اسلامیات

"صلہ رحمی کی اہمیت”

"صلہ رحمی کی اہمیت"

عفیفہ خان

(اچل پور،مہاراشٹر) 

 ایک خاندان کو مضبوط و مستحکم بنانے کے لئے اُس خاندان میں موجود ہر شخص کو خاندان کے تئیں حسب استطاعت ایک اہم کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔۔۔

 ایک سماج یا معاشرہ مضبوط و مستحکم اُسی وقت قرار پا سکتا ہے جب اُس سماج میں موجود ہر شخص اپنے ماتحت خاندان کی خوشحال تشکیلِ نو کرنے میں کامیاب ہو۔۔۔

کسی بھی خوشگوار رشتے یا خوشگوار خاندان کو برقرار رکھنے کے لیے بہت سی اہمیت کی حامل خصوصیات کی ضرورت ہوتیں ہیں، مثلاً__ محبت، اخوت، عزت، لحاظ، حسن اخلاق، معاملہ فہمی وغیرہ۔۔۔ اسی کے ساتھ غیر معمولی اہمیت کی حامل جو خصوصیت سب سے زیادہ معنی رکھتی ہے وہ ہے "صلہ رحمی” ۔

کسی شخص نے آپﷺسے پوچھا کہ، میں کونسے ایسے اعمال کروں جس کے بدلے مجھے جنت مل جائے؟

آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ، "اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کر، نماز قائم کر، زکوٰۃ دیتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو۔ ( بس یہ اعمال تجھ کو جنت میں لے جائیں گے___ صحیح بُخاری)”۔

دیکھئے عزیزان محترم! اللہ تعالیٰ نے جنت حاصل کرنے کے عوض جہاں اپنے حقوق کی ادائیگی فرض فرمائی وہیں ساتھ ہی حقوق العباد ادا کرنے کی بھی تاکید فرمائی ہے۔ اور حقوق العباد میں بھی "صلہ رحمی” کے معاملے پر زیادہ زور دیا۔۔۔

!! صلہ رحمی کیا ہے؟

آپ ﷺنے فرمایا, "کسی کام کا بدلہ دینا صلہ رحمی نہیں ہے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اُس کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ نہ کیا جا رہا ہو تب بھی وہ صلہ رحمی کرے۔

(صحیح بُخاری)

اللہ رب العزت خود بھی بڑا درگزر کرنے والا اور بہت زیادہ مہربان ہے اور اپنے بندوں سے بھی مہربان ہونے کی توقع کرتا ہے۔۔۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ مخلوق جسے اُس نے اشرف المخلوقات کا خطاب دیا وہ اپنے خطاب کے مفہوم کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہو۔۔۔ لہٰذا اسی بناء پر اللہ رب العزت فرماتا ہے، "تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا

 

ہمیں اپنے اطراف میں موجود ہر شخص کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ اختیار کرنا چائیے کیونکہ ایسا کرنے سےوہ ہمارے اخلاق سے متاثر ہوگا اور ہمارا رحمانہ اور مخلصانہ رویہ اُسے ہمارا !!گرویدہ بنانے کے لیے بہت موزوں ثابت ہوگا۔۔۔

اگر کسی ایسے خاندان کا ہم تجربہ کریں جہاں ایک دوسرے کے ساتھ رحمانہ برتاؤ نہیں کیا جاتا۔۔ ہمیشہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے کو لعن طعن کیا جاتا ہے، معمولی معمولی باتوں پر تنازعات کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔۔۔ تو ہم دیکھتےہیں کہ اُس گھر کا ماحول نہایت ہی پیچیدہ اور دشوار کن ہوتا ہے۔۔۔ اور اس طرح کے ماحول سے گھر کے باشندوں کو مضر اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور ہر وقت ایک تناؤ اور تنازع کا ماحول گھر والوں کی بےچین زندگی کا سبب بن جاتا ہے۔

اس کے برخلاف اگر کسی گھر میں ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق معاملہ فہمی اختیار کرتا ہے، گھر میں موجود صدر خانہ اپنی مقدرت کا غیر فائدہ نہ اٹھاتے ہوئے ہرشخص کی عزت کا لحاظ رکھتے ہوئے کسی کی عزت نفس کو تکلیف نہیں پہنچاتا بلکہ ہر ایک کے ساتھ حسن اخلاق کا معاملہ کرتا ہے، تو اُسکے گھر والے بھی اسکے ساتھ عزت کا معاملہ کرتے ہیں اور اُس گھر کا ماحول نہایت خوشگوار اور پر سکون واقع ہوتا ہے۔

"الله عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ ( النحل)”

"جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اُسے چائیے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔

(صحیح بُخاری)

نبی ﷺ نے ا رشاد فرمایا، "جو شخص اپنی روزی میں کشادگی چاہتا ہو یا عمر کی دارازی چاہتا ہو تو اسے چاہئیے کہ صلہ رحمی کرے۔”(صحیح بُخاری)

اسی طرح سے معتدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اور نبی ﷺ نے صلہ رحمی کرنے کا حکم فرمایا ہے۔

صلہ رحمی کرنے سے ایک دوسرے کے تئیں خلوص و محبت کا رشتہ قائم ہوتا ہے اور تعلق مضبوط تر ہوجاتا ہے۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے گھر کا ماحول بھی ہمیشہ خوشگوار اور پر سکون رہے تو آپ کو بھی اپنے اندر یہ صفت پیدا کرنی ہوگی اور ہر ایک کے ساتھ خلوصِ دل سے عفو و درگذر اور صلہ رحمی کا معاملہ کرنا ہوگا، تبھی آپ اپنے گھر کے ماحول کو خوشگوار ماحول بنانے میں کامیاب ہوں گے۔۔۔ اور پھر اسی طرح سے جب ہر خاندان خوشگوار اور مستحکم ہوگا تب ہم ایک خوشحال اور مستحکم معاشرہ کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے میں کامیاب واقع ہونگے.

ان شاء اللہ___

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button