Sliderسماجیات

فتنوں کے دور میں مسلمانوں کا کردار

نادیہ تمثال ماہم
بنت محمود عثمان

اللہ رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ "کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں,ہم انہیں بغیر آزمائے ہی چھوڑدیں گے ان سے اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچا ہے یقیناًاللہ تعالی انہیں بھی جانچ لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کرے گا جو جھوٹے ہیں.(سورۃالعنکبوت :3-2)
اس آیت میں یہ بات واضح کردی گئ ہے کہ مسلمانوں کی زندگی دارالفتن یعنی فتنوں کی آماجگاہ ہے. اسے کچھ دے کر آزمایا جاتا ہے تو کبھی کچھ چھین کر اور ان آزمائشوں کے بعد خدا کا قریب ترین بندہ بناکر اسے معتبر کیا جاتا ہے اس بات کا ثبوت تاریخی واقعات سے بھی ہمیں ملتا ہے کہ کس طرح ایک مسلمان کو خدا کے راستے پر چلنے کی پاداش میں آگ میں ڈال کر آزمایا جاتا ہے پھر اسکے بعد خلیل اللہ کا لقب دے کر اسے معتبر کیا جاتا ہے تو کبھی آداب فرزندی بجالاکر اللہ کی رضا میں راضی ہونے والے بندے کو دربار خداوندی میں ذبیح اللہ کا لقب دیا جاتا ہے. تو کبھی ایک بھائی کو دوسرے بھائیوں کے حسد کی آگ کا شکار بناکر مصر کی سلطنت کا محافظ بناتا ہے. یا ماں کو اپنے
لختِ جگر کی بھوک وپیاس سے آزماکر قیامت تک کی ماؤں کے لئےنمونہ بناتاہے .یا اپنے بھائی کو دشمنوں کے نرغے سے صحیح وسالم واپس لانے والی خولہ بنت ازور کو شجاعت وبہادری کی مثال تمام خواتینِ اسلام کے لئے مقرر کردی گئی.اور اس بات کو واضح کردیا کہ حق کے لئے آواز اٹھانا عورتوں کی بھی ذمہ داری ہے .
غرض کہ مومن کی ساری زندگی ابتلاء آزمائش میں گھری رہتی ہے.کبھی اسے اپنے عزیزوں کے ذریعہ سے آزمایا جاتا ہے, یا کسی بیماری کا شکار بناکر, یا وطن کی غداری کا جھوٹا الزام لگاکر ,یا کبھی دین اسلام کا عِلم وعَلم پھیلانے کی پاداش میں شہید کرکے ان مع العسر يسرا کی عملی تفسیر دہرائی جاتی ہے
یہ شہادت گہہ الفت میں ہے قدم رکھنا
لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہےکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناکہ دنیا میں فتنوں اور مصیبتوں کے سوا کچھ نہیں ایک اور حدیث میں ہے کہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے .
دنیا اپنے خاتمے کی جانب تیزی سے رواں دواں ہے .اس کا ہر آنے والا زمانہ گزرے ہوئے زمانوں کی نسبت زیادہ مصیبتوں اور مشکلات کا ہوگا .ہم لوگ دنیائے ہندوستان کے حالات سے بخوبی واقف ہے کہ آج کل ہندوستان میں کیا کچھ ہورہا ہے کبھی NRC,NPRکا فتنہ سر اٹھاتا ہے.تو کبھی کرونا وائرس جیسی وبا نا صرف مسلمانوں کے لئے بلکہ تمام عالم انسانیت کے لیے وبالِ جان بن جاتی ہے .کبھی دہشت گردی اور عصمت دری کا الزام مسلمانوں پر لگایا جاتا ہے. تو کبھی وفادارِ وطن کو غدارِ وطن کہلواکر انہیں انکی خود کی نظروں سے گرایا جاتا ہے.
عرضِ مطلب سے جھجک جانا نہیں زیبا تجھے
نیک ہے نیت اگر تیری تو کیا پروا تجھے
آج کل دنیا دارالفتن بن چکی ہے یہاں ایک فتنہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا سر ابھارتا ہے . قرآن میں مزکورِ لفظ فتنہ کے مختلف معانی و مفاہیم کے اعتبار سے فتنے کی اقسام بھی مختلف ہے. مثلاً
1)کفر والحاد کا فتنہ
2)بدعات کا فتنہ
3)مال وزن کا فتنہ
4)اولاد کا فتنہ
5)مصائب وآلام کا فتنہ
دنیا کے تمام فتنوں سے بڑا فتنہ دجال کا فتنہ ہے .جو کہ عنقریب رونما ہونے والاہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت محمدیہ کو پہلے ہی ان فتنوں سے آگاہ کردیا تھا اور بتادیا تھا کہ ایک ایسا دور آئے گا کہ بس فتنہ ہی باقی رہ جائے گا اور امن وامان ختم ہو جائے گا .گویا آج ہر طرف فتنوں اور آزمائشوں کا دور ہے .ایسے دور سے با خبر کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاس سے پہلے اعمال کی تاکید کا حکم فرمایا . آئیے اس پُر فتن دور میں کرنے کے چند کاموں کا تذکرہ کرتے ہیں کہ جن کی پابندی ایک مسلمان کے لیے اشد ضروری ہے تاکہ وہ اس پر عمل کرکے ہر طرح کے فتنوں اوآزمائشوں سے محفوظ رہ سکے
