Sliderفکرونظر

ظلم پھر ظلم ہے ، اس کو مہلت نہ دو

   اسلام عدل و انصاف کا عَلَم بردار ہے _ اس نے سماج میں لازمی طور پر عدل قائم کرنے کا حکم دیا ہے ، چاہے معاملہ اپنے خلاف ہو ، یا اپنے رشتے داروں اور قریبی لوگوں کے خلاف ، یا اپنے دشمنوں کے خلاف _ ( المائدۃ : 8 ، الأنعام : 152 ) اسی طرح وہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے ، ظالموں کا ہاتھ پکڑنے اور مظلوموں کی حمایت کرنے کا تاکیدی حکم دیتا ہے _ یہاں اس موضوع پر چند نکات پیش کیے جا رہے ہیں :

ظلم پھر ظلم ہے ، اس کو مہلت نہ دو

محمد رضی الاسلام ندوی 

         آزادی ، مساوات اور عدل اسلام کی بنیادی قدریں ہیں _ ان سے وہ کسی بھی حال میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا _ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اس کے بنیادی تصوّرات  __ وحدتِ الہ اور وحدتِ انسان __ پر مبنی ہیں _ تمام انسانوں کی تخلیق ایک ذاتِ باری نے کی ہے ، پھر ان کے درمیان بھید بھاؤ کیوں ہو ؟ پھر ان کے درمیان عدل و انصاف سے کام کیوں نہ لیا جائے؟

       اسلام عدل و انصاف کا عَلَم بردار ہے _ اس نے سماج میں لازمی طور پر عدل قائم کرنے کا حکم دیا ہے ، چاہے معاملہ اپنے خلاف ہو ، یا اپنے رشتے داروں اور قریبی لوگوں کے خلاف ، یا اپنے دشمنوں کے خلاف _ ( المائدۃ : 8 ، الأنعام : 152 ) اسی طرح وہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے ، ظالموں کا ہاتھ پکڑنے اور مظلوموں کی حمایت کرنے کا تاکیدی حکم دیتا ہے _ یہاں اس موضوع پر چند نکات پیش کیے جا رہے ہیں :

      (1) ظلم ایک فرد دوسرے فرد پر کرے ، ایک گروہ دوسرے گروہ پر کرے ، ایک ملک دوسرے ملک پر کرے ، ایک فرد ایک گروہ پر کرے ، ایک گروہ کسی فرد پر کرے ،یا ایک ملک کا حکم راں اپنے کچھ شہریوں پر کرے ، جو بھی صورت ہو ، اسلام کے نزدیک ہر حال میں لائقِ مذمّت اور ناقابلِ برداشت ہے _

     (2) قرآن و حدیث میں ظلم کے بارے میں بہت سخت الفاظ میں تنبیہات کی گئی ہیں اور اس سے روکا گیا ہے : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

” اللہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا _” ( آل عمران : 140)

” اے میرے بندو ! میں نے ظلم اپنے اوپر حرام کرلیا ہے اور اسے تمھارے درمیان بھی حرام کردیا ہے ، لہٰذا تم میں سے کوئی کسی پر ظلم نہ کرے _” ( حدیث قدسی ، مسلم : 2577 )

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :

 ” مظلوم کی بد دعا سے بچو ، اس لیے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا _” (بخاری :  1469 ، مسلم : 19)

” مظلوم کی بددعا ہر حال میں بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوتی ہے ، چاہے وہ فاجر ہو _ ( احمد : 8795 )

     (3) ظلم کا انجام دنیا میں بھی بُرا ہے اور آخرت میں بھی _ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” کتنی ہی ظالم بستیاں ہیں جن کو ہم نے پیس کر رکھ دیا اور اُن کے بعد دُوسری کسی قوم کو اُٹھایا _”

( الانبیاء :11)

        اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے : ” ظلم کی سزا اللہ تعالیٰ آخرت میں تو دے گا ہی ، بسا اوقات ظلم کرنے والے کو دنیا میں بھی سزا دیتا ہے _” ( ابوداؤد : 4902 )

      (4) اسلام بہت سختی سے منع کرتا ہے کہ کسی صورت میں بھی ظالم کا ساتھ نہ دیا جائے _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

” جس شخص نے کسی ظالم کا ساتھ دیا ، یہ جانتے ہوئے کہ وہ ظلم کررہا ہے ، تو وہ اسلام کے دائرے سے نکل گیا _” ( بیہقی ، طبرانی )

” جس شخص نے کسی جھگڑے میں ظلم کرنے والے کی مدد کی اس پر اللہ کا غضب نازل ہوگا _” ( ابو داؤد : 3598 )

     (5) اسلام نے تاکیدی حکم دیا ہے کہ کسی پر ظلم ہورہا ہو تو ظالم کا ہاتھ پکڑا جائے اور مظلوم کی حمایت کی جائے _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :

” لوگ جب کسی کو ظلم کرتے ہوئے دیکھیں ، پھر بھی اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی سزا تمام لوگوں کو دے _ (ابوداؤد : 4338 ، ترمذی : 2168 )

