Sliderفکرونظر

سی اے اے کی مخالفت ‘ ہند میں ہمارے وجود کے بقاء کی کوشش

اب بھی اگر ہمارے ضمیر میں زندگی نہیں ڈورتی اور ہم اب بھی خوابِ غفلت میں سورہے تو یقین کریں کہ ہم سے نسلیں پوچھیں گی کہ جب بھارت کی زمین اس بل کو پاس کرکے ہمیشہ کے لیے مسلمانوں پر اور دیگر کمزوروں پر تنگ کی جارہی تھی اس وقت ہم کہاں تھے ۔

سی اے اے کی مخالفت ‘ ہند میں ہمارے وجود کے بقاء کی کوشش

تحریر ۔۔خان مبشرہ فردوس اورنگ آباد 

اس وقت جب ملک سراپا احتجاج ہو اور ہم گھروں سے نہ  نکلیں ہمارا نہ نکلنا مردہ ضمیری ہوگی اور ہم سے نسلیں سوال کریں گی یاد رکھیں ہم نہ نکلے تو جنازے ہی نکلیں گے نکلیں اپنے گھروں سے چاہے جس حال میں ہو ۔

” آج بازار میں پابہ جولاں چلو

چشمِ نم ، جانِ شوریدہ کافی نہیں

راہ تکتا ہے سب شہرِ جاناں چلو

حاکم شہر بھی ، مجمعِ عام بھی

آج بازار میں پابہ جولاں چلو

فاشسٹ طاقتیں ھندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنے کے در پے ہے نفرت کی سیاست ھندوستان کی زمین پر کھیل کر آج حکومت کی کوشش یہ ہے انسانوں کو انسانوں سے لڑا کر ملک کی عوام کی توجہ ھندوستان کے ان مسائل سے ہٹادیں۔ جس کی ایک صورت NRC اور CAA بھی ہے این آر سی ہے تک تو بات ٹھیک لگی تھی کہ چلیں نیشنل رجسٹریشن شہریت سے متعلق کروانا کیا برا ہے ۔کئی دنوں سے خبریں آرہی تھیں کہ این آر سی میں فلاں فلاں ڈاکیومنٹس کی ضرورت ہوگی یہ لسٹ ریڈی رکھنی چاہیے

لیکن جوں NRC  کو پورے بھارت میں نافذ کرنے سے پہلے جوں ہی CAB  دستور میں ترمیم کا بل پیش ہوا اور پھر CAA دستور میں ترمیم ایکٹ کی حیثیت اختیار کرنے والا ہے اس خبر نے بھارت کے ہر انصاف پسند شہری کی نیندیں اڑادیں

دسےوری ترمیم دراصل ترمیم نہیں بلکہ ھندوستان کی زمین پر مسلمانوں اور کاسٹ کی بنیاد پر ھندو دھرم میں کم درجہ رکھنے والے ذاتوں کے وجود کی باگ ڈور گویا فاشسٹ طاقتوں کے ہاتھ میں دے دی ۔۔۔

ہوم منسٹر امیت شاہ نے”  آج تک”  پر انٹرویو اگر ہم نے توجہ سے سنا ہوتو ۔۔ہوم منسٹر صاحب فرماتے ہیں یہ تبدیلیاں کانگریس کے زمانی سے دستور میں موجود ہیں ۔کشمیر دفعہ 370 ہٹانے پر کہتے ہیں دستور میں کشمیر ساتھ لکھا ہوا ہے کہ کشمیر کی حیثیت دفعہ 370 کے مطابق وقتی رہے تھے ۔۔لفظ temparory  کا لفظ لگاتے ہوئے تو کچھ کہا نہیں گیا اور 1955 میں سردار ولبھ بھائی پٹیل نے کہا تھا کہ یہ دفعہ آہستہ آہستہ گھستے گھستے گھس جائے گی اور ہم نے گھسا دی۔

اب موجودہ ترمیم کو اس زاویے سے دیکھیں جس کی تبدیلی کو بڑی چالاکی کے ساتھ یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ شہریت ترمیم بل میں پاکستان بنگلہ دیش اور افغان سے آنے والے شرنارتھیوں کو شرن دیا جائے گا اور مسلمان کو اس لیے نہیں کہ انکے پاس مسلم ملک ہے ۔۔اسی کے ساتھ NRC کے ذریعہ سے موجود ھندوستانیوں کی شہریت کو بھی خطرہ ہے کہ یہ ان کے جنگل راج میں کسی شہریت منسوخ کردیں اور پھر ترمیم شدہ قانون کے تحت مسلم کو شرن نہیں دینا ہے یہ کہہ کر  ڈیٹینشن کیمپ میں رکھیں یا  نسل کشی جنگلوں میں چھوڑ دیں یا سمندروں میں دھکیل دیں ۔

