Sliderقرآنیات

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردمسلماں

قرآن سے ہمارا تعلق کیسا ہو

فراست محمد افسر خان
جالنہ

ہم روزمرہ کی الجھنوں کو حل کرنے کے لئے کتنی انتھک محنت کرتے ھیں۔۔۔۔لیکن آخرت کے تقاضوں کو پورا کرنے سے ہم غافل ہوجاتے ہیں۔۔۔جبکہ ﷲنے آخرت کی کامیابی حاصل کرنے کا راز قرآن کی شکل میں عطا کردیاہے،پھر بھی قرآن سے ہمارا تعلق اس انتہا تک نہیں پہنچتا جہاں تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔۔۔۔ قرآن سے ہمارا تعلق کیسا ہونا چاہئے؟؟
یہ تعلق بلکل اسی طرح ہو نا چاہئے جیسا ایک مریض کا تعلق دوا سے ہوتا ہے۔۔۔ گویا کہ ہم ایک مریض ہےاور حکیم اللہ ہے اور قرآن ہمارے مرض کی دوا۔۔۔۔
_اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی ہےیہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفاء ہے اور جو اسے قبول کرلے ان کے لئے رہنمائی اور رحمت ہے(سورہ یونس آیت ٥۷)_

کسی مرض کے علاج کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ حکیم کی ہدایت کے مطابق ہم پابندی کے ساتھ دوا لیں،تبھی کوئی علاج با اثر ثابت ہوگا۔اسی طرح قرآن شریف کی تلاوت پابندی کے ساتھ کرنی چاہیے، تاکہ اس کے بے شمار فائدوں سے ہم مستفید ہوں…لیکن، قرآن پاک کی تلاوت کیسی کرنی چاہیئے تاکہ ہم مکمل استفادہ حاصل کر سکیں ؟

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو ایسا پڑھتے ہیں, جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے,یہی لوگ اس پر ایمان رکھنے والے ہیں.(سورہ البقرہ۱۲۱)
تلاوت کا حق کیسے ادا ہوتا ہے؟؟ قرآن کا پڑھنا بے شک ایک بہت پیارا عمل ہے لیکن محض قرآنی الفاظ کو زبان سے اداکرلینےسے اس کا حق ادا نہیں ہوتا… صرف ناظرہ پڑھ لینے سے ہم بے شمار نیکیاں حاصل تو کر لیتے ہیں لیکن اس کی روح تک نہیں پہنچتے۔۔۔۔ہماری مثال تو ایسی ہیں جیسے اللہ تعالی کی ہدایتوں، حکمتوں کی موسلادھار بارش قرآن کے ذریعے برسا رہا ہےاور ہم پیاس کے مارے برتن ہاتھ میں لیے بیٹھے ہیں۔ لیکن ہمارا برتن ہی بے شمار سوراخوں سے بھرا ہےکہ ہم اس بارش سے چند قطروں کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کرسکتے…
اگرچہ، ہمیں اپنا دامن قرآن کے خزانوں سے بھرنا ہے تو ہمیں مندرجہ ذیل امور پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
۱ -تلاوت : قرآن کی صحیح تلاوت سیکھئے۔ تجوید اور مخارج کی ادائیگی پر محنت کیجئے، چونکہ عربی ایک ایسی حساس زبان ہے کہ اس میں معمولی سی غلطی بھی معنی کو بالکل بدل کر رکھ دیتی ہے اور غفلت میں ہم بڑی بڑی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں، ساتھ ہی قرآن شریف کو حفظ کرنے کی کوشش کیجئے، چھوٹی سورتوں سے شروعات کیجیئے۔
۲ – تدبر: قرآن کو ناصرف ترجمہ کے ساتھ پڑھیں، بلکہ اس کے ساتھ تفسیر کا بھی مطالعہ کیجئے۔ تدبر پیدا کرنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم عربی زبان سیکھیں،کم ازکم قرآن کی حد تک۔۔۔
یہ بہت افسوس کا مقام ہے کہ ہم عربی زبان سے تو پڑھ لیتے ہیں لیکن یہ جان ہی نہیں پاتے کہ خدا ہم سے کہنا کیا جاتا ہے اور کس جملے کا کیا مقام ہے !!
بے شک عربی ہماری زبان نہیں ہے لیکن اللہ کا بڑا احسان ہےکہ اس نے ہمیں اردو زبان عطا کی جو کہ عربی سے قریب ترہے اس لیے قرآن کو سمجھنے کی خاطر عربی کوسیکھنے کے لیے جی جان لگا دیجئے۔جس طرح ہم دنیاکے لئے انگلش پر محنت کرتے ہیں،اسی طرح آخرت کے لیے ہمیں عربی پر محنت کرنی لازمی ہے۔
ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان بنا دیاہے اب ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا(سورہ قمر آیت ٣٢)

اللہ بذات خود قرآن میں فرما رہا ہے کہ قرآن آسان ہے،باوجود اس کے اسے مشکل سمجھنا ایک شیطانی وسوسہ کے سوا کچھ نہیں۔
۳-عمل: وہ علم ہی کیا جس پر عمل نہ ہو۔۔۔۔ ایسا علم تو وبال کا ذریعہ ہے۔۔۔
تدبرکی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے_
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
(اقبالؔ)
۴ تبلیغ : جو علم اللہ نے ہمیں سکھایا ہے اسے دوسروں تک پہنچانا ہمارا فرض ہے۔ انشاءاللہ،یہ ہمارے لئے صدقہ جاریہ ہوگا۔۔۔
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ”تم میں بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے“۔
اس حدیث میں تنہا اس شخص کو بہتر نہیں کہا گیا کہ جو قرآن پاک سیکھتا ہو، بلکہ اسے کہا گیا ہےکہ جو سیکھتا بھی ہو اور سیکھاتابھی ہو۔۔۔۔
اس سے یہ بات پتہ چلی کہ ﷲکی نظر میں بہترین شخصیت بننے کے لیے قرآن شریف کو سیکھنا اور ساتھ ہی ساتھ دوسروں کو سیکھنا ایک لا زمی فعل ہے۔

حاصل تحریر: قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کیجئے۔ اسے صرف نیکیاں حاصل کرنے کا ذریعہ نہ بنائیں۔قرآن کی روح تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ یہ آپ کی تمام الجھنوں کا واحد حل ہے۔ صرف ہمیں قرآن سے اپنا تعلق بہتر کرنے کی دیر ہے۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تاحیات قرآن شریف کا مستقل طالب علم بنائے رکھے اور قرآن کا حق ادا کرنے والوں میں شامل کرے۔آمین۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button