Sliderفکرونظر

ظالم ضرور ہلاک ہوں گے” : اللہ تعالیٰ کا پختہ وعدہ 

( آخر کار انکار کرنے والوں نے اپنے رسولوں سے کہہ دیا کہ " ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے ، یا تمہیں ہماری ملّت میں واپس آنا ہوگا _" تب اُن کے رب نے اُن پر وحی بھیجی کہ " ہم اِن ظالموں کو ہلاک کر دیں گے اور اُن کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے _ یہ انعام ہے اُس کا جو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھے اور میری وعید سے ڈرے -"

” ظالم ضرور ہلاک ہوں گے” : اللہ تعالیٰ کا پختہ وعدہ

         انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ ظالموں کا رویّہ ہر دور میں یکساں رہا ہے _ طاقت و قوت اور اقتدار کے مالک ہمیشہ کم زوروں کو دباتے اور ان پر اپنا حکم چلاتے رہتے ہیں _ ان کی کوشش رہی ہے کہ دوسرے لوگ ان کی مرضی کے غلام بنے رہیں ، ان کے حکموں پر چلیں ،  وہ جو کہیں اسے بے چوں و چرا مان لیں اور اپنے حقوق کے لیے کوئی آواز نہ اٹھائیں _ جن لوگوں نے ان سے اختلاف کیا ان کا انھوں نے جینا دوبھر کردیا ، انھیں کھلے عام دھمکی دی کہ اگر ہماری بات نہ مانی اور ہماری فکر اور تہذیب و معاشرت کو قبول نہ کیا تو ہم تمہیں اپنے علاقے سے نکال باہر کریں گے _

        انسانی تاریخ نے اپنے صفحات میں یہ بھی محفوظ رکھا ہے کہ ظالم آخر کار اپنے مقصد میں ناکام رہے ، ہلاکت ان کا مقدّر ٹھہری اور جن لوگوں کو انھوں نے کم زور بناکر رکھا تھا وہ آخرکار نہ صرف ان کی گرفت سے آزاد ہوئے ، بلکہ مسندِ اقتدار پر فائز ہوئے _

          قرآن نے اسے اللہ تعالیٰ کی ‘سنّت’ کہا ہے _ ( بنی اسرائیل : 77 ) ایسا لگتا ہے کہ ان دنوں ہندوستان میں یہ سنّت جاری ہونے والی ہے _ ہندوستان میں ایک طبقہ غرور اور تکبّر سے چور ہے _ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے جیسے انسانوں کو ہزاروں برس تک بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا ہے اور انہیں جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کیا ہے  _ یہ لوگ اب مسلمانوں کو بھی تمام حقوق سے محروم کرنا چاہتے ہیں _ انھوں نے کُھلَّم کُھلّا اپنے اس عزم کا اظہار کیا ہے _ یہ لوگ گردن ٹیڑھی کرکے تحقیر آمیز انداز میں مسلمانوں کو ‘گُھسپیٹیا'(درانداز) کہتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ وہ ہر حال میں انہیں ملک سے نکال کر رہیں گے _ ان حالات میں سورۂ ابراہیم کی درج ذیل آیات مسلمانوں کو تسلّی دیتی ہیں ، ان کی ڈھارس باندھتی ہیں اور ان کے سامنے راہِ عمل روشن کرتی ہیں _

         سورۂ ابراہیم عہدِ نبوی کے مکّی دور کے آخری زمانے میں نازل ہوئی تھی _ یہ وہ زمانہ تھا جب اہلِ ایمان کا عرصۂ حیات تنگ کیا جا رہا تھا ، انھیں طرح طرح سے ستایا جا رہا تھا ، انھیں ان کے گھروں اور علاقوں سے نکال دینے کی دھمکی دی جا رہی تھی _ اس ماحول میں یہ آیات نازل ہوئیں :

وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِرُسُلِهِمۡ لَـنُخۡرِجَنَّكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِنَاۤ اَوۡ لَـتَعُوۡدُنَّ فِىۡ مِلَّتِنَا‌ ؕ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ لَــنُهۡلِكَنَّ الظّٰلِمِيۡنَ وَ لَـنُسۡكِنَنَّكُمُ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ‌ؕ ذٰ لِكَ لِمَنۡ خَافَ مَقَامِىۡ وَخَافَ وَعِيۡدِ (ابراہیم :13_14)