ان شاطرانہ چالاکیوں کو جو انسان سمجھ رہا ہے خوب جانتا ہے کہ یہ وقت گھر میں بیٹھنے آرام کرنے کا نہیں چاہے وہ مسلم ہو یا ھندو بلاتفریق سڑکوں پر نکل آئے ۔احتجاج کی ابتداء جامعہ کے طالبات کے حصے میں آئی اور خوب آئی جوش ہے کہ نہیں بیٹھتا احتجاج کی یہ آگ بھارت کے ہر بڑے چھوٹے شہر میں پھیل گئی ۔احتجاج ایک تحریک بن کر روز، افزوں تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔

جب احتجاج بڑھنے لگا تو فاشسٹ طاقتوں کے بھکتوں نے نئی چال چلی یہ کہہ کر وزیرِ اعظم نے بیان دیا کہ ھندوستان کے موجود مسلمانوں کے ساتھ نانصافی نہیں ہوگی اور یہ کہ NRC نافذ نہیں ہوگا ۔۔۔اور یہ وقت پروپیکنڈا کرنا بھی شروع کردیا اور بعض سمجھنے لگے کہ شاید یہ درست ہے ۔

سوچیے کہ وقتی طور پر یہ چال وہ چل بھی رہی ہیں تو نہایت بری چال چل رہے ایک طرف ترمیم کرکے ھندوستان کے دستور سے مسلمان کی شہریت نہ دینے کے بل پر ہمیشہ کے لیے مہر لگارہے دوسری طرف وقتی طور پر این آر سی میں نرمی کی بات کررہے لیکن امیت شاہ انٹرویو کے کشمیر کے تناظر میں کہے گئے جملے پر غور کریں آہستہ آہستہ یہ دفعہ 370 گھس جائے گا بالکل اسی طرح یہ دستوری ترمیم آج احتجاج کو دیکھ کر NRC میں سختی کم کرنے بات کرکے ہمیں وقتی طور پر سمجھالیں لیکن تو یہ اس ترمیم کو ہماری نسلوں کے لیے عذاب بنادیں گے ۔ کسی بھی وقت شہریت کو مشکوک بتاکر ڈٹینشن کیمپ اور وہاں سے پار لگادیں اور سلسلہ مسلم نسل کشی کا برسوں پر محیط ہوسکتا ہے

این آر سی سے زیادہ خطرناک CAA ہے کہ جس میں ترمیم آج ہوگئی مطلب ہم ہمیشہ کے لیے ھندوستان میں اپنا حق ختم کرچکے ہوں گے ۔یہ ھند کی زمین بقا کی جنگ ہے اپنے نسلوں کی بقا کی جنگ ہے

اسکے ہماری نسلوں پر اثرات بھی بہت خطرناک مرتب ہوں گے بعض وہ جو مسلم بن کر جینے میں دشواریوں سے عاجز آکر اپنے بعد کی نسلوں کو لادین یا مادی مفاد کی خاطر مرتد ہونا قبول کرلیں گے ۔آج ہر قسم کی تفریق کو اندرونی انتشار کو چھوڑ کر ہم نکل کھڑیں ہوں اپنے اپنے شہر میں ہوریے احتجاج میں شرکت کریں متحدہ محاذ جو اس مسئلے پر بنا ہے انکی جانب سے یہی احکامات جاری ہوئے ہیں کہ ہم اپنے ہم وطن بھائیوں کے ساتھ مل کر اس وقت تک بے فکر نہیں ہوں گے جب تک حکومت CAA واپس نہ لیں ۔اس ترمیم کے خلاف ہماری آواز اتنی بلند کرنی ہے کہ ایوان بالا کے تخت کو ہلادیں اور اس ترمیم بل کو واپس لے لیں ۔

اب بھی اگر ہمارے ضمیر میں زندگی نہیں ڈورتی اور ہم اب بھی خوابِ غفلت میں سورہے تو یقین کریں کہ ہم سے نسلیں پوچھیں گی کہ جب بھارت کی زمین اس بل کو پاس کرکے ہمیشہ کے لیے مسلمانوں پر اور دیگر کمزوروں پر تنگ کی جارہی تھی اس وقت ہم کہاں تھے ۔

اور یاد رکھیں

فطرت افراد سے، اغماض تو کرلیتی ہے لیکن 

کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو کبھی معاف 

ہم اپنی سیاسی و سماجی بیداری کا ثبوت پیش، کریں اور نکلیں اپنے گھروں سے جہاں کہیں احتجاج ہو ۔

آج ہم سے نسلیں کہہ رہی ہیں 

آج بازار میں پابہ جولاں چلو 

ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے

شہرِ جاناں میں اب باصفا کون ہے

دستِ قاتل کے شایاں رہا کون ہے

رختِ دل باندھ لو دل فگارو چلو

پھر ہمیں قتل ہو آئیں یار چلو

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button