس‘میں رقم طراز ہیں۔ ’’آں حضرت ﷺ کے معجزات اور روحانی کارناموں کا الگ دفتر ہے۔جن کو کتب دلائل کہتے ہیں، مثلادلائل النبوۃ قتیبہ(م۲۷۶ ؁ھ ) دلائل النبوۃ ابو اسحاق حربی (م ۲۵۵ ؁ھ )دلائل امام بیہقی (م ۴۲۰ ؁ھ) دلائل ابونعیم اصفہانی (م ۴۳۰ ؁ھ) دلائل مستغفری( ۴۳۲ ؁ھ) دلائل ابوالقاسم اسماعیل اصفہانی( ۵۳۵ ؁ھ)  اور سب سے زیادہ مبسوط کتاب اس فن میں امام سیوطی کی  خصائص کبریٰ ہے‘‘۔

کتبِ اسماء الرجال

   سیرت نگاری کا ایک اہم اور معتبرماخذ کتب اسماء الرجال بھی ہیں۔ یہ وہ کتابیں ہیں جن میں ’صحابہ‘ کے حالات جمع کیے گئے ہیں۔ یہ کتابیں اس لحاظ سے بڑی مفید ہیں کہ صحابہ کرامؓ کے حالات وکوائف منضبط کرتے وقت ضمناً آنحضرت ؐ کے واقعات بھی ان میں محفوظ ہوگئے ہیں، کیوں کہ صحابہ کرامؓ نے حضورؓ سے جوکچھ سنا، سیکھا یا آپ کا جو بھی واقعہ ان کی نظر سے گذرا وہ انہوں نے اپنے راویوں کے سامنے بیان کیا، یوں صحابہ کرامؓ کے حالات سے بالواسطہ ہمیں آنحضرتؐ کے واقعات زندگی بھی معلوم ہوتے گئے۔

اس فن میں راویوں کے حالات سے بحث کی جاتی ہے۔ یہ گویا رواۃِ حدیث کی سوانح حیات اور اُن کاتذکرہ ہے۔ اسماء الرجال کے ذریعہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون ساراوی کس درجہ کاہے؟ اور کسی روایت میں اس پر کس حد تک بھروسہ کیاجاسکتا ہے ؟۱۶؎ مسلمان اس اعتبار سے دنیا کی منفرد قوم ہے جس نے اپنے نبیؐ کے اقوال وآثارکومحفوظ کرنے میں بے مثال سرگرمی کامظاہرہ کیا۔آنحضورؐ کی سیرت کی حفاظت میں اُن جزئیات کا بھی استقصاء کیا جو بہ ظاہر غیراہم معلوم ہوتی ہیں، آپؐ کے رفقاء نے آپ کی جملہ تفصیلات کو نقل کیا ہے۔ یہ امر ملحوظِ ِخاطر رہے کہ یہ نقل وروایت کا عمل بے ہنگم نہیں تھا، بلکہ اس معاملے میں اول روز سے ہی احتیاط پیش نظر رہی۔ ابتدائی دور میں جوسادہ احتیاطی تدابیر تھیں، وہ آگے چل کراصول علمیہ کی صورت اختیار کرگئیں۔ ۱۷؎’اسماء الرجال‘ کی کتب میں سب سے اہم کتاب امام مزی الدمشقی (م۔۷۴۲ھ) کی تہذیب الکمال فی اسماء الرجال ہے۔ ایک اور اہم کتاب حافظ ابن حبانؒ(م ۳۵۴ھ) کی کتاب الثقات ہے۔۱۸؎مندرجہ بالاطرزکی کتابیں صحابہ کرام کے تذکرے سے بھری ہیں، پھر بھی ان سے حضورؐ کی حیات طیبہ کے مختلف پہلواُبھر کرسامنے آتے ہیں۔

