صحت

غذائی بے احتیاطی کینسر کا سب”

 عالیہ فردوس ڈاکٹر آفاق خان

"امی ! یہ روٹیاں تو ٹھنڈی ہیں”۔۔۔۔۔‌حامد کھانے کی میز پر بیٹھا،برتن میں رکھی روٹیاں دیکھ کر بولا۔
ہاں تو کیا ہوا؟؟
تازہ ہی ہے ۔کھالو
امی نے جواباً کہا۔
"آپ کو پتہ ہے نا کہ مجھے گرم روٹیاں اچھی لگتی۔۔۔مجھے نہیں کھانا ہے یہ ٹھنڈا کھانا۔ ” حامد ناراضی سے کہتا میز سے اٹھ کھڑا ہوا۔
"اوہو! یہ بچہ بھی نا
ٹھیک ہے بابا!  تم یہی بیٹھوں میں گرما گرم روٹیاں بنا کر لے آتی ہوں۔”۔۔۔۔۔۔۔۔ امی اسے مناتے ہوئے بولی۔۔۔
بیماری سے پاک صحت ایک نعمت ہے۔ اس کی حفاظت ہر ایک کے ذمہ  ہے ۔لیکن انسان جانے انجانے میں ایسی عادتیں اپنا لیتا ہے،جو اس کی صحت کو نقصان پہنچا دیتی اور  وہ بیماریوں کا آماجگاہ بن جاتاہے۔
ایسی ہی ایک عادت گرما گرم کھانا کھانے کی ہے۔یہ عادت جہاں اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ (حدیث: ۔”أبردوا الطعام الحار ؛ فإن الطعام الحار غير ذي بركة ” ،
": کہ کھانا ٹھنڈا کر کے کھایا کرو گرم کھانے میں برکت نہیں ہوتی” ۔۔۔السسلة الصحيحة ” )
وہی گرم کھانا کھانے کی عادت غذائی نالی کے سرطان (esophageal cancer) کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
غذائی نالی کا کینسر (esophageal cancer)  منہ اور معدے کی درمیانی نالی کا کینسر ہے۔
یہ کینسر ہندوستان میں کینسر سے ہونے والی اموات کی چوتھی عام وجہ ہے۔پورے ملک میں اوسطاً سالانہ بیالیس ہزار (42,000) اموات اس کینسر سے واقع ہوتی ہیں۔
  اس بیماری کی اصل وجہ  کھانے پینے کی لا پرواہی  ہے ۔ جیسے سگریٹ ، شراب نوشی اور تمباکو کا کثرت استعمال، نیز گرم مشروبات اورکھانے میں سرخ مرچ ،کیمکل زدہ اشیاء (بیکنگ سوڈا،فوڈ کلر ) کا استعمال کرنا۔اور کبھی یہ بیماری موروثی (genetics) یعنی نسل در نسل منتقل بھی ہوتی ہے۔
وادی کشمیر میں سب سے زیادہ اس کینسر (esophageal cancer) کے مریض پاـٔے جاتے ہیں۔وجہ ان کی طرز زندگی اور کھانا پینا ہے۔
سرد علاقہ ہونے کی بنا پر یہ لوگ کھانے پینے میں گرم اشیاء کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں۔گرم نمکین چاـْے، کھانوں میں گرم مسالے اور سرخ مرچ نیزحقہ ان کے یہاں عام ہے۔ہندوستان میں وادی کشمیر کے ساتھ ریاست آسام،ناگالینڈ،مگھالیہ اور میزورم میں بھی اس کینسر کے مریضوں کی تعداد زیادہ ہے۔
غذائی نالی کے سرطان کا شکار 40تا 70سال کے عمر کے افراد ہوتے ہیں۔اور خواتین کے بنسبت مردوں میں یہ بیماری عام ہوتی ہے۔کیونکہ غذائی لا پرواہی عورتوں سے زیادہ مردوں میں ہوتی ہے۔
نیز ترقی یافتہ ممالک میں اس مرض کے مریض زیادہ پاـٔے جاتے ہیں۔
چونکہ غذائی نالی کے سرطان(esophageal cancer) کی تشخیص دوسرے کینسر کی طرح دیر سے ہو پاتی ہے جب یہ اپنے آخری مرحلے(last stage) میں جا پہنچتا ہے۔ لیکن اگر شروعاتی علامتوں کو دیکھ کر جلد علاج کر لیا جائے تو ہونے والی اموات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
اس کینسر (esophageal cancer) کی علامتیں:
١: سینے میں دباؤ یا جلن (acidity)کی شکایت۔
٢: بار بار بد ہضمی  کا ہونا۔
٣:قے کا آنا۔
٤: کھانا کھانے پر دم گھٹنا۔
٥:کھانسی کا ہونا۔
٦:چھاتی کی ہڈی کے پیچھے یا گلے میں درد کی شکایت‌۔
٧: اور تیزی سے وزن میں کمی۔
اور اس کینسر کی واضح علامت متاثر کو نگلنے میں دشواری کا ہونا۔اگر کینسر کی رسولی(ٹیومر) زیادہ بڑھ جائے  تو ماـٔع تک نگلنے میں تکلیف محسوس ہوتی ہے۔
اس کینسر سے بچنے کا واحد طریقہ غذائی احتیاط ہے۔
؎       سچ یہی ہے سو دوا کی ایک دوا پرہیز ہے۔
اس کینسر سے بچنے کے لئے سگریٹ اورشراب نوشی سے دور رہے ۔
گرم تیکھا اور کیمیکل زدہ یعنی فوڈ کلر، پلاسٹک میں گرم کی گئی اور اسموک کی گئی(مزہ دوبالا کرنے کے لئے کھانے کو دھواں سے دم دیا جاتا ہے) ایسی تمام غذاؤں سے گریز کریں۔
      "قدرتی غذا کھائیے اور کینسر کو دور بھگائیے”۔
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button