شخصیات

صدام حسین تاریکی اور بعث العربی

سمیع اللہ

مغرب کے سازشی طریقے بھی عجیب و غریب ہیں،یہ مشرقی ممالک کے سیاسی و فوجی قائدین کو اپنے عوام میں مقبول و محبوب بنانے کے لئے ان سے عوام کے دل پسند نعرے لگواتے اور ایسے طریقے اختیار کرنے کی رہنمائی کرتے جن سے ان کی مغرب دشمنی کا مظاہرہ ہو اور عوام دھوکے میں آجائیں۔مغربی طاقتوں کو دھمکیاں اور گالیاں دینا بھی ان کا ایک طریقہ رہا ہے۔وہ جب ان پر فریب طریقوں سے مقبول اور اثر انداز بن جاتے تو ان کو اسلامی قدروں کی بیخ کنی کی کاروائی کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی اور عام عوام ان سے دھوکہ کھاتے ہیں اور ان کا کہنا ہمدرد اور مخلص ہی سمجھتے ہیں۔
یہی صورت حال اس وقت پیش آئی جب مصری قائد جمال عبد الناصر نے اسرائیل کو دھمکیاں دیں اور اس کے ساتھ امریکہ کو بھی زبانی بھینٹ چڑھایا۔لیکن انہوں نے اسرائیل سے لڑنے کی زہمت نہیں کہ بلکہ اس کی جگہ اپنی فوجی طاقت کو مصر کے اسلام پسندوں کو دبانے اور کچلنے کے لئے استعمال کی اور جب خود اسرائیل نے مصر پر 1967 میں حملہ کردیا تو ان کو شکست کی رہ دیکھنی پڑی،جمال عبد الناصر کے انتقال کے بعد ان کے طرز عمل کو ان کے شاگردوں نے سر انجام دیا۔
ایسا ہی معاملہ شام کے صدر حافظ الاسد کا رہا وہ بھی اسرائیل اور امریکہ پر بجلی کی طرح گرجتے تھے اور جب ان کو اسرائیل کے ءملہ سے سابقہ پڑا تو وہ ملک کے ایک قیمتی حصہ گولان پہاڑیوں کو آسانی سے حوالہ کرکے جنگ سے جان چھڑائی اور اس جیسا کام عراق کے صدر صدام حسین نے بھی کیا،صدام حسین نے روس اور امریکہ کی مدد سے  فوجی طاقت بڑھائی اور ایران سے لڑائی کی پھر اسرائیل کو دھمکی دینے لگے،لیکن بجائے اسرائیل کے اپنے پڑوسی عرب مسلمان ملک کو حملہ کا نشانہ بنایا اور اسی کے ساتھ امریکہ کو بھی دھمکانا اور رعب دکھانا شروع کردیا،جہاد کے نعرے لگائے،جہاد کے اثر سے دنیا کے مسلمانوں کے دل جیت لئے اور ہیرو بن گئے لیکن نتیجہ میں لاکھوں مسلمانوں کا خون کرکے اور مسلمان علاقوں کو بربادی کے حوالے کرکے اپنی سابقہ بلکہ مزید کمزور حالت پر واپس پہنچ گئے۔صدر صدام حسین کی مہم جوئی کا یہ سنگین واقع علانیہ طور پر تو آزادی فلسطین اور جہاد کے نام سے سامنے آیا لیکن جن کی ماضی کی ساری زندگی اپنی جاہ اور حکومت کے خاطر بے محابہ جبر و زبردستی و قتل میں گزری ہو اور انہوں نے مذہب مخالف جماعت "البعث العربی” میں شمولیت اختیار کر رکھی ہو اور اس کے عیسائی،کمیونسٹ اور شیعہ ملحد ارکان اپنا مخلص اور قریب ترین ساتھی بنا رکھا ہو،علماء اور دین دار حضرات کو مسلسل اذیت اور خوف میں رکھا ہو،اپنی تقریروں تحریروں میں اللہ و رسول کا نام بسم اللہ اور آیات قرآنی کا استعمال تقریباً معدوم کر رکھا ہو،اپنے ملحد”بعثی” ساتھیوں کو برابر اپنے معتمد ترین ساتھی بنائے رکھتے ہوئے اچانک جہاد اسلام کا نام لینے لگے ہوں لیکن اس کے بعد بھی نہ اپنی زندگی میں تبدیلی لائیں اور نہ اپنے سابق ملحد و کافر رفقاء سے تعلق کم۔کریں تو اس سے صرف ناواقف آدمی ہی دھوکا کھا سکتا ہے واقف حضرات کو دھوکہ نہیں ہوسکتا،ملحد،کافر و مشکوک انسانوں کی ٹولی اپنے عقائد پر رہتے ہوئے جہاد کرنے والوں کی جماعت کیسے ہوسکتی ہے؟
صدام حسین جب تک اپنے ملک کے اندر اور ملک کے باہر ادھر ادھر مہم جوئی کررہے تھے تو مسئلہ زیادہ تر عام سطح کا تھا،لیکن جب انہوں نے وہ راستہ اختیار کیا جو حرمین پر بھی مہم جوئی کا تھا تو یہ اسلام کے وفاداروں کے لئے ناقابل برداشت بن گیا۔اسی لئے ان کی مخالفت بہت ضروری معلوم ہوئی،رہا ان کی خلیج میں مہم جوئی کا عام سیاسی پس منظر تو اس میں کئی نقطہ نظر بنے ان میں ایک نقطہ امریکہ دشمنی کا ہے۔