کتبِ تاریخ

   تاریخ کی کتابوں میں بھی سیرت نبوی کاتذکرہ پایا جاتا ہے۔ انبیا کی ذات تاریخ ساز ہوتی ہے، لہٰذا کسی بھی مؤرخ کے لیے ایسی شخصیات کو نظر انداز کرنامشکل ہوتاہے۔ خصوصاًتاریخ اسلام کی کتابوں کا باب اول عموماً سیرت نبویؐ کے لیے وقف ہوتا ہے۔ تمام مورخین نے حضور کی حیات طیبہ پر روشنی ڈالی ہے۔ یہاں تاریخ سے مراد وہ کتب ہیں جنہیں قدیم مسلم اصحاب علم نے اسلام کی عام تاریخ کی حیثیت سے قلمبندکیا ہے۔ اس میں عہدِنبوی، اس سے قبل کے حالات اور بعد کے حکم رانوں کے حالات بیان کیے گئے ہیں۔ بہت سے واقعات کاپس منظر، جو کتب سیرت سے واضح نہیں ہوتا، اسے کتب تاریخ واضح کرتی ہیں۔ خصو صیت کے ساتھ سیرت النبیؐ کا پس منظر جاننے کے لیے کتب تاریخ بڑی کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔ ان کتابوں سے  بعثتِ نبویؐ کے وقت دنیا کے دینی وسیاسی حالات، عربوں کی تاریخ، عرب حکومتیں، اس دور کے سماجی  حالات، دین ابراہیمی میں کی گئی بدعات اور جاہلی معاشرے سے متعلق اہم معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ علامہ سیدسلیمان ندویؒ نے عام تاریخ کی کتابوں میں سب سے زیادہ معتبر اور مبسوط طبقات ابن سعد اور تاریخ الرسل والملوک (ابوجعفر طبری)، تاریخ صغیر وکبیر( امام بخاری )،تاریخ ابن حبان اورتاریخ ابن ابی خثیمہ بغدادی (م ۲۹۹ ؁ھ) وغیرہ ہیں۔ ۱۹؎  اردو زبان میں تاریخ کی مشہور ومعروف کتب ’تاریخ اسلام‘ (اکبر شاہ نجیب آبادی) اور ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ (ثروت صولت ہیں ‘‘۔

کتبِ جغرافیہ

کتبِ جغرافیہ بھی سیرت نگاری کے مصادر میں اہم مقام رکھتی ہیں۔ علم جغرافیہ کے بغیر کوئی سیرت نگار سیرت کے عنوان پر جامعیت اور قطعیت کے ساتھ نہیں لکھ سکتا۔حضورؐ کی زندگی کے متعدد واقعات کو صحیح طور پربیان کرنے کے لیے علم جغرافیہ، خصوصاً عرب کاجغرافیہ جاننانہایت ضروری ہے۔ جزیرۃ العرب میں مکہ او رمدینہ کی جائے وقوع، تعمیرِکعبہ، واقعۂ فیل، سفرِہجرت، غزواتِ نبویؐ کے مقامات، مختلف قبائل کی آبادیاں، یمن وشام کے راستے، ریگستان ونخلستان، حبشہ کی سمت،مختلف عالمی اقوام کے تجارت وثقافت اور فنون کے مراکز، فتح مکہ کے وقت ملک عرب کی حالت اور حجۃ الوداع جیسے کئی واقعات ہیں جن کو علم جغرافیہ کے بغیر سمجھنا او رسمجھاناممکن نہیں ہے۔ جدید سیرت نگاروں نے اپنی تصانیف میں متعدد مقامات پر واقعات و مقامات کے نقشے درج کیے ہیں۔

  ان کتب سے ہمیں جزیرۃ العرب کی اسلام سے پہلے کی پوزیشن اور عہد نبویؐ کے مدوجزرپھر فتوحات وبغاوتوں کے سلسلوں کوسمجھنے میں سہولت اور مددحاصل ہوتی ہے۔ علم جغرافیہ میں جدید اٹلس بھی شامل ہے۔ نبی کریم ؐ کے ہجرت کے لئے منتخب شدہ راستہ کو سمجھانایاغزوۂ خندق کے موقع پر خندق کھود کر مدینہ کادفاع کرنا یاغزوۂ بدرالکبریٰ کے موقع پر مسلمانوں کادشمن کوگھیرنااور اس کاراستہ بدل کربچ نکلنا، یہ وہ مباحث ہیں جنہیں سیرت نگار کتب جغرافیہ کے ذریعہ سمجھ کردوسروں کوسمجھاسکتاہے۔

کتبِ ادبِ جاہلی

اعلیٰ او رمستند سیرت نگاری کے لیے سیرت نگار کوعہدِ جاہلیت کے شعروادب کو سمجھنابھی لازمی ہے۔حیات طیبہؐ کے دوران عرب کے سماجی، سیاسی، معاشی اور تہذیبی پس منظرکوصحیح طور پر جان کر ہی سیرت نگاری کی جاسکتی ہے۔ کیوں کہ شعروادب میں معاصر حالات وکیفیات کی عکاسی ہوتی ہے۔ سیرت نبویؐ کی تعلیمات کوسمجھنے کے لئے بسا اوقات عہدِ جاہلیت کے الفاظ ومعانی،تراکیب، محاورات اور اصطلاحات کوسمجھنامفید اور کارآمد ہوتا ہے۔ جہل،جہالت اور جاہلیت کے لغوی معنیٰ بے وقوفی، سفاہت، حماقت، نادانی اور ظلم کے ہیں (ناخواندگی کامفہوم اس میں داخل نہیں ہے۔)اس سے مراد وہ دور ہے جس میں کسی ملک میں کوئی شریعت، کوئی صاحب وحی نبی اور کوئی الہامی کتاب نہ ہو۔درحقیقت عرب کادورِ جاہلیت دونبیوں کا’درمیانی زمانہ‘ یا’دورفترت‘ ہے۔ یہ زمانہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی وفات سے حضرت محمدؐکی نقب تک کا ہے جس میں کوئی شریعت عرب میں باقی نہ رہی تھی۔

