Sliderجہان کتب

صدرالدین اصلاحی صاحب کی کتاب فریضہ اقامتِ دین پر تبصرہ

تبصرہ نگار

شبانہ سید اظہر

ملت نگر اندھیری ممبئی مہارشٹر 

 

مصنف کا تعارف
مصنف مولانا صدرالدین اصلاحی صاحب
مولانا صدر الدین اصلاحی صاحب کا شمار ان کے علمی کاموں کی وجہ سے بیسویں صدی کے اہم مفکرین میں ہوتا ہے مولانا سید ابوالاعلی مودودی ان پر بہت اعتماد کرتے تھے اس اعتماد کا مظہر ہے کہ جب جماعت اسلامی ہند کی طرف سے ان سے خواہش کی گئی کہ وہ اپنی تفسیر "تفہیم القرآن” کی تلخیص کی اجازت دیں تو مولانا نے اس شرط کے ساتھ اس کی اجازت دی کہ یہ کام مولانا صدرالدین اصلاحی کریں گے کہا جاتا ہے کہ مولانا مودودی نے اسلام کے اجتماعی نظام کو ابھار کر پیش کیا ہے تو مولانا اصلاحی نے اللہ اور بندے کے انفرادی تعلق کو نمایاں کیا ہے ان کی کتابیں ” اسلام ایک نظرمیں” اور” اساس دین کی تعمیر” اس کا ثبوت پیش کرتی ہیں مولانا اصلاحی جماعت اسلامی ہند کے رہنماؤں میں سے تھے انہوں نے اپنی کتابوں "فریضہء اقامت دین” ، ” تحریک اسلامی ہند” اور” دین کا قرآنی تصور” کے ذریعے جماعت کی فکر کو مدلل کیا ہے۔

تبصرہ

امت مسلمہ کی امتیازی حیثیت— اللہ کے منتخب کردہ امت، ” امت مسلمہ” ہے جسے وجود میں لایا گیا ہے ایک خاص مقصد کےلئے
☆دوسری تمام جماعتوں یا گروہوں میں سے ایک نہیں بلکہ ان سب سے الگ اور ممتاز
☆ اپنے طرز فکر، طریقہ عمل، معیار، مزاج ،اور نصب العین میں بھی سب سے الگ مخصوص اور ممتاز۔
☆نوعیت اور حیثیت کے اعتبار سے بھی تمام قوموں سے مختلف اور ممتاز۔
امت مسلمہ کا مقصد وجود۔۔۔۔
"تامرون بالمعروف وتنہون عن المنکر و تؤمنون باللہ”
خاص کام جس کے لئے مسلمانوں کا یہ گروہ برپا کیا گیا ہے پوری نوع انسانی کو غلط فکروں سے اور غلط کاریوں سے روک کر صحیح راہ پر لائے اس خاص مقصد کے لئے اللہ تعالی نے دو اور تعبیریں اختیار فرمائی ہے ان میں سے پہلی تعبیر شہادت حق کی ہے اور دوسری تعبیر اقامت دین کی ہے اقامت دین کی اصطلاح دو لفظوں سے مرکب ہے ایک "اقامت” اور دوسرا "دین "اس کا مفہوم سمجھنے کےلئے ضروری ہے پہلے دونوں لفظوں کے الگ الگ معنی سمجھ لے جائے اقامت کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس وقت اس کے معنی سیدھا کر دینے کے اس مفہوم کو ایک مثال سے سمجھئے کہ قرآن میں نماز کی اقامت کا حکم دیا گیا ہے. "اقامت” کےاس مفہوم کی رو سے نماز کی اقامت یہ ہوگی کہ اسے اس کے تمام ظاہری آداب و شرائط اور سارے باطنی محاسن کے ساتھ ادا کیا جاتا رہے اس طرح نماز کا جو مقصد ہے وہ ادا ہوتا رہے لہذا دین کی اقامت یہ ہوئی کہ اس کے ماننے والے علمی اور عملی دونوں حیثیتوں سے اس کے ماننے کا حق ادا کریں ۔۔ دین کے لغوی معنی اطاعت کے ہیں مراد اللہ کی بندگی کا وہ طریقہ اور انسانی زندگی کا وہ نظام ہے جو اللہ تعالی کی جانب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اسکے بندوں کو عملدرآمد کے لیے دیا گیا ہے

