Sliderاسلامی تحقیقات

غیر مسلموں سے سماجی تعلقات

اسلام غیر مسلموں کے ساتھ بھی انسانی ہمدردی اور محبت کا درس دیتا ہے، البتہ تہذیبی اختلاط اور کسی دوسرے مذہب میں ضم ہونا اسے قطعاً گوارا نہیں ہے۔

مولانا ولی اللہ مجید قاسمیؔ

        دنیا کے مختلف ملکوں میں زمانۂ قدیم سے ایک سے زیادہ قومیں رہتی بستی چلی آرہی ہیں۔ ان کے درمیان بالعموم حاکم اور محکوم کا رشتہ رہا ہے۔موجودہ دور میں بعض سیاسی، معاشی، علمی اور فکری اسباب کی بنا پر ایک ملک سے دوسرے ملک میں آمدو رفت کا سلسلہ بہت بڑھ گیا ہے۔ ایک ملک کے باشندوں کو دوسرے ملک کی شہریت بھی آسانی سے مل جاتی ہے اور ان کے حقوق بھی تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اس طرح اب یہ ایک عالمی مسئلہ ہے کہ ایک ملک میں ایک سے زیادہ قومیں اور تہذیبیں کام کر رہی ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے تعلقات بھی زیربحث رہتے ہیں۔ اسی ذیل میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ غیرمسلموں کے ساتھ صحیح اور جائز رویہ کیا ہے؟ اس موضوع پر غور کرتے وقت موجودہ عالمی صورت کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ وہ یہ ہے:

        ۱۔مسلمان بعض ملکوں میں بہت بڑی اکثریت میں ہیں۔ وہاں ان کی حکومتیں قائم ہیں۔ ان ممالک میں دیگر مذاہب کے ماننے والے اپنے حقوق کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

        ۲۔غیر مسلم ممالک میں مسلمان کہیں منتشر اور بکھرے ہوئے ہیں۔ انھیں اپنے دین ومذہب اور تہذیب کو باقی رکھنا دشوار ہورہا ہے اور کہیں ان کی اپنی آبادیاں ہیں اور وہ اپنی انفرادیت اور تہذیبی روایات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ اکثریت سے ان کے خوش گوار تعلقات بھی ہیں اور تہذیبی لحاظ سے وہ ان سے الگ بھی ہیں۔

        ۳۔بعض ممالک کا اسلام اور مسلمانوں کے معاملے میں معاندانہ رویہ ہے اور بعض ممالک غیر جانب دار ہیں اور انھیں کسی کے دین ومذہب سے کوئی بحث نہیں ہے۔

        ۴۔بعض ممالک نے مسلم ممالک پر حالتِ جنگ مسلط کر رکھی ہے اور بعض ممالک کے ان سے بہتر تعلقات ہیں۔

        اسلام نے غیر مسلموں سے سماجی اور تہذیبی روابط کے ذیل میں جو ہدایات دی ہیں ان کے متعلق یہ جاننا ضروری ہے کہ ان میں کس ہدایت کا کس صورتِ حال سے تعلق ہے؟۔ذیل کے مقالے میں اسلام کی تعلیمات کو ایک خاص رخ سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور کس حکم کا کس صورتِ حال سے تعلق ہے اس کا ضروری تجزیہ نہیں ہوسکا ہے۔ جہاں تک غیر مسلموں کے انسانی اور اخلاقی حقوق کا سوال ہے اس پر اس خاک سار کی کتاب وغیر مسلموں سے تعلقات اور ان کے حقوق میں تفصیل سے بحث ہے۔ اسے دیکھا جاسکتا ہے۔   (جلال الدین)

غیر مسلموں کے درمیان رہائش پذیر ہونا:

        جب دو مختلف تہذیبوں کا اجتماع اور اختلاط ہوتا ہے تو اثر اندازی اور اثر پذیری کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتاہے،جس میں غالب تہذیب کااثرنمایاں ہوتاہے۔ ہندوستانی مسلمانوں میں جو طرح طرح کے رسم ورواج اور بدعات وخرافات پائے جاتے ہیں وہ سب ہندوتہذیب و ثقافت سے اثر پذیری کا نتیجہ ہیں، حالاں کہ اسلام اس سلسلہ میں بڑاحساس ہے اور تہذیبی اختلاط اور غیروں کے طور طریقوں کی مشابہت کسی بھی درجے میں اسے گوارا نہیں ہے کہ درحقیقت یہ صرف ظاہری مشابہت نہیں، بلکہ باطنی مرعوبیت کی علامت ہوتی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے میرے جسم پر زعفرانی کپڑا دیکھ کر فرمایا:

ان ہذہ من ثیاب الکفار فلا تلبسہما ۱؎

یہ کافروں کا لباس ہے، اسے مت پہنو

        حضرت ابو ہریرہؓ سے منقول ایک روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

ان الیہود والنصاری لایصبغون فخالفوہم  ۲؎

یہودو نصاری خضاب نہیں لگاتے، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو(اور خضاب لگائو)