فتنوں سے نجات دعاؤں کے ذریعے::
حضرت ابو ھریرۃ رضیاللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا "جب فتنہ واقع ہوتا ہے تو اس سے ایسی دعا نجات دلاسکتی جیسی دعا پانی میں غرق ہونے والا کرتا ہے.
اللہ کی طرف ہمیشہ عاجزی وانکساری سے رجوع کرتے رہے اور دعا کے فوری قبول نہ ہونے پر مایوسی کا شکار نہ ہو . جو دعا زکریّاعلیہ السلام کو بڑھاپےمیں اولاد اور یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دلاسکتی ہے تو اس دعا بدولت ہم فتنوں سے بھی محفوظ ومامون رہ سکتے ہیں. مگر شرط یہ ہیکہ عاجزی وانکساری دعا کا محلول ہو .
. توحید پر ثابت قدمی::
دوسرا عمل یہ ہے کہ مصیبت اور آزمائش کے وقت توحید پر ثابت قدم رہے . اللہ سے ہی ہر مشکل کا حل مانگے نا کہ غیراللہ کو اس میں شریک کرکے دعا مانگے .
خدا فرما چکا ہے قرآن کے اندر
میرے محتاج ہے پیر وپیمبر
نہیں طاقت سوا میرے کسی میں
کہ کام آئے تمہاری بے بسی میں
قرآن وسنّت کو مضبوطی سے تھامنا::
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا "کہ میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں قرآن اور سنّتِ رسول انہیں تھامنے والے گمراہ نہیں ہونگے. تیسرا عمل جو حالاتِ مصائب میں کرنا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ اور اسکے رسول کی احادیث کے ذریعے ان مصائب سے نجات حاصل کرنا ہے .
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”تمہارے بعد صبر کے ایّام آنے والے ہیں ان میں جو شخص اس دین کو مضبوطی سے تھامے رکھے گا جس پر تم قائم ہو تو اسے تم میں سے پچاس ہزار افراد کا اجر ملے گا .
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارہ
با کثرت عبادت میں مشغول رہنا::
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایافتنوں میں عبادت کرنا ایسا ہے جیسے میری طرف ہجرت کرنا
کثرت سے توبہ واستغفار کرنا::
اور اللہ انہیں کبھی عذاب دینے والا نہیں جب کہ وہ بخشش مانگتے ہو.( سورۃ الانفال)
اس سے بات معلوم ہوتی ہے کہ آزمائش اور فتنے بعض اوقات ہمارے اعمال کی جزا ہوتے ہیں اسی لیے مصیبت کے وقت کثرت سے استغفار کرنے کی طرف رہنمائی کی گئ ہے .
اگر ہم ان چند باتوں پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں تو ضرور یہ لاک ڈاؤن ہمیں عذابِ نار سے نجات دلانے کا باعث بنے گا .آج ہر طرف پہرے لگے ہوئے ہیں ,لوگوں کو عالمی وبا کرونا وائرس کی وجہ سے حتی الامکان نظر بند کردیا گیا ہے. اور اس عالمی وبا کو پھیلانے کا ذمہ دار مسلمانوں کو بھی کسی حد تک ٹھہرایا جارہا ہے تو کوشش کرے کہ اپنے خود کی وجہ سے اپنی قوم وملّت پر آنچ نہ آنے پائے .اس وقت امّت مسلمہ کی حالت ایک لڑکی کی طرح ہوگئی ہے کہ اسے ہر وقت ہر کام احتیاط سے کرنا ہوتا ہےاگر وہ کوئی برا کام کرتی پائی جاتی ہے تو لوگ اسے نہیں اسکے والدین اور اسکی پرورش کو برا کہتے ہیں .تو دارلفتن کو دارالامان بنانے کی کوشش کرے.ہمارے اسلاف نےتلوار سے جہاد کیا تھا آج ہمیں اپنے نفس سے جہاد کرنے کی ضرورت ہے .اگر ہم اپنی کوشش جاری رکھیں اور صبغۃاللہ کو اختیار کرے تو وہ وقت دور نہیں جب ہماری لڑکیاں صفیہ وخنسأاور لڑکے ابن ولید اور ابن قاسم بن کر کفروالحاد کا خاتمہ کریں گے اور واعتصموا بحبل اللہ جمیعا پر عمل کرکے اور نماز و صبر سے استعانت طلب کرے تو ضرور ان مع العسر یسرا کی تعمیل ہوگی اور اسکی تفسیر فتح عظیم کی صورت میں ہمارے سامنے ہونگی.
وقت کو جو بدل دے وہی انساں ہے عظیم
وقت کے ساتھ بدلنا کوئی کردار نہیں

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button