صدام کے لئے خواہ وہ جہاد سے بھی زیادہ مقدس پرچم اٹھانے کی بات کرتے ہوں یہ کیسے صحیح تھا کی وہ کویت کو تاراج کریں اور جب انہوں نے ایسی غاصبانہ اور ظالمانہ حرکت کی تو دین و شریعت کے جاننے والوں کے لئے صحیح نہ تھا کہ وہ دیگر اسلام دشمن طاقتوں کو ملامت کریں اور صدام کے اس برے فعل۔کع نظر انداز کردیں۔
 1990‌میں جب کشمیر میں تحریک آزادی زبردست عروج پر پہنچ چکی تھی اور اقوام عالم کی مکمل توجہ حاصل کر لی تھی۔ اسی دوران 2 اگست 1990 کو صدام حسین کو کویت پر قبضہ کرنے کی سوجھی۔ قبضہ تو چند دن ہی باقی رہ سکا۔ لیکن جس طرح عالمی توجہ مسلہ کشمیر سے یک لخت خلیج کی طرف منتقل ہو گئی، بھارت نے راحت کی سانس لی۔ یوں صدام حسین نے مصیبت کے وقت بھارت کو  bail out کرکے مسلہ کشمیر کو شدید نقصان پہنچایا۔ جس کا خمیازہ ابھی تک ہم‌بھگت رہے ہیں۔  ویسے بھی صدام حسین نے ہمیشہ کشمیر معاملے پر ہمیشہ ہر فورم پر بھارت کا ہی ساتھ دیا۔ پھر خود بھی اپنے ہی بنے ہوئے جال میں پھنس گیا۔‌ حالات و واقعات نے ثابت کیا کہ وہ مسلمانوں کا کوئی ہیرو نہیں تھا بلکہ ہمیشہ ویلن کا‌رول ہی نبھایا۔
صدام حسین نے جب اپنے پڑوسی ملک کویت پر چڑھائی کی اس سے امریکہ اور بڑی طاقتوں کو شاندار دلیل فراہم ہوگئی اور امریکہ کو انسانیت کے نام پر دھوکہ دینے اور خلیج میں گھس آنے کا موقع مل گیا،جو دوسری شکل میں اتنی آسانی سے نہ ملتا وہ اس طرح مغربی استعماری طاقتوں کے لیے مظاہرہ طاقت کا کامیاب ذریعہ بن گئے۔انہوں نے ایک مسلمان اور عرب ملک ہونے کی وجہ سے اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی چلادی اور جس کا خمیازہ ان کے ملک کو نہیں پوری عرب قوم بلکہ اسلامی ملت کو بھگتنا پڑرہا ہے۔
موضوع کی مناسبت سے ہم البعث العربی پارٹی کے متعلق چند باتیں آپ کی خدمت میں رکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔
البعث العربی پارٹی کے قائدین نے اپنی پارٹی کی جو ترجمانی کی ہے اس کے بموجب ان کی پارٹی صرف سیاسی پارٹی نہیں تھی بلکہ وہ ایک نظریاتی پارٹی تھی جس میں عیسائی اور سکیولر ذہن کے مسلمان دانشور برابر کے شریک رہے اس پارٹی کے مقاصد میں عربوں کو اسلام کی فکری پابندی سے نکال کر خالص قومی نقطہ نظر میں لانا تھا وہ اسلام کی مذہبی بنیاد کے بجائے عربوں کی سکیولر ثقافتی و قومی بنیاد کو اصل قرار دیتی ہے۔اس پارٹی کی اصل سربراہی عربوں کی سکیولر عنصر کے پاس رہی ہے پارٹی کا سب سے بڑا مفکر اور لیڈر کسی کی رہنمائی میں شام و عراق میں البعث العربی کے نظریات کو عروج حاصل ہوا شام کے عیسائی پروفیسر "میشیل عفلق” تھے جو پہلے شام میں رہے پھر سیاسی اختلاف کی بنا پر عراق چلے گئے اور صدام حسین آخر تک ان کی رہنمائی کے پابند رہے۔البعث العربی کا نظریہ تھا کہ مسجدیں اور عبادت گاہیں ترقی کی راہ میں حائل ہیں جن کی اہمیت کم کرنا ضروری ہے اور اسلام عربوں کی متعدد مذاہبِ میں سے ایک مذہب ہے جس کو بھی دائرہ میں رہنا چاہئے ان کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عربوں کی قومی فلاح و ترقی کے لئے تحریک چلائی تھی معاذ اللہ جس سے عربوں میں اتحاد اور تہذیب بڑھی یہ ایک قومی و وطنی کام تھا اس کے رو سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم عربوں کے ایک مصلح لیڈر تھے جیسے ہر قوم و جماعت میں ہوتے ہیں لہذا عربوں کو اس حیثیت سے ان کی قدر کرنا چاہئے اور اپنے قابل قدر اسلاف میں شمار کرنا چاہئے نعوذ باللہ من ذالک۔کیا ایک ایمان رکھنے والے مسلمان کے لئے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں یہ خیالات قابل قبول ہیں؟
