Sliderدعوت

فیصلہ کے بعد

ہمیں دعوت کے کام کو لیکر اٹھنا ہوگا، ہماری اصلاح کا کام انجام دینا ہوگا، خدمت خلق کے جذبے کو پروان چڑھانا ہوگا، اور قوم و ملت میں اجتماعیت کو فروغ دینا ہوگا۔

فیصلہ کے بعد

ایم۔ایم۔سلیم

   برسوں انتظار اور سیاسی جماعتوں کی  طرف سے سیاسی روٹیاں سینکنے اور ہمیشہ اسے انتخابی مدعہ بناکر برسوں حکومت کرنے کے بعد بالآخر بابری مسجد کا فیصلہ آہی گیا۔ لیکن  حیرت کی بات یہ ہے کہ فیصلہ کی جو تاریخ ظاہر کی گئی تھی اس تاریخ سے قبل ہی یہ فیصلہ سنا دیا گیا۔ اور وہ بھی بارہ ربیع الاول سے ایک روز قبل۔ لیکن پتہ نہیں کیوں اور کس کے اشارے پر اس فیصلہ کا وقت تبدیل کرلیا گیا؟ اللہ تعالیٰ کا لاکھ شکر ہے کہ اس فیصلہ کے بعد جو صبر و تحمل کا مظاہرہ مسلمانوں کی طرف سے کیا گیا وہ غیر معمولی اور قابلِ تعریف ہے۔ اور کہیں بھی کسی طرح کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ لیکن ایک بات جو اب تک مسلسل ذہن و دل کو جھنجھوڑ رہی ہے وہ یہ کہ اس طرح کا فیصلہ آنے کے بعد بھی ہم میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو نظر نہیں آ رہی۔ فیصلہ کے اگلے روز ہر سال کی طرح اس سال بھی اسی انداز میں جوش و خروش سے بارہ ربیع الاول کا جلوس نکالا گیا۔ اور اس میں خاص طور سے ہمارے نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جی ہاں وہی نوجوان جو کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ فیصلہ جس طرح کا آیا اس کے بعد ایسا لگنے لگا تھا کہ کچھ نہ کچھ بدلاؤ ہونگا، لیکن

 صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے

 عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے 

کے مصداق کچھ بھی نہیں بدلا، وہی انداز و فکر، وہی طور طریقے وغیرہ وغیرہ۔ بہتر ہوتا ہم کسی بھی طرح کا کوئی جلوس ہی نہ نکالتے۔ (اور ویسے بھی اس کی کوئی شرعی حیثیت بھی نہیں ہے)۔ بلکہ مسجدوں، گھروں میں نمازوں کا اہتمام کرتے، کم سے کم کل قیامت کے دن جب ہم اللّٰہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں تو اتنا بھی کہہ سکیں کہ اے اللّٰہ تعالیٰ ہم نے تیرے گھر کی بازیابی کے لیے دعا بھی مانگی تھی۔ ذکر و استغفار کرتے، اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی معافی تلافی کرتے۔ لیکن اس طرح کا نظارہ کہیں بھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ شاید حکومت کو بھی اس بات کا پتہ چل گیا ہے کہ مسلمان کسی بھی معاملے پر کوئی ری ایکشن نہیں لے رہے ہیں، اب یہ قوم بزدل ہو چکی ہے۔ کیونکہ حکومت کی سربراہی میں نہ ہی سہی لیکن اسے پشت پناہی کہا جائے تو بھی غلط نہ ہوگا کہ اس طرح کا ٹرائل ہو چکا ہے۔ پھر چاہے وہ ماب لانچنگ کی صورت میں ہو، یا تین طلاق ہو یا کوئی بھی مسلمانوں سے جڑا معاملہ ہو،  ایسے حساس معاملات پر مسلمانوں کی طرف سے کوئی بھی ٹھوس قدم نہ اٹھنا گویا ہماری بزدلی کی نشانی ثابت ہوئی۔ اور حکومت نے مسلمانوں کے اس طرز عمل کو بھانپ لیا کہ اب ان کے ساتھ جو کیا جائے ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہونے والی۔ ٹھیک اسی طرح مذکورہ معاملے پر بھی حکومت نے ایسا ہی سوچا ہوگا کہ اگلے دن ربیع الاول کے جلوس میں یہ لوگ سب کچھ بھول جائیں گے، اور ہوا بھی ٹھیک ایسا ہی۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنا تھا، اور توڑ پھوڑ و دیگر کام کو انجام دینا تھا، جس طرح دوسرے لوگ کرتے ہیں،  بلکہ یہ اچھا ہوا ہم نے صبر و تحمل کا غیر معمولی مظاہرہ کیا۔ اور اس معاملے پر پوری دنیا کے سامنے یہ ثابت کر دیا کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور امن کا پیغام دیتا ہے۔ لیکن ہم تو یہ کہہ رہے ہیں کہ اس فیصلے کے بعد جو تبدیلی نظر آنی چاہیئے تھی وہ کہیں بھی نظر نہیں آئی۔ افسوس ہمارا حال جوں کا توں ہی رہا۔ بابری مسجد کا غم ہم صرف سوشل میڈیا پر ہی منارہے تھے۔ اتنی بڑی تعداد ہونے اور اتنے مسلم ممالک ہونے کے باوجود بابری مسجد ہمارے ہاتھ سے چلی گئی۔ کیا یہ کوئی معمولی سا واقعہ ہے، لیکن ہمیں اس کا کچھ احساس تک نہیں ہوا۔ اب بھی ہماری مساجدوں کا وہی حال ہے, جو فیصلہ کے پہلے تھا، اب بھی ہمارے شب و روز تبدیل نہیں ہوئے۔ ہمیں آج بھی مساجدوں کے مینار بلا رہے ہیں۔ لیکن ہم ہیں کہ ان میناروں سے آنے والی صداؤں کو سننے تک تیار نہیں ہیں۔ ہمیں ایک بات ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ اب ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا۔ اور اگر اسی طرح کے حالات رہیں تو پھر کبھی بھی نہیں آنے والا، آخر اس طرح کے حالات میں ابابیل کیوں آئے اور کس کی مدد کو آئے۔ یاد رکھئے

