اسلامیات

عورت کی معاشی جدو جہد کا دائرہ کار 

عورت کی معاشی جدو جہد کا دائرہ کار 

فردا ارحم 

عالم انسانیت کی علمبردار ، وجود انسانی کی بنیاد ، معاشرہ کی پیچان ‘ عورت ‘ ہے ۔

 لڑکی جب (بحیثیت بیٹی ) پیدا ہوتی ہے تو والدین کے لئے جنت کی دلیل بنتی ہے ، شادی کے بعد ( بحیثیت بیوی ) شوہر کی فرمانبرداری سے جنت میں اپنی جگہ بنا لیتی ہے ، اور جب ماں بن جاتی ہے تو اولاد کے لئے اس کے قدموں میں جنت ڈالی گئ ۔

قوموں کی اچھی تربیت سے عروج تک پہنچانے والی عورت ہے ، اور زوال کی ذمہ دار بھی عورت ہی ہے ۔

معروف قول ہے کہ

"ایک مرد تعلیم یافتہ ہو تو وہ صرف خود کے لئے فائدہ مند ہے لیکن اگر ایک عورت تعلیم یافتہ ہو تو وہ پورے سماج کے لئے فائدہ مند ہے ۔”

تعلیم کا مطلب عام طور پر یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ وہ پڑھنا لکھنا جانتی ہو ، اسکولی پڑھائ کی ہوئ ہو ، دراصل تعلیم کا مطلب یہ نہیں ہے ۔ بلکہ تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ جو بات سے ہم نا واقف ہیں اسے اپنے علم میں لایا جائے ۔

مثلاً : ایک باورچی پڑھا لکھا نہ ہونے کے باوجود پکانا جانتا ہے ، اپنے پیشے سے واقف ہے ۔

اسی طرح ایک عورت کو بحیثیت بیٹی ، بحیثیت بیوی ، بحیثیت بہو اور بحیثیت ماں اس بات سے واقف ہونا چاہیے کہ اس کی کیا ذمہ داریاں ہے ۔

       دور حاضر میں یہ عام ہوتا جا رہا ہے کہ لڑکیاں ، پیسے کمانے ، مردوں کی برابری کرنے کے مقصد سے تعلیم حاصل کر رہی ہیں ۔ میری نظر میں اعلی تعلیم حاصل کرنا اسلئے ضروری ہے تاکہ ہم اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرسکے ، خدمت خلق کا کام انجام دے سکیں ، نئ نسلیں بہتریں طریقے سے پروان چڑھا سکے ۔

"ہم بی بی فاطمہ کی فکری طبیعت کو گھر کی چہار دیواری میں اور حضرت ام عمارہ کو میدان عمل میں دیکھتے ہیں ۔ دونوں خواتین اپنی فطرت کے مطابق کام کر رہی ہیں ۔ پیارے نبی ﷺ نے کبھی فاطمہ کو میدان جہاد کے لئے ام عمارہ کی مثال دے کر نہیں اکسایا اور نہ ام عمارہ سے کہا کہ وہ فاطمہ کی طرح گھر سے لگی رہے ۔ گویاجس عورت کی جو صلاحیت ہو جس میدان کی وہ قابل ہو اس میدان میں وہ کام کریں”

          ( خان مبشرہ فردوس ) 

 اس قول سے یہ بات تو واضح ہے کہ اسلام یہ نہیں کہتا کہ عورت صرف چہار دیواری کے لئے بنی ہے ۔ اور نہ ہی یہ کہتا ہے کہ وہ مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ۔ کیونکہ مرد و عورت دونوں کو اپنے ذمہ داریوں کے مطابق قوت ، صلاحیت و جسم عطا کئے گئے ہیں ۔

دور نبوی ﷺ میں عورتوں کے معاشی مشاغل کی بات کی جائے تو حضرت خدیجہ تجارت کرتی تھی ، حضرت سودہ چمڑے کا کاروبار کرتی تھی ۔ اسلام میں عورتوں کو باہر جاکر کام کرنے کے حدود مقرر کئے گئے ہیں ۔ غرض یہ کہ ہر خاتون اپنی صلاحیت و فطرت کے مطابق ، اسلامی حدود میں رہتے ہوئے ، صلاحیتوں کا فروغ ، خدمت خلق ، دین کی تبلیغ کے مقصد سے اپنا کردار ادا کریں ۔

لیکن دور حاضر کی عورتیں اپنے حدود کو چیر کر مردوں کے برابری کے لئے دفتروں کی ملازمت ، سیاسی الجھنوں میں اس طرح جکڑ کر رہ گئ کہ وہ اپنے قدرتی فرائض کو بھول چکی ہے ۔ جس کی وجہ سے خاندان بکھر رہے ہیں ، نسلیں بگڑتی چلی جارہی ہے ۔

      اسلام نے عورت کو بلندی عطا کی ، اسے تحفظ بخشا ، اور سکون کے ساتھ معاشی کام انجام دینے کی اجازت دی ہے ، تو ملازمت پیشہ عورت کو چاہئے کہ وہ اسلام کے بتائے ہوئے حدود میں رہ کر ، اپنے فرائض کو انجام دیتے ہوئے اور خاندان کی رسی کو تھامے ہوئے قدم بڑھائیں ۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button