Sliderسیاست

شہریت ترمیم بل:ملک ہٹلر شاہی کے نقش قدم پر!

شہاب مرزا

ہمارا ملک دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جہاں سب سے زیادہ مذہب کو ماننے والے موجود ہے اسی ملک میں 17 سو زبان بطور مادری زبان بولی جاتی ہے 125 کروڑ کے اس ملک میں تقریبا چھ ہزار ذاتیں پائی جاتی ہے اور دنیا کی اہم نسلی گروہ میں سے چھ اہم نسلی گروہ کے افراد یہاں  موجود ہیں جن میں اسلام، عیسائیت، ہندومت، یہودیت، سکھ مت، بدھ مت اور جین مت کے ماننے والے لوگ موجود ہیں اس لئے آئین نے تمام فرقہے کو مساوات عقیدہ اور اخوت عبادت، سیاسی معاشی  سماجی انصاف اور مساوات کا حق آئین کی دفعہ 25 میں دیا گیا ہے لیکن اب اس ملک کا منظر نامہ ہی کچھ اور ہے اکثریتی طبقہ بمقابلہ اقلیتی طبقہ!

جی ہاں یہ حقیقت ہے برسراقتدار بی جے پی حکومت نے انگریزوں کی پالیسی” ڈیوائیڈ اینڈ رول "کو رائج کر دیا ہے اس لئے ملک عزیز بھارت میں عدلیہ قانون جمہوری اقدار جیسی چیزوں سے اقلیتوں کا کب کا بھروسہ آٹھ چکا ہے۔

اب جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ چل رہا ہے حکومت جو چاہے جب چاہے کر سکتی ہے اس کے لیے جمہوریت قانون کوئی معنی نہیں رکھتا اور جواب بھی جمہوری نظام کی بات کرتے ہیں وہ مذاق کے سوا کچھ نہیں کرتے جمہوری نظام کے پابند صرف اقلیت رہ گئے باقی برسر اقتدار حکومت اپنے مفاد کے لیے جمہوریت کا گلا گھوٹ سکتی ہے جو اب بھی ملک کو آزاد جمہوریت  سمجھتے ہیں وہ ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ ہماری جمہوریت اربوں کھربوں روپے میں لپٹی ہوئی ہے اور اس ملک کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جو کرپٹ نہ ہو اس لئے جو ایک مرتبہ اقتدار پر قابض ہوگیا ہے وہ اس کرسی کو اپنی جاگیر سمجھ بیٹھتا ہے پھر چاہے کچھ بھی ہو کسی بھی قیمت پر اقتدار کی کرسی چھوڑنا نہیں چاہتا ان کے لئے آئین قانون کوئی معنی نہیں رکھتا یہی کام برسراقتدار بی جے پی حکومت کر رہی ہیں اقلیتوں کو نشانہ بنا کر اکثریت کو بےوقوف بنایا جارہا ہے بھارت کا دستور جو ہر شہری کو اس کے مذہبی آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کی ضمانت دیتا ہے اور یہی دستور کہ تمام قوانین و اقتدار کے نشے میں چور بی جے پی کے لیے بے معنی ہوجاتے ہے حکومت ملک کو  خانہ جنگی کی طرف لے جارہی ہے جسے صرف خون خراب ہوگا ایک مخصوص مذہب کو نشانہ بنانا ملک کی سالمیت کیلئے خطرناک ہے بی جی پی نئے نئے قوانین لا رہی ہے کمزور پوزیشن مخالفت کر رہی ہے لیکن تعداد میں مات کھا کر رسوا ہو رہی ہے پہلے طلاق ثلاثہ پھر کشمیریت پہ وار اور اب شہریت ترمیم بل!

 بہرکیف پہلے بزرگ کہتے تھے کہ سبھی کا مذہبی ایک ہے راستہ بھی ایک ہے منزل بھی ہے اور خدا بھی ہے لیکن آج کی سیاست نے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ مذہب کا جنون ذہن میں ڈال کر جو سیاست کی جاتی ہے وہی کامیاب ہے ملکی سیاست بھی کچھ ایسی ہی ہے اگر سیاست سے  ہندو مسلمان لفظ کو نکال دیا جائے تو آدھی سیاسی پارٹیاں حاشیہ پر آجائے گی حالیہ تناظر میں مذہب اور سیاست کو نفرت سے پروان چڑھایا جارہا ہے ایسے حالات بنائے جارہے ہیں کہ ملک کی اکثریت کو قوم پرستی کے نام پر یرغمال بن جائے۔