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

 نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے  بدلنے کا

    اب ہمیں ہی اللّٰہ تعالیٰ کے گھر کی حفاظت خود کرنا ہے اور سجدوں سے آباد کرنا ہے۔ کیونکہ جب سارے دروازے بند ہوں تو ایک در ہمیشہ کھلا رہتا ہے اور وہ دروازہ ہے دعا کا، اور دعا مومن کا ہتھیار بھی ہے، اب اگر ہم اسے بھی استعمال نہیں کریں گے تو پھر ہمارا خدا ہی حامی وناصر ہو۔

    بابری مسجد کے ساتھ انصاف نہیں ہوا یہ حقیقت اپنی جگہ پر قائم ہے، اور تا قیامت ہمارا یہ اٹل موقف رہے گا کہ بابری مسجد کے ساتھ انصاف نہیں ہوا، لیکن ذرا سوچئے کیا ہم ہمارے محلے کی مسجد کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں، صرف ہفتے میں ایک دن جمعہ کے روز وہ بھی عین خطبہ کے وقت مسجد میں پہنچ کر دو رکعت نماز پڑھ لینے سے کیا ہم اللہ تعالی کی پکڑ سے بچ جائیں گے۔

     اب بھی ہمارے پاس وقت ہے جب جاگے تب سویرا کے مصداق ہمیں فوراً خواب غفلت سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی  زندگی میں اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللہُ تعالیٰ علیہ وسلم کے احکامات کو عملاً نافذ کرنا ہوگا۔ بابری مسجد تو ہمارے ہاتھوں سے نکل چکی، اب جو مساجد قائم ہیں انہیں سجدوں سے آباد کرنا ہوگا۔ ان کی فکر کرنا ہوگا۔ کہ وہ ہمارے سجدوں سے آباد ہو رہی ہے یا نہیں۔ سوشل میڈیا پر فضول باتوں میں الجھ کر  گھٹنوں بحث ومباحثہ کرنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا، یہ صرف وقت کی بربادی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیئے کہ آخر یہ وقت ہم پر کیوں کر آیا؟ کیا آج ہماری ذلت و رسوائی کے ذمہ دار ہم خود نہیں ہیں؟ بے شک ہم ہی ہیں۔ ہمیں دعوت کے کام کو لیکر اٹھنا ہوگا، ہماری اصلاح کا کام انجام دینا ہوگا، خدمت خلق کے جذبے کو پروان چڑھانا ہوگا، اور قوم و ملت میں اجتماعیت کو فروغ دینا ہوگا۔ تاکہ ہم دنیا میں پھر سے مضبوط حالات میں ابھر سکے۔ ہمیں اپنے آباء و اجداد کی تاریخ پر نظر ثانی کرنا ہوگا۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے۔ یاد رکھیئے کہ جو قوم تاریخ سے سبق نہیں سیکھتی اس قوم کا جغرافیہ بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button