کتبِ تاریخِ حرمین شریفین

 مکہ او رمدینہ کو حرمین کے نام سے موسوم کیاجاتا ہے۔ کتب تاریخ حرمین سیرت نگاری کے لیے مواد فراہم کراتی ہیں۔ مکہ،مدینہ کی تاریخ کونظر انداز کرکے سیرت محمدیؐ کومکمل نہیں کیاجاسکتا۔ سیرت طیبہ کے کئی پہلوایسے ہیں جو تاریخ حرمین کی معلومات کے بغیر ظاہرنہیں ہوتے۔ مثلاًحضرت ابراہیم علیہ السلام کی آمد،ہاجرہؑ واسماعیل ؑ کاقیام، پانی کی تلاش، زم زم کا نکلنا،یمن سے ایک قبیلہ کا آنا اور آباد ہونا، کعبہ کی تعمیر،حضرت ابراہیم ؑ کی دعا،مکہ کی آبادکاری، دینِ ابراہیمی کی کیفیت، چاہِ زم زم کی کھدائی، کعبہ میں ہبل نامی بت کا نصب ہونا، واقعۂ اصحابِ فیل، کعبہ کی حفاظت، حجر اسود کا تنازعہ، زائرین کاآنا، مقام ابراہیم، حطیم، دارالندوہ کی تعمیر، خانہ کعبہ کی پاسبانی اور کلید برداری، حاجیوں کی میزبانی جیسے متعدد امور کوسمجھنا،ساتھ ہی مسجد نبویؐ کی تعمیراور آباد کاری سے متعلق معلومات فراہم کرنا سیرت نگار کے لیے نہایت لازمی ہے۔ سیرت کی معتبر کتابوں کے ابتدائی حصے میں تاریخ حرمین سے متعلق معلومات شامل کی گئی ہیں۔

علم الانساب کی کتابیں

  علم الانساب سے مرادوہ علم ہے جس کے ذریعہ کسی شخص، قبیلہ، خاندان اور قوم کے نسب کی معلومات فراہم کی جاتی ہے۔ تاریخ کی اس نوع کوسمجھے بغیر اس معاشرہ کو جس میں ہمارے پیغمبر مبعوث ہوئے، سمجھناممکن ہی نہیں اورمعاشرہ وتہذیب اوررواجات حسب نسب کی اہمیت کو سمجھے بغیرنبی کریمؐ کی معاشرتی مشکلات کوسمجھنا اور یہ جاننا کہ آپ کس طرح اُن مشکلات سے نبرد آزماہوئے، ممکن ہی نہیں، گویاعلم الانساب کے بغیر سیرت کو صحیح طریقے سے نہیں سمجھاجاسکتا۔ لہٰذاجو یہ نہیں جانتا کہ لے پالک بیٹے کی اس معاشرہ میں کیاحیثیت تھی؟ وہ کیسے سمجھ سکتا ہے کہ آپؐ نے لے پالک بیٹے کی بیوی سے شادی کرکے کتنا اہم کام کتنی ہمت کے ساتھ انجام دیا؟جو اُس زمانے کی قبائلی عصبیتوں کو نہیں جانتا وہ سیرت کے اس پہلو کو قطعاً نہیں سمجھ سکتا کہ آپ مکہ سے طائف کیوں گئے تھے اور دوبارہ مکہ میں کس بنیاد پر آئے تھے؟ اہل مکہ نے جب ابوبکر کومکہ سے نکال دیاتھا تو وہ دوبارہ کس بنیار پر مکہ میں رہتے تھے؟ شاہ روم نے ابو سفیان سے نبی کی تعلیمات سننے کے باوجود کیوں آپ کے نسب کی بابت سوالات کیے تھے؟ اور جب انہوں نے آپ کے حسب نسب کی تصدیق کی تو شاہِ روم نے کہا تھا:’’ اسی بہتر نسب کے ساتھ انبیاء اپنی قوم میں مبعوث کیے جاتے ہیں ‘‘۔۲۰؎