اقلیتی طبقے کے خلاف زمین تنگ کی جارہی ہے اور اکثرت کو خوش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس سے صرف اقلیت متاثر نہیں ہونگے بلکہ اس کا نقصان اجتماعی طور پر ملک ہوگا جس کی وجہ سے ملک تعلیمی سماجی معاشی اقتصادی ہر شعبے میں پیچھے رہ جائے گا بی جے پی حکومت نے لوک سبھا میں شہریت ترمیم بل پیش کیا  جس میں کافی بحث اور شورشرابا ہوا لوک سبھا میں بی جے پی کی اکثریت ہونے کی وجہ سے یہ بل پاس ہوا لیکن ابھی راجیہ سبھا میں اکثر یت ثابت کرنا باقی ہے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ یہ بل کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے جس طرح سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ بابری مسجد کا فیصلہ حقائق کی بنیاد پر ہوگا نا کی آستھا کی بنیاد پر۔

ساتھ امیت شاہ نے کہا کہ کانگریس نے ملک کو مذہب کے نام پر تقسیم کیا امیت شاہ سے یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ اگر کانگریس نے ملک کو بانٹا تو مسلمانوں کو مذہب کے نام پر الگ ملک کیوں نہیں دیا اور ہندوستان کے ہندو راشٹر کیوں نہیں بنایا؟ اگر ملک کا مذہب کے نام پر بٹوارہ ہوتا تو ملک کا آئین لکھنے والے بابا صاحب امبیڈکر ہندو راشٹر کی پرزور مخالفت نہیں کرتے! کیوں کہا تھا بابا صاحب امبیڈکر نے کی اگر ملک ہندوراشٹر بن گیا تو جمہوریت بھی ختم ہوجائیں گے یہ ہر حال میں ہندو راشٹر کو روکا جانا چاہیے۔

اس بل کی مخالفت کیوں ہورہی ہیں ؟ کیونکہ یہ بل آئین کے آرٹیکل 14 کے خلاف ورزی ہے جس میں ہر شہری کو سماجی معاشی سیاسی انصاف آزادی مذہب اظہارخیال مساوات کا حق دیا گیا ہے وہ چھین جائے گا جو بھی شہری آئین کی دل سے عزت کرتا ہے وہ اس بل کو بلکل قبول نہیں کرے گا اج ملک کی  اکثریت اس بل کے خلاف ہے پھر بھی ملک کی عوام پر زبردستی یہ بل تھو پا جا رہا ہے جس نے ملک سے سیکولرزم کو مسخ کر دیا یہ کھلے طور پر ہٹلر شاہی ہے اس بل کا مقصد پاکستان افغانستان اور بنگلہ دیش میں ہورہی زیادتی کی شکار غیر مسلم مہاجرین کو ہندوستانی شہریت دینے کا فارمولا ہے جس سے مسلمانوں کو پریشان کرنا اور ملک چھوڑنے پر مجبور کرنے کے لیے روبہ عمل لایا جارہا ہے اس سے آئین کی بنیادی اقدار اور جمہوریت کے ڈھانچے کو برباد کیا جا رہا ہے یہ بن سوامی ویویکانند، بابا صاحب امبیڈکر، جواہر لال نہرو، مہاتما گاندھی کے  خوابوں کے خلاف ورزی ہے ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کوئی حکومت اپنے ہی شہریوں کو ملک سے بے دخل کرنا چاہتی ہے۔

حکومت جلد بازی اور آنکھوں پر تعصب کا عینک پہن کر ملک میں پھر بٹوارہ چاہتی ہے جسے سے خون خرابہ ہو گا بی جے پی کو اکثریت حاصل ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ من مانی کرنے لگے اس بل سے عوام میں بے چینی پائی جا رہی ہے حکومت کی حرکتیں قومی اتحاد ہم آہنگی  اور سالمیت کیلئے خطرہ ہے ملک کی اقلیتوں نے ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کی عظیم شاہکار دیے عجوبے دیے ملک کی آزادی کے لیے تحریکیں چلائی کیا یہ سب ملک چھوڑنے کے لیے کیا تھا؟

کیا شہری ترمیم بل جھیلنے کے لئے دہلی کی جامع مسجد کی سیڑھیوں پر چڑھ کر مولانا ابوالکلام آزاد نے تقریر کی تھی، مسلمانوں ! عہد کرو یہ ہمارا ملک ہے ہمیں اسی کے لیے ہے اس کی تقدیر کے  بنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھوری ہی رہیں گے ہم نے یہی جینے مرنے کی قسم کھائی ہے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button