Sliderقرآنیات

قران سے ہمارا تعلق کیسا ہو

فردہ ارحم

 

شَھرُ رَمضَانَ الَّذِی اُنزِلَ فِیہِ القُراٰنَ ھُدًی اللِّنّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الھُدیٰ وَالفُر قَان ۔
”رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قران نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیۓ سراسر ہدایت ہے ۔اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر دینے والی ہے ۔“

اتنی مقدس کتاب کو ہم لوگ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں یہ جانتے ہوۓ بھی کہ امت مسلمہ کا وجود ،اس کی زندگی ، بلندی و پستی سب کچھ قران سے وابستہ ہے ۔ تاریخ کا مشاہدہ کرے تو مسلمانوں نے جب بھی قران سے رشتہ جوڑا ہے وہ دنیا میں کامیاب اور خوشحال ہوۓ اور جب انھوں نے اس کتاب سے رشتہ توڑا وہ دنیا میں ذلیل اور بدحال تو ہوۓ ہی ہیں اور آخرت بھی خراب ہوٸ ۔

چند ایسے لوگ دیکھنے کو ملتے ہیں جو قران کو سمجھ کر پڑھتے ہیں، غور و فکر کرتے ہیں باقی تمام لوگ صرف ناظرہ پڑھتے ہیں ۔ قران ہم سے کیا کہ رہا ہے یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے ۔وہ سمجھتے ہیں کہ ُ”مصحف عربی زبان میں لکھی ہوٸ ہے ہم عام انسانوں کے لیۓ یہ بہت مشکل ہے اسے علما اکرام ہی پڑھتے ہیں “ ایسا سوچنا بالکل غلط ہے ۔قران خود کہتا ہے

وَلَقَد یَسَّر نَا القُراٰنَ للَذِّ کرِ
”اور تحقیق ہم نے نصیحت کے لیۓ ہم نے قران کو آسان کرکردیا“
یہ کہنا کہ قران مشکل ہے یہ شیطانی وسوسہ ہے ۔

ہماری نسل کے لیۓ قران سے تعلق انتہاٸ ضروری ہے کیونکہ ایک طرف تو بے حیاٸ کا طوفان ہے اور دوسری طرف قران پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ پوری کوشش جاری ہے کہ مسلمانوں کا ایمان قران کے لیۓ ختم ہو جاۓ ۔
اپنے دل کا سب سے قریبی انسان بھی بھروسہ توڑتا ہے دھوکہ دیتا ہے لیکن قران ایک ایسا ساتھی ، دوست ہے جو آخری سانس تک ہمارا ساتھ نہیں چھوڑے گا ۔ میرا ذاتی چند ماہ کا تجربہ ہے کہ جب میں قران پڑھتی ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ مجھے دلاسہ دے رہا ہے کہ ” میں ہوں نا تمھارے ساتھ۔ “

کسی بھی کتاب کو سمجھنے کے لیۓ ضروری ہے کہ اس کا موضوع معلوم کریں اس کا مدعا اور مرکزی مضمون کا علم ہو ۔
اسکا موضوع انسان ہے
اسکا مرکزی مضمون یہ ہے کہ انسان نے نفس کی غلامی کے سبب جو زندگی کے متعلق نظریات اور رویے اختیار کر لیۓ ہیں وہ غلط ہے اور اس کا نتیجہ بھی انسان کے لیۓ تباہ کن ہے ۔
اسکا مدعا انسان کو صحیح رویہ کی طرف دعوت دینا اور اللہ کی ہدایت کو واضح طور پر پیش کرنا ۔

امت مسلمہ پر قران کے پانچ حقوق ہے ۔

١۔ ایمان: قران پڑھنے سے پہلے یہ خیال کرے کہ قران اللہ کا کلام ہے جو آپ کا خالق و مالک ہے ۔اللہ کی شان و شوکت کا تصور کیجیۓ ۔
ذٰلِکَ الکِتٰبُ لاَ رَیبَ فِیہِ ۔
”یہ اللہ کی کتاب ہے اس میں کوٸ شبہ نہیں “ اس بات پر ایمان لاۓ ۔ اس ہدایت کو تسلیم کریں کہ اللہ نے جو کتاب نازل کی ہے میں اس پر ایمان لاٸ ہوں ۔