 ایک مرتبہ آپ نے فرمایا :” اپنے بھائی کی مدد کرو ، چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم _ ” صحابہ نے عرض کیا : ” مظلوم کی مدد کرنا تو ہماری سمجھ میں آتا ہے ، یہ ظالم کی مدد کرنے کا کیا مطلب ہے؟” آپ نے فرمایا : ” اس کا ہاتھ پکڑ لو اور اسے ظلم کرنے نہ دو ، یہ اس کی مدد ہے _” ( بخاری : 2444 )

    (6) ظالم کا مقابلہ اور مظلومین کی حمایت اور مدد تمام انبیاء کا مشن رہا ہے _ قرآن مجید میں حضرت نوح ، حضرت ہود ، حضرت صالح ، حضرت لوط ، حضرت شعیب علیہم السلام اور دیگر انبیاء کی سرگزشت تفصیل سے بیان کی گئی ہے _ ہر نبی نے اپنی قوم کو شرک و بت پرستی اور دیگر برائیوں سے روکا اور ساتھ ہی ظلم سے باز رہنے کی بھی تاکید کی _ خاص طور سے فرعون کے مقابلے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ قرآن میں بہت تفصیل سے اور بار بار آیا ہے _ فرعون کی سرکشی بہت زیادہ بڑھ گئی تھی _ اس نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا ، ان سے بیگار لیتا تھا ، ان کے لڑکوں کو قتل کرتا اور لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا اور اس نے بہت زیادہ فتنہ و فساد پھیلا رکھا تھا _ ( القصص : 4 ) حضرت موسیٰ نے اس کے سامنے حق کی دعوت پیش کی تو ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ بنی اسرائیل پر ظلم و ستم سے باز آجاؤ _ ( طہ : 47)

     (7) خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی ظلم کی شدید الفاظ میں مذمّت کی ، ظالموں کا مقابلہ کرنے اور مظلوموں کی حمایت کرنے کا حکم دیا اور اس سلسلے میں عملی اقدامات بھی کیے _ بعثت سے قبل مکہ میں ایک موقع پر کچھ سربرآوردہ لوگوں نے مل کر ایک انجمن بنائی تھی اور اس کے تحت ایک معاہدہ تشکیل پایا تھا کہ مکہ کی وادی میں کسی پر ، چاہے وہ مکہ کا رہنے والا ہو یا کہیں باہر کا ہو ، ظلم نہیں ہونے دیں گے اور مل کر مظلوم کی مدد کریں گے _ اس معاہدہ کو ‘حِلف الفضول’ کے نام سے شہرت ملی _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اس معاہدہ میں شریک تھے _ آپ بعد میں بھی اس معاہدہ کا تذکرہ تحسینی انداز میں فرماتے تھے _ ( فتح الباري : 553/4 ، مجمع الزوائد :267/7)

      (8) اسلام کا تصوّر جہاد اصلاً ظلم کی سرکوبی اور اس کے خاتمہ کے لیے ہے _ اسلام چاہتا ہے کہ ہر شخص کو غور و فکر کی آزادی ہو ، وہ جو مذہب اور عقیدہ بھی چاہے، اختیار کر سکے ، کوئی کسی پر اپنی مرضی نہ تھوپے _ اسی لیے اسلام ان ظالم و جابر حکم رانوں کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہے جو اپنی رعایا کو اپنا غلام بناکر رکھتے ہیں اور ان پر ظلم و ستم ڈھاتے ہیں _

      (9) مسلم حکم راں ہمیشہ ظلم کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں اور ظالموں کی سرکوبی میں پیش پیش رہے ہیں _  ایک مظلوم عورت نے ‘وامعتصماہ’ کی دہائی دی تو عباسی خلیفہ معتصم باللہ نے ایک لشکرِ جرّار تیار کیا اور عموریہ پر حملہ کرکے اس عورت کو آزادی دلائی _ اندلس کے ایک مقامی حکم راں نے اپنے بڑے حکم راں کے ذریعے اپنی بیٹی کی آبرو ریزی کی شکایت کی تو طارق بن زیاد نے فوج کشی کی اور اندلس فتح کرلیا _ سندھ کے لٹیروں نے مسلمان مسافروں کے ایک قافلے کو لوٹ کر مردوں اور عورتوں کو قید کرلیا اور اس وقت کے راجہ داہر نے انھیں آزاد کرانے سے اپنی بے بسی ظاہر کی تو محمد بن قاسم نے حملہ کرکے انھیں آزاد کرایا _

        (10) ظلم کے خلاف کھڑے ہونا ، ظلم خود نہ برداشت کرنا اور دوسرے لوگوں کو بھی ظلم سے نجات دلانا مسلمانوں کی پہچان اور ان کی امتیازی شان ہے _ مسلمان جس ملک میں بھی پہنچے انھوں نے اپنا یہ امتیاز باقی رکھا _ اسی وجہ سے وہاں کے دبے کچلے لوگ جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہوئے اور اس کی پناہ میں انھوں نے چین کی سانس لی _

         ہندوستان کے موجودہ حالات اس کا تقاضا کرتے ہیں کہ مسلمان ظالم حکم رانوں کے خلاف عَلَمِ بغاوت کریں ، ان کی ظالمانہ پالیسیوں کو طشت از بام کریں ، برادرانِ وطن کو اپنے ساتھ لیں اور اس وقت تک خاموش نہ بیٹھیں جب تک ظالم اپنے ظلم سے باز نہ آجائیں _

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button