Slider

صراط مستقیم

2 :قسط

فرحت الفیہ

جالنہ

سرخ مدھم روشنی پورے کمرے میں پھیلی ہو ئی تھی، وہ بستر پہ بائیں کروٹ پر اپنے ہاتھ رخسار کے نیچے لیے دنیا و ما فیھا سے بے نیاز، گہری نیند میں محوِخواب تھی۔رات کےتیسرے پہر اس کی آنکھ کھلی تواس نے اپنے پہلو میں خرم کو نیند کے عالم میں پا یا۔وہ یک لخت  اٹھ بیٹھی ۔سائیڈ ٹیبل پر رکھا اس کا سوئچ آف کیا ہوا مو با ئیل ویسے ساقط و جامد پڑا تھا جس طرح دو پہر میں اس نے مس ریحا نہ سے بات کر نے بعد رکھا تھا۔۔۔نیند کا غلبہ ختم ہونے پراس نےگھڑی کی طرف دیکھا، جو سرخ ومدھم روشنی میں بھی واضح نظر آ رہی تھی۔۔۔” پو نے تین بج گئے” حیرت اوراستعجاب کےملےجلےآثاراس چہرے پر واضح نظرآرہے تھےوہ کبھی گھڑی کی طرف تو کبھی اپنے پہلو میں سوئے خرم کو دیکھتی بیڈسے اتر تے ہو ئے اس نے اپنی سلیپرز تلاش کرنے کی کو شش کی اورجلد ہی تلاش کر نے میں کا میاب ہو گئی ۔
صبح نا شتے کے بعد ہی وہ ذرا آرام کر نے کے لیے لیٹی تھی تا کہ کچھ سستا سکے اور ذہنی تنا ؤ میں کمی ہوجا ئے۔”یا اللہ! میں پورا دن سو تی رہی ہوں۔با با آنے والے تھے۔ کسی نےمجھے جگا یا بھی نہیں دن بھر سونے کےباوجودبھی وہ اپنے اعصاب پر ایک بوجھ محسوس کررہی تھی ۔۔ایک بھاری بوجھ وہ اٹھ کر گیلری کی طرف آگئی یہ اس کا معمول تھا کہ جب وہ پریشان ہو تی تو آسمان کی طرف دیکھتی وسیع وعریض آسمان جس کی وسعتوں کی کوئی حد نہ تھی ۔۔۔نہ کو ئی سرا نہ کوئی کنارا پورا شہر ،شہر خموشاں کی ما نند خاموش لگ رہا تھا۔۔اکادکا اسٹریٹ لا یٹس نظر آرہی تھی۔
اس کا دل یکایک بھرآیا دل چا ہ رہا تھا کہ وہ خوب روئے خوب گلے شکوے کرے۔
 وہ  صبح کی ساری قضا نمازیں ادا کرنے کے بعد سر بسجود اپنے رب کے حضور رازونیاز میں مشغول اتھی۔
"اے وہ ذات! جو زندہ رہنے والی ہے۔اور زندہ رکھنے والی ہے۔
اے وہ ذات! جو قائم رہنے والی، اور قائم رکھنے والی ہے۔ میں تجھ سے تیری رحمت کی فریادکرتی ہوں
"اےاللہ!ساری تعریف کا سزاوار تو ہی ہے مولی !مجھ پر وہ بوجھ نہ ڈال جو میری جا ن نا تواں نہیں اٹھا سکتی میں تیری حقیروادنی بندی ہوں،مجھ پر رحم فر ما۔ میرے دل کو قرار عطا کر تو ہر کھلے چھپے بھید جا نتا ہے۔
میں تیرے چہرے کےنورکی پناہ چا ہتی ہوں اس سے کہ تیرا غیض وغضب مجھ پر نازل ہو۔۔میں
ہر برے عمل سے جو، تجھے ناراض کر نے والا ہے مولیٰ!تیری پناہ ما نگتی ہوں تو جا نتا ہے میں اپنی بر تری ،علم ولیاقت کا اظہار نہیں چاہتی اور نہ ہی دنیا کا حقیر مال ومتاع کا حصول میرا مقصد ہے۔
اللہ میں تو تیرے غافل بندوں کو تیری پہچان، کروانے کے خوا ہاں ہوں۔
تیری رضا والے کام کی رغبت پر ابھارنے کی خواہاں تیری عتاب اور ناراضگی سے ڈرانا چاہتی ہوں مولی !
میرے حال پر رحم فر ما  میرے اللہ! میں اپنے سارے غم کی شکایت صرف تجھ سے کر تی ہو ں۔صرف تجھ سے”
تیرےوہ بندےجو تیری دی ہو ئی توفیق سےصراط مستقیم پر چلنا چا ہتے ہیں ان کے لیے آسانیاں فر ما میرے مالک !
ن کے لیے نیکیوں کی راہ ہموار کردے میرے اللہ!
ان کو صراط مستقیم پر ثابت قدمی عطا کر”
وہ اپنی زبان حال سے اپنے رب کے حضور وہ کچھ مانگ رہی تھی جو اس کا رب اس کی زبان سے کہلوا رہا تھا۔
 آنسوؤں کی ایک لڑی تھی جو اس کی آنکھوں سے بہہ کراس کے رخساروںکو تر کر رہی تھی
وہ اپنے رب کےحضور سر بسجود تھی۔رات کے اس پہر جس کے بارے میں خود خداتعالی کا فر مان ہے کہ "ہے کوئی”جو مجھ سے ما نگے تو میں اسے عطا کروں؟؟
وہ دنیا وما فیھا سے بے نیازوبیزار بس اپنے رب کو پکا رے جا رہی تھی۔
نا لہء نیم شب کے بارے میں اس نے بچپن سے سنا تھا کہ یہ وہ کیفیت و حالت ہے جو اپنے رب سے سب کچھ منوا لیتی ہے۔
دعا کے بعد اس نے اپنے چہرے پر ہا تھ پھیرا جو بھاری پن وہ اپنے وجود میں محسوس کر رہی تھی اب اس کا نام ونشان بھی با قی نہ تھا ۔بھلاکیسے ہو تا ؟
وہ سارا بوجھ اپنے رب کے حضور چھوڑ آئی تھی۔۔۔اس کی بس ایک ہی خواہش تھی کہ اس کارب اس کے آنسوؤں کو  اپنے شا ن کریمی سے موتی بنا دے ۔
(جاری)
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button