Sliderسیرت رسولؐ

عشق دل مصطفی

خاتم الانبیاءﷺ سے محبت رکھنے والوں کے نام ایک تحریر بعنوان

 

قادری کلثوم فاطمہ

 ، بنت عبد الواجد قادری

الله تعالٰی سے عشق نبی ﷺ کا ایک ذرہ بھی نصیب ہو جائے تو وہ دنیا وما فیہا کی نعمتوں سے افضل و بہتر ہے۔ ملت مرحومہ کی زندگی اور حیات، عشق نبی پر منحصر ہے۔ کائنات کی تمام نعمتیں رسول اللہ کی ذات اقدس کے ساتھ والہانہ عشق و محبت سے ہی میسر آتی ہے۔ ان پوشیدہ خوبیوں اور بہترین اخلاق کو اپنے طرز عمل سے وجود بخش دے۔ انسانی روح خاص طور مسلمان کی روح کو ان کی معیت اور عشق کے بغیر آرام اور راحت نصیب نہیں ہوتی ہے۔ ان کی ذات اور پیغام کے ساتھ عشق، ایسا دن ہے جس پر شام کبھی سایہ افگن نہیں ہوتی، وہ ہمیشہ روز روشن کی طرح تابندہ اور درخشندہ رہتا ہے
{ اقتباس – اقبال روح دین کا شناسا }

صبح کی کہر میں لپٹی ہوئی سورج کی دھندلکی شعاعوں نے پھولوں کو بیدار ہوتے دیکھا تو چپکے سے صحن میں اتر گئی۔۔۔ سردیوں کی یہ صبح دھیرے دھیرے پورے حویلی پر آشکار ہوئی تو اس نے دروازے کھول کر پردے ڈال دیے، پودوں کو پانی ڈالنے کی غرض سے واٹرنگ کین اٹھایا اور ننھے قطروں سے پودوں کو جگانے لگی۔۔۔ گلاب کے کٹورے میں موجود شبنم پانی کے ساتھ پھسل کر زمین کی آغوش میں جا بیٹھی۔۔۔ حویلی کے چاروں اطراف سبز پودے لگے ہوئے تھے۔۔ درمیان میں ایرانی طرز کا قالین تھا جس پر قرآن پڑھنے کے لیے چھوٹے ٹیبل رکھے گئے تھے۔۔۔ صحن کے سیدھے جانب دیوار کی الماری میں کتابیں نفاست سے لگائی گئی تھی دروازوں اور کھڑکیوں پر لگے سفید پردے ماحول کو سکونت بخش رہے تھے۔۔۔ تب ہی ایک بچہ دوڑتا ہوا اندر آیا۔
"سلام آبرو آپی”
"وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ” آبرو نے پلٹ کر ارحم کو دیکھا جس نے ہاتھوں میں ہری جھنڈیاں بڑے ادب سے تھام رکھی تھی۔
” یہ کیا لائے ہو ارحم ؟ ” آبرو نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
"آپ کو نہیں پتہ؟ آج ۱۲ ربیع الاول ہے نا تو میں یہ جھنڈی ہر گھرکے دروازے پر لگا آیا ہوں بس یہاں لگانا باقی ہے ” ارحم چاروں طرف نگاہیں گھما کر مناسب جگہ تلاش کرنے لگا
"اچھا! وہ کس لئے؟ ” آبرو نے نرمی سے بچے کی فکر جانچنے کی کوشش کی
"یہ اس لیے کہ میں پیارے نبی سے بہت محبت کرتا ہوں” ارحم نے کافی جوش سے جواب دیا
” اوہ تو کیا چاند تارے لگانے کا مطلب پیارے نبی ﷺ سے محبت کرنا ہوا؟ اور جو لوگ یہ نہیں لگاتے تو کیا وہ رسول اللہ سے محبت نہیں رکھتے؟ ” آبرو پھر سے پودوں کو پانی ڈالنے لگی
ارحم کے ننھے ذہن میں کوئی جواب نہ بن سکا تو وہ جلدی سے آبرو کے قریب آکر پوچھنے لگا ” آپی تو ہم کیسے ثابت کرے کہ ہمیں پیارے نبی ﷺ سے کتنی زیادہ الفت ہے؟ ”
آبرو نے مسکراتے ہوئے ارحم کو دیکھا
"بہت آسان ہے۔۔۔ محبت کا بہترین اظہار عمل سے ہوتا ہے، وہ کرو جو رسول اللہ نے کیا جو انہیں پسند ہے۔۔۔۔ کیا آپ ﷺ نے ان کی محبت میں ہری جھنڈیاں اور یہ سجاوٹ کرنے کے لیے کہا تھا؟
ارحم نے نفی میں سر ہلا دیا اس کی نظریں ہاتھوں میں موجود جھنڈیوں پر تھی جسے وہ رسول ﷺ سے عقیدت مندی کا اظہار سمجھ رہا تھا۔۔۔
"میں کونسا ایسا عمل کروں جس سے میری محبت کا اظہار ہو؟ ” ارحم نے نظریں اٹھا کر سے سوال کیا
آبرو کا کام کرتا ہاتھ رکا، واٹرنگ کین سے گرتی بوندیں بند ہوگئ۔۔۔۔ وقت کی گذر گاہوں پر چند مٹے ہوئے نقوش پھر اجاگر ہوئے، ماضی کی گہرائی میں ڈوبی صدائیں پھر اس کے کانوں میں گونجنے لگی۔۔۔۔ ارحم کا پوچھا گیا سوال سالوں پہلے خود اس کی زبان سے نکلا تھا۔۔۔
تب اس کے مربی نے اسکی صحیح رہنائی کی تھی_
تب اس کو مقام رسول ﷺ کا ادراک ہوا تھا__
تب اس نے عبدہٗ کے معنی و حقیقت کی صرف جھلک دیکھی تھی جس کا ادراک عام انسان کے فہم سے بالاتر ہے_
تب اس نے جانا تھا کہ عبدہٗ ذہنوں اور سیرتوں کی تعمیر کرتا ہے۔۔۔۔۔
عبدہٗ اللہ کا بندہ ہے جو روح پرور اور سیرت ساز ہے۔۔۔۔ وہ اللہ کے بندوں کی رہبری کرتا ہے۔۔۔۔ خالق کی پہچان کراتا ہے۔۔۔ وہ پوری کائنات کو بندگی کا رنگ دینے آتا ہے۔۔۔۔ دنیا اور انسانوں کے تو بہت رنگ ہے۔۔۔۔ مگر آبرو کے اُس سوال نے اسے سمجھا دیا کہ عبدہٗ کا ایک ہی رنگ ہے۔۔۔۔ اللہ کی بندگی کا رنگ، اللہ کا رنگ
"آبرو آپی بتائیں نا۔۔ کوئی عمل؟ ” ارحم نے ہری جھنڈیوں والے ہاتھ سے آبرو کی کہنیوں کو ہلایا تو وہ حال میں لوٹ آئی۔۔۔ اس نے واٹرنگ کین رکھ کر صحن کے درمیان میں قالین پر ارحم کے ساتھ بیٹھتے ہوئے سامنے دروازے کی طرف اشارہ کیا جس کے اوپر خوبصورت خطاطی میں لکھا تھا __’دارارقم’
"دار ارقم؟ یہ تو ہمارے مدرسے اور آپکے گھر کا نام ہے نا!؟ ” ارحم نے نا سمجھی سے پوچھا
"نہیں۔۔۔۔ دار ارقم میرے ‘عمل’ کا نام ہے، یہ پیارے نبی ﷺ سے میری محبت کا اظہار ہے” آبرو نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہنا شروع کیا
"سالوں پہلے جب میں نے اپنے مربی سے رسول ﷺ سے محبت بارے پوچھا تب انھوں نے مجھے کہا کہ آپ جس سے محبت کرتے ہو ان کی زندگی کے ہر پہلو کو دیکھو۔۔ ان کے ہر عمل کو پڑھو۔۔ ان کی پسند اور نا پسند کو جانو۔۔۔ پھر راہیں آپ کے لئے خود کھلے گی۔۔اور جب میرا سیرت سے گزر ہوا تو مجھے اپنا عمل دارارقم کی صورت میں خود ملا۔۔۔ یہ تبلیغ و اشاعت ِ دین کا پہلا اہم مرکز تھا جہاں مسلمان ابتدائی دینی تعلیم حاصل کرتے تھے سیرت کا یہ پہلو مورخین نے سر سری لکھا پر جب میں نے اس کے متعلق سوچا تو مجھے لگا یہ کام جو رسول نے کیا تھا اپنے اصحاب میں عمدہ اخلاق اور اعلی کردار کی تعمیر، یہی کوشش میں بھی کر سکتی ہوں۔۔۔ بس پھر تین لڑکیوں سے شروعات ہوئی اور یوں یہ گھر دار ارقم بن گیا۔۔۔ جو مجھے رسول ﷺ سے میری عقیدت کی چھوٹی سی جھلک دکھاتا ہے اس لیے ہری جھنڈیوں کا دارارقم میں کوئی کام نہیں۔۔۔ کیونکہ رسول ﷺ سے محبت کا اظہار یہاں کے طالب علموں کے عمل سے خود عیاں ہے ”
ارحم بہت غور سے آبرو کی باتیں سن رہا تھا اس کے ہاتھوں میں موجود ہری جھنڈیاں کہہ رہی تھی کہ ارحم اٹھو۔۔ اپنا محبت بھرا عمل تمھیں خود کھوجنا ہوگا۔۔۔ اس نے جھنڈیوں کو قالین پر رکھا، اٹھ کر سیدھے لائبریری کی طرف دوڑا ، اور سیرت النبی کے خانے سے کتابوں کی ورق گردانی شروع کر دی وہ اچھی طرح سمجھ چکا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔۔۔
آبرو کے پاس رکھی جھنڈیوں کو دیکھ کر اسے خیال آیا کہ رحمت للعالمین کے امتی ہونے اصل تقاضا یہ ہیکہ آپ پورے عالم کے لیے رحمت بنے۔۔۔ رہبر بنے۔۔۔ صراط مستقیم کی طرف بلانے والے بنے۔۔۔۔ ورنہ صرف ایک دن کی محبت سے کیا حاصل ہوجاۓ گا—-؟؟

کہتے ہیں چراغ سے چراغ جلتا ہے دار ارقم میں لگے پودے سوچنے لگے کہ ارحم کے روپ میں موجود یہ ننھا چراغ کتنے تاریک ذہنوں کو روشن کر پائے گا——؟؟

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button