پورا ماحول قرآنی اور پورا معاشرہ ایک متحرک قرآن نظر آنے لگے۔

اصول و مقاصد کی اہمیت۔۔

☆جماعت کی زندگی اس بات پر موقوف ہے کہ اس کی نگاہ اپنے مقصد پر جمی رہے۔
☆ مقصد سے عشق اور اصولوں پر یقین کا لازمی تقاضہ یہ ہے کہ اجتماعی نظم و نسق اس کے ہاتھ میں ہو اگر کوئی اور نظام اس پر مسلط ہو تو اس وقت تک چین سے نہ بیٹھے جب تک کے اس کی دھجیاں بکھیر نہ دے۔

اصول اسلام کی شرکت بیزاری۔۔

☆کوئی بھی جماعت یا مسلک اپنے مقصد اور اصولوں میں ترمیم برداشت نہیں کر سکتا۔
☆ اسلام تو قطا نہیں کرسکتا اس لیے کہ اس کا سرچشمہ الہی ہے۔
☆ کسی اور جماعت کے لیے اپنے مسلک کے خلاف اصولوں سے تعاون یا مصلحت ممکن ہو تو ہو ،مگر اس جماعت کے لئے اس کا تصور بھی حرام ہے۔
☆ دنیا میں اسلام کے علاوہ دوسرے جتنے بھی نظام پیش کئے گئے ہیں وہ سب انسان کے اپنے دماغ کی پیداوار ہیں۔ لیکن اسلام کا معاملہ اس باب میں بالکل دوسرا ہے اس کا دعویٰ ہے کہ میرا پیش کیا مسلک حیات اور میرے اصول کسی انسانی دماغ کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ علیم وخبیر کے تجویز فرمائے ہوئے ہیں جو
انسان کے فطری تقاضوں اس کے انفرادی اور اجتماعی مصلحتوں اور اس کے تمام داخلی و خارجی ضرورتوں کا صحیح اندازہ داں ہے۔

مقصد شناسی کا معیاری نمونہ۔۔

☆آغازمیں جو نمونہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے پیش فرمایا بس یہی ایک معیاری نمونہ ہے جسے جماعت کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا ہے ۔
☆ حالات کی ناسازگاری،ہولناک مصائب و مشکلات میں بھی یہ جماعت اپنے موقف سےایک انچ نہ ہٹے نہ مصلحت کرے نہ مداہنت(compromise)۔
☆ زیادہ دن نہیں گزرے تھے تھے کہ تاریخ انسانی کا وہ حیرت انگیز انقلاب وجود میں آیا جس کی منطقی توجیہ کرنے میں بڑی بڑی عقلیں دنگ ہیں۔

مقصد شناسی کا زوال۔۔۔

☆ابتدائی دور کے گزرنے کے بعد اس امت پر وہ دور آیا جب اس کے افراد کے ذہن میں اپنے زندگی کے مقصد کےنقوش ماند پڑھنے لگے اور ان کے اندر مداہنت کی بیماری جڑ پکڑنے لگی۔
☆ جب تک سیاسی اقتدار رہا اصولوں کے اعتبارسے مجموعی حیثیت سے خود فراموشی اور خودکشی کی راہ اختیار نہ کی مگر ان اصولوں کی جڑیں کھوکھلی ہوتی رہیں۔
☆ سیاسی زوال کے بعد فکری زوال اس تیزی کے ساتھ آیا کہ یہ جماعت اپنے آپ کو بھول چکی کہ اسکا مقصد حیات کیا ہے اسےنہ اپنا مقصد یاد رہا نہ اصول ۔
☆ ایک چھوٹی سی اقلیت ایسی بھی اس جماعت میں موجود ہے جو الحمداللہ خود فراموشی کے اس مقام تک ابھی نہیں پہنچی ہے اپنے مقصد،نصب العین اور اصول کو جانتی ہے،لیکن "خاموش مصالحت”کی "پرامن”روش پر گامزن ہے۔وہ یہ نہیں چاہتےکہ ان پر "ارباب سیاست” کی طرف سے "مذہبی مجنون”کا الزام لگے۔۔

