Sliderفکرونظر

غیر مرئی وبا اور دنیاوی طاقت

قدرت کی ایسی مار پڑی ہے کہ آج ساری دنیاوی طاقتیں اس کے آگے لاچار ہو گئی ہیں۔

ثمر آرزو

(مئو ناتھ بھنجن، یوپی)

اللہ رب العزت نے دنیا کی تمام مخلوقات میں انسان کو اشرف المخلوقات کا شرف بخشا ہے اور اسے امتیازی شان عطا کی ہے۔امتیازی شان اس بنا پر کہ ہم انسانوں کے پاس سوچنے، سمجھنے، بولنے، پڑھنے، لکھنے کی ایسی صلاحیت بخشی ہے جو کہ دنیا کی دوسری مخلوقات میں نہیں ہے۔آج دنیا تکنیکی دور سے گزر رہی ہے جب کہ گزشتہ دَور میں ایسا نہیں تھا۔انسان اپنی عقلِ سلیم کی بنیاد پر ترقی اور کامیابی کے مراحل طے کرتا ہوا آج اس دَور میں داخل ہو گیا ہے کہ اس نے پوری دنیا پر فتح حاصل کر لی ہے۔بڑی سے بڑی بیماریوں، آفات اور مسائل کو چٹکیوں میں حل کرنے کا ذریعہ اللہ نے ہم انسانوں کو بنایا ہے ہمیشہ کوئی نہ کوئی بیماری، مشکلات اور پریشانیاں سر اٹھاتی ہیں لیکن انسان اپنی عقلِ سلیم کی بنا پر ان پریشانیوں پر فوقیت حاصل کر لیتا ہے لیکن آج ایک غیر مرئی وبا نے پوری دنیا میں تباہی مچائی ہوئی ہے جسے ہم کرونا وائرس کے نام سے جانتے ہیں۔

اس وائرس نے پورے عالم کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے، ہر طرف قیامت برپا کر دی ہے۔ بڑے سے بڑے طاقتور ملک نے اس مہلک وبا کے آگے اپنے ہاتھ پاؤں پھیلا دیئے ہیں اور بےبس ہو گئے ہیں۔ لاکھوں، کروڑوں لوگ اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ہر دن ہزاروں اموات اس وائرس کی زد میں آنے سے ہو رہی ہیں لیکن بڑے سے بڑے ڈاکٹر، عالمی صحت تنظیم، یہاں تک کہ طاقتور سے طاقتور ملک میں جہاں کے اسپتال عالمی پیمانے پر فہرست اوّل کا مقام رکھتے ہیں آج اس وائرس کے آگے بے بس ہو گئے ہیں۔کوئی دوا، کوئی طاقت، کوئی تکنیک کام نہیں کر رہی ہے۔ ایسی لاچاری اور بےبسی ہے کہ پوری دنیا گھروں میں محصور ہو کر رہ گئی ہے۔ کوئی کسی کا پرسانِ حال نہیں ہے، نفسا نفسی کا عالم ہے، غریب، مزدور فاقے سے مر رہے ہیں، دولت بھی کسی کام کی نہیں ہے۔ پوری دنیا کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔بازار بند، اسکول، کالج بند، دکانیں بند، آمد و رفت کا سلسلہ بند، سب کچھ ہی بند ہے غرض کہ لوگوں کا ایک دوسرے سے ملنا جلنا بھی بند ہو گیا ہے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے یہ کیا ہو رہا ہے۔

قدرت کی ایسی مار پڑی ہے کہ آج ساری دنیاوی طاقتیں اس کے آگے لاچار ہو گئی ہیں۔ کل تک اپنی قوت کی بنا پر جن ممالک کا ڈنکا پوری دنیا میں بج رہا تھا آج وہ خون کے آنسو رو رہا ہے، کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ اللہ نے ہم انسانوں کو دنیا کی تمام مخلوقات میں جو برتری عطا کی ہے آج اس برتری کے احساس نے ہمیں زعم میں مبتلا کر دیا ہے اور اسی تکبر اور زعم نے ہمیں تباہی کے دہانے پر لا کر کھڑا کر دیا۔ ہم نے قدرت سے کھلواڑ کرنا شروع کر دیا تو قدرت نے ہمارے اوپر اپنا عذاب مسلط کر دیا۔دنیا کی رنگینیوں میں ہم ایسا کھو گئے تھے کہ اچھے، برے، حرام، حلال کی تمیز ہی ختم ہو گئی تھی۔ ہمارے گناہوں کی گٹھری اتنی بھاری ہو گئی تھی کہ ہم اس کے بوجھ سے جھکے ہوئے تھے، ہمارے دل اتنے سیاہ اور پتھر ہو چکے تھے کہ ہم ہر احساس سے عاری ہو گئے۔

ہمیں خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کے لئے قدرت نے ابھی ایک ہلکا سا طمانچہ مارا کہ پورے عالم میں تہلکہ مچ گیا۔ ہماری بد اعمالیوں کے نتیجے میں اللہ کا قہر ہم پر نازل ہو گیا ہے مسجدیں ویران ہو گئی ہیں، عبادت گاہیں خالی ہو گئی ہیں یہاں تک کہ ہم گناہ گاروں پر بیت اللہ کا طواف بھی بند ہو گیا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اللہ کے آگے روئیں گڑگڑائیں اور اپنے گناہوں سے توبہ کریں تاکہ اللہ کا جو قہر ہم پر نازل ہوا ہے اللہ ہمیں اس سے نجات دے، ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے، اپنے دین پر چلنے کی اور نیک عمل کرنے کی توفیق بخشے۔

 آمین ثم آمین یا رب العالمین

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button