Sliderقرآنیات

قرآن بے جز دان

ہم سر بلند تبھی ہونگے جب ہمارے قرآن جزدان سے الگ ہونگے۔

ثمرین فردوس علی یار خان

(پوسد،مہاراشٹرا)

   اللہ رب العالمین کی نعمتوں میں سب سے بڑی و اہم ترین  نعمت قرآن مجید ہے۔ جو تمام انسانوں کی رہبرو رہنمائی کے لیے ایک آسمانی کتاب کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے۔ یہ اللہ کا اپنے بندوں کے لیے واضح و صریح پیغام ہے۔ ایسا پیغام جو صرف حق پر مبنی ہے۔ ہر قسم کی بحث و اختلاف اور جھوٹ سے پاک ہے۔ یہ کلام ختم الرسل محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر تیئس (۲۳) سال کی مدت میں اللہ کے خاص فرشتے حضرت جبریل امین کے ذریعے نازل کی گیا۔ یہ کتاب اپنے اندر دنیا کے تمام مسائل کا حل، ماضی کے واقعات، حال کے حادثات اور مستقبل کی پیشن گوئیاں رکھتی ہے۔ یہی قرب الٰہی کا بے حد اہم ذریعہ ہے۔ اللہ تعالٰی کی تمام صفات و اوصاف اس میں موجود ہیں۔یہ اپنے پڑھنے والوں کو مشکلات سے نکلنے کی راہیں اور پریشانی وسخت حالات میں حوصلہ بخشتی ہے۔ یہ رب العالمین کا ایک معجزہ ہے ایسا عظیم معجزہ جو تمام معجزوں میں سب سے اعلٰی ہے۔ جسے پڑھ کر دین پختہ اور ایمان تر و تازہ ہوتا ہے۔ یہ ایک عظیم کتاب ہے اسی بنا پر اس کو پڑھنے والے، پڑھانے والے، سیکھنے والے، سکھانے والے سب عظیم مرتبت والے ہیں۔

    لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم قرآن کریم کو نہیں مانتے نہ اس پر عمل کرتے ہیں یہ تو محض پڑھ کر دَم کرنے کا کلام ہے اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں

 تو آپ ذرا غور کیجئے یہ لوگ اپنی زندگی کے کم و بیش بیس سال ایک طویل عرصہ اسی قرآن کی پہلی وحی کے پہلے لفظ اقراء یعنی پڑھ میں کیوں ضائع کر دیتے ہیں۔ ترک کر دیجئے اپنی تعلیم کو،مت کیجئے اس کتاب پر عمل، مت کیجئے اس کلام کی پیروی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ محض پیغام نہیں ہے بلکہ ایک روح ہے پاک روح جو پڑھنے والے کے قلب میں اترتی ہے اور اس شخص کو بدل کر ایک نیا انسان ایک حقیقی مومن بناتی ہے اور اس  میں ایک نور  ہے جو انسان اور اللہ تعالٰی کے درمیان صراط مستقیم پر حائل ہوتا ہے ایسا نور جو مومن کو مضبوطی سے اس راہ  (صراط مستقیم )پر گامزن کردیتا ہے اور صریح و صاف رہنمائی کرتا ہے۔ یہ وہ کلام ہے جس کو جاننے والا کبھی شرک کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔

فرض کیجئے آپ اپنے والد کا بہت ادب و احترام کرتے ہیں ان سے ملتے وقت محبت سے جھک کر سلام و مصافحہ کرتے ہیں انکا ماتھا چومتے ہیں۔ اور اگر آپ ہی کے والد آپ کو ایک گلاس پانی مانگے تو آپ ان کی بات کو اَن سنا کرکے وہاں سے نکل جاتے ہیں تو کیا آپ یہ دعوٰی کرسکتے ہیں کہ آپ اپنے والد کی فرمانبردار اولاد ہیں جو انکا خوب پاس و خیال اور عزت کرتی ہے؟

نہیں  بالکل بھی نہیں! یہی معاملہ ہمارا اور قرآن کا ہے ہم اسے آسمانی کتاب مانتے ہیں اسے محمد صلی اللہ علیہ و سلم  پر نازل شدہ قرار دیتے ہیں لیکن اس کے عملی تقاضوں کو پورا نہیں  کرتے اور نہ ان تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن و حدیث مل کر مکمل دین  بناتے  ہیں اگر ہم قرآن کو سمجھیں گے ہی نہیں تو اس پر عمل پیرا کیسے ہوسکتے ہیں ؟  حالانکہ یہ تو ہمارے سامنے ساری حقیقتوں کو کھول کر رکھ دینے والا کلام ہے۔ قرآن میں اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ :-

اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان ذریعہ بنایا، ہے کوئی جو نصیحت حاصل کرے۔( القمر )

 ایک اور مثال ہم  سمجھ سکتے ہیں،فرض کیجئے آپ بیمار ہیں ڈاکٹر نے آپ کو مرض کی دوا ایک کاغذ پر لکھ کر دی ہے لیکن آپ نے اُس ادویات کے ناموں کو لگاتار پڑھا اور چوم کر کاغذ کو رکھ دیا تو کیا آپ شفایاب ہو سکیں گے؟ نہیں ہرگز نہیں! اسی لیے قرآن کو غور و تدبر کے ساتھ پڑھئے اور اپنے رب سے براہ راست ہم کلام ہوئیے۔ یقین جانئے آپ بغیر کسی مفاد کے اسے نصیحت حاصل کرنے کی غرض سے پڑھیں گے تو یہ آپ کے کردار کو اتنا بلند کردے گا کہ آپ کا چیزوں کو دیکھنے کا نظر ہی بدل جائے گا اور قرآن کو پہلی مرتبہ سن کر جنوں کے گروہ کا جو خیال تھا وہی آپ کا بھی ہوگا :-