یہ ذلت خواری آخر کیوں؟؟؟

☆ ہم مقصد وصول کو بھولے ہوئے ، مصلحت کوش، مداہنت پسند،بد عمل، احکام دین سے غافل،۔۔۔۔ سب کچھ سہی۔۔ آخر ہیں تو اس کے اور اس کے رسول کے نام لیوا ۔توحید کے تنہا علمبردار ۔۔۔ہمارے مقابلے میں ساری دنیا کافر، مشرک ،خدا کی باغی ، توحید کی منکر۔۔۔
☆پھر کیا بات ہے؟؟؟؟
کہ ہم پست اور وہ سر بلند؟؟؟
ہم مفلس وہ دولت مند؟؟؟
ہم ذلیل وخوار وہ صاحب اقتدار؟؟؟

قوموں کے عروج وزوال کا فلسفہ۔۔۔
☆ قوموں کے عروج و زوال میں دو قسم کے قوانین کارفرما ہیں 1۔ طبعی ۔2۔ اخلاقی(دینی)
اگر دونوں فریق آمنے سامنے ہوں ہو تب فتح اس کی ہوگی جو مادی اعتبار سے زیادہ قوی ہو
اگر دونوں مادی اعتبار سے مساوی ہوں تب فتح اس کی ہوگی جو اخلاقی اعتبار سے برتر ہو( اخلاقی سے مراد اعداد حقیقی دینی اخلاق

فریضہ اقامت  دین جاری                                                                                                    حتیٰ کہ اگر وہ مخالف کا دسواں حصّہ تب بھی اخلاقی قوانین اسے فتحیاب کر دیتے ہیں اسی ضابطے کے تحت امّت  مسلمہ کا ابتدائی دور "عظمت و سر بلندی” کا دور تھا

نقمت بقدر رحمت کا قانون :

جس گروہ پر الله کا جتنا زیادہ فضل و کرم اس کے دین و اخلاق کے بنا پر ہوتا ہے اسکی نا شکری پر پکڑ بھی ا تنی  ہی سخت ہوتی ہے -اپنے محبوب ترین بندے سے کہا گیا● "اگر تم کفارکی طرف ذرا بھی جھکے تودونوں جہانوں میں دوہرا عذاب {بنی اسرائیل ٧٤  ٧٥ }
●ازواج مطہرات سے فرمایا گیا "انمیں سے جو کھلی بے حیائی کی مرتکب ہونگی انھیں دگنا عذاب {الاحزاب٣٠ }امّت مسلمہ آج اسی جرم کی مرتکب ہو رہی ہے جو اس سے پہلے کی قوم معتوب اور مغضوب ہو چکی ہے۔ زبانی طور پر تو کفر نہیں کرتے لیکن مصالحت و مدانہت کے پردے میں عملا اسی کفر کے مرتکب ہوتے ہیں لہٰذا ذلّت و مسکنت کا وہی قانون ان پر بھی چسپاں ہے ۔

ہم اگر یہ پسند نہیں کرتے کہ ہماری موجودہ حالت جوں کی توں برقرار رہے ہم پر جو الزام لگا ہے ایک فرض نا شناس گروہ ہونے کا اسے دور کرنے کا واحد ذریعہ اور اس کے سوا اور کوئی راہ نہیں کہ اس اقامت دین کے فریضے کو اپنے کاندھوں پر اٹھا لیں کہ اسی میں اخروی فلاح و سعادت اور دنیوی کامرانی مضمر ہے –