( آخر کار انکار کرنے والوں نے اپنے رسولوں سے کہہ دیا کہ ” ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے ، یا تمہیں ہماری ملّت میں واپس آنا ہوگا _” تب اُن کے رب نے اُن پر وحی بھیجی کہ ” ہم اِن ظالموں کو ہلاک کر دیں گے اور اُن کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے _ یہ انعام ہے اُس کا جو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھے اور میری وعید سے ڈرے -"

       یہ آیات درج ذیل نِکات پر مشتمل ہیں :

       (1) انکار کرنے والے (الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا) ، جنھوں نے دھمکیاں دی تھیں ، عام افراد نہ تھے ، بلکہ قوم کے سربرآوردہ ، سرکش اور ظلم و ستم کے خوگر لوگ تھے _ یہ اپنی طاقت کے نشے میں بدمست تھے _ ان کے لفظ لفظ سے رعونت ٹپکتی تھی _ ( تفسیر ابی السعود )

       (2) ان کی دھمکی تمام اہلِ ایمان کے لیے تھی ، لیکن انھوں نے رسولوں کو مخاطب بنایا _ اس لیے رسول اہلِ ایمان کے نمائندہ ، ترجمان اور سربراہ تھے  _

       (3) انھوں نے کہا کہ یہ ملک ہمارا ہے _ تمھیں لازماً ہمارے طور طریقے اپنانے ہوں گے ، ہمارا کلچر اختیار کرنا ہوگا _ تمھارے باپ دادا ہمارے راستے سے بھٹک گئے تھے _ اب تمھیں ہر حال میں گھر واپسی کرنی ہوگی ، ورنہ ہمارا ملک چھوڑنے کے تیار ہوجاؤ ، ہم تمھیں اپنے ملک میں کسی بھی صورت میں نہیں رہنے دیں گے ، بلکہ یہاں سے نکال باہر کریں گے _

   کتنی سخت تھی ان کی یہ دھمکی ؟! کتنا غرور تھا ان کے لہجے میں؟! کتنا زہر میں بُجھا ہوا تھا ان کا ایک ایک لفظ؟!

        ان لوگوں نے وہی کہا جو ہر زمانے کے ظالم و سرکش لوگ کہتے آئے ہیں _ حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کے بُرے کاموں پر انھیں تنبیہ کی تو انھوں نے کہا تھا : ” ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو ، یہ لوگ بڑے پاک باز بنتے ہیں _” ( الاعراف : 82 ، النمل : 56 ) حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کی سماجی برائیوں پر ان کی سرزنش کی تو انھوں نے دھمکی دی تھی : "ہم تمہیں اور تم پر ایمان لانے والوں کو اپنے ملک سے نکال دیں گے ، یا تمہیں ہماری ملّت میں واپس آنا ہوگا _”

( الاعراف : 82 ) اسی طرح آخری رسول اور آپ پر ایمان لانے والوں کو بھی ان کے مخالفین نے اپنے وطن سے نکال باہر کرنے کے منصوبے بنائے تھے _ ( بنی اسرائیل : 76)

        (4) اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو وحی کی اور ان کے واسطے سے اہلِ ایمان کو پیغام دیا کہ ”  ہم ضرور ‘ ظالموں’ کو ہلاک کرکے رہیں گے _” اللہ تعالیٰ ظلم کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرتا _ وہ ظالموں کی رسّی دراز کرتا ہے ، یہاں تک کہ جب وہ حد پار کرنے لگتے ہیں تو ان کی رسّی کو کھینچ لیتا ہے اور انھیں صفحۂ ہستی سے نابود کردیتا ہے _  یہاں قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ دھمکی حق کا انکار کرنے والوں(الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا) نے دی تھی _ جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم ‘انکار کرنے والوں’ کو ہلاک کرکے رہیں گے ، بلکہ فرمایا کہ "ہم ظلم کرنے والوں کو ہلاک کریں گے _” اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں پر ظلم سے اللہ تعالیٰ کا غیظ و غضب بھڑک اٹھتا ہے _ اس کا اعلان ہے کہ ظلم کرنے والوں کا انجام ہر حال میں ہلاکت ہے _

