Sliderملی مسائل

شہریت ترمیمی بل: زمینیں تنگ ہیں اب تو ہمارے ہی لیے اسکی

شبیع الزماں

(پونہ)

آسام میں NRC  کے نفاذ کے بعد ، حکومت نے پورے ملک میں اسکے نفاذ کی بات کی ہے ۔ NRC کی طرح CAB (Citizenship amendment Bill)

 بھی بی جے پی کے الیکشن مینی فیسٹو کا  حصہ تھا اور فی الوقت معاشی ترقی کے علاؤہ بی جے پی الیکشن کے سبھی وعدوں کو پورا کرتی نظر آرہی ہے۔ بالخصوص وہ وعدے جو زعفرانی نظریات سے متعلق ہیں ان کے بارے میں وہ بہت تیزی دکھا رہی ہے ۔ حکومت اب CAB  کو پاس کرانے کی بات کر رہی ہے۔

  ترمیم شہریت قانون  بل کے مطابق بنگلہ دیش،پاکستان اور افغانستان کی اقلیتیں ہندو، سکھ، پارسی، جین، بدھ اور عیسائی، جو مذہبی بنیادوں پر ظلم کا شکار ہیں انھیں ہندوستان کی شہریت دی جا سکتی ہئے۔

اس بل میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اسکی وجہ حکومت کی جانب سے یہ بتائی جارہی ہے کہ چونکہ یہ سب مسلم ممالک ہیں اس لیے یہاں مسلمانوں پر مذہبی بنیادوں پر ظلم کے امکانات نہیں ہیں۔

اس پر یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ پھر سری لنکا ،چین اور برما کو کیوں نہیں شامل کیا گیا جبکہ وہاں مسلمان اقلیت میں بھی ہیں اور مذہبی بنیاد پر جبر کا شکار بھی ہیں ۔ پچھلے سال برما کے مسلمان بدترین ظلم سے تنگ آکر ہندوستان میں پناہ لینا چاہ رہے تھے تو اسوقت ملک کی سیکیورٹی،جگہ اور اخراجات کا بہانہ کرکے انہیں لوٹا دیا گیا تھا۔اس بنا پر یہ دعویٰ خارج ہوجاتاہے کہ یہ بل انسانی بنیادوں پر بنایا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ پھر بل کا اصل مقصد کیا ہے۔ اسکا اصل مقصد وہ نہیں ہے جو بی جے پی پارلیمنٹ یا ٹی وی ڈیبیٹس میں بتا رہی ہے بلکہ وہ ہے جو انتخابی ریلیوں اور عمومی جلسوں میں بیان کر رہی ہے۔

ہیمنت بسوا سرما جو آسام بی جے پی کے بڑے لیڈر ہیں اپنے بیان میں کہتے ہیں ۔ ” یہ جنگ جناح کی وراثت اور ہندوستان کی وراثت کے بیچ ہئے۔ این آر سی کا مقصد جناح کی وراثت کو ختم کرنا ہے۔

اگر ہم یہ بل نہیں لاتے تو بدرالدین اجمل آسام کے وزیر اعلیٰ بن جاتے اور جناح کو 17 سیٹیں چلی جاتیں "

اپنے دوسرے بیان میں کہتے ہیں: "اگر یہ بل پاس نہیں ہوتا ہے تو اس صورت میں اگلے پانچ سالوں میں ہندو، آسام کے اندر اقلیت میں آ جائینگے "۔

اس بل کا مقصد جہاں ایک طرف ملک میں ہندوؤں کی تعداد بڑھانا ہے وہیں دوسری طرف این آر سی سے پیدا ہونے والے بحران کا خاتمہ بھی ہے۔ این آر سی کرواتے وقت بی جے پی کو امید تھی کہ اسکی زد میں مسلمانوں کی بڑی تعداد آئے گی۔ لیکن اس کے توقع کے بر خلاف ہندوؤں کی بڑی تعداد این آر سی کے دائرے میں آگئی اور بی جے پی کی پریشانیاں بڑھ گئیں۔  اب وہ ہندو جو این آر سی کے ذریعہ غیر ملکی قرار پائینگے انھیں CAB کے ذریعہ accommodate  کرنے کی کوشش کی جائے ۔ بنگال میں اسکو واضح کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا

"جس دن سے این آر سی بل لایا گیا ٹی ایم سی یہ کہہ کر بنگال کی عوام کو گمراہ کر رہی کہ اُنہیں ملک سے باہر گھسیٹ دیا جائے گا بنگال میں رہنے والے سبھی رفیوجی، ہندو،بدھ اور سکھوں کو میں یقین دلاتا ہوں تمہیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ہم ہر ہندو بنگہ دیشی کو شہریت دینے والے ہیں "۔

بل کا مقصد بالکل واضح ہے۔ جس طرح اسرائیل کو خالص یہودی ملک بنانے کی کوشش کی گئی اور پوری دنیا سے یہودی وہاں جمع ہوگئے اس بل کے ذریعے وہی کوشش ہندوستان میں کی جارہی ہے ۔ہمنت بسوا سرما کا یہ بیان اس ضمن میں بات کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ

"ہم ہندوؤں کو  صرف شہریت دے رہے ہیں لیکن ہم مسلمانوں کو ایک ملک دے چکے ہیں "

 وزیر اعظم کا بیان سب سے زیادہ معنی خیز ہے۔

"یہ بٹوارے کے دوران کی گئی غلطی کی اصلاح ہے۔ اگر ماں بھارتی کے بچے مصیبت میں ہیں تو یہ ماں بھارتی کی ذمہ داری ہے کہ انھیں پناہ دے۔ اگر ماں بھارتی کے بچوں پر ظلم ہورہا ہے تو کیا ہمیں انھیں سہارا نہیں دینا چاہیے۔”

اس بل کے ذریعے باہر سے  ہندوؤں کو تو ملک کی شہریت مل جائے گی رہ گئے وہ مسلمان جو اپنی شہریت نہیں ثابت کرپائے انھیں ٹربیونل ،عدالت اور پھر پتہ نہیں کون کونسے مشکل گزار اور ذلت آمیز پروسس سے گزرنا پڑے گا اگر اسکے بعد بھی وہ اپنی شہریت ثابت کرنے میں ناکام رہے تو حکومت انکے ساتھ کیا رویہ اپنائے گی وہ اب تک واضح نہیں ہے۔

اگر بل راجیہ سبھا میں پاس ہوجاتا ہے تو یہ صرف نارتھ ایسٹ میں انتشار اور مسائل نہیں پیدا کرےگا بلکہ ہندوستانی سیکولر ڈھانچہ کے خاتمہ اور ہندو راشٹر کی طرف ایک اور پیش رفت ثابت ہوگا۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button