Sliderجہان خواتین

فاطمہ تو آبروئے امت مرحوم ہے!

ہماری پہچان۔ شریعت اسلام

عظمیٰ انجم سید اشرف علی

اورنگ آباد

جب میں قلم بند کرنے لگی تو میرے ذہن میں بہت سارے خیالات پنپ رہے تھے، سوچ رہی تھی کہ کون سے عنوان پر لکھو!ذہن میں بہت ساری آوازیں آ رہی تھی۔۔‌۔۔۔ ہاتھ تھر تھرا رہا تھا کہ کہ جس پر لکھ رہی ہوں! کیا اس پر میں کھری اتر پاوں گی اور دوسروں کو اس پر کتنا ابھاروں گی؟! جب میں آج کے ماحول کو دیکھتی ہوں تو میرے دل میں الجھن پیدا ہو جاتی ہے۔

دراصل بات یہ ہے کہ ایک شادی کی تقریب میں میرا جانا ہوا تو وہاں میں نے بے پردگی کا عالم پایا۔ پہلے تو دل کھٹک گیا کہ میں صحیح جگہ تو آی ہوں نا!؟ یا بے گانے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطلب ایسا نظر آ رہا کہ جیسا مغربی کلچر ہو۔ دل نہیں چاہ رہا تھا کہ اندر جاؤں لیکن اچھا تعلق ہونے کی وجہ سے قدم آگے بڑھا لیا۔ جیسے ہی اندر داخل ہوئی تو سبھی کے چہروں پر تنقیدی ہنسی تھی۔ میں نے اپنے کام سے کام کیا۔ ایک خاتون نے میرے پاس آ کر کہا: برقعہ اتاریے۔ سبھی اپنے ہی لوگ ہے’۔ جب میں نے ان لوگوں کو تنقیدی نظر سے دیکھا تو اللہ کی پناہ! آیٔنہ بھی ان کو دیکھ کر ڈر جائے! وہ مجھ پر ہنس رہے تھے اور میں بھی ہنس رہی تھی اور دل میں یہ کہہ رہی تھی کہ اللّہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا۔ اور یہ ان ہی کے ہاتھوں سے اپنا حلیے کو بگاڑ رہے اور فخر سے گھوم رہے۔
ان لوگوں کا اصرار اور زیادہ بڑھ گیا کہ برقعہ اتاریے کیونکہ صرف میں ہی ان لوگوں میں انوکھی نظر آ رہی تھی۔ اور یہ ان کے شان و شوکت کے خلاف ہو جا رہا تھا۔ لوگوں میں وہ اپنا Attitude بانٹ رہے تھے۔ میں ان کی باتوں، اشارے و کناے، تنقیدیں برداشت کر رہی تھی اور اللّہ سے دعا کر رہی تھی کہ اھدنا الصراط المستقیم۔
جیسے تیسے کھانا ہوا۔ اور پھر سبھی ہنسی مذاق میں ایک طرف بیٹھ گئے۔ As a guest مجھے بھی شامل کر لیا۔ لیکن میں تو بے چین تھی۔۔ پھر زرا دل سنبھلا۔۔۔۔ کسی کا جملہ تھا ۔ دیکھیے نا! اسلام نے عورتوں کو ہر طرح سے آزادی دی ہے۔ وہ مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں وہ گھر کے باہر نکل سکتی ہے اپنی مرضی سے کام کر سکتی ہیں۔ تو کچھ کا جملہ تھا۔ چھوڑو جی!چار دن کی زندگی ہے اسے ہنسی مذاق، کھانے پینے میں گزار دو!
تو کوئی کہہ رہا تھا۔۔۔ میں ان سب باتوں پر متفق ہوں زندگی ہے تو صرف عیش و عشرت میں گزار دو۔۔ کل کس نے دیکھا!!؟
میری گہرائی کی سوچ بہت دور تک چلی گئی تھی اور میں ان سب کے باتوں کو سن رہی تھی اور دل ہی دل میں ہنسی بھی آ رہی تھی۔
پھر مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا” آپ بھی کیا بڑے بزرگ کی طرح ہو گئی!’enjoy کرو!
میرے منہ سے بے ساختہ نکل پڑا۔۔
شریعت کے اصولوں سے بغاوت کرنے لگتے ہیں
پڑھے لکھے بھی محفل میں شرارت کرنے لگتے ہیں