       (5) اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا کہ ظالموں نے جن لوگوں کو اپنے ظلم کا شکار بنایا تھا اور انہیں ملک سے نکال دینے کی دھمکی دی تھی ، انہیں ہم ظالموں کو ہلاک کرنے کے بعد اسی سرزمین میں بسائیں گے اور انہیں اقتدار سے بہرہ ور کریں گے _ قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ ظالموں نے کہا تھا کہ ملک ہمارا ہے ، اللہ تعالٰی اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ ملک کے مالک انسان نہیں ہیں _ روئے زمین تو اللہ کی ہے _ وہ جس کو چاہتا ہے ، اس کا وارث بنادیتا ہے _ گھمنڈ انسانوں کے لیے روا نہیں ہے ، کبریائی تو صرف اللہ تعالیٰ کو زیب دیتی ہے _

         (6) دوسری آیت کا آخری ٹکڑا بہت اہم ہے _ اس میں بتایا گیا ہے کہ ظالموں کی ہلاکت اور اہلِ ایمان کے لیے بشارت صرف اور صرف اس صورت میں ہے جب وہ یہ حقیقت اپنے پیش نظر رکھیں کہ ایک دن انھیں مرنا ہے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی پیشی ہونی ہے _  اس موقع پر ان کے تمام اعمال اور تمام کارکردگی اللہ تعالیٰ کے سامنے ہوگی اور اس کے مطابق وہ انہیں جزا یا سزا دے گا _  انہیں ڈرنا چاہیے کہ اگر انھوں نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق کام نہیں کیے اور اس کی نافرمانی کی تو مرنے کے بعد وہ اس کی سزا سے نہیں بچ سکیں گے _

        (7) ظالموں نے اہلِ ایمان کو اپنی طاقت و قوّت ، اپنے کرّوفر ، اپنے جاہ و اقتدار اور اپنی پولیس اور فوج سے ڈرانا چاہا تھا _ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم انسانوں سے نہ ڈرو ، بلکہ صرف مجھ سے ڈرو _ اور یہ حقیقت ہے کہ جو لوگ صرف اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے دلوں سے ماسوا اللہ کا ڈر نکل جاتا ہے _

         (8) ان آیات کے الفاظ کو پیشِ نظر رکھیے _ ظالموں نے دو دھمکیاں دیں ، اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے بھی دو بشارتیں دیں _  دھمکیوں میں جتنا زور ہے اتنا ہی ، بلکہ اس سے زیادہ زور ، تاکید اور تیقّن اللہ تعالٰی کی بشارتوں میں ہے _

        (9) اللہ تعالیٰ کا وعدہ اور بشارت ایک شرط سے مشروط ہے  _ اگر وہ شرط پوری نہ کی جائے تو اس کا وعدہ محض زبانی جمع خرچ کرنے سے پورا نہیں ہوگا _ اللہ تعالیٰ محض زبانی اظہار نہیں ، بلکہ عمل دیکھتا ہے اور اس کے مطابق اس کی جزا دیتا ہے _

          (10) ظالموں کی سرکوبی اور مظلوموں کو ان کے ظلم سے بچانا اللہ تعالیٰ کی سنّت ہے _ اس سنت کا ذکر قرآن مجید میں بار بار ہوا ہے _ سورۂ ابراہیم کی مذکورہ بالا آیات سے قبل کی آیات میں بھی اس سنّت کا بیان موجود ہے _ ان میں کہا گیا ہے کہ قومِ نوح ،  قومِ ھود ( عاد ) اور قومِ صالح( ثمود ) کے حالات دیکھ لو _ انہیں اسی سنّت الٰہی کے مطابق تباہ و برباد کیا گیا تھا _

[ تذکیر بالقرآن ، ماہانہ نشست ، مرکزی سکریٹریٹ ، جماعت اسلامی ہند ، یکم جنوری 2020 ]

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button