طب

علم نفسیات کا عام فہم تعارف

علم نفسیات کا عام فہم تعارف

ڈاکٹر احمد عروج مدثر

(اکولہ)

نفسیات کے وسیع تر مطالعہ کے لئے ضروری ہے کہ ہم طبعی (نارمل) نفسیات کو سمجھے ۔ یہ ایک بہت وسیع موضوع ہے جس میں انسان کے رویہ، جذبات، روابط، سوچ ، قیاس perception ،شعور، لاشعور وغیرہ کا مطالعہ کیا جاتا ہے اِسے سماجی اور کُلیاتی علم (social and  academic education) کا درجہ حاصل ہے ۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس علم کے حصول میں جہاں دماغ کے افعال اور اس کے اجزاء کے صورتحال کا مطالعہ کیا جاتا ہے وہیں غیر مرئی شئے نفس soul کا بھی مطالعہ کیا جاتا ہے ۔ اسی مناسبت سے اس علم کو علم نفسیات کہتے ہیں ۔ فطرت انسانی میں غیر مرئی شئے نفس کی بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ انسان کے افعال عین فطرت کے مطابق انجام پاتے ہیں اور ان افعال کو روبہ عمل لانے میں نفس کا اہم ترین رول ہوتا ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ ایک کام انجام دینے کے لئے فطرت تقاضا کررہی ہے لیکن نفس آمده نہیں ہے تو انسان مذکورہ کام سے دور رہے گا لیکن کسی خلاف فطرت کام کے لئے نفس انسان کو مجبور کرسکتا ہے ۔
ابن سینا کے مطابق نفسیات رویے اور عقل کے مطالعہ کا نام ہے ۔ اگر ان جامع الفاظ پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ۔۔۔۔
▪ نفسیات ایک سائنسی مطالعہ ہے جس میں منظم، بامقصد، اور تجرباتی طریقے سے جاندار کے رویے کو جانچا اور پرکھا جاتا ہے ۔
▪انسان کے عمل و درعمل، صبر و استقامت، افکار و نظریات میں  تنوع، کو جاننے کے ذریعے اس کے مزاج کا پتہ لگایا جاتا ہے
▪نفسیات میں عقل کا مطالعہ کیا جاتا ہے جس سے انسان کے شعور conscious اور لاشعور unconscious دونوں حالتوں کو سمجھا جاتا ہے
علم نفسیات کے تعلق سے عمومی غلط فہمی ہے کہ اس علم کے ذریعے پاگل یا ذہنی کمزور لوگوں کا علاج و معالجہ کیا جاتا ہے جبکہ اسکی عملی حیثیت واضح کرتی ہے کہ یہ ایک سماجی و کُلیاتی علم ہے اس کے سماجی حیثیت کُلیاتی حیثیت سے کہیں زیادہ ہے اس علم کے ماہرین کے تجربات بتاتے ہیں کہ اِس سے سماجی زندگی میں آنے والے بیشمار مسائل کا حل ممکن ہے ۔ ازدواجی مسائل، پیشہ وارانہ مسائل، تعلیمی مسائل، انفرادی مسائل یا جنسی مسائل کا حل نفسیاتی تدابیر سے ممکن ہے گوکہ کبھی کبھی دوائیوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ لیکن ان دوائیوں کی حیثیت معاون یا sporting  کی ہوتی ہے ۔
طبعی اور غیر طبعی نفسیات
Normal and abnormal psychology
مزاج Temperament میں اتار چڑھاؤ ایک حد تک نارمل ہے لیکن یہی کیفیت مستقل ہوجائے تو یقیناً فرد اور اسکے اہل خانہ کے لئے تکلیف کا باعث ہوتی ہے ۔ مزاج کی تبدیلی وقتی طور پر نارمل مانی جائے گی جبکہ اس کیفیت کا باربار ہونا غیر طبعی ہوگا جس کے نفسیاتی اسباب تلاش کرنا اور انکا علاج کرنا ضروری ہوگا ۔ ٹھیک اسی طرح غصہ Anger کی کیفیت بھی ہے اگر حالات و واقعات کے تناظر میں وقتی طور پر غصہ آرہا ہے اور وہ خود بخود کم بھی ہوجاتا ہے تو اسے نارمل consider کریں گے لیکن غصے کے ساتھ aggression ،توڑپھوڑ، مارپیٹ کی کیفیت ہورہی ہے تو اسے نارمل consider نہیں کرسکتے ہیں ۔ غصہ جذبات کے اظہار کا ایک طریقہ ہے جس کی حد متعین ہے اگر یہی غصہ حد سے تجاوز کرجائے تو یہ نفسیاتی مرض کی علامت ہے ۔