جھٹ ایک خاتون بول پڑی! کیا مطلب!؟
پھر دوسرا کمینٹ آ دھمکا ؛ اوہ!اوہ!
پھر آواز آئی؛ شریعت!! شریعت کیا ہے؟!
پہلی خاتون بولی: فلسفے نہ جھاڑو۔۔ مطلب کی بات پر آؤ!,
میں نے کہا: اسلام کا شجر سایہ دار جس طرح مسلمان مردوں کے لئے رحمت کا پیامبر ہے اسی طرح عورتوں کے لئے بھی باعث سکون و راحت ہے۔ اور شریعت محمدیﷺ نے عفت و شعار، دیندار خواتین کو مردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا ہے بلکہ ان کو بھی عزت و شرافت کی زندگی گزارنے کا حق دیا ہے کہ وہ عزت نفس کے ساتھ اپنی مستعار زندگی کو آخرت کی کامیابی اور سرخروئی کے لئے استعمال کرے۔
پھر میں نے ان کے تجسّس کو محسوس کرتے ہوئے آگے بات جاری رکھی کہ اسلام نے عورتوں کو آزادی دی ہے لیکن حدود میں رہ کر۔۔۔
کیونکہ کہ۔”شریعت محمدی ﷺ: پردہ، حجاب خواتین کی ترقی میں حائل رکاوٹ نہیں ہے بلکہ معاون و مددگار ہے”۔

ان سب میں سے ایک نے کہا: یہ بولیے کہ پردے میں رہ کر ہم کام کیسے کریں گے؟!
میں نے کہا:کیا آپ نے صحابیات کی زندگی کا مطالعہ نہیں کیا؟!!کہ کیسے انہوں نے اپنی زندگی گزاری؟ وہ ہمارے Role Model ہیں۔ وہ اپنی عام زندگی کے ساتھ ساتھ جنگوں میں مردوں کے ساتھ شریک ہوتی تھیں، زخمیوں کی مرہم پٹی کیا کرتی تھیں، پانی پلاتی تھیں ۔ یہ سب امور وہ پردے میں رہ کر انجام دیتی تھیں۔

دوسری نے کہا: اس مغربی کلچر میں ہم ہم پردے کا اہتمام کیسے کریں؟! کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں ہر طرف بے حیائی عام ہو گئی۔ چاہے پھر وہ میڈیا کے ذریعے ہو یا اور وجہ سے؟!

میں نے کہا: یہ سب شیطان کی چالیں ہیں، وہ انسانوں کو بہکانے کی کوئی کسر نہیں چھوڑتا، اللّہ تعالیٰ نے اسے مہلت دی ہے۔ اور اللّہ تعالیٰ کہا جو تیرے بتاے ہوئے راستے پر چلے گا میں تجھ سمیت ان کو جہنم میں بھر دوں گا.
تو میری عزیز بہنوں!ہمیں اللّہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا ہے۔ ہمیں فاطمہ رض کے جیسی صفات اپنانا ہے۔ وہ اتنی حیادار تھی کہ ایک مرتبہ محمد ﷺ نے انہیں طلب فرمایا تو شرم کے مارے لڑکھڑاتی ہوئی آئیں۔ ان کی وصیت تھی کہ ان کے جنازہ پر پردہ کیا جائے۔ خواتین کے جنازوں پر جو پردہ ڈالا جاتا ہے وہ حضرت فاطمہ رض کی پیروی ہے۔
اور رہی بات مغربی کلچر کی! تو ہمیں اخلاق و کردار سے یہ سب چیزوں کو بدلنا ہے۔
اسی بات پر ہماری گفتگو چل رہی تھی کہ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔۔ پھر سبھی خواتین اپنے اپنے گھر ہو لیے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button