Uncategorizedسیرت رسولؐ

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم

زیب النساء سید

‏( ملاڈ مالونی ) ممبئی
نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتپاک کا ایک ایسا موضوع ہے جس پر بے شمار لوگوں نے لکھا ہے اور روز قیامت تک اس سعادت کاسلسلہ جاری رہے گا۔ یہ موضوع ہی کچھ ایسا ہے کہ چاہے اس پر جتنے لوگ لکھیں اور جتنا کچھ لکھیں کبھی مضمون کی خشکی اور عدم دلچسپی کی شکایت پیدا نہ ہو سکے گی ۔ اسی حقیقت کی طرف ذہن کو موڑ نےکے لئے ایک ادنا کوشش ہے امید ہے کہ اللہ تعالی اس کوشش کو قبول فرمائے ۔
ربیع الاول کا مہینہ اسلامی تاریخ ہی نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ میں ایک پاکیزہ اور مقدس انقلاب کی علامت ہے، یہ وہ مہینہ ہے ، جس میں کائنات کی سب سے عظیم ہستی، پیغمبر اسلام، خاتم النبيين ، سید الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے اور دنیا میں ایک مقدس و پاکیزه انقلاب کی بنیاد رکھی ، جو دنیا کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اعلى اخلاق ، انسانی اقدار ، محبت ، شرافت، انسانی ہمدردی ، غمخواری ، کمزوروں ، ضعیفوں، یتیموں ، بیواؤں کی خبر گیری ، رحمدلی ، صداقت و امانت اور عدل وانصاف کی اعلی ترین مثال اور نمونہ ہے ،یہ ایک بہترین اور آئڈیل انسان کے اندر جتنی بھی خوبیاں اور کمالات ہو سکتے ہیں وہ سب آپ کے اندر بدرجہ اتم موجود تھے ۔ *یہی وجہ ہے کہ آپ کے زمانے سے لے کر آج تک ہر وہ آدمی جو حق و صداقت کا معترف ہے ، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیوں اور کمالات کا نہ صرف اعتراف کیا ہے بلکہ ان کے سامنے اپنی جبین عقیدت کو خم کیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام اور آپ کی تعلیمات کو اپنا کر دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کی گئی ہے ۔
دین اسلام کا تیسرا مہینہ ہوچکا ہے۔ اسی مہینے میں رحمت اللعالمین، محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی، تاریخ میں اختلاف ہے اسی ماہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی اور اس ماہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیائے فانی سے عالم آخرت کی طرف کوچ فرمایا۔ ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل سیرت کا مسلمانوں کو بڑی گہرائی سے، غور وفکر اور دل و جان سے مطالعہ کرنا چاہیے ۔
‏ہم تمام مسلمانوں کے لیے یہ اللہ کی سب سے بڑی نعمت اور اس کا خاص فضل ہے کہ اللہ نے ہمیں اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا کیا ہے ،اور ہم اس نعمت اور فضل پر اللہ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے ، اور ہمیں شکر کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور آپ کی سنتوں کے مطابق ڈھال لیں ۔ ربیع الاول کا مہینہ ہر سال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیغام پوری دنیا کے سامنے پیش کیا اور جن اخلاق و صفات کی تعلیم دی ، ہم پہلے ان خوبیوں اور اخلاق و صفات کو اپنے اندر پیدا کریں اور دنیا کے سامنے عملی طور پر ان کو پیش کریں ۔ یہی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی اور آپ سے حقیقی محبت و عقیدت کی علامت ہے ۔ ربيع الاول کا یہ مہینہ ہم مسلمانوں کو ہماری ذمہ داری کا احساس کراتا ہے کہ اللہ نے جس مشن کے لیے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا تھا یعنی پوری دنیا میں اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے اور خدائے وحدہ لاشریک کے پسندیدہ دین کو قائم کرنے کے لیے اور جو مشن آپ کے بعد رہتی دنیا تک کے لیے امت کے علماء اور تعلیم یافتہ لوگوں کے ذمہ کر
دیا گیا ہے کیا ہم اس ذمہ داری کو انجام دے رہے ہیں؟* جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے ہماری حقیقی محبت و عقیدت تب ثابت ہوگی؟ جب ہمارا ہر عمل اور ہماری پوری زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور آپ کی تعلیمات کے مطابق گذرے گی ،اور ہماری اجتماعی و انفرادی زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ کی تعلیمات کا عملی نمونہ بنے گی۔
جن کی سنت پہ چلنا تجھے گوارا نہیں
تیرے واسطے وہ رو دیا تھا حضور کتنا
تم اپنے کردار کو اتنا بلند کردو کہ دوسرے لوگ دیکھ کر کہیں اگر امت ایسی ہے تو نبی کیسے ہو نگے ۔
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button