SliderUncategorizedسیرت رسولؐ

سیرت رسولﷺاور ہماری ذمہ داریاں

خان رحیمہ شہنواز بھیونڈی

عربی مہینوں میں ماہ ربیع الاول تیسرا مہینہ ہے ماہ ربیع الاول مہینہ ہے جس میں مسلمانوں کا جوش و خروش حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے بازاروں اسٹیشنری اور ٹھیلوں پر رنگ برنگے پرچم لائٹ اسٹیکر وغیر ہ رونق بڑھا دیتے ہیں یہ وہ مہینہ ہے جس کو مسلمان کا چھوٹے سے چھوٹا بچہ بھی جانتا ہے کیونکہ گھروں کو لائٹس وغیرہ سے آراستہ کیا جاتا ہے اس وجہ سے یہ بات بچے کے ذہن میں نقش ہو جاتیں ہیں اس مہینے میں مسلمانوں کی محبت کا اندازہ ہوتا ہے کی وہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی محبت کرتے ہیں واقعی میں کوئی بھی شخص اس وقت تک کامل مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک اس کو اپنے مال جان وہ اولاد سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہ ہو
یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہمارے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے ۔ پوری انسانیت کو ظلمتوں کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت کی سیدھی دکھلائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلاکسی تفریق و امتیاز کےتمام بنی نوع کے لئے رہبر و ھادی بنا کر بھیجے گئے تھے
قارئین حضرات یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہمیں اپنے آپ کو جج کرنا ہوگا اگر ہم واقعی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں تو اس محبت کا ہم عملی نمونہ پیش کرتے ہیں کیا گھروں کو سجانا پیشانی اور ہاتھ پر اسٹیکر لگانا ہمارے حبیب کی محبت کے لیے کافی ہے؟
محبت تو یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی رسول اللہ کی اتباع میں گزاریں زیادہ سے زیادہ سنتوں پر عمل کریں زندگی کے تمام معاملات میں ہماری یہ کوشش ہوکی سنت طریقے سے ہوں
دوستوں سنت طریقے پر عمل کرنے سے ہمارے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی مثلا اگر ہم کو پیاس آئی ہے پانی پینا ہے تو ہم سنت طریقے سے پیئں یا غیر سنت دونوں حالتوں میں ہماری پیاس بجھے گی یعنی ہمارے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی
تو دوستوں ہمیں اپنی محبت ثابت کرنے کے لیے ہمیں سنت اپنی زندگی میں لانا ہے اور شیطان کے طریقے سے اجتناب کرنا ہے
ہماری یہی کوشش اور محبت ہونی چاہیے کی ہر سال ماہ ربیع اول کے آتے ہی ہم اپنا محاسبہ کرے اور ہر سال ہم ایک نیا عہد کریں کی ذیادہ سے زیادہ ہم سنت کی اتباع کرنے والے بنے اس طرح سے ہمارے لئے آسانیاں ہونگی اور ہم خود بخود محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہو جائیں گے یعنی( بہت زیادہ محبت کرنے والے بن جائیں گے)
ایک سچا واقعہ آپ سبھی کے گوش گزار کر تی ہوں
میری دوستی ایک غیر مسلم لڑکی سے ہوئی اس نے مجھ کو بتایا کہ میں ٹھا کر ہوں اور میں اسلام مذہب میں دلچسپی لیتی ہوں میری بہت سی مسلم فرینڈ بھی ہیں لیکن مجھے ایک کنفیوژن ہے کیا آپ دور کر سکتی ہیں میں نے کہا بتاؤ ہوسکتا ہے تمہاری الجھن دور ہو جائے اس نے مجھے بتایا کہ میری دو دوست تھیں ربی الاول کا مہینہ تھا کالج کے بعد ہم لوگ گھومنے کا پلان بنا رہے تھے لیکن ایک دوست نے کہا نہیں میرے گھر میں بہت کام ہے جشن میلادالنبی ہے اس وجہ سے گھر کو ڈیکوریٹ کرنا ہے
لیکن دوسری دوست نے کہا میں تو بالکل فری ہوں میرے گھر میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے غیر مسلم دوست نے کہا میں نے دونوں سے پوچھا واقعی تم دونوں مسلم ہو تو تم کیوں جشن عید میلاد النبی منارہی ہو اور تم کیوں نہیں منا رہی ہو
میں نےدوبارہ ان سے کہا کہیں ایسا تو نہیں کہ جیسے ہندو دھرم میں الگ الگ معبودوں کی پوجا کرتے ہیں کوئی بدھ مذہب کوئی جین مذہب وغیرہ کی لیکن سب کو ہندو ہی کہتے ہیں تم لوگ بھی ایسے ہی ہو کیا
لیکن دونوں فورا بولی کی نہیں نہیں ہم دونوں مسلمان ہیں ہمارا قرآن بھی ایک اورہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک ہیں لیکن اس تہوارکے بارے میں انہوں نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا
اور جب بھی یہ مہینہ آتا ہے تو میرے سوال مجھے پریشان کرتے ہیں
واقعی میں اس کے سوال نے مجھے تو جھنجوڑ کر رکھ ہی دیا اور میں نے اپنے اطراف میں مشاہدہ کیا تو واقعی کچھ فلیٹ کے لوگ اس جشن کو مناتے ہیں اور کچھ لوگ نہیں مناتے ہیں
اور سڑک سے گزرتے ہوئے بہت ساری بلڈنگ کا مشاہدہ کیا تب بھی یہی بات سامنے آئی