سیاسی طریقے کار کے طور پر اس پارٹی نے اشتراکیت کے اصول و نظام کو اختیار کیا اور اپنی طاقت کا اصل سرچشمہ فوجی عناصر کو بنایا،چنانچہ اس پارٹی کو فروغ ان فوجی انقلابوں سے ہی ہوا جو اس کے ماننے والے فوجیوں نے کیا،اسی لئے پارٹی اپنی بقاء و فروغ کے لئے فوجی اقتدار کے طریقوں کو اختیار کرتی ہے جس میں ہر اختلاف و مخالفت کرنے والے کو ملک چھوڑنا یا کسی الزام میں یا سازشی طریقوں سے جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے جیسا آج کل دنیا میں ہورہا ہے،چنانچہ صدام حسین کے اثر و رسوخ و اقتدار کے دور میں جان سے محروم ہونے والوں کی تعداد خاصی رہی ہے۔
یہ حقائق کتابوں رسالوں کے ذریعہ بآسانی معلوم کئے جاسکتے ہیں لیکن ہمارے عوام کا مزاج ایسی سادگی اور جذبابیت کا حامل۔رہا ہے جس میں کوئی بھی طاقتور لیڈر اگر دل پسند قومی یا مذہبی نعرہ لگادے تو مسلمان اس شخص کے اصل عقیدہ اور اس کی زندگی کا اصل حال دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں سمجھتے اور محض اس کے ہر اثر عملی مظاہرے یا قومی و ملی یا جذبات کو متحرک کردینے والے نعروں کو کافی سمجھتے ہیں۔
مسلمانوں نے مصطفیٰ کمال،جمال ناصر کو ہیرو بنائے رکھا حالانکہ انہوں نے ترکی اور مصر کو تباہ و برباد کردیا اسی طرح انہوں نے صدام۔کو ہیرو سمجھا جن کے امریکہ اور روس سے برابر گہرے روابط رہے اور وہ عوام کو مسحور و متاثر کرنے کے لئے امریکہ پر لعن طعن اور دھمکیوں کی بارش کرتے رہے اور اندر دونوں کے رجحان اور ایماء معلوم کرتے رہے۔
لیکن کویت کے سلسلہ میں امریکہ کے ایماء کے حدود کو پوری طرح سمجھ نہ سکے یا ملک گیری اور طلب جاہ کے شوق میں نتائج کی پرواہ نہ۔کرسکے،امریکہ نے بھی ان کو جو سزا دی اس میں خود ان کی ذات اور ان کی اصل فوج جمہوری محافظوں کو گزند پہنچنے سے محفوظ رکھا ورنہ وہ اور ان کے ساتھی امریکہ کی بے تحاشہ بمباری سے محفوظ نہیں رہ سکتے تھے لیکن صدام حسین اپنی قوم و ملک کی تباہی کے باوجود برابر محفوظ و مطمئن رہے۔
ان کو ذاتی نقصان بہت کم ہوا البتہ امریکہ کو فائدہ پہنچا اس نے زبردست اور فاتحانہ جنگ کرکے دنیا پر رعب قائم کیا،کئی ماہ تک کئی لاکھ فوجیوں کی تنخواہیں امریکی خزانہ کے بجائے غیر ملکی خزانوں سے حاصل ہوئیں۔
جن لوگوں نے عراق کی مہم جوئی کی مخالفت کی ان کے لئے یہ ایک بڑی وجہ تھی کہ کویت پر اس کا حملہ اسلامی اور انسانی دونوں اصولوں سے سخت ظالمانہ اور غاصبانہ تھا،جو عراق کے مسلمان ہونے کے ناطے اور بھی زیادہ لائق مذمت تھا،دوسری وجہ یہ تھی کہ صدام اگر خدانخواستہ کامیابی حاصل کرتے ہوئے خلیج کے علاؤہ میں قبضہ حاصل کر لیتے تو اس علاقہ میں وہ "البعث العربی” کے انداز فکر کے تحت مذہبی اثرات کو دبانے سکیولر طور طریق کو مضبوط کرنے کی پوری کوشش کرتے صدام کی یہ کوشش کسی بھی صاحب غیرت مسلمان کے لئے ہرگز قابل قبول نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس خطہ میں حرمین شریفین کا علاقہ بھی ہے جن کی طرف ان کی نگاہیں کویت ختم کرنے کے بعد لگ گئی تھیں۔
سمیع  الله
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button