● ” اگر قران کے پیروں ایمان رکھتے اور خدا ترسی کی راہ چلتے تو ہم انکی برائیاں  ان سے دور کر دیتے اور نعمت کے باغوں میں انھیں داخل کرتے اور اگر وہ قران کو قائم کرتے تو اپنے اوپر سے بھی رزق بٹورتے اور اپنے نیچے سے بھی ”
ملّت کے ٩٩ % اپنے جرم {نصب العین کو بھول جانے}کا کفارہ ادا کرنے کی بجاے یا اپنے عمل سے داغ دھونے کے بجاے گریز کے فلسفے تراش کر فرار کی راہیں تلاش کرنے میں لگے ہیں –

گریز کے فلسفے:

جہاں تک عام جائزے کا تعلق ہے یہ فلسفے پانچ ہیں-

١) دین کے جزوی اتباع پر اطمینان
٢) ناسازگار حالات کا عزر
٣) تاریخ خلافت سے استدلال
٤) تربص کا رویہ
٥) مہدی موعود کا انتظار

دین کے جزوی اتباع پر اطمینان:

"اجتماعی احکام کا نفاذحکومت کی زمہ داری ہے- اگر ایسی حکومت ہی نا ہو تب ایسے احکام ‘حالت اضطرار’ میں آ جاتے ہیں جنکا توڑنا شریعت میں مباح ہے-"

– پورے مجموعہ شریعت کی پیروی لازم- یہ کہنے کی کوئی جسارت نہیں کر سکتا کے عبادت و اخلاق کے سوا جو احکام ہے وہ بھرتی کے مضامین ہے- (نعوذ باللہ)
– سیاسی اقتدار نہ ہونے کی صورت میں ذمہ داری دوگنی ۔
– اضطرار کا قانوں صرف جان بچانے کی حد تک وہ  بھی شدید جزبہ کراہت کے ساتھ-

٢) ناسازگار حالت کا عزر:

علانیہ اس نصب العین کو پیش کرنا نا عاقبت اندیشی، خلاف مصلحت، وقت و قوت کا ضیاع، اور مفاد ملّت کے لئے مہلک- حالت کے سازگار ہونے تک جزی تدابیر-

– انبیاء کا اسوہ ہمیں یہ بتلاتا ہے کے وہ "اقامت دین” کا مشن لیکر دنیا میں اسی وقت بھیجے گئے جب حالت کی ناسازگاریاں اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھیں-
– "پھیر کے راستے” کی اس جدوجہد میں کچھ گنجائش نہیں- اگر یہ قابل عمل ہوتا یا اسمیں کوئی دینی مفاد ہوتا تو انبیاء کی تاریخ میں کہیں سے تو کوئی سراغ ملتا-
– یہ کہنا کی اقامت دین کی جدوجہد اس دور میں ممکن نہیں دوسرے الفاظ میں یہ کہنا ہے کہ اس دور میں مسلمان ہونا ممکن نہیں- اسلئے کی یہی اسلام کی روح اور حرکت قلب ہے-

٣) تاریخی خلافت سے استدلال:

نصب العین برحق- لیکن صدیق اور فاروق کہاں سے لائیں؟ جس مشن کو حضور (ﷺ)کی تربیت یافتہ جماعت ٣٠ برس سے زیادہ نا چلا سکی، اسکے لئے ہم ضعیف الایمان لوگوں کا دم خم دکھانا گویا تقدیر سے لڑنا ہے-
– اگر خلافت راشدہ اپنی معیاری شکل میں ایک دن بھی قائم نہ رہ سکی ہوتی تب بھی اقامت دین کی ذمہ داری جوں کہ توں باقی رہتی، اسلئے کی فرائض کا تعین نصب العین کریگا نہ کہ تاریخ-
– اگر ہم ابو بکر (رض) اور عمر (رض) جیسا ایمان نہیں لا سکتے تب پھر ہمیں ان مطلوبہ صفات کے لئے کوشش حتیٰ کہ مسلمان باقی رہنے کی کوشش بھی بند کردینی چاہیے-
٣- یہ غلط فہمی بھی قصداپیدا کی گئی ہے کہ اسلامی نظام صرف ٣٠ سال تک محدود رہا- یہ علمی بددیانتی اور تاریخ سے فریب کاری ہے-

٤) تربص کا رویہ:

"کوئی تو آگے بڑھے اور کامیاب گامزنی کا مظاہرہ کرے تب ہم اس جدوجہد میں شریک ہوں- کوئی اس راہ میں نظر بھی آتا ہے تو اسکی عزیمت مشکوک-”
١- یہ تو وہی بات ہے کہ امام کی نماز میں خلوص اور للّہیت نظر نہیں آتی لہذا نماز پڑھنی ہی چھوڑ دی جائے- اگر اقامت دین کے داعی یا گروہ میں واقعی خامیاں ہوں تو انھیں اپنی بے عملی کی سند بنانے کی بجائے ان سے دامن بچاتے ہوئے اس جھنڈے کو لیکر آگے بڑھیں اور انکے لئے ہدایت کی دعا کریں-
– اس سے بھی زیادہ شرمناک وہ ذہنیت ہے جو اس بات کی منتظر ہے کہ کب یہ اقامت دین کے ‘جھوٹے مدعی’ میدان چھوڑکر بھاگ کھڑے ہوں اور یہ پیچھے سے تالی پیٹ دیں، جیسے اعرابی حضور (ﷺ) اور آپ کے اولولعزم صحابہ کے بارے میں ہلاکتوں کی راہ تکا کرتے تھے- (و یتربص بکم الدوئر)التوبہ98۔اور تمہارے خلاف زمانے کی گردشوں کا انتظار کرتے ہیں۔

٥) مہدی موعود کا انتظار:

"انکی آمد سے پہلے امّت پر کوئی خاص ذمہ داری نہیں”  ١- امام مہدی کے تعلق سے نہ قرآن میں کوئی خبر ملتی ہے نہ احادیث میں ایسی کوئی مستند روایت ملتی ہے جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ اس معاملے کی کوئی خاص دینی اہمیت ہے-
– امام مہدی جب بھی آئیں گے اپنا فرض ادا کرینگے اس انتظار میں ہمارا فریضہ کیسے ساقط ہو سکتا ہے؟

گریز کی راہوں سے بچنے کا واحد طریقہ – "احتساب نفس کی ضرورت "

اگر دل نے اسکی صداقت قبول کرلی ہو تو اعتزار کے سارے دروازے بند ہوجانے چاہیے-
حق کو حق سمجھ لینے کے بعد اس سے منہ موڑنا اس سنت فرعونی کی پیروی کرنا ہے جسکا ذکر قران میں سورہ نمل میں کیا ہے (١٣-١٤)” جب ان کے سامنے ہماری واضح نشانیاں آئیں تو انہوں نے کہا یہ تو صاف جادو ہے،اور باوجود اس کے کہ ان کے دل ان نشانیوں کی حقانیت پر یقین رکھتے تھےانہوں نے ظلم اور سرکشی کی بنا پر ان کا انکار کر دیا۔”
اور اس سنّت کی پیروی کا انجام کیا ہو سکتا ہے وہ بھی سب کو معلوم ہے-

■اقامت دین کا طریقہ کارقران و سنّت کی روشنی میں :

قران کریم کو غور سے پڑھئے تو اصول و نکات بڑی آسانی کے ساتھ ہاتھ آجاتے ہیں جنکے مطابق اقامت دین کے جدوجہد کی جانی چاہیے-