ہم نے قرآن سنا جو عجیب ہے رہنمائی کرتا ہے بھلائی کی پس ہم اس پر ایمان لے آئے (سورہ جن)

آج ہم پر جو حالات آئے ہیں طاغوت جس طرح ہم پر مسلط ہیں، اسلام اور یورپ و مغرب کی بڑھتی کشمکش اور نوجوان زندگیوں کا آسانی سے لبرل بننا، اپنے ہی گھروں میں قید ہونا، عبادت گاہوں سے محرومی، تعلیم و معاشی ترقی سے دوری، رزق کی کمی، دینی مجالس و ادبی محفلوں پر پابندی، قتل و غارت گری، بھوک مری، خود کشی اور برہنہ آنکھ سے نظر نہ آنے والے حقیر سے وائرس کا ساری دنیا پر غالب آجانا۔ یہ سب قرآن سے دوری کے نقصاندہ اسباب ہیں۔ یہ سارے پریشان کن حالات امت مسلمہ کو بیدار کرنے اور آنے والے خطرات سے باخبر کرنے کے لیے ہیں تاکہ ہم سست رو نہ ہو بلکہ پوری توانائی کے ساتھ رضائے الٰہی کی راہ میں گامزن رہیں۔

    لیکن افسوس! کچھ امتی اب بھی آنکھوں پر جہالت کا پردہ ڈالے قرآن سے بے نیازی اختیار کر کے اپنی سر بلندی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ لیکن وہ یہ بات نہیں جانتے کہ انسان کی فلاح و سربلندی صرف قرآن مجید کے ذریعے سے ہی ہو سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ :-

کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا یا (انکے) دلوں پر قفل چڑھے ہوئے ہیں۔ (القرآن)

لہٰذا ایسے حالات میں ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کے سچے پیروکار بنے اس میں موجود احکام الٰہی کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے والے بنے۔ اپنی ذات، اپنے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کی قرآن کی روشنی میں اصلاح کریں اور اپنے مقصد حیات کو کبھی فراموش نہ ہونے دیں بلکہ فریضہ اقامت دین کی جدو جہد کی کوشش میں ہر وقت سر گرم عمل رہے۔

اسی بات کو شاعرِمشرق علامہ محمد اقبال نے کیا خوب کہا ہے کہ :

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں

اللہ  کرے تجھ  کو  عطا  جدّتِ  کردار

    ہم سر بلند تبھی ہونگے جب ہمارے قرآن جزدان سے الگ ہونگے۔ جب قرآن کی تلاوت سے ہمارے دن کا آغاز ہوگا۔ جب کلام خداوند سے ہمارے محفلوں کی رونقیں بڑھیں گی، ہمارے قول و عمل میں قرآن کے احکامات کی پیروی ہوگی اور جب ہن اہل ایمان کے ساتھ ساتھ اہل قرآن اور مدبر قرآن ہونگے۔ جب ہم ایک دوسرے سے ملیں گے تو ہمارے ایمانی کیفیت میں اضافہ ہوگا اور اسی ایمان کی تپش سے طاغوت کی حکمرانی اور باطل قوتیں جل کر راکھ ہوجائے گی۔

  جس طرح مجاہدینِ اسلام نے اپنی شمشیروں کو بے نیام کرکے اسلام کو سر بلندی بخشی اسی طرح ہم اپنے قرآن کو بے جزدان کرکے اپنی ذات اور پوری امت مسلمہ کو سرخرو و سربلند کریں گے۔

اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر و احسان ہیکہ اس نے ہمیں ایک مرتبہ پھر رمضان المبارک جیسے عظیم مہینے سے مستفیض ہونے کا موقع عنایت فرمایا۔ رمضان کی فضیلت کا اظہار باری تعالیٰ نے قرآن مجید میں یوں ارشاد فرمایا:

 ترجمہ : ’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے ‘‘(البقرة، 185)

پس نزول قرآن کی وجہ سے ماہ رمضان دوسرے مہینوں سے ممتاز اور منفرد ہے۔ اللہ کی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت اور رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت کی سب سے بڑی علامت، صداقت و حقانیت خود قرآن ہے۔ گویا قرآن ایک طرف اللہ کی کتاب اور اُس کا کلام ہے تو دوسری طرف رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت کا ایک زندہ معجزہ بھی ہے۔ آئیے اس رمضان المبارک اپنے رب کو حاضر و ناظر جان کر یہ عہد کریں کہ ہم قرآن کو سمجھ کر پڑھیں گے اس پر غور و تدبر کریں گے اور اسے محض جزدان کی زینت نہیں بننے دیں گے۔ (ان شاء اللہ)

آؤ  قرآن کو محفوظ  دلوں میں  کر لیں

اس سے بہتر کوئی جزدان نہیں ہوسکتا

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button