Sliderمسلم دنیاملی مسائل

فارغین مدارس اور حکومتی اسکیمیں

مدارس سے فراغت کے بعد ان طلبہ کے لیے جلد از جلد نوکری کا حصول ایک مسئلہ ہے جو ان کی مالی حالت پہ منحصر ہوتا ہے۔

نوراللہ خان فلاحی

(چیئرمین گریٹ انڈیا فاؤنڈیشن، نئی دہلی)

برصغیر میں اہل مدارس اور فارغین مدارس ہمیشہ موضوع بحث رہے ہیں۔ تقسیم وطن سے پہلی کی تاریخ اور بعد کے حالات میں مدارس اسلامیہ کی ضرورت و اہمیت ایک بڑا موضوع بنا ہوا ہے۔ چندہ اور بغیرحکومتی امداد کے ان مدارس نے تحریکِ آزادی اور ملک وملت کی تعمیر میں جو مخلصانہ کردار ادا کیا ہے وہ کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے، مگر افسوس کہ عملی طور پر مدارس کو نشانہ بنانا تقریباً تمام حکومتوں کی پالیسی رہی ہے۔

ہندوستان میں درس نظامی یا کم و بیش کچھ تجدید و اصلاح کے بعد بھی ننانوے فیصد خصوصاً شمالی ہند کے مدارس کا نصاب آج بھی ایسا ہے کہ دینی تقاضوں کو تو کسی حد تک پورا کر رہا ہے لیکن بے شمار کمیاں رکھتا ہے اور کئی تبدیلیوں کا منتظر ہے۔ معاشی حالات اور خصوصاً سرکاری اسکولوں سے یکسر مختلف اور بالکل الگ انداز و منفرد نوعیت کے نصاب تعلیم کی وجہ سے بارہویں کے بعد کی اعلیٰ تعلیم کے لیے طلبہئ مدارس کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔

مدارس کا قیام اور اس کے مقاصد اور اس کی روح زندہ رہے اس بات سے انکار ممکن نہیں ہے لیکن ان کی معاشی ضرورتوں اور عملی میدان میں ان کی دشواریوں کے پیش نظر ان کی بہتری کے لیے کچھ جائز تبدیلیاں ضرور کی جائیں۔ اور اس کے لیے بہتر ہے کہ کبار علماء اور ملت کے دانشور خود ہی اسے بغیر حکومتیمداخلت انجام دیں۔ یہی بہتر و مناسب ہوگا تاکہ حذف واضافہ بھی ہو سکے اور قیام مدارس کے مقاصد بھی مجروح نہ ہوں اور مستقبل کے فوائد بھی ضائع نہ ہوں۔

 علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، جامعہ ہمدرد، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، پٹنہ یونیورسٹی، خواجہ معین الدین عربی و فارسی یونیورسٹی وغیرہ نے تقریباً 50 مدارس کی عا  لمیت اور فضیلت کی اسناد کو بارہویں کے مساوی تسلیم کر کے بی اے، بی یو ایم ایس اور دیگر شعبہ جات میں داخلہ کا مجاز قرار دیا ہے۔

فارغین مدارس کا صرف پانچ فیصد ان اعلیٰ تعلیم گاہوں تک بمشکل رسائی پاتا ہے اور حقیقی معنوں میں ان میں سے بھی کئی طلبہ ملک کے بنیادی تعلیمی ڈھانچے سے دور یا الگ ہونے کا نقصان اٹھاتے ہیں۔ یہ فارغین مدارس چونکہ الگ نصاب سے وابستہ ہوتے ہیں اس لیے مدرسہ میں رہتے ہوئے NCC یا  NSS جیسی سرگرمیوں سے استفادہ نہیں کرسکتے ہیں۔ اس کی اسناد اعلیٰ کورسز میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں اور یونیورسٹی میں یہ موقع انہیں مل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کالجز کی طرح ان کو تعلیمی اسفار کی سہولت بھی میسر نہیں ہوپاتی ہے اور توسیعی لیکچرز وغیرہ کی کمی رہتی ہے۔ یہ بھی کرایا جائے تو بعد میں تدریسی اور دعوتی نقطہ ئ  نظر سے بھی بہت مفید ہوگا۔