٢۔ تلاوت: ترنم آواز میں مع تجوید قران کی تلاوت کریں ۔ قران کی تلاوت سے پہلے ہماری جو کیفیت ہوتی ہے وہی پڑھنے کے بعد بھی رہتی ہے لیکن دور اول کے لوگ جب قران پڑھتے تو ان کی کیفیت کچھ الگ ہوتی ، ان کے دل کانپ اٹھتے ، آنکھوں سے آنسوں بہنے لگتے ، ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ وہ واقعہ یاد ہی ہوگا کہ عمر بن خطاب ؓ نے قران کی تلاوت سن کر ہی اسلام قبول کیا تھا ۔

٣۔ تدبر، غوروفکر : آج لوگوں کی کیفیت یہ ہے کہ کبھی تو بھی قران کھولتے ہیں اور ناظرہ کر لیتے ہیں لیکن سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔قران کا آغاز کرنے سے پہلے آپ کو کچھ نا کچھ اندازہ ہونا چاہیۓ کہ یہ کیا ہے ، آپ کے لیۓ اس کی کیا اہمیت ہے ، تاکہ آپ کے اندر قران میں ڈوبنے کا جذبہ پیدا ہو ۔
جو لوگ اس کتاب سے پورا فاٸدہ اٹھانا چاہتے ہیں وہ روزانہ قران مجید کی کچھ آیات معمولاً پڑھیں اور ایک ایک آیت کا لفظی ترجمہ کریں ۔

٤۔ عمل : عقلمندی کی علامت یہ ہے کہ جو کچھ بھی علم حاصل کرے اس کو اپنی زندگی میں لاٸیں ،اس پر عمل کریں ۔ صحابہ اکرام کہتے ہیں کہ ”ہم نے سورہ البقرہ دس سال میں ختم کی ۔ آج کے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایک مجلس میں پورا قران ختم کردیں ۔ہمارا مقصد صرف قران ختم کرنا ہوگیا ہے ۔بعض صحابہ کہتے ہیں ہم آٹھ آیتیں سیکھتے ہیں ان کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ان پر عمل کرتے اور ان کو محفوظ کرتےتھے ۔اور اس کے بعد ہم اگلی آٹھ آیتیں سیکھتے اور اس طرح سے سورہ البقرہ ختم کی ۔اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب تک کسی بات پر عمل نہ کریں آگے نا بڑھیں ۔

٥۔ تبلیغ : اوپر کے چاروں حقوق ادا کرنے کے بعد ہم پر سب سے بڑا حق تبلیغ کا ہے ۔ یعنی ہم جو کچھ بھی علم حاصل کریں اسے لوگوں کے سامنے بیان کریں ۔جب روشنی آتی ہے تو اسلیۓ نہیں کہ اس پر پردہ ڈالا جاۓ ۔روشنی آتی ہی اسلیۓ ہے کہ آس پاس کا ماحول روشن کریں ۔ اللہ تعالی نے کتاب اسلیۓ نازل کی ہے کہ ہم اطراف کا ماحول روشن کریں ۔اسلیۓ نہیں کہ اسے جزدان یا ڈراٸنگ روم میں سجا دی جاۓ ۔قران میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ” جو لوگ ہماری نازل کی ہوٸ روشن تعلیمات اور ہدایت کو چھپاتے ہیں حالیکہ ہم انھیں سب انسانوں کی رہنماٸ کے لیۓ اپنی کتاب میں بیان کر چکے ہیں ۔یقین جانو کہ اللہ بھی ان پر لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی انھیں لعنت بھیجتے ہیں ۔“
ایک حکیم بیماری کا علاج رکھنے کے باوجود بھی اسے نا بتاۓ ایسا نہیں ہوتا تو پھر ہم کیوں روشنی ملنے کے باوجود اسے نہیں پھیلاتے ۔
یہ ہمارا اولین حق ہے کہ ہم اسے سمجھیں اس پر عمل کریں اور اسے لوگوں کے سامنے بیان کریں ۔

قران کی تعلیمات اور رسول کی زندگی کا مکمل اسوہ ہماری رہنماٸ کے لیۓ اور انسانیت کی فلاح کے لیۓ کافی ہے

Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button