        مشرکین مکہ بھی پگڑی باندھتے تھے اور مسلمان بھی، دونوں کے درمیان فرق کی صورت کیا ہو، اللہ کے رسول ﷺ نے حکم دیا کہ تم پگڑی کے نیچے ٹوپی پہنا کرو، فرق مابیننا وبین المشرکین العمائم علی القلانس۳؎،اسی طرح سے بعض روایتوں میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے چھری سے گوشت کاٹ کر کھانے سے منع فرمایا ہے کہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے۴؎ کسی صحابی کے ہاتھ میں فارسی کمان دیکھ کر فرمایا کہ اسے پھینک دو اور عربی کمان استعمال کرو۔۵؎

        یہ اور اس طرح کی دوسری روایتوں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تہذیبی اور ثقافتی مشابہت کو اسلام میں کس درجہ ناپسند کیا گیا ہے۔ غیر وں کے ساتھ رہنے بسنے میں اس سے بچنا بہت مشکل ہے، اس لیے احادیث میں مسلمانوں کے لیے ایسی جگہ رہنے کو پسندکیا گیا ہے جہاں ان پر غیر اسلامی تہذیب کی چھاپ نہ پڑے، بلکہ ایسی جگہ جہاں فکرو عقیدہ کی آزادی حاصل نہ ہواور عبادت اور اسلامی شعائر پر پابندی ہو، وہاں سے نقل مکانی کرنا ضروری اور فرض قرار دیا گیا ہے۔ایسی حالت میں استطاعت کے باوجود غیر مسلموں کے درمیان رہنا سخت وعید کا باعث ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:

لایقبل اللہ عزّ وجلّ من مشرک بعد ما اسلم عملا اویفارق المشرکین الی المسلمین ۶؎

کوئی مشرک اسلام قبول کرلے تو اللہ کے یہاں اس وقت تک اس کاکوئی بھی عمل قابل قبول نہ ہوگا جب تک کہ وہ مشرکوں کو چھوڑ کر مسلمانوں سے نہ آملے۔

        حضرت سمرہ بن جندبؓ سے منقول ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

من جامع المشرک وسکن معہ فانہ مثلہ ۷؎

جس شخص کا مشرکوں کے ساتھ اختلاط ہو اور وہ ان کے ساتھ رہے وہ انہی جیسا ہے۔

        علامہ خلیل احمد سہارنپوریؒ اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’مشرکین کے ساتھ جمع ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ رسم ورواج، عرف وعادت، ہیئت اور لباس میں ان جیسا بن جائے اور ان کے ساتھ رہنا ان جیسا بن جانے کی وجہ اور سبب ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے شخص کا حکم کافروں جیسا ہوگا، اور ’’فتح الودود‘‘ میں اللہ کے رسول ﷺ کے قول فانہ مثلہ(وہ ان ہی جیسا ہے) کی شرح میں لکھا ہے کہ قریب ہے کہ وہ انہی جیسا ہوجائے، کیوں کہ پڑوس اور صحبت کا اثر یقینی ہے۔ ۸؎

        علامہ ابن تیمیہؒ کہتے ہیں کہ بظاہر ان کے ساتھ سکونت پذیر ہونا ان کے اخلاق اور اعمال بد کے ساتھ مشابہت کا سبب ہے، بلکہ عقیدہ وفکر بھی متاثر ہوسکتا ہے، لہٰذا کافر کے ساتھ رہنے والا انہی کی طرح ہوجائے گا۔ ۹؎

        حضرت جریر بن عبد اللہؓ سے منقول ایک روایت میں ہے، فرماتے ہیں :

بعث رسول اللہ ﷺ سریّۃ الی خثعم، فاعتصم ناس منہم بالسجود فاسرع فیہم القتل فبلغ ذلک النبی ﷺ فامرلہم بنصف العقل، وقال: انا بری من کل مسلم مقیم بین أظہر المشرکین، قالوا یارسول اللہ لم؟ قال لاتترأی ناراہما ۱۰؎

اللہ کے رسول ﷺ نے قبیلۂ خثعم سے جنگ کے لیے ایک دستہ روانہ فرمایا۔ مسلم فوجیوں کو دیکھ کر کچھ لوگ قتل سے بچنے کے لیے ایمان کے اظہار کے طور پر سجدہ میں چلے گئے، لیکن یہ لوگ قتل کردیے گئے، اللہ کے رسول ﷺ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے آدھی دیت ادا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: میں ہر ایسے مسلمان سے بری ہوں جو مشرکوں کے درمیان قیام پذیر ہو، لوگوں نے دریافت کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: تاکہ وہ ایک دوسرے کی آگ کو نہ دیکھ سکیں۔

        حدیث کی تشریح میں علامہ خطابیؒ نے متعدد اقوال نقل کیے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ عربی زبان میں ’نار‘ کا اطلاق سیرت اور اخلاق پر بھی ہوتا ہے۔ حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے رسول نے کافروں کے ساتھ رہنے سے اس لیے منع فرمایا۔ تاکہ مسلمان ان کی سیرت اور عادات واطوار سے متاثر نہ ہوں۔ ۱۱؎