قارئین حضرات میرے خیال سے یہ سوال ہم سبھی کو پریشان کرنا چاہیے اور اگر دل چاہے تو آنے والے چند دنوں میں آپ خود اسکا مشاہدہ کرے
بقول علامہ اقبال
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مُسلماں بھی ایک
اللہ تعالی نے تمام انسانوں کو عقل و دل دماغ دیا ہے ذی شعور بنایا ہے تو کیوں نہ ہم اس کا استعمال کر کے حقائق کو تلاش کرے
نعوذباللہ کہیں ہم سے کوئی غلطی نہ ہو جائے اور یہ غلطی ہمیں شرک وبدعت کے قریب نہ کر دے اللہ ہم سب کی حفاظت کرے
مشرکین مکہ کو جب دین کی دعوت دی جاتی تھی تو کہتے تھے کہ ہم اپنے آباؤ اجداد کے دین کو نہیں چھوڑ سکتے اور حقائق کو تلاش نہیں کرتے تھے اور تدبر ہی نہیں کرتے تھے
قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ پر ہے اور قیامت تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی اس لیے ہمیں اس سے حقائق کو تلاش کرنا چاہیے اور تدبر کرنا چاہیے ترجمہ تفسیر پڑھنی چاہئے نہ کہ صرف عربی پڑھ کے ے تلاوت کے فرض سے سبکدوش ہوجائیں
ہمیں تو اس ماہ مبارک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا بہت ہی گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے کچھ واقعات:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم برائی کا بدلہ بھلائی سے دیتے تھے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب طائف گئے تو وہاں کے لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت برا سلوک کیا اور پتھر مار مار کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی کردیا لیکن چند سال بعد یہی لوگ مدینہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بہت ہی اچھا سلوک کیا اور جب تک وہ ٹھرے رہے ان کی بڑی خاطر تواضع کی اور ایک مرتبہ بھی ان کو نہیں جتایا کہ تم نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا تھا
آپ صلی اللہ وسلم کافروں کی عیادت کے لیے بھی جایا کرتے تھے
ایک دفعہ آپ کا ایک یہودی خادم سخت بیمار ہو گیا آپ کو معلوم ہوا تو آپ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور دیر تک اس کے سرہانے بیٹھ کر تسلی دیتے رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا اس پر ایسا اثر ہوا کی مسلمان ہو گیا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنی بیوی بچوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا ہے
ایک دفعہ رسول پاک نے دیکھا کہ ایک غلام آٹا پیس رہا ہے اور ساتھ ہی درد سے کراہ رہا ہے آپ اس کے قریب گئے تو معلوم ہوا کہ وہ بیمار ہے لیکن اس کا آقااسکوچھٹی نہیں دیتا آپ نے اس کو آرام سے لیٹا دیا اور سارا آٹا خو د پیس دیاپھر فرمایا جب تم کو آٹا پیسنا ہو تو مجھے بلا لیا کرو
ایک دن رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ایک گلی سے گزر رہے تھے کہ ایک اندھی عورت ٹھوکرکھا کر گر پڑی لوگ اسے گرتے دیکھ کر ہنسنے لگے لیکن آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اس عورت کو اٹھایا اس کے گھر پہنچا دیا اس کے بعد آپ روزانہ اس عورت کے گھر کھانا دے جاتے
آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہر ایک دین کی ایک صفت ہوتی ہے اسلام کی صفت حیا ہے اور حیا سے صرف بھلائی حاصل ہوتی ہے
ایک دفعہ صلی وسلم سفر میں تھے راستے میں ایک جگہ ٹھہرے تو ایک شخص نے ایک چڑیا کے گھونسلے سے اس کا انڈااٹھا لیا چڑیا بے قرار ہو کرانکے سر پر منڈلانے لگی آپ نے پوچھا کس نے چڑیا کاانڈا اٹھا کر اس کو تکلیف پہنچائی ہے اور شخص بولے یا رسول اللہ میں نے انڈا اٹھایا ہے
آپ نے فرمایا یہ انڈا وہیں رکھ دو
انسان تو انسان آپ صلی اللہ وسلم جانوروں کی بھی تکلیف برداشت نہیں کرسکتے تھے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا دشمن ابوجہل تھا وہ کہا کرتا تھااے محمد میں تم کو جھوٹا نہیں کہتا ہاں جو چیز تم پیش کرتے ہو میں اس کو نہیں مانتا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش مزاج تھے ایک دفعہ ایک اندھا آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی اے اللہ کے رسول کیا میں جنت میں داخل ہو سکوں گا فرمایا نہیں بھائی کوئی اندھا جنت میں نہ جائے گا اندھا رونےلگا آپ صلی وسلم ہنس پڑے اور فرمایا بھائی کوئی اندھا اندھا ہونے کی حالت میں جنت میں داخل نہ ہو گا بلکہ سب کی آنکھیں روشن ہوگئی یہ سن کر اندھا بے اختیار ہنسنے لگا
اللہ تعالی ہم سبھی کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرکے اپنی زندگیوں کو روشن کرنے والا بنائے (آمین)
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button