کتب ِآثار صحابہؓ

آثار صحابہ ؓ بھی سیرت نگاری کے مآخذ ومصادر میں شامل ہیں۔ صحابہ وہ جماعت ہے جس نے حضور اکرم ؐ کو بنفسِ نفیس حالت ایمان میں دیکھا ہے۔ گویاوہ لوگ سیرت نبویؐ کے عینی شاہد ہیں۔ دوسری طرف صحابہ حضورؐ کو جو بھی عمل کرتے دیکھتے اس کی اقتداکرتے تھے۔ لہٰذاصحابہؓ کاعمل بھی حضور کے عمل کاپرتو ہے او رصحابہؓ کے عمل کوسیرت کی مستند تعبیر قراردیاجاسکتا ہے۔ لہٰذالازمی ہے کہ کوئی بھی سیرت نگار دوران سیرت نگاری آثارصحابہ سے استفادہ کرے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کریم کے احکام پراس وقت عمل کیاجاسکتا ہے جب نبیؐ کی حیات طیبہ کو نمونہ بناکر اُن طریقوں کواپناجائے جنہیں رسول اللہ ؐ نے پسند فرمایااورویسا ہی عمل کیاجائے جیسا آپ نے کرکے دکھایا۔ یہی سیرت ہے اور یہ عمل ہم تک صحابہ کے توسط سے پہنچا ہے۔

مندرجہ بالاطرز کی کتابوں کے علاوہ اوربھی کتب اورعلوم ہیں جوسیرت النبیؐ کی معیاری نگارش کے لئے معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہاں صرف اہم اوربنیادی ماخذ ومصادرکااحاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

حوالہ جات

۱؎              ڈاکٹر حمیداللہ۔ ماہنامہ فکر ونظر۔ ج/۵

۲؎             جامع اللغات۔ ج/۳   ص/۴۵۴

۳؎            یورش، پروفیسر عثمان خالد، فن سیرت نگاری۔ ص /۸

۴؎            دہلوی، شاہ عبدالعزیز، اعجاز نافعہ،  ص/۱۴

۵؎             نعمانی،علامہ شبلیؔ، سیرت النبیؐ  ج/۱، ص/۲۲،مکتبہ مدینہ لاہور۔۱۴۰۸ھ

۶؎             سید عبداللہ، ڈاکٹر،فن سیرت نگاری پر ایک نظر(فکرونظر)

۷؎            کاندھلوی، مولانامحمد ادریس، سیرت مصطفی،  ج/۱، ص/۳ ، فرید بک ڈپو،دہلی، ۱۹۹۹

۸؎            اختر، ڈاکٹر،سفیر،برصغیر پاکستان وہند میں سیرت نگاری،مقالات سیرت۔ ص/۴۸۹

۹؎             خاں، شمس تبریز،سیرت نبویہ قرآن مجیدکے آئینہ میں۔ ص/۱۲

۱۰؎           ثانی، ڈاکٹر صلاح الدین، سیرت نگاری کامنہج، مقالات سیرت نبویؐ   ص /۱۰۴

۱۱؎            ثانی،ڈاکٹر صلاح الدین، اصول سیرت نگاری ص/۱۱۳

۱۲؎           سباعی،ڈاکٹر مصطفی، سیرت نبوی اردو۔ص/۳۲،ہندوستان پبلی کیشنز،دہلی، ۱۹۸۳ء

۱۳؎           ثانی،ڈاکٹر صلاح الدین، اصول سیرت نگاری۔ ص/ ۳۷

۱۴؎           ندوی، علامہ سید سلیمان، خطبات مدراس،   ص/  ۶۷

۱۵؎           ندوی علامہ سیدسلیمان، خطبات مدراس۔  ص/ ۶۷

۱۶؎           خاں، محمدفاروق، علم حدیث ایک تعارف۔ ص /۱۹۴،مرکزی مکتبہ اسلامی، دہلی فروری ۲۰۱۴ء

۱۷؎           ثانی،ڈاکٹر صلاح الدین، اصول سیرت نگاری۔  ص/ ۱۸۸

۱۸؎           حسن، ڈاکٹر سہیل، کتب طبقات، تاریخ اور اسماء الرجال  میں سیرت نگاری کا منہج، مقالات سیرت، ص/۱۷۹

۱۹؎            ندوی، علامہ سید سلیمان، خطبات مدراس۔  ص  /۶۶

۲۰؎          ثانی،ڈاکٹر صلاح الدین، اصول سیرت نگاری۔  ص  /۲۷۵

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button