اضطراب Anxiety مستقبل کی بےجا فکر یا حالات کی وجہ سے خود کو لاغر محسوس کرنا گویا مکمل طور پر نفسیاتی عارضے کی نشاندہی کرتا ہے لیکن اس کا وقفہ یہ طے کرے گا کہ کس قسم کے علاج و معالجے ضرورت ہے بیشتر anxiety episode ایسے ہوتے ہیں جہاں کسی خاص علاج کی ضرورت پیش نہیں آتی بلکہ جس وجہ سے اضطرابی کیفیت پیدا ہورہی ہے اس کی اصلاح کردی جائے تو کافی ہوتا ہے ۔ اس مفروضے کے تناظر میں یہ کہا جائے کہ انتہائی کم وقفے کے لئے رونما اضطرابی کیفیت نارمل ہے جس سے ہر خاص و عام کا سابقہ پڑتا ہے تو غلط نہیں ہوگا ۔ نیند کی کمی lack of sleep اگر ذہنی دباؤ، یا حقیقی پریشانی کے سبب ہوتی ہے تو یہ نارمل consider کی جائے گی لیکن نیند کی کمی مستقل ہوجائے تو نفسیاتی مسئلہ بن جاتا ہے اس کیفیت میں یہ بات یاد رکھیں کہ نیند کی کمی چوبیس گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوناچاہئے کیونکہ دماغ کو طبعی طور پر processing کرنے کے لئے نیند بہت زیادہ ضروری ہے جسم کی یہ ہارڈ ڈسک زیادہ سے زیادہ چوبیس گھنٹے بوجھ سنبھال سکتی ہے
اللّٰه رب العزت نے انسانوں اور جانوروں کو فطرتاً جذبات و احساسات Emotions کے ساتھ پیدا کیا ہے مختلف طریقوں سے انسان و جانور اپنے جذبات و احساسات کو پیش کرتا ہے علم نفسیات میں انہی جذبات و احساسات کو دو گروہ میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ ایک بنیادی احساسات Basic Emotions اور دوسرا پیچیدہ احساسات Complex Emotions ہے بنیادی احساسات میں وہ تمام جذبات و احساسات شامل ہوتے ہیں جو فطرتاً انسان میں موجود ہوتے ہیں جیسے غصّہ، حیرت، خوشی، غم، بیزاری، ڈروخوف وغیرہ ۔ یہی بنیادی احساسات ایک حد تک انسان میں اثر انداز رہے تو وہ نارمل ہیں انہی بنیادی احساسات کا حد سے تجاوز کر جانا مرضی کیفیت کی علامت بن جاتی ہے۔ جبکہ تمام طرح کے پیچیدہ احساسات  نفسیاتی عارضہ ہوتے ہیں جیسے احساس کمتری، احساس برتری، توجہ طلبی Attention sickness ، وغیرہ
2020ء کے سروے کے مطابق ایک ہزار مریضوں میں سے 475 مریض نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ سب سے زیادہ نفسیاتی مسئلہ جنسی مسائل کو لیکر ہے ۔ جنسی امراض کے ماہرین کے مطابق 65 فیصد  مریض اپنی سوچ کی وجہ سے مریض بنتے ہیں جنہیں حقیقتاً کوئی بھی جنسی مسئلہ نہیں ہوتا ہے لیکن انکی سوچ اپنے متعلق منفی ہوجاتی ہے اور وہ حسب معمول ازدواجی تعلقات رکھنے کے باوجود مطمئن نہیں ہوتے ۔ انسان کی سوچ اور انسانی رویہ نارمل اور ائب نارمل نفسیات کی نشاندہی کرتا ہے ۔ منتشر، منفی، سوچ بہت بیمار ذہنیت کا عکاس ہے ۔
نفسیات کے مطالعہ کے دوران یہ بات پیش نظر رہنا چاہئے کہ ناشکری، حسد، کینہ، بغض، جلن، اور بدگمانی بھی نفسیاتی اتھل پتھل کا نتیجہ ہے ۔ اکثر لوگ دوسروں سے موازنہ کرنے میں اپنے وقت اور نعمت دونوں برباد کرتے ہیں جبکہ انسانی کا جذبہ تشکر اسے ہر حال مطمئن رکھتا ہے ۔ شکوہ و شکایت کے لئے ہزاروں باتیں مل جائیں گی لیکن غور کریں تو آج بھی صبح ویسے ہی ہے شام کی شفق آسمان بھی ویسے ہی ہے ۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ، درختوں سے آنے والی ٹھنڈی ہوائیں سب ویسا ہی ہے شکر گزار بن جاؤ تو ہر چیز کے مثبت پہلو سامنے آتے ہیں ورنہ اپنی تمام خوبصورتی کے باوجود آسمان کی رنگینیوں کو انسان محسوس نہیں کرتا ۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ کے باوجود کچھ سنائی نہیں دیتا، درختوں کے سبز پتوں کو دیکھ کر بھی کوئی احساس نہیں ہوتا ۔ نفسیاتی مریضوں کو بہار میں خزاں کا احساس ہوتا ہے ۔
لیکن یاد رکھیں کہ ہر بیماری اپنے آمد کی دستک ضرور دیتی ہے خاص طور پر نفسیاتی بیماریاں ۔۔۔ ضرورت ہے کہ اس دستک کو محسوس کریں اور وقت رہتے علاج کریں ورنہ علاج میں تاخیر امراض کے پیچیدہ ہونے کا سبب بنتی ہے ۔
Tags
Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button