        مولانا بدر عالم میرٹھیؒ نے اپنے مخصوص انداز میں اس کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے:

        ’’یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کفار سے دور رہنے کا جو حکم یہاں دیا گیا ہے وہ صرف اسی لیے ہے کہ اسلامی معاشرہ کفر کے اثرات سے متاثر نہ ہو۔ یہ خطرہ وہیں پیدا ہوسکتا ہے جہاں اسلام کو اقتدار وطاقت حاصل نہ ہو، جہاں اسلام کو شوکت وطاقت حاصل ہو وہاں عقلی اور نفسیاتی اعتبار سے تاثر کا سوال ہی نہیں ہوتا ہے۔ حدیث مذکور میں ’’لاتترای ناراہما‘‘ کا فقرہ ایسے ہی ماحول میں ارشاد فرمایا گیا ہے جہاں مسلمان مقہوری کی زندگی بسر کررہے تھے۔ پس معاشرتی اور معاشی بُعد(دوری) کا حکم ایسی جگہ ہے جہاں کفر کااقتدار ہو۔ کوئی شبہ نہیں کہ ایسی فضا میں گھس رہنا اسلامی اسپرٹ کو فنا کردینے کے مترادف ہے، اس لیے اگر علیٰحدہ ہونے کی طاقت نہ ہو تو کم از کم اس زندگی کی کراہت سے کسی وقت قلب خالی نہ رہنا چاہیے اور صرف کراہت ہی نہیں، بلکہ عملاً اس سے نجات کا راستہ تلاش کرنا بھی زندگی کا نصب العین بنانا چاہیے۔ ۱۲؎

        حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی نظری اور استدلالی مسئلہ نہیں کہ اس کے لیے دلیل اور بہت زیادہ غور وفکر کی ضرورت ہو، بلکہ یہ تو مشاہداتی اور تسلیم شدہ معاملہ ہے کہ جہاں دوسری تہذیب کو غلبہ اور اقتدار حاصل ہو اور مسلمان کم زوری اور مجبوری کی زندگی بسر کررہے ہوں وہاں غالب تہذیب کا اثر قبول کرنا یقینی ہے، بلکہ اس کے لیے اقتدار بھی ضروری نہیں ہے، بلکہ تعداد میں اکثریت کافی ہے۔

        لیکن اگر کسی کو خود پر اعتماد ہو کہ وہ غیروں کے درمیان رہتے ہوئے بھی ان سے متاثر نہیں ہوگا، بلکہ وہ اپنے اخلاق و کردار سے اسلام کا مبلغ ثابت ہوگا تو ایسے شخص کا ان کے درمیان رہنا ہی باعث ثواب ہے، اس لیے کہ صحابۂ کرام، تابعین عظام اور بزرگان دین نے مختلف شہروں اور ملکوں میں اقامت اختیاری کی، جب کہ وہاں ان کے سوا کوئی دوسرا اللہ کا نام لیوا نہ تھا۔ یہ انہی کی کوششوں اور دعائوں کااثر ہے کہ دنیا کے ہر حصے میں اسلام کے علم بردار موجود ہیں۔

غیر مسلموں کے مذہبی تہواروں میں شرکت اور مبارک بادی:

        قرآن حکیم میں رحمان کے بندوں کی ایک صفت یہ بیان کی گئی ہے:

وَالَّذِیْنَ لَایَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَ وَاِذَا مَرُّوْ بِاللَّغْوِ مَرُّوا کِرَاماً(الفرقان:۷۲)

اور جولوگ جھوٹے کاموں میں شامل نہیں ہوتے ہیں، اور لغویات پر سے گزرتے ہیں تو شرافت کے ساتھ نکل جاتے ہیں۔

        اس آیت میں لفظ’ـزور‘ سے متعدد چیزیں مراد ہیں، جن میں مشرکوں کا تہوار بھی ہے۔ چناں چہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے منقول ہے کہ ’زور‘ مشرکوں کا تہوار ہے الزور عید المشرکین۱۳؎  اسی طرح کی تفسیر مجاہدؒ، ابن سیرینؒ اور ضحاکؒ سے بھی منقول ہے۔ ۱۴؎

        حضرت انسؓ سے منقول ایک روایت میں ہے، فرماتے ہیں :

قدم رسول اللہ ﷺ المدینۃ ولہم یومان یلعبون فیہا، فقال ماہٰذان الیومان؟ قالواکنا نلعب فیہا فی الجاہلیۃ، فقال رسول اللہ ﷺ ان اللہ قدابد لکم بہا خیراً منہا یوم الأضحیٰ ویوم الفطر(۱۵)

اللہ کے رسول ﷺ مدینہ تشریف لائے، دیکھا کہ وہاں کے لوگ سال کے دو مخصوص دنوں میں کھیل کو د کرتے تھے۔ آپ نے ان سے دریافت کیا: یہ کیسے دو دن ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا: جاہلیت میں ہم ان دنوں کھیل کود کیا کرتے تھے، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کے بدلے میں اس سے بہتر دو دن عنایت کیے ہیں : عید الاضحی اور عید الفطر کادن۔

        اللہ کے رسول ﷺ نے جاہلیت کے تہوار ختم کردیے اور ان دنوں میں انھیں کھیل کود کرنے کی اجازت نہیں دی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں تمہیں دوسرے دو دن عنایت کیے ہیں۔ تبدیلی کا مفہوم یہ ہے کہ جس کے بدلے میں یہ دن ملے ہیں وہ ترک کر دینے چاہیے، لہٰذا تبدیلی کے باوجود ان کے تہواروں میں شرکت معصیت ہوگی۔ غیر مسلموں کے موجودہ تہواروں میں شرکت جاہلیت کے تہواروں سے زیادہ قبیح اور خطرناک ہے، کیوں کہ امت مسلمہ کو یہود ونصاری کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے اور ان میں شرکت ان کے ساتھ مشابہت ہے۔ ۱۶؎

        ایک دوسری حدیث میں ہے:

نذر رجل علی عہد رسول اللہ ﷺ ان ینحرا بلا ببوانۃ، فقال النبی ﷺ ہل کان فیہا وثن من أوثان الجاہلیۃ یعبد؟ قالوا لا، قال فہل کان فیہا عید من أعیاد ہم؟ قالولا، قال رسول اللہ ﷺ أوف بنذرک…۔۱۷؎

اللہ کے رسول ﷺ کے عہد مبارک میں ایک شخص نے ’بوانہ‘ نامی جگہ میں اونٹ ذبح کر نے کی نذر مانی۔ اللہ کے رسول ﷺ نے پوچھا: کیاوہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت ہے جس کی پرستش کی جاتی ہو؟ لوگوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: کیا وہاں جاہلیت کے تہواروں میں سے کوئی تہوار منایا جاتا ہے؟ کہا گیا: نہیں، تب اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: جائو اپنی نذر پوری کرو۔

        جب ان تہواروں کی جگہ پر نذر کا جانور ذبح کرنا ممنوع ہے، حالاں کہ اس وقت وہاں تہوار منایا نہیں جاتا تھا، تو ان کے تہواروں میں شرکت ضرور ممنوع ہوگی۔

        حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو ایک ولیمہ کی دعوت ملی۔ موقع پر حاضر ہوئے، وہاں خرافات دیکھ کر واپس آگئے اور فرمایا کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ سے سنا ہے:

من کثّر سواد قوم فہو منہم ومن رضی عمل قوم کان شریک من عمل بہ(۱۸)

جو کسی قوم کی تعداد میں اضافہ کرے تو اس کا شمار انہی میں ہوگا، جو کسی قوم کے عمل سے راضی ہو تو وہ بھی اس عمل میں شریک ہوگا۔

        حضرت عمرؓ سے منقول ہے، وہ فرماتے تھے:

لاتدخلو علی المشرکین فی کنائسہم یوم عیدہم فان السخطۃ تنزل علیہم ۱۹؎

مشرکوں کے تہواروں کے موقع پر ان کی عبادت گاہوں میں مت جائو کیوں کہ وہاں اللہ کی ناراضگی برستی رہتی ہے۔

        نیز وہ کہا کرتے تھے کہ اللہ کے دشمنوں سے ان کے تہواروں کے موقعوں پر اجتناب کرو، (اجتنبوا اعداء اللہ فی عیدہم )۲۰؎

        علامہ ابن قیمؒ نے لکھا ہے: ’’اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ مشرکوں کے تہوار کے موقع پروہاں حاضری اور تعاون مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے۔ ائمہ اربعہ کے تابع فقہا ء نے بھی صراحتاً اسے ناجائز قرار دیا ہے‘‘۔ ۲۱؎

        مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سے دریافت کیا گیا کہ کفار کے میلوں میں مثل گنگا وہری دوار وغیرہ میں جا کر مال فروخت کرنا درست ہے یا نہیں ؟ اگر قرض دار ہو اور امید فروختگی مال کی ہو کہ قرض ادا ہوجائے گا تو کیا کرے؟ انھوں نے جواب دیا:

        ’’ہر گز جانا درست نہیں ہے، اگرچہ قرض دار ہو اور امید فروخت مال اور نفع کثیر کی ہو، مطلقاً شرکت ایسے مواقع کی گناہ اور حرام ہے‘‘۔۲۲؎

        ان تفصیلات سے معلوم ہوا کہ غیر مسلموں کے مذہبی اجتماعات اور میلوں وغیرہ میں شرکت کرنا درست نہیں ہے کہ ان تہواروں کا ایک مشرکانہ پسِ منظر ہے، ان سے مذہبی عقیدتیں وابستہ ہیں، اسی طرح سے انھیں ان تہواروں کے موقع پر مبارک باد دینا بھی ناجائز ہے۲۳؎ البتہ غیر مذہبی اجتماعات وغیرہ میں شرکت درست ہے۔ اسی طرح سے دعوت و تبلیغ کے مقصد سے مذہبی اجتماعات اور تہواروں میں بھی شرکت جائز ہے، ’عکاظ‘ وغیرہ کے میلوں میں اللہ کے رسول ﷺ کی شرکت ہمارے لیے بہترین اسوہ ہے۔

تہواروں میں مسلم قصاب کا گوشت فروخت کرنا:

        کفار کے میلوں میں مسلمان قصاب کے لیے برائے فروخت جانور ذبح کرنا بھی ممنوع ہے، کیوں کہ مطلقاً ان کے تہواروں میں شرکت نادرست ہے اور یہ ایک طرح سے معصیت میں تعاون ہے، علامہ ابن القیمؒ لکھتے ہیں :

لایحل للمسلمین ان یبیعوا من النصاری شیئا من مصلحۃ عیدہم

مسلمانوں کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ نصاری کو ایسی چیز فروخت کریں جو ان کے

ولا لحما ولا دما ولا ثوبا ولا یعارون دابۃ ولا یعاونون علی شییٔ من عیدہم لان ذٰلک من تعظیم شرکہم وعونہم علی الکفر وہو قول مالک وغیرہ لم اعلمہ اختلاف فیہ۔۲۴؎

 عیدمیں کام آسکے، نہ گوشت، نہ سالن، نہ کپڑا اور نہ عاریت پر انھیں سواری دی جائے،ان کے عید سے متعلق کسی بھی چیز میں ان کا تعاون نہ کیا جائے، اس لیے کہ اس میں شرک کی تعظیم اور کفر کی مدد ہے۔ یہی امام مالک کا قول ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ اس میں کسی کا کوئی اختلاف ہے۔

غیر مسلم کے لیے ایصالِ ثواب:

        کسی غیر مسلم کی وفات کے بعد اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا حرام ہے۔ اگرچہ وہ قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ کے رسولﷺ نے ابو طالب کے لیے مغفرت کی دعا کرنی چاہی تو قرآن نے صراحتاً اس سے منع کردیا: ۲۵؎

مَاکَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ آمَنُوآ اَنْ یَّسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْ کَانُوْآ اُوْلِی قُرْبٰی مِنْ بَعْدِ مَاتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْم(التوبۃ:۱۱۳)

نبی اور مسلمانوں کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں، اگر چہ وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، جب کہ ان کے سامنے واضح ہوچکا ہے کہ یہ لوگ جہنمی ہیں۔

        غیر مسلموں کے لیے دعائے مغفرت سے ممانعت کی وجہ خود قرآن میں بیان کردی گئی ہے کہ ان کے لیے دعائے مغفرت لاحاصل اور بے فائدہ کام ہے کہ جب ان کا جہنمی ہونا یقینی ہے تو پھر دعائے مغفرت سے کیا فائدہ۔

        ایک دوسری آیت میں کہا گیا ہے:

وَلَاتُصَلِّ عَلٰی اَحَدٍ مِّنْہُمْ مَاتَ اَبَداً وَّلَاتَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ اِنَّہُمْ کَفَرُوا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَا تُوا وَہُمْ فَاسِقُوْنَ (التوبۃ:۸۴)

ان میں سے کوئی مر جائے تو ہر گز ان کی نماز نہ پڑھو اور نہ ان کی قبر پر کھڑے ہو، ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور نافرمان ہو کر مرے۔

        جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے منکر ہیں، اس کے لائے ہوئے دین سے بے زار ہیں، ان کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کرنا ایک باغی کے لیے معافی کی درخواست کے مترادف ہے، جو کسی بھی حال میں گوارا نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنی ماں کے لیے دعائے مغفرت کی درخواست کی، لیکن بارگاہ الٰہی میں یہ درخواست قبول نہیں ہوئی۔

        ان آیات اور حدیث کی روشنی میں علماء لکھتے ہیں کہ کافر کے لیے مغفرت کی دعا اور نماز جنازہ پڑھنا حرام ہے۲۶؎ اور قرآن پڑھ کر ایصال ثواب کرنا بھی ایک طرح سے مغفرت کی دعا ہے، اس لیے یہ بھی ناجائز ہے۔ علاوہ ازین اس کے ذریعہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ اسلام قبول کیے بغیر نجات ممکن ہے، اسی لیے تو مسلمان اس کے لیے قرآن پڑھ کر دعا کررہے ہیں۔

مسجد کے لیے غیر مسلموں کا تعاون اور چندہ:

        حصول ثواب کی نیت سے کوئی غیر مسلم مسجد کی تعمیر میں تعاون کرے اور چندہ دے تو اسے قبول کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ احسان جتلانے، یابدلے میں مندر کی تعمیر میں چندہ مانگنے کا اندیشہ نہ ہو، البتہ ان سے چندہ مانگنا غلط ہے کہ بڑی   بے غیرتی کی بات ہے کہ اپنی مسجد اور عبادت خانے کی تعمیر کے لیے غیروں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔

        مسجد میں غیر مسلموں کے تعاون کے جواز کی دلیل یہ ہے کہ خانۂ کعبہ کے بنانے والے مشرک تھے، اور اللہ کے رسول ﷺ نے فتح مکہ کے بعد بھی وہاں نماز پڑھی، اور آپ کے بعد خلفاء راشدین وہاں نماز پڑھتے رہے، لیکن محض اس وجہ سے کہ یہ مشرکوں کی تعمیر کردہ ہے، کسی نے بھی اسے گراکر نئی عمارت بنانے کی کوشش نہیں کی اور نہ اس کی خواہش کا اظہار فرمایا۔فقہا نے لکھا ہے کہ کافر کا مسجد قدس کے لیے کوئی چیز وقف کرنا درست ہے۔۲۷؎ عام طور پر فقہاء کرام اسی کے قائل ہیں۔ البتہ بعض فقہاء درج ذیل آیت کے پیشِ نظرمسجد میں غیر مسلم کے چندہ کو ناجائز کہتے ہیں :

مَاکَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللّٰہِ شٰہِدِیْنَ عَلٰی اَنْفُسِہِمْ بِالْکُفْرِ اُولٰئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُم وَفِی النَّارِ ہُمْ خَالِدُوْنَ (التوبۃ:۱۷)

مسجدوں کو آباد کرنا مشرکوں کا کام نہیں ہے، جو خود اپنے کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال ضائع ہوگئے، اور وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔

        مسجد کو آباد کرنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ اس میں داخل ہو، بیٹھے اور عبادت کے ذریعہ اسے آباد رکھے، اور دوسرا مفہوم ہے مسجد بنانا اور مرمت کرنا۔ آیت کا تقاضا ہے کہ یہ دونوں چیزیں کافروں کے لیے درست نہ ہوں۔ جو لوگ جواز کے قائل ہیں ان کے یہاں صرف ذکر و عبادت کے ذریعہ آباد رکھنا اور اس کا نظم و نسق چلانا مراد ہے، جیساکہ اس حدیث میں ہے:

عن ابی سعید الخدری قال رسول اللہ ﷺ اذا رأیتم الرجل یعتاد المسجد فاشہدوا لہ بالایمان قال اللہ تعالیٰ اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ۲۸؎

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی شخص کو مسجد کا عادی دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو، کیوں کہ اللہ نے فرمایا ہے: ’’اللہ کی مسجد کو وہی شخص آباد رکھتا ہے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے‘‘

مندر اور پوجا کے لیے چندہ اور تعاون:

        قرآن و حدیث میں نہ صرف معصیت اور گناہ کے کاموں سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے، بلکہ معصیت میں تعاون اور مدد سے بھی روکا گیا ہے: وَلَاتَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ(المائدۃ:۲)(گناہ اور سرکشی کے کاموں میں تعاون نہ کرو)، غیر اللہ کی عبادت اور پرستش شدید ترین معصیت ہے۔ یہ ایسا گناہ ہے جس کی وجہ سے انسان اللہ کا باغی قرار پاتا ہے اور ایک مسلمان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ ایسے مراکز کی تعمیر کے لیے اعانت کفرو شرک میں تعاون ہے۔ مذہبی جلوس، پوجا پاٹ اور میلے وغیرہ کے لیے چندہ دینے کا بھی یہی حکم ہے۲۹؎  البتہ چندہ دیے بغیر چھٹکارا نہ ہو تو مانگنے والوں کو مالک بنادیا جائے اور کہہ دیا جائے کہ تمہاری مرضی، جہاں چاہو خرچ کرو۔۳۰؎

مندر کی تعمیر میں مسلمان کاری گروں اور انجینیروں کی خدمات:

        کسی مسلمان کے لیے غیر مسلم کی مزدوری جائز ہے۔ متعدد صحابۂ کرام سے مکہ میں قیام کے دوران اور مدینہ ہجرت کے بعد غیر مسلموں کے یہاں مزدوری کرنا ثابت ہے۔۳۱؎ مولانا عبد الحئی فرنگی محلیؒ نے اس مسئلے میں یہ تفصیل لکھی ہے:

        ’’کفار کی ملازمت کی تین قسم ہے:

        ۱۔جائز ہے بلا کراہت، مثلاً حقوق ثابت کرنے، شروفساد کو دفع کرنے، چور اور ڈاکوئوں سے حفاظت کرنے، پل اور مہمان سرائے اور دیگر مفید عمارتوں کے بنانے کے لیے ملازمت کی جائے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے بادشاہ وقت سے، جو کافر تھا، خزائن مصر کا داروغہ بننے کی درخواست کی تھی، تاکہ عدل وانصاف قائم کر سکیں، اور موسیٰؑ علیہ السلام کی والدہ نے حضرت موسیٰؑ کو دودھ پلانے کے لیے فرعون کی ملازمت کی تھی۔

        ۲۔جائز ہے مگر کراہت کے ساتھ، مثلاً ایسی نوکر ی کرنا جس میں کفار کے سامنے کھڑا رہنا اور تعظیم کرنا لازمی و ضروری ہو، جس سے مسلمان کی بے عزتی اور ہتک شان مقصود ہوتی ہے، جیسے سر رشتہ داری وغیرہ۔

        ۳۔حرام ہے، مثلاً معاصی، منہیات وممنوعات شرعیہ پر ملازمت کرنا،جیسا کہ مسلمانوں کے مقابلے میں جانے والی فوج اور پولیس میں ملازمت کرنا‘‘۳۲؎

        مندر کی تعمیر میں اعانت معصیت ہے، اس لیے کسی مسلمان مزدوراور معمار کا اس کی تعمیر میں حصہ لینا صحیح نہیں ہے۔ امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمدبن حنبلؒ کا یہی نقطۂ نظر ہے۳۳؎ اور فقہ حنفی میں مذکور مسائل کی روشنی میں امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کا یہی مسلک ہونا چاہیے، اور اس طرح کے مسائل میں عام طور پر فتویٰ بھی ان ہی کے قول پر ہے، البتہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ۳۴؎ مسلمان انجینئر کی نقشہ سازی کا بھی یہی حکم ہے۔

        اس سے یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ اسلام انفرادیت اور علٰیحدگی کے جذبات پیدا کرتا ہے اور دوسروں کے ساتھ ربط ضبط اور تعلق کا روادار نہیں ہے۔ وہ غیر مسلموں کے ساتھ بھی انسانی ہمدردی اور محبت کا درس دیتا ہے، البتہ تہذیبی اختلاط اور کسی دوسرے مذہب میں ضم ہونا اسے قطعاً گوارا نہیں ہے۔

        حواشی و مراجع

(۱)مسلم، الجامع الصحیح، المکتبۃ العصریہ بیروت ۲۰۰۲ء، ص:۸۰۴

(۲)البخاری، الجامع الصحیح ، دار السلام الریاض ۱۹۹۷ء،ص:۱۲۶۱

(۳)ابودائود، السنن، مکتبۃ المعارف الریاض، ص:۶۰۹، قال الالبانی: ضعیف

(۴) لاتقطعو اللحم بالسکین فانہ من صنیع الاعاجم وانہسوا نہساً سنن ابی

     دائود، ص:۵۷۰ قال ابو دائود لیس ہو بالقوی

(۵) ابن ماجہ، السنن، الفیصلیہ، مکۃ المکرمۃ،ص:۹۳۹، سندہ ضعیف

(۶) حوالہ سابق،ص:۸۴۸ وسندہ حسن، نیز دیکھیے مسند احمد بن حنبل ۵/۴،۵

(۷) ابو دائود، السنن،ص:۴۲۵، تحقیق وتعلیق محمد ناصر الدین الالبانی،قال الالبانی صحیح

(۸)   والا حسن ان یقال اجتمع معہ ای اشترک فی الرسوم والعادۃ والہیئۃ

والزّی واما قولہ ’’سکن معہ‘‘ علۃ لہ ای سکناہ معہ صار علۃ لتوافقہ فی الہیئۃ والزّی والخصال ’’فانہ مثلہ‘‘ وعن ’فتح الودود‘ فانہ مثلہ ای یقارب ان یصیر مثلا لتاثیر الجوارو الصحبۃ، السہارنفوری خلیل احمد، بذل المجہود، دار الکتب العلمیۃ بیروت۱۲،ص:۴۲۶

(۹)   فمساکنتہم فی الظاہر سبب ومظنۃ لمشابہتہم فی الاخلاق والافعال

المذمومۃ بل فی نفس الاعتقادات فیصیر ساکن الکافر مثلہ عون المعبود، دار الفکر، بیروت، ۱۹۷۹ء، ۷/۴۷۹

(۱۰)ابو دائود، السنن،ص:۴۰۰ قال الالبانی صحیح، الجامع للترمذی، ۱/۱۹۳

(۱۱) الخطابی، معالم السنن، المکتبۃ العلمیۃ، بیروت،۱۹۸۱ء، ۲/۲۷۲، قال بعضہم ان اللہ قد

فرق بین داری الاسلام والکفر فلایجوز لمسلم ان یساکن الکفار فی بلادہم حوالہ مذکور قال فی النہایۃ ای یلزم المسلم ویجب علیہ ان یتباعد منزلہ عن منزل الشرک شرح السیوطی علی النسائی، ۸،/۳۶

(۱۲) مولانا بدر عالم میرٹھی، ترجمان السنۃ، طبع ندوۃ المصنفین دہلی، ۲/۱۵۲

(۱۳) ابن القیم الجوزیۃ، احکام اہل الذمۃ، دار العلم بیروت، ۱۹۶۱ء، ۲/۷۲۲

(۱۴)ابن تیمیۃ، مختصر اقتضاء صراط المستقیم، دار اشبیلیا السعودیۃ، ۱۹۹۹ء،ص:۱۷۸

(۱۵) ابو دائود، السنن،ص:۱۷۷ قال الالبانی، صحیح، ورواہ احمد والنسائی وقال

         ابن تیمیۃ ہذا اسناد علی شرط مسلم ( مختصرا قتضاء صراط المستقیم،ص:۱۸۲)

(۱۶)دیکھیے مختصر اقتضاء صراط المستقیم،ص:۱۸۳،۱۸۵،

(۱۷)سنن أبی دائود،ص:۵۰۶ قال الالبانی صحیح

(۱۸) الزیلعی، نصب الرایۃ، المجلس العلمی ڈابھیل ۱۹۳۸ء، ۴/۳۴۶،۳۴۷

(۱۹)ابن القیم، احکام اہل الذمۃ، ۲/۷۲۳

(۲۰)ابن تیمیہ، مختصر اقتضاء صراط المستقیم،ص:۱۹۸

(۲۱)  فلا یجوز للمسلمین محالاتہم ولا مساعدتہم ولاالحضور معہم باتفاق

اہل العلم الذین ہم اہلہ وقد صرح الفقہاء من اتباع الائمۃ الاربعۃ فی کتبہم، احکام اہل الذمۃ،۲/۷۲۲

(۲۲)رشید احمد گنگوہی، فتاوی رشیدیہ، کتب خانہ رحیمیہ، دہلی، ۱/۶۰

(۲۳) اما التہنئۃ بشعائر الکفر المختصۃ بہ فحرام بالاتفاق مثل ان یہنئہم باعیادہم

 وصومہم فیقول’’عید مباک علیک‘‘ اوتہنأ بہذا العید ونحوہ فہذا ان سلم قائلہ من الکفر فہو من المحرمات وہو بمنزلۃ ان یہنئہ بسجودہ للصلیب بل ذلک اعظم اثما عند اللہ واشد مقتا من التہنئۃ بشرب الخمر وقتل النفس وارتکاب الفرج الحرام (احکام اہل الذمۃ، ۱/۲۰۶)

(۲۴)احکام اہل الذمۃ، ۲/۲۷۵

(۲۵)فقال النبی ﷺ لاستغفرنک مالم انہ عنک فنزلت ماکان للنبی… (صحیح

بخاری، ص:۹۷۳ حدیث نمبر۴۶۷۵)

(۲۶) الصلوٰۃ علی الکافر والدعاء لہ بالمغفرۃ حرام بنص القرآن والاجماع (المجموع ۵/۱۴۴)

(۲۷) ان شرط وقف الذمی ان یکون قربۃ عندنا وعندہم کالوقف علی الفقراء

وعلی المسجد القدس(رد المختار،۶/۵۲۶) وتجوز عمارۃ کل مسجد وکسوتہ واشعالہ بمال کافر ان یبنیہ بیدہ، الآداب الشرعیۃ،۳/۴۱۶(فقہ حنبلی)

(۲۸) رواہ الترمذی وابن مردویہ والحاکم، الدمشقی اسماعیل بن کثیر،دار عالم الکتب الریاض، ۱۹۹۷ء

(۲۹) رد المختار میں ہے: ولایصح وقف مسلم او ذمی علی بیعۃ اوحربی قیل او مجوسی،

۶/۵۲۶ کتاب الوقف، اور علامہ ابن القیم لکھتے ہیں : اما الوقف علی کنائسہم وبیعہم ومواضع کفرہم التی یقیمون فیہا شعار الکفر فلایصح من مسلم ولاکافر فان ذٰلک اعظم الاعانۃ لہم علی الکفر والمساعدۃ والتقویۃ علیہ وذٰلک مناف لدین اللہ، احکام اہل الذمۃ، ۱/۳۰۳،

(۳۰) فتاوی محمودیہ، ۱۷/۴۸۲،

(۳۱) ملاحظہ کیجیے صحیح بخاری، کتاب الاجارۃ، باب ہل یواجر المسلم نفسہ من مشرک

         فی ارض الحرب، نیز احکام اہل الذمۃ،۱/۲۷۷

(۳۲)اسی طرح کی بعض تفصیلات علامہ ابن حجر عسقلانی وغیرہ نے بھی لکھی ہیں۔ چناں چہ وہ

ابن منیر کے حوالے سے کہتے ہیں : استقرت المذاہب علی ان الصنّاع فی حوانیتہم یجوز لہم العمل لاہل الذمۃ ولا یعدّ ذٰلک من الذلۃ بخلاف ان یخدمہ فی منزلہ وبطریق التبعیۃ، اور ابن مہلب سے نقل کرتے ہیں : کرہ اہل العلم ذٰلک الا لضرورۃ بشرطین احدہما ان یکون عملہ فیما یحل لمسلم فعلہ والآخر ان لایعینہ علی مایعود ضررہ علی المسلمین (فتح الباری، ۴/۴۵۲)

(۳۳)دیکھیے احکام اہل الذمۃُ، ۱/۲۷۵، ۲۷۷

(۳۴) رد المختار میں ہے: وجاز تعمیرکنیسۃ قال فی الخانیۃ ولو آجر نفسہ لیعمل

فی الکنیسۃ ویعمر ہا لاباس بہ لانہ لامعصیۃ فی عین العمل، (۹/۵۶۲ کتاب الحظر والاباحۃ، نیز دیکھیے البحر الرائق، ۸/۳۷۲ ط مکتبۃ زکریا دیوبند،

Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button