١- تقوی کا التزام
٢- مضبوط و منظم اجتماعیت
٣- امر بالمعروف و نہی عن المنکر
یہ تین نکات ہیں جو اقامت دین کے بنیادی اصول کار ہیں-
اقامت دین کے لئے سب سے پہلے جس چیز کی ضرورت ہے اور جس کو اس راہ کی "شرط اول قدم” کہنا چاہیے وہ ہے اللہ کا تقوی اور اپنی آخری سانس تک ک ہرآن اور ہر لمحہ ایک مسلم بن کر زندگی بسر کرے۔
دوسری اہم چیز جو اقامت دین کے لئے ضروری ہے وہ جماعتی اتحاد۔ اللہ کا دین اپنے پیروؤں کو مضبوطی سے جڑ جانے کی زبردست ہدایت کرتا ہے۔ ( واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا)
اقامت دین کی تیسری بنیاد یہ ہے کہ انفرادی حیثیت سے اپنی اپنی ذات کے اوپر دین حق کا قائم کرلینا اور پھرایسے تمام افراد کا باہم جڑکر ایک جماعت بن جانا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان دونوں باتوں کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس "خیر” اور” معروف” کی طرف دوسروں کو بھی بلایا جائے جس کو خود قبول کیا گیا ہے، اور اس” منکر” کو اپنے مقدور بھرمٹا ڈالنے کی مسلسل کوشش جاری رکھی جائے جس کو خود ترک کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ خدا کی زمین کے کسی گوشہ میں اس کے دین کے سوا کسی اور دین کا اقتدار باقی نہ رہ جائے
اقامت دین کا یہ طریقہ اوراس کے یہ اصول تو ہمیں قرآن سے ملتے ہیں اب اگر آپ قرآن کے معلم صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کئے ہوئے طریق کار پر نظر ڈالیں گے تو پائیں گے کہ وہی اصول جو قرآن کے اندر الفاظ کے لباس میں تھے یہاں عمل اور واقعہ کی شکل میں موجود ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیک انہیں لائنوں پر ایک امت بنا کر اللہ کے دین کو قائم کیا تھا ۔قرآن اور سنت ہر ایک سے اقامت دین کے یہی تین بنیادی اصول معلوم اور متعین ہوتے ہیں ۔ اس فرض کو ادا نہیں کیا جاسکتا جب تک ان تینوں اصولوں پر پورے عزم اور استقلال کے ساتھ عمل نہ کیا جائے۔ اس عمل کی کوئی زمانی ترتیب نہیں ہے جس کی رو سے ضروری نہیں کہ پہلے اصول پر پوری طرح عمل کر لیں پھر دوسرے کے ابتدا کی جائے جب دوسرے اصول کی پیروی کا حق ادا ہوجائے تب تیسرے پر عمل کیا جائے اس کے برعکس صحیح بات یہ ہے کہ ان تینوں اصولوں پر عمل بیک وقت شروع ہونا چاہئے ۔
قلب انسانی میں جب ایمان کا بیج جگہ پکڑتا ہے ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ اس سے صرف تقوی کی جڑ ہی نکلتی ہواور نکل کر ایک مدت دراز تک خوب موٹی تازی اور مضبوط ہوتی رہتی ہو تب جاکر اتحاد ملی اور امربالمعروف کا موقع آتا ہو،بلکہ ہوتا یہ ہے کہ ساتھ ہی ساتھ اس سے ملی اتحاد اور امر بالمعروف کی شاخیں اور پتیاں بھی نکلنے لگتی ہیں ۔ پھر زمین کی زرخیزی اور بیج کی عمدگی کے مطابق تقوی کی جڑ جس قدر گہری اترتی جاتی ہےاسی قدر شاخیں اور پتیاں بھی بلندو بالا اور سرسبز و شاداب ہوتی جاتی ہیں۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button