اس وقت ضرورت ہے کہ معیار بڑھاکر دیگر اضافی مضامین بھی شامل ہوں اور جہاں تک ممکن ہو مزید کالجوں اور یونیورسٹیوں سے الحاق کیا جائے۔ دسویں، بارہویں کے لیے بالترتیب مولوی، عا لمیت، فضیلت کی سند کو بارہویں کے مساوی قرار دیے جانے کے لیے مزید مقامات پر کوشش ہوتی رہے اور حکومتوں سے مطالبے جاری رہیں۔

صحت، مفت تعلیمی اسکیمیں ضلعی اقلیتی افسران سے مل کر انسانی، اخلاقی یا طلبہ کی حیثیت سے ملنے والی اسکیموں سے طلبہ کو جوڑا جائے۔ بحیثیت ہندوستانی شہری ابتدائی سے لے کر بارہویں تک کی سبھی اسکیموں سے استفادہ کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ یوپی و بہار کے بے شمار مدارس کئی اسکیموں سے مستفید ہو رہے ہیں۔

روزگار اور کریئر کے حوالے سے اسکیموں کا تعارف کیسے ہو اس حوالے سے مختلف ریاستوں میں قائم شدہ مدرسہ بورڈ کے امتحانات ضرور دلوائے جائیں، جس سے انھیں بعد میں سرکاری نوکری بھی مل سکیں۔ آسام مدرسہ بورڈ، بہار مدرسہ بورڈ، عربی و فارسی مدرسہ بورڈ لکھنؤ، جامعہ اردو علی گڑھ وغیرہ کے امتحانات سے بھی طلبہ کو روشناس کرایا جائے، جس سے آگے چل کر ان کو پولیس اسٹیشن میں اردو مترجم وغیرہ کی نوکری مل سکے اور فوج میں امام و موذن کی اسامیوں کے لیے ان کو تیار کیا جاسکے۔ اسی طرح حکومت کی خصوصی ایجنسیوں میں مترجم یا کلرک وغیرہ کے لیے نوکری کا موقع مل سکے۔ 1995 کی اسکیم کے تحت اترپردیش میں ملائم سرکار نے ادیب ماہر کی سر  ٹیفکیٹ پر تقرری کرائی تھی۔ اسے دوبارہ لایا جائے اور نئے وجود میں آنے والے تھانوں میں بھی اردو مترجم کی تقرری کو یقینی بنایا جائے اور ضلع اقلیتی فلاح و بہبود افسر کے دفتر میں بھی ایک اردو مترجم کو رکھوایا جائے، جہاں اقلیتوں اور مدرسہ کے مسائل سے برابر واسطہ رہتا ہے۔

اس کے علاوہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (NCPUL) کے کمپیوٹر کورس، NIOS کے اوپن اسکولنگ اور اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی سے جوڑا جائے تاکہ جو طلبہ فراغت کے بعد مدارس میں مدرس کی حیثیت سے دلچسپی یا اہلیت نہ ہونے کی بنا پر یا معاشی مجبوری کی حالت میں کچھ اور پیشہ اختیار کرنا چاہیں تو انہیں فیصلہ کرنے میں آسانی ہو اور وہ دیگر کورس کرسکیں۔

ان کے علاوہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی بھی پرائیویٹ بی۔ اے کراتی ہے، جس میں طلبہ مدرسے میں رہتے ہوئے بھی ان کورسز کے مجاز ہیں۔ کئی میں ترجمہ کا کورس ہے، اس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ فارغین مدارس یا طلبہئ مدارس کے لیے معاشی کمزوری دور کرنے کے لئے کئی NGO اور سوسائٹی وغیرہ سے مالی تعاون لیا جاسکتا ہے جو طلبہ ئمدارس NIOS یا MAANU سے وابستہ ہوں وہ ان اداروں سے BONAFIED CERTIFICATE دکھا کر سینٹرل وقف کونسل اور مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن سے مالی تعاون حاصل کریں۔ یا اگر دقت آئے تو وہاں اس کا مطالبہ کیا جائے اور وقف کی اسکیمیں لائی جائیں۔ کچھ مدارس جہاں ابتدائی یا جونیئر سطح کے کورسز ریاستی حکومت سے منظور شدہ ہوں وہاں کی اسکیموں سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ ان کو سنسکرت بورڈ کی ساری اسکیموں کے مساوی حق دلایا جائے، یہ بھی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔

استفادہ کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ ابتدائی یا جونیئر سطح تک ہر مدرسہ ریاستی سرکار سے ضرور منظور شدہ ہو، تاکہ اس کے ذریعہ ضلع ڈیولپمنٹ افسر اور ضلع اقلیتی فلاح و بہبود افسر سے معلومات لے کر اسکیموں سے فائدہ اٹھایا جائے اور انہیں دیگر NGOs کے ذریعہ ایسی اسکیمیں لانے کی تجویز دی جائے جو کم از کم فروغ اردو زبان کے بہانے طلبہئ مدارس کے لیے مفید ہوسکیں اور کچھ نہ سہی تو کمپیوٹر یا انگریزی کے کورسز یا کچھ مالی وظائف کی شکل میں طلبہئ مدارس کے کام آسکیں۔ ایک اورا سکیم ہے جہاں استفادہ ہورہا ہے وہ ہے یوپی و بہار کے مدرسہ بورڈ کے تحت سیکڑوں مدارس جو امداد یافتہ ہیں ان کے مدرسین ”ساتواں پے کمیشن“ کے تحت مستفید ہورہے ہیں اور وہاں تعلیمی وظیفہ، کھانے کے سامان اور ٹھنڈک میں کمبل وغیرہ تقسیم ہوتا ہے۔ جنوبی ہند کی سرکاروں نے خصوصاً نئی ریاست تلنگانہ کی سرکار نے کچھ بہتر اسکیم دیے ہیں جس سے شمالی ہند کے مدارس سبق لیں اور سرکار سے مطالبہ کر کے اسے عمل میں لانے کی کوشش کریں۔ کچھ بینک اور NGOs بھی فلاحی اسکیمیں چلاتی ہیں، جس سے استفادہ ممکن ہے۔ لیکن وہاں کچھ افراد کو جاکر پروگرام اور اسکیموں کی شرائط میں کچھ تبدیلی کرانا ہوگا تاکہ طلبہ مدارس کے لیے وہ شرائط قابل عمل ہوسکیں۔ ”سمراسلامک کلاسز“ کے نام سے کئی غیر سرکاری تنظیمیں کورسز کراتی ہیں۔ جہاں کمپیوٹر، اسلامیات اور دیگر مسابقہ جاتی امتحانات ہوتے ہیں اور کامیاب طلبہ و طالبات کو میڈل اور مالی انعامات سے بھی نوازا جاتا ہے۔

معاش اور کریئر کے امکانات

مدارس سے فراغت کے بعد ان طلبہ کے لیے جلد از جلد نوکری کا حصول ایک مسئلہ ہے جو ان کی مالی حالت پہ منحصر ہوتا ہے۔ ایک خاص عمر کے بعد فضیلت و عالمیت سے فراغت کے بعد شادی اور گھریلو ذمہ داریاں ایسی ہوتی ہیں کہ طلبہ مسائل میں گھِرے ہوتے ہیں۔ یہ طلبہ یونیورسٹی وغیرہ میں حسب استطاعت بی۔ اے، بی۔ یو۔ ایم۔ ایس، بی۔ ایس۔ ڈبلیو، وغیرہ کورسز میں جاتے ہیں لیکن اس کے  علاوہ گلوبلائزیشن کی آمد سے کئی راستے ہموار ہوئے ہیں جیسے میڈیکل ٹورزم میں مترجمین اور سیرو سیاحت کی انڈسٹری میں کافی مواقع ملے ہیں۔ غیر ملکی زبان دانی ایک مفید چیز ہے۔ جس سے سفارت خانوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں میں نوکریاں، ریسرچ، ترجمہ یا فوری ترجمہ کے مواقع مل رہے ہیں۔ ابھی گوگل اور فیس بک نے کافی لوگوں کا تقرر کیا ہے۔ اس کے علاوہ مزید سرکاری اسکیموں سے استفادہ کے لیے حکومت کی ویب سائٹوں اور متعلقہ وزارتوں سے معلومات اخذ کرنے کی ضرورت ہے اور نئی اسکیموں کے لیے تجویز بھی دینے کی ضرورت ہے تاکہ طلبہ مدارس کے مسائل کو آسان بنایا جائے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button