Sliderمتفرقات

عظمتِ رفتہ کی بحالی کیوں کر ممکن ہے؟

کیپٹل ازم اپنے تمام اصولوں اور جزئیات کے ساتھ دنیا میں کہیں بھی قائم نہیں ہو سکا ہے۔ اگر اسلام تیس ( 30 ) سال تک دنیا کے کسی خطے میں اپنی کامل صورت میں قائم رہا تو یہ بہت بڑی بات ہے ۔

عظمتِ رفتہ کی بحالی کیوں کر ممکن ہے؟  

محمد رضی الاسلام ندوی

 

قرآن مجید نے دنیا میں مسلمانوں کے غلبے کو ایمان سے مشروط قرار دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو۔“

( آل عمران: 139 ) مسلمان بہ حیثیت مجموعی جب تک ایمان کو تھامے رہے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرتے رہے وہ باعزت زندگی گزارتے رہے ، لیکن جب ان کا ایمان کم زور ہوا ، انھوں نے قرآن و سنت پر عمل کرنا ترک کر دیا اور دنیا کے پیچھے دوڑنے لگے ، وہ ذلیل و خوار ہو کر رہ گئے ۔ علامہ اقبال نے اسی بات کو ان الفاظ میں کہا ہے   ؎

وہ  زمانے  میں  معزز  تھے  مسلماں  ہو کر

اور  تم  خوار  ہوئے  تارک ِ  قرآں  ہو کر

دنیا پر حکم رانی کے لیے مخصوص صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں ۔ یہاں ’بقائے اصلح‘(Survival of the fittest) کا قانون نافذ ہے ۔ جو بھی دنیا کا نظام چلانے کی بہتر صلاحیتیں رکھتا ہے ، اللہ تعالیٰ زمامِ اقتدار اسی کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے ۔ حکم رانی کے لیے معنوی اور مادی دونوں طرح کی طاقتیں مطلوب ہیں ۔ مسلمان اپنے عہد ِعروج میں ان دونوں سے لیس تھے ، اس لیے دیگر قومیں ان کے مقابلے میں ٹِک نہ سکیں اور وہ ملک پر ملک فتح کرتے چلے گئے ۔ لیکن جب ان کے ایمان و اخلاق میں کم زوری آگئی اور وہ علوم و فنون میں پیچھے رہ گئے تو وہ زوال کا شکار ہو گئے اور وہ قومیں ان پر غالب ہوگئیں جنھوں نے جدید علوم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی حاصل کر لی ۔

خامیوں اور کم زوریوں پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ان کا علم ہو ، پھر ان کو دور کرنے کی تدابیر اختیار کی جائیں ۔ کم زوریوں کا علم ہی نہ ہو ، یا ان کی درست نشان دہی نہ کی جا سکی ہو ، یا علم تو ہو گیا ہو، لیکن ان کے ازالے کی تدابیر نہ اختیار کی گئی ہوں ، بہ ہر صورت ان پر قابو پانا ممکن نہیں ہے ۔ امت مسلمہ کا بھی یہی معاملہ ہے ۔ امت کے زوال کے حقیقی اسباب کیا ہیں؟ یہ جاننے کی کوشش نہیں کی گئی ۔ کوشش کی گئی تو حقیقی اسباب کی نشان دہی نہیں ہو سکی ۔ جن اسباب کی تعیین کی گئی ان کے ازالے کی صحیح طریقے سے منصوبہ بندی نہ ہو سکی اور ان پر عمل نہ کیا جا سکا ۔ ظاہر ہے ، پھر یہ خامیاں اور کم زوریاں کیوں کر دور ہو سکتی تھیں؟!

قوموں کے عروج و زوال کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی ایک سنّت ہے ۔ قرآن مجید کا بیان ہے : ” یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں ، جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں ۔ “ ( آل عمران: 140 ) اللہ تعالیٰ کی یہ سنت امت مسلمہ کے معاملے میں بھی رہی ۔ وہ بھی صدیوں تک عروج کے منازل طے کرتی رہی ، پھر زوال اس کا مقدّر ٹھہرا ۔ امت نے جب تک علم کے خزانوں کو اپنی میراث سمجھا ، دوسری قوموں میں جہاں بھی علم کی روشنی دکھائی دی ، اس سے فیض اٹھایا ، اسے اپنی تہذیب کے سانچوں میں ڈھالا ، اس میں خاطر خواہ اضافہ کیا ۔ ساتھ ہی ان کے درمیان اتحاد و اتفاق قائم رہا ، دشمنوں کے مقابلے میں وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے رہے ، اس وقت تک ان کا ستارۂ اقبال بلند رہا ، کوئی ان کی طاقت کو توڑنے اور اس میں شگاف ڈالنے میں کام یاب نہ ہو سکا ، لیکن جب ان کی وحدت پارہ پارہ ہوئی اور وہ علوم کے میدان میں پیچھے ہو گئے تو وہ تیزی سے زوال کی کھائی میں گرتے چلے گئے ۔ تاریخی اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ عالمی سطح پر سقوط ِ اندلس ( پندرہویں صدی عیسوی ) سے مسلمانوں کا زوال شروع ہوا ، جو برابر جاری ہے۔

مغرب کی ترقی علوم و فنون کے میدان میں اس کی ترقی کی دین ہے ۔ جب مسلمان بام عروج  پر تھے تو اہل مغرب نے صدیوں تک ان سے فیض حاصل کیا ۔ مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتابیں کئی سو برس تک ان کی دانش گاہوں کے نصاب کا جز بنی رہیں ۔ ان کے تشنگانِ علم جوق در جوق اندلس آتے اور مسلم ماہرین کے سامنے زانوے تلمذ تہ کرکے اپنی پیاس بجھاتے تھے ۔ ان علوم میں انھوں نے تجربات و مشاہدات کے ذریعہ گراں قدر اضافے کیے ، جب کہ مسلمان سیاسی زوال کے نتیجے میں علوم و فنون سے بھی دور ہوتے گئے ۔ بہ قول اقبال   ؎

گنواں دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا  سے  زمیں  پر  آسماں نے ہم کو دے مارا

مگر  وہ  علم  کے  موتی کتابیں  اپنے آبا کی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارہ

مسلمان آج بھی ترقی کر سکتے ہیں ، بس شرط ہے کہ وہ علم سے اپنا رشتہ از سر نو استوار کریں ، جدید علوم و فنون میں مہارت پیدا کریں اور اس ارشاد نبویؐ کو اپنا ہدف بنا لیں : ”حکمت کی بات (علم) مومن کی گم شدہ پونجی ہے ، وہ اسے جہاں بھی پائے اس کا زیادہ مستحق ہے “ ۔ ( ترمذی:2487 )

بعض لوگ کہتے ہیں کہ خلافتِ راشدہ اپنی آن بان کے ساتھ دنیا میں صرف تیس سال( 30 ) باقی رہی ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کا سیاسی نظام ناکام رہا ہے ۔ یہ بات درست نہیں ۔ خلافت راشدہ اپنی کامل ترین صورت میں صرف تیس ( 30 ) برس قائم رہی ، یہ اسلام کے سیاسی نظام کی ناکامی کی دلیل نہیں ہے ، بلکہ اس سے اس کی کام یابی کا اظہار ہوتا ہے ۔ دنیا کا کوئی نظام اپنی آئیڈیل اور مکمل صورت میں ایک لمحے کے لیے بھی قائم نہیں ہو سکا ہے ۔ کمیونزم کو لے لیجیے ۔ اس کے جو مثالی تصورات ہیں وہ اپنی کامل ترین صورت میں ایک لمحے کے لیے بھی دنیا میں رو نما نہیں ہو سکے ہیں ۔ کیپٹل ازم اپنے تمام اصولوں اور جزئیات کے ساتھ دنیا میں کہیں بھی قائم نہیں ہو سکا ہے۔ اگر اسلام تیس ( 30 ) سال تک دنیا کے کسی خطے میں اپنی کامل صورت میں قائم رہا تو یہ بہت بڑی بات ہے ۔ دنیا کے سامنے ایک نمونہ موجود ہے ۔ اسلامی نظام کو قائم کرنے کی کوشش  مختلف ادوار میں کی جاتی رہی ہے ۔ سقوط خلافت کے بعد مشرق و مغرب میں بہت سی ایسی اسلامی تحریکات قائم ہوئیں ، جنھوں نے احیائے اسلام کے لیے اپنی سی جدو جہد کی ہے ۔ ان کی جدو جہد کو ناکام قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ صدیوں کے زوال و انحطاط کو یک دم ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ یہی کیا کم ہے کہ ان تحریکات نے زوال و فساد کو روکنے کی سعی مشکور کی ہے ، مسلم عوام کے ایمان و یقین کو تازہ کیا ہے اور ان کے دلوں میں اسلام کے غلبے و نفاذ کے لیے جدو جہد کرنے کا ولولہ پیدا کیا ہے ۔ اگر سمتِ سفر درست ہے اور منزل پر نگاہیں ہیں تو رفتار کتنی بھی سست ہو ، کوئی پروا نہیں کہ اٹھنے والاہر قدم منزل کی طرف لے جانے والا ہے۔

یہ صحیح ہے کہ مسلم دنیا اس وقت انتشار و افتراق کا شکار ہے ۔ اس میں کشت و خون کا بازار گرم ہے ۔ عالمی طاقتیں مسلمانوں کو باہم لڑا کر کم زور کرنا چاہتی ہیں اور وہ ان کے آلۂ کار بن رہے ہیں ۔ لیکن ان حالات سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہوشیاری ، دانش مندی ، عزم محکم ، عمل پیہم اور اتحاد و اتفاق کے ساتھ ان حالات پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔

عروج اور زوال ہر ایک کے اپنے اسباب ہیں ۔ عروج پانے کے لیے اس کے اسباب اختیار کرنا ضروری ہے ۔ امام مالک بن انسؒ نے فرمایا تھا : ” اس امت کے آخر کی اصلاح  اسی طریقے سے ہو سکتی ہے جس طریقے سے اس کے اول کی اصلاح ہوئی تھی ۔ “ عروج حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان اپنے ایمان میں پختگی لائیں ، اس کے تقاضوں پر عمل کریں ، اپنے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا کریں ، دینی علوم کے ساتھ عصری علوم میں بھی مہارت پیدا کریں ، اپنے وجود کو انسانیت کے لیے نافع بنائیں ، اسلام کا پیغام دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کریں ، موجودہ دور کے مسائل و مشکلات کو سمجھیں اور اسلام کو ان کے حل کے طور پر پیش کریں ۔